علمِ دعوت یا دعوتِ قبور

علمِ دعوت حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی تعلیمات میں ایک اعلیٰ علم ہے۔ اس کے اسرارو رموز آپؒ نے کھول کر اپنی کتب میں بیان فرمائے ہیں۔ اس علم کو آپ کی کتب میں مختلف ناموں علمِ تکسیر’ کیمیا اکسیر اور تصرفِ تحقیق کے نام سے بھی موسوم کیا گیا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے۔

ترجمہ: جب تم اپنے معاملات میں پریشان ہو جایا کرو تو اہلِ قبور سے مدد مانگ لیا کرو۔

یہ ایک دینی و روحانی عمل ہے جس میں کسی عارف، فقیر یا ولی کے مزار پر ایک خاص ترتیب سے قرآنِ پاک پڑھا جاتا ہے’ جس سے اہلِ مزار کی روح حاضر ہوجاتی ہے اور صاحبِ دعوت کی روحانی معاملات میں مدد کرتی ہے لیکن یہ بات ذہن میں رہے کہ علمِ دعوت اور کشف القبور میں بڑا فرق ہے۔ کشف القبور میں عام مسلمانوں کی قبروں پر دعوت پڑھ کر اہلِ قبر کے حالات معلوم کیے جاتے ہیں کہ وہ برزخ میں کس حالت میں ہیں لیکن علمِ دعوت صرف فقراء یا اولیاء کرام کے مزارات پر پڑھی جاتی ہے اور اس کا مقصد اوپر بیان ہو چکا ہے۔

علم دعوت پڑھنے کے لیے کچھ شرائط ہیں۔

1.    پڑھنے والا ولی اللہ ہو اور تصورِ اسم ذات میں کامل ہو اور اُسے حضوری حاصل ہو جیسا کہ حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

سب سے پہلے باطن میں بارگاہِ حق کی حضوری اور قرب و وصال نصیب ہوتا ہے۔ اس کے بعد بندہ دعوت پڑھنے کے قابل ہوتا ہے۔ جو آدمی اس طریق سے دعوت پڑھنا نہیں جانتا وہ دعوتِ قبور سے رجعت کھا کر بیمار و مجنون ہو جاتا ہے۔ (محک الفقر کلاں)

2.   علمِ دعوت پڑھنے والے کو چاہیے کہ وہ علمِ دعوت میں عامل’ کامل پاکباز اور صاحبِ یقین ہو۔ (نور الہدیٰ)

3.   مرشد کی اجازت کے بغیر دعوت نہیں پڑھنی چاہیے۔مرشد کی اجازت کے بغیر دعوت پڑھنا خطرناک ہے

4.  جو فقیر دعوتِ کامل پڑھنے میں عامل’ صاحبِ توجّہ اور صاحبِ حکم ہو اُسے نصاب زکوٰۃ’ شمارِ وقت سعد و نحس’ حسابِ بروج و کواکب’ دور بدور و بذل و قفل’ کھانے انتخابِ حیواناتِ جلالی یا حیواناتِ جمالی یا حیواناتِ کمالی’ احتیاطِ غسل و نمازِ دوگانہ’ حفاظتِ رجعت و سلب و آسیب’ روزے رکھنے خلوت نشین ہو کر چلے کاٹنے اور مجاہدہ کرنے کی حاجت نہیں ہوتی کیونکہ یہ سب امور باعثِ وسوسہ و خطرات و ہمات ہیں جنہیں خام و ناقص و ناتمام لوگ اختیار کرتے ہیں۔ (نور الہدی کلاں)

5.   علمِ دعوت پڑھنا اور ہر بلا و ہر آفت سے محفوظ رہ کر باشعور رہنا کاملوں کا کام ہے اگر کوئی تلوار سے سر بھی اڑادے تو تب بھی ناقص کے لیے بہتر ہے کہ دعوت پڑھنے کی جرأت نہ کرے اگر کوئی دعوت پڑھنے کے عوض ہزار طلائی دینار(دولت) بھی دینا چاہے تو ناقص کے لیے بہتر ہے کہ دینار ٹھکرا دے اور دعوت نہ پڑھے۔ تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ شیطان تیس ہزار سال تک علمِ دعوت پڑھتا رہا اور تیس ہزار سال تک فرشتوں کو بھی پڑھاتا رہا لیکن اس علم سے اس کے وجود میں سُکر و مستی اَنَا و کبرو ریا وعُجب (خودپسندی) و ہوا بھر گئی جس نے اُسے امرِ خداوندی اور سجدہِ آدم علیہ السلام سے باز رکھا۔ (نور الہدی)

6.   یہ ناقص لوگ ترتیب سے علمِ دعوت پڑھتے ہی نہیں اور نہ ہی پڑھنا جانتے ہیں جو کوئی توجہ دے کر نفس کی زبان سے دعوت پڑھتا ہے تو اس کے پاس جنوں کے غیبی لشکر جمع ہو جاتے ہیں۔ ایسی دعوت کا پڑھنا اہلِ ناسوت کا کام ہے۔ جو کوئی توجہ دے کر تصورِ قلب اور قلبی زبان سے علمِ دعوت پڑھتا ہے کل و جز کے تمام مؤکل فرشتے اس کے گرد حلقہ بنا کر جمع ہو جاتے ہیں اور اس کی خاطر وہ بھی دعوت پڑھنے لگتے ہیں۔ (نور الہدیٰ)

حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

یاد رہے کہ جس فقیرِ کامل (انسانِ کامل)کو قربِ الٰہی حاصل ہو اُسے دعوت پڑھنے کی حاجت ہی کیا ہے؟ بلکہ دعوت پڑھنے’ شب و روز خلوت میں بکