فقر

فقر کے لغوی معنی احتیاج کے ہیں۔ عام طور پر اس سے تنگ دستی’ غربت’ مفلسی اور ناداری مراد لی جاتی ہے۔ دینِ اسلام میں ”فقر” سے وہ راہ یا وہ طریق مراد ہے جو بندے اور اللہ کے درمیان سے تمام حجابات کو ہٹا کر بندے کو اللہ کے دیدار اور وصال سے فیض یاب کرتا ہے۔ ”فقر” دراصل دینِ اسلام کی حقیقت ہے۔ جو اولیاء کرام اور ہمارے سلف صالحین کا اللہ تک رسائی کا طریقہ رہا ہے لیکن دورِ جدید کے علمائے کرام اور مغرب زدہ طبقہ نے اس طریق اور علم سے ناواقفیت کی بنا پر عوام الناس کی توجہ اس راہ سے ہٹا کر ظاہریت پرستی کی طرف مبذول کرا دی ہے اور عوام روح اور اللہ کے تعلق کو بھلا کر صرف جسمانی اعمال و عبادات میں الجھ گئے ہیں۔ آج مسلمان بھی اس لفظ ”فقر” اور اس کی حقیقت سے اتنے ہی ناآشنا ہیں جتنے غیر مسلم ۔حالانکہ ہمارے آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فقر کو اپنا فخر فرمایا ہے اور اسے بطور خاص اپنی ذات سے منسوب فرمایا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد پاک ہے:

faqr

ترجمہ: فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے۔

اللہ تعالیٰ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بے حساب کمالات اور اوصاف سے نوازا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی کسی خوبی پر فخر نہیں فرمایا۔ صدق پر نہ عدل پر’ نہ تقویٰ و صبر پر’ نہ سخاوت پر نہ شجاعت پر’ نہ ترک نہ توکل پر’ نہ فصاحت و بلاغت پر’ نہ حسن پر’ نہ صادق و امین ہونے پر اور نہ نسب پر حتیٰ کہ مشکوٰۃ المصابیح میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ”میں اللہ کا حبیب ہوں لیکن اس پر فخر نہیں۔” آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے صرف اور صرف فقر پر فخر فرمایا۔ اسی طرح حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تمام علومِ دین کا منبع اور سرچشمہ ہیں۔ قرآن و حدیث’ فقہ’ تمام بنیادی عقائد و عبادات آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ہی اُمت کو حاصل ہوئے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کسی علم کو اپنی ذات سے منسوب نہ فرمایا سوائے فقر کے۔

”فقر” یعنی روح کے اللہ تعالیٰ سے قرب کی وہ انتہا جہاں روح اللہ کا دیدار اور اللہ سے وصال کی تکمیل پاتی ہے’ معراج کی رات حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو عطا ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اسے اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کے لیے تحفتاً مانگ لیا۔ چنانچہ ظاہری پاکیزگی کے لیے نماز اور روزوں کا تحفہ ملا اور باطنی پاکیزگی کے لیے فقر کا نور عطا کر کے دیدارِ الٰہی کی راہ اُمت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر کھول دی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پہلے جب بھی کسی نبی نے دیدارِ الٰہی کی التجا کی تو انہیں ”faqr(4)” یعنی ”تو ہرگز نہیں دیکھ سکتا ”کی صدا سننا پڑی لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور ان کے وسیلے سے اُن کی اُمت کو اپنے دیدار کی نعمت عطا کی جو اس کائنات کی سب سے اعلیٰ نعمت ہے اور اس لذتِ دیدار سے بڑھ کر اور کوئی لذت نہیں۔ اسی نعمت کے حصول کی خاطر تمام انبیاء نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اُمت میں شامل ہونے کی دعا کی تھی اور اللہ کی اسی عنایتِ خاص کی وجہ سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو تمام انبیاء پر اور اُمت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو تمام امتوں پر فضیلت حاصل ہے جیسا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان مبارک ہے:

faqr(1)

ترجمہ : فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے ۔ اور فقر ہی کی بدولت مجھے تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت حاصل ہے۔(عین الفقر)

faqr(2)

ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ”فقر لوگوں کی نگاہ میں معیوب و حقیر ہے لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں بے حد گراں قدر چیز ہوگی”۔

ایک اور حدیث پاک میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ”فقر دنیا میں مومن کے لیے (اللہ تعالیٰ کا) تحفہ ہے۔” (مکاشفۃ القلوب، باب فضیلتِ فقراء از امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ)

مزید فرمایا کہ faqr(2-1)۔ترجمہ:”فقر اس کے اہل کے لیے موجبِ عزت ہے”۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دیدارِ الٰہی کی نعمتِ فقر کو اللہ کے خزانوں میں سے ایک خزانہ قرار دیا کیونکہ اس خزانے کو حاصل کرنے والا دنیا و آخرت کی تمام نعمتوں’ آسائشوں اور خزانوں سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ جسے تمام خزانوں کا مالک ( اللہ) مل جائے اسے باقی خزانوں کی کیا ضرورت ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:

faqr(3)

ترجمہ: فقر اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ۔

فقر کا یہ خزانہ روح کی معراج پر بصورتِ وصالِ حق تعالیٰ بندے کو عطا ہوتا ہے۔ معراج کی رات اللہ تعالیٰ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قرب و وصال کی انتہا کو اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر قرآن پاک میں ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے:

faqr(5)

ترجمہ: پھر( اللہ اور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے درمیان) صرف دو کمانوں کی مقدار فاصلہ رہ گیا یا اس سے بھی کم۔

(اس سے بھی کم فاصلہ) کی تفصیل کوئی نہیں جانتا کہ اللہ اور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے درمیان قرب کی انتہا کیا تھی البتہ معراج کے بعد نازل ہونے والی کچھ آیات اس قرب و وصال کی انتہائی صورت یعنی یکتائی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

faqr(6)

ترجمہ: میرے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (میدان جنگ میں) دشمنوں کو جو کنکریاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ماریں وہ دراصل (آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے نہیں بلکہ) اللہ نے ماریں تھیں۔

faqr(7)

ترجمہ: جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی انہوں نے (درحقیقت) اللہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔

faqr(8)

ترجمہ: وہ (نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) اپنی مرضی سے کچھ نہیں بولتے۔

ایک حدیث قدسی میں بھی بندے کے اللہ سے وصال کی اسی صورت کو بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

”جب بندہ زائد عبادات سے میرے قریب ہو جاتا ہے تو میں اس کی آنکھ بن جاتا ہوں وہ مجھ سے دیکھتا ہے میں اس کے کان بن جاتا ہوں وہ مجھ سے سنتا ہے’ میں اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں وہ مجھ سے پکڑتا ہے’ میں اس کی زبان بن جاتا ہوں وہ مجھ سے بولتا ہے’ میں اس کے پاؤں بن جاتا ہوں وہ مجھ سے چلتا ہے۔”

فقر دراصل روحانیت کی وہ معراج اور کمال ہے جب روح نورانیت اور پاکیزگی کی اس انتہا کو چھو لیتی ہے جہاں وہ اپنے پاک ربّ سے یوں وصال پالیتی ہے جیسے قطرہ سمندر سے مل کر خود سمندر ہو جاتا ہے۔ فقر کی انتہا خود کو اپنے رب کی ذات میں یوں گم کر دینا ہے کہ انسان کا اپنا وجود ختم ہو جائے اور باقی رہے وہ ذات جسے دائمی بقا ہے۔ فقر کے اسی انتہائی مقام پر پہنچ کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ذاتِ الٰہی کے کامل مظہر بن گئے۔ جیسا کہ مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا:

ترجمہ: مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اللہ تعالیٰ کے چہرے کا آئینہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات اور ہر صفت ان میں منعکس(ظاہر) ہے۔

اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ”فقر (دیدار و وصال الٰہی) مجھ سے ہے۔” یعنی میری ذات ہی ‘فقر’ ہے۔

ترجمہ:”جس نے مجھے دیکھا بے شک اس نے حق کو دیکھا۔”

یعنی جس نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حقیقت کو پہچانا اس نے اللہ کو پہچانا ۔ جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے فقر حاصل کر لیا وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ہی ہوگئے۔ سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے فقر کی یہ نعمت فقر کی پہلی سلطان حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا نے حاصل کی یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات کی حقیقت تک رسائی حاصل کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ”فاطمہؓ مجھ سے ہے۔” پھر بابِ فقر حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات میں فنا ہو کر حقیقتِ فقر کو پاگئے تو فرمایا ”علیؓ مجھ سے ہیں۔” پھر حسنین کریمین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو یہ خزانہ عطا ہوا تو فرمایا: ”حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ و حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ مجھ سے ہیں۔” پھر یہ خزانۂ فقر سینہ بہ سینہ اُمت کو منتقل ہوا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہر اُمتی جو اُن سے سچا عشق رکھتا ہے اور اُن کے واسطے سے اپنے ربّ سے ملاقات کا خواہاں ہے’ اس خزانۂ فقر کا وارث ہے۔جیسا کہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا :

ترجمہ: فقر ذوق و شوق اور تسلیم و رضا کا نام ہے۔ یہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی میراث ہے اور ہم اس کے وارث ہیں۔

ترجمہ: فقر اور شاہی مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی جانب سے وارد اور عطا ہوتے ہیں یہ سب ان کی پاک ذات کی تجلیات ہیں۔

ہر اُمتی اپنی اپنی استعداد اور توفیق کے مطابق راہِ فقر اختیار کر کے روحانیت کی وہ معراج پاسکتا ہے جہاں وہ اپنے رب کا دیدار کرے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فرمان ”نماز مومن کی معراج ہے” میں ہر مومن کو معراج کی خوشخبری سنا دی گئی ہے البتہ خواہش اور کوشش اُس کے اپنے ذمہ ہے۔

راہِ فقر ان تمام مومنین کی راہ ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنا انعام نازل کیا اور جن کی راہ اختیار کرنے کی ہم سورۃ فاتحہ میں دعا مانگتے ہیں۔ فقر ہی وہ صراطِ مستقیم ہے جو بندے کو سیدھا اس کے رب سے ملاتا ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فقر کے متعلق فرماتے ہیں:

ترجمہ:”جو اہلِ بیت سے محبت کرے اسے جامۂ فقر پہننے کے لیے تیار ہو جانا چاہیے”۔ (نہج البلاغہ)

حضور غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو جب اللہ تک معراج نصیب ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اُن سے فرمایا:

”اے غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اپنے اصحاب اور احباب سے کہہ دو اگر میری صحبت چاہتے ہیں تو فقر اختیار کریں۔ جب اُن کا فقر پورا ہوجائے تو وہ نہیں رہتے بجز میرے۔ (رسالۃ الغوثیہ) پھر فرمایا ”اے غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ ! جب تم کسی فقیر (وہ انسان جو فقر کی انتہا تک پہنچ جائے) کو اس حال میں دیکھو کہ وہ فقر کی آگ میں جل گیا ہے اور فاقہ کے اثر سے شکستہ حال ہے تو اس کے قریب ہو جاؤ کیونکہ میرے اور اس کے درمیان کوئی پردہ نہیں۔” (رسالۃ الغوثیہ)

حضور غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اپنی تصنیف سرّ الاسرار میں فقر کی تعریف بڑے جامع انداز میں فرماتے ہیں۔ آپؓ فرماتے ہیں:

”حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فرمان ”فقر میرا فخر ہے اور میرے لیے باعث افتخار ہے” میں ‘فقر’ سے مراد وہ فقیری (غربت و افلاس) نہیں جو عوام میں مشہور ہے بلکہ یہاں حقیقی فقر مراد ہے’ جس کا مفہوم اللہ کے علاوہ کسی بھی اور کا محتاج نہ ہونا اور اس ذاتِ کریم کے علاوہ تمام لذات و نعم کا بجان و دل ترک کر دینا ہے۔ جب انسان اس مرتبہ پر فائز ہو جاتا ہے تو یہی مقام فنا فی اللہ ہے کہ اس ذات وحدہٗ لاشریک کے سوا انسان کے وجود میں کسی اور کا تصور تک باقی نہ رہے اور اس کے دل میں ذات خداوندی کے علاوہ کسی اور کا بسیرا نہ ہو۔”

فقر کے متعلق آپؓ مزید فرماتے ہیں:

شانِ فقر موٹے کپڑے پہننے اور بے مزہ کھانا کھانے میں نہیں۔ شانِ فقر تو تیرے دل کے زُہد اختیار کرنے میں ہے۔ (الفتح الربانی)

فقر و تصوف جدوجہد کا نام ہے اس میں کسی بیہودہ چیز کی آمیزش نہ کر۔ اللہ ہمیں ا ور تمہیں اس کی توفیق کی ارزانی کرے۔ (فتوح الغیب)

حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ فقر کے متعلق فرماتے ہیں:

فقر ایسی صفت ہے کہ اللہ کی خاص مخلوق کے لیے زیبا ہے۔ (کشف المحجوب)

حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

فقر دنیا میں آخرت کے غنا کی چابی ہے۔

حضرت شیخ ابراہیم الخواص رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

فقر شرف اور بزرگی کی چادر، مرسلین علیہم السلام کا لباس اور صالحین کے اوڑھنے کی چادر ہے۔

فقر حضرت سخی سلطان باھوؒ رحمتہ اللہ علیہ کی روشنی میں

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تعلیمات کو نہ تو تصوف اور نہ ہی طریقت کا بلکہ ‘فقر’ کا نام دیا ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی تمام تر تعلیمات راہِ فقر اور اس سے منسلک مقامات اور افکار سے متعلق ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ حقیقتِ فقر ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں:

جو شخص اللہ اور اس کا دیدار چاہتا ہے وہ فقر اختیار کرے۔ (عین الفقر)

فقر عین ذات پاک ہے۔ (عین الفقر)

فقر دراصل دیدارِ الٰہی کا علم ہے۔ (عین الفقر)

جس نے بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی راہ کو اختیار کیا’ اس نے فقر محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اپنا رفیق بنا لیا۔ فقر سے بلند تر اور فخر والا کوئی دوسرا مرتبہ نہیں اور نہ کوئی ہو سکتا ہے۔ فقر ہمیشہ کی زندگی ہے۔ (نور الہدیٰ کلاں)

فقر کے پاس تمام الٰہی خزانے ہوتے ہیں۔ دنیاوی خزانے کو زوال ہے اور دنیا خواب و خیال ہے۔ فقر کا خزانہ معرفت اور توحیدِ لازوال ہے۔ جو بعینہٖ وصال ہے۔ دنیاوی لذت چند روزہ ہے۔ آخر معاملہ اللہ تعالیٰ سے ہی پڑتا ہے۔ (توفیق الہدایت)

ترجمہ: فقر ایک بادشاہ ہے جو خدا کے قرب میں ہونے کی بنا پر دونوں جہان سے بے نیاز ہے اسے کسی کی پرواہ نہیں کہ وہ ہر وقت حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ کے مدِّ نظر رہتا ہے۔(محک الفقر کلاں)

راہِ فقر ہدایت ہے جس کے ہادی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں۔ (عین الفقر)

جیسا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ”فقر مجھ سے ہے” راہِ فقر اختیار کرنے والا جب روحانی و باطنی پاکیزگی کی انتہا کو پہنچتا ہے تو اسے روحانی طور پر دیدارِ الٰہی سے اللہ کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دائمی حضوری نصیب ہوتی ہے۔ جہاں آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم خود اس کی رہنمائی اور تربیت فرماتے ہیں۔ وہ ہر وقت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مدِّنظر رہتا ہے اور ان کی مجلس جہاں اُن کے اصحاب رضی اللہ عنہم اور عارفین کی ارواح موجود ہیں’ سے باطنی طور پر بلاواسطہ فیض یاب ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہیں جہاں دین کی بنیاد کی تکمیل ہوتی ہے۔ باطن میں ان سے اعلیٰ اور کوئی مقام نہیں۔ جب بندے کا دین ان ٹھوس بنیادوں پر استوار ہوگا اور وہ ہادی عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے رہنمائی حاصل کرے گا تو اس کے دین کی عمارت بھی مضبوط اور مکمل ہوگی۔ اسی لیے علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تک رسائی کو دین کی بنیاد قرار دیا ہے۔ اس مقام تک رسائی کے بغیر دین بے بنیاد اور کھوکھلا ہے۔

ترجمہ: تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (کی مجلس) تک خود کو پہنچا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی مکمل دین ہیں اگر تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک نہیں پہنچتا تو تیرا سارا دین ابولہب کا دین ہے۔(اقبالؒ )

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

معراج کی رات حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام براق پر سوار ہوئے، جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے آگے آگے پا پیادہ دوڑے، عرش سے فرش تک دونوں جہان آراستہ کیے گئے، اٹھارہ ہزار عالم کو پیراستہ کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سامنے لایاگیا اور جبرائیل ں آگے بڑھنے سے رُک گئے، اس سارے اہتمام کے باوجود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلا م نے اپنی نگاہ ذاتِ حق تعالیٰ سے نہ ہٹائی چنانچہ فرمانِ حق تعالیٰ ہے

(بہکی نہیں آپ کی نگاہ نہ حد سے بڑھی)

آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس تمام اہتمام پر توجہ نہیں دی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سدرۃ المنتہیٰ کے مقام پر پہنچے تو وہاں صورتِ فقر کا مشاہدہ کیا اور مراتبِ سلطان الفقر کی لذّت سے لطف اندوز ہوئے، فقرِ نورِ الٰہی سے باطن کو معمور فرمایا اور قابَ قوسین کے مقام پر اللہ تعالیٰ کے قرب و وصال سے مشرف ہو کر ذاتِ حق تعالیٰ سے ہم کلام ہوئے پھر اس سے آگے بڑھ کر مقامِ فقر فنافی اللہ میں داخل ہوئے، ملاقاتِ فقر سے غرق فنا فی اللہ مع اللہ ذات ہو کر رفیقِ فقر ہوئے اور محبت ، معرفت، عشق، شوق، ذوق، علم، حلم، جود و کرم اور خُلق سے متخلّق ہوئے جیسا کہ فرما یا گیا ہے  (اپنے اندر اخلاقِ الٰہیہ پیدا کرو ) اس طرح کمالِ فقر پر پہنچ کر جب سارا دریائے توحید آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وجود میں جمع ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے زبانِ دُرّ فشاں سے اِس کا اظہا ر کرتے ہوئے فرمایا”فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے” ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مجلسِ صحابیت میں پہنچے اور دریائے فقر سے حقیقتِ فقر موجزن ہوئی تو فقرِ ِ معرفت کے احوال سن کر صحابہ اکرامؓ کی ایک کثیر تعداد فقرِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طلبگار ہوئی جس پر اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ” اے محمد( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) آپ ہر وقت ان فقراء پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں اور ان سے اپنی نگاہیں نہ ہٹائیں کہ یہ ہر وقت ذکر اللہ میں غرق رہنے والے لوگ ہیں۔” اس پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا : ! اب ہم اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل سے دم بھر کے لیے بھی فارغ نہیں ہوں گے۔ (محک الفقر کلاں)

جان لے کہ فقر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طلب ہے۔ صحابہ اکرامؓ کی طلب ہے اور اولیاء اللہ کی طلب ہے۔(محک الفقر کلاں)

فقر کی تین اقسام ہیں۔”اوّل فقر فنائے”” ہے”۔ دوم ”فقر بقائے”” ہے”۔ اور سوم”فقر انتہائے ” ‘ہے”۔ جو راہنما ہے۔ فقر اللہ سے یگانہ اور غیر اللہ سے بیگانہ ہے یگانگی اور بیگانگی کا کوئی جوڑ نہیں جب تک فنا حاصل نہ ہو جائے بقا تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ (عین الفقر)

ترجمہ: فقر کی نظر بھی خزانہ ہوتی ہے اور اس کے قدموں میں بھی خزانہ ہوتا ہے لیکن فقر اس کے باوجود لا یحتاج رہتا ہے۔

فقر کی کامل تعریف یہ ہے کہ فقر جملہ مراتبِ خاص سے بہت آگے کا مرتبہ ہے۔

جان لے کہ فقرِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور معرفتِ توحید الٰہی سراسر اطاعت و بندگی ہے جبکہ مراتبِ عزّ وجاہِ دُنیا سراسر مُردار گندگی ہے اور فقیری و درویشی سنتِ انبیا علیہم السلام ہے۔ (کلید التوحید کلاں)

ترجمہ: اے باھو رحمتہ اللہ علیہ ! فقر کو تُو کیا سمجھتا ہے؟ فقر ہردم لاھوت میں رہنے کا مقام ہے اور اس کے لیے دائمی سکوت چاہیے۔

ترجمہ : راہ فقر فیضِ ربّانی ہے بلکہ فیضِ عام ہے جبکہ راہِ دنیا سراسر مطلق شرک ہے راہِ دنیا کو ترک کر راہِ فقر اختیار کر لے کہ راہِ فقر ہدایت ہے جس کے ہادی حضور علیہ الصلوۃ والسلام ہیں ۔ (محک الفقر کلاں)

ترجمہ: فقر وحدت کا راز ہے فقر کی نظر ہمیشہ حق پر رہتی ہے خاص الخاص فقر وہ ہے جو ذاتِ حق سے باخبر ہو۔

فقر فیض و فضل اور جود و کرم کا دریا ہے فقر رات دن ذاتِ حق کے سامنے سر بسجود رہتا ہے ۔

اے باھُو( رحمتہ اللہ علیہ )! برکاتِ فقر کو ذاتِ حق میں تلاش کر جس چیز کا تعلق غیر حق سے ہو اسے اپنے دل سے نکال دو۔ (محک الفقر)

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے کہ فقر جہادِ اکبر ہے کہ یہ نفس کے خلاف جہاد ہے یہ جو کفار کے ساتھ جہاد ہے چھوٹا جہاد ہے اور ہم چھوٹے جہاد سے بڑے جہا د کی طرف آ رہے ہیں ۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے ” ہر نبی کا ایک حرفہ (پیشہ، ہنر، کسب) ہے اور میرے دو حرفے ہیں ایک حرفہ فقر کا اور دوسرا جہاد کا جس نے ان سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھااس نے مجھ سے بغض رکھا۔” (محک الفقر کلاں)

فقر کیا چیز ہے؟ فقر کسے کہتے ہیں؟ اور کہاں سے پیدا ہوتا ہے۔ فقر نورِ الٰہی سے پیدا ہوتا ہے کیونکہ تمام عالم کا ظہور نورِ فقر سے ہوا ہے فقر ہدایت ہے، فقر نورِ حق کی ایک صورت ہے جو اس درجہ خوبصورت ہے کہ دونوں عالم اس کے شیدا اور اس پر فریفتہ ہیں مگر فقر کسی پر توجہ نہیں کرتا مگر حکمِ الٰہی اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اجازت سے ۔ (توفیق الہدایت)

فقر فیض و فضل ہے ۔ فقر رحمتِ روح ہے۔ فقر لطف ہے، فقر ہدایت ہے، فقر ولایت ہے۔ فقر عنایت ہے، فقر فنا ہے ، فقر لقاء ہے، فقر رضا ہے، فقر قضا ہے، فقر قدرت ہے،فقر جمعیت ہے، فقر جمال ہے، فقر جلال ہے، فقر علم ہے، فقر سِرِّ اسرا ر ہے ، فقر نورِ حضور ہے، فقر عقلِ کُل ہے، فقر مالک الملک مقربِ رحمٰن ملک سلیمانی کی بادشاہی ہے، فقر گنجِ کیمیا ء کا تصرف ہے، فقر حیات و ممات ہے۔ (کشف الاسرار)

جو شخص فقرِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو خالی جانتا ہے وہ جہان سے خالی جاتا ہے ۔ (امیر الکونین)

جان لے کہ فقر میں ثابت قدم وہ شخص رہتا ہے جس کی نظر میں اللہ تعالیٰ سے غیبی خزائن کی قدرو قیمت بادشاہِ دنیا کے خزانوں سے کہیں بڑھ کر ہو۔ (کلید التوحید کلاں)

اے عزیز! راہِ فقر میں اللہ کے سوا تجھے جو کچھ دکھائی دیتا ہے وہ تیرے لیے راہزن ہے۔ (کلید التوحید کلاں)

فقر سے رو گردانی وہ شخص کر تا ہے جس کے دِل کو زَر کی زردی نے خجل و خوار کر رکھا ہو۔ (کلید التوحید کلاں)

فقر جاودانی زندگی ہے۔ (نور الہدیٰ کلاں)

فقر خدا کا سِرّ ہے ۔ (محبت الاسرار)

ترجمہ: فقر رحمت ہے اور وحدت کا راز ہے اللہ کا نور ہے فقیر (صاحبِ فقر) کے پاؤ ں کے نیچے زمین و آسمان کا ہر طبق ہے۔

ترجمہ: جو فقر کے مقام کودیکھ لیتا ہے وہ عارف باللہ ہو جاتا ہے فقر سے ہی فقیر کو وحدت حاصل ہو تی ہے۔

ترجمہ: فقر اس نظر کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف ہو ۔ فقر اس بات کا نام ہے جو مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زبان سے نکلی ہو ۔ (مفتاح العارفین)

”راہِ فقر بہت دور ہے اور اس کی کوئی انتہا نظر نہیں آتی ۔ جہاں پر فقر کی تکمیل ہو تی ہے نہ تو وہاں پر علم اور تعلیم ہے اور نہ ہی مسائل ، قصے کہانیاں ہیں۔ یہ تو بت پرستی کی دنیا ہے۔(فقیری نہ تو عالمانہ گفتگو میں ہے اور نہ تو مسئلہ مسائل اور قصہ خوانی میں ہے بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ عشق اور غرق فی التوحید ہونے میں ہے) اور فقر کی حقیقت سے وہی واقف ہوتا ہے جس نے فقر اختیار کیا ہو’ اس کی لذّت چکھی ہو یا سلطان الفقرکو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہو”۔

کچھ لوگ فقر مجبوری کی حالت میں لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے اختیار کرتے ہیں۔ زندگی میں کچھ حاصل نہیں کر سکتے اور نہ ہی زندگی کے کسی شعبہ میں کامیاب ہو سکتے ہیں اس لیے ضروریاتِ زندگی کے حصول کے لیے کسی صاحبِ فقر کی بار گاہ میں پہنچ کر فقر کی چادر اوڑھ لیتے ہیں۔ مقصد ان کا دیدارِ الٰہی نہیں، دنیا ہو تا ہے یا کسی دنیوی پریشانی تکلیف اور بیماری سے گھبرا کر یا جذباتی ہو کر فقر کی راہ اختیار کر لیتے ہیں ۔ یا کسی ولئکامل (صاحبِ فقر) کی وفات کے بعد اس کی خانقاہ کی گدی نشینی اختیار کرنے والے لوگ ہیں عموماً یہ لوگ صاحبِ مزار کی اولاد میں سے ہوتے ہیں ان کو فقر کی ہوا بھی نہیں لگتی مقصدِ زندگی صرف مزار کی آمدنی تک یا صاحبِ مزار کے مریدوں کے نذرانے تک محدود ہوتا ہے یا پھر مشائخ بن کر مقامِ عزّو جا ہ مقصود ہوتا ہے ۔ ایسے فقر کو” فقرِ اضطراری” کہتے ہیں۔

وہ طالبانِ حق خواہ وہ بادشاہ ، امیر، حاکم ، دولت مند، دنیا میں معروف، غیر معروف یا غریب ہوں لیکن صرف دیدارِ الٰہی کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا کر فقر اختیا ر کرتے ہیں اور ان کی طلب دیدارِ الٰہی ہوتا ہے سارا عالم چھوڑ کر کوئے یا ر کو اپنا بنا لیتے ہیں اور کہتے ہیں ” ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے” وہ اللہ سے اللہ کو ہی مانگتے ہیں اس مقصد کے لیے وہ اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے حضور فقیر ہوتے ہیں انہی کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ” اللہ غنی ہے اور تم فقیر ہو۔ ” یہ فقرِ اختیاری ہے۔ فقرِ اختیاری کے لیے دِل کو دنیا ، خواہشاتِ دنیا سے بے رغبت کرنا ضروری ہے ۔ فقرِ اختیاری اور فقرِ اضطراری میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ فقرِ اضطراری روح کی موت کا باعث بنتا ہے جبکہ فقرِ اختیاری سے روح کو زندگی حاصل ہوتی ہے۔ فقرِ اضطراری والا انسان ذلیل و خوار ہوتا ہے مگر فقرِ اختیاری انسان کو وہ شوکت و قوت عطا کرتا ہے کہ پوری کائنات اس کے تصّرف میں دے دی جاتی ہے حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام نے اسی فقر کو اپنا فخر قرار دیا ہے۔

حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

واضح رہے کہ فقر دو قسم کا ہے ایک اختیاری دوسرا اضطراری۔ فقرِ اختیاری

faqr

(فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے) ہے ا س کے دو مراتب ہیں ایک خانہ دِل کا تصرّف اور عنایت اور تمام دنیاوی خزانوں کا تصرّف دوسرے ہدایت، معرفت اور قربِ الٰہی ۔ فقرِ اضطراری والا در بدر بھیک مانگتا پھرتا ہے(اللہ تعالیٰ سے مانگنے کی بجائے لوگوں سے مال اکٹھا کر تا ہے) اور عنایتِ حق سے محروم رہتاہے فقرِ اضطراری ہی فقرِ مُکبّ ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے

(ترجمہ: میں منہ کے بل گرانے والے فقر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں) فقرِ ِ اختیاری اسم  ذات اور قربِ حضور پر مبنی ہے۔ (امیر الکونین)

فقیر (صاحبِ فقر ) دو طرح کے ہوتے ہیں ایک تو وہ جنہوں نے شہوت و ہوا کو مار رکھا ہے اور وہ مقرّ بِ رحمٰن ہو چکے ہیں یہ لوگ اتنے عظیم الشان مرتبے کے مالک ہیں کہ جس کی شرح بیان نہیں کی جا سکتی۔ اس قسم کے فقیر کو فقرِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حاصل ہوتا ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فخر ہے ۔یہ لوگ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ہم مجلس، ہم دم اور ہم قدم ہوتے ہیں۔ یہ نہ تو کسی سے آرام کا سوال کرتے ہیں اورنہ کسی سے روپے پیسے کی امید رکھتے ہیں۔ کیونکہ اُن کے پاس فقر کی نورانیت کا سرمایہ ہوتا ہے ایسے فقیر راہِ خدا کے مشکل کشا اور راہنما ہوتے ہیں۔ دوسری قسم کے فقیر (صاحبِ فقر) مطلق مردُود ہوتے ہیں سر اور داڑھی منڈواتے ہیں وہ بے حیا ہیں اور معرفتِ خدا سے محروم ہیں۔اِسے فقرِ مُکِبّ (منہ کے بل گرانے والا فقر) یعنی فقرِ اضطراری کہتے ہیں کیونکہ ایسے فقیر شرع محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور قدمِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کوا ختیار نہیں کرتے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان ہے:

ترجمہ: میں فقرِ مُکِبّ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔

فقرِ مُکِبّ(فقرِ اضطراری) اسے کہتے ہیں جو دو حکمت سے خالی نہیں ہوتا یا تو وہ ہر وقت دولتِ دنیا کی باتیں کرتا رہتا ہے کیونکہ وہ بخیل ہوتا ہے اور اپنے مسلمان بھائیوں کا دشمن ہوتا ہے یا پھر خدا سے مفلسی اور تنگدستی کی شکایت کرتا رہتا ہے۔ جو شخص فقرِ مُکِبّ کو چھوڑ دیتا ہے وہ فقرِ مُحبّ کو پا لیتا ہے۔فقرِ مُحب کسے کہتے ہیں؟ فقرِ محب احکامِ الٰہی کی تعظیم، خلقِ خدا پر شفقت اور اپنے اندر اخلاق الٰہیہ (صفاتِ الٰہیہ یعنی مقامِ بقا تک رسائی) پیدا کرنے کا نام ہے۔ (نورالہدیٰ کلاں)حاصلِ بحث یہ کہ فقر دینِ اسلام کا انتہائی اہم اور بنیادی حصہ ہے جس میں انسان اللہ کا دیدار کر کے اس کی پہچان اور معرفت حاصل کرتا ہے اور باطنی طور پر اپنے محبوب آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔

ترجمہ: اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اسلام میں پورے داخل ہو جاؤ۔

اسلام صرف حقوق العباد اور حقوق اللہ کے نام پر صرف نماز روزے کا نام نہیں۔ معرفتِ الٰہی کا حصول بھی دین کا ایک اہم اور بنیادی حصہ ہے لیکن عام مسلمانوں نے اسے دین سے بالا کوئی شے سمجھ کر اسے صرف ایک طبقے (اولیاء اللہ) تک محدود کر دیا اور خود کو اس سے مبرّا سمجھ لیا حالانکہ قرآن کا مخاطب ہر وہ انسان ہے جو خود کو مسلمان کہتا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو فقر ہی اصل دین ہے کیونکہ دین کا مقصد اللہ کا قرب حاصل کرنا ہے اور یہ مقصد راہِ فقر پر چل کر ہی پورا ہو سکتا ہے۔ اسی لیے علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا:

موجودہ دور میں جب ہم اپنے اردگرد نظر ڈالتے ہیں تو سوائے فتنہ’ فساد اور انتشار کے کچھ نظر نہیں آتا اور جب اپنے اندر جھانکتے ہیں’ تو بے سکونی’ خوف اور فرسٹریشن ہماری حسیات پر غالب نظر آتی ہے۔ اسلام یعنی سلامتی والے دین کے پیروکار ہوتے ہوئے بھی ہر جگہ سے سلامتی اور سکون مفقود ہے۔ محسنِ انسانیت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جو دین لائے ہیں’ وہ ہر انسان کی ظاہری و باطنی اور انفرادی و اجتماعی بہتری کا دین ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور خلفائے راشدین کے دور میں اس انفرادی و اجتماعی فلاح کی گواہی تمام تاریخ دیتی ہے لیکن آج اسی دین کی پیروی کرنے کے باوجود مسلمانوں میں کوئی بہتری نظر نہیں آتی۔ وجہ یہی ہے کہ ہم اپنے دین کی ادھوری پیروی کر رہے ہیں اور اسلام میں پورے داخل نہیں ہو رہے۔ صرف ظاہری عبادات اور عقائد پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز کر کے دین کی اصل روح یعنی معرفتِ الٰہی کو مجروح کر رہے ہیں۔ معرفتِ الٰہی حاصل کیے بغیر عبادات کی حیثیت ایسے ہی ہے جیسے روح کے بغیر جسم۔ بے روح عبادات بے سود اور بے کار ہیں’ ان سے وہ مطلوبہ نتائج کبھی حاصل نہیں کیے جاسکتے جو دین اسلام کا مقصد ہیں یعنی روحانی ترقی اور ظاہری فلاح و بہبود۔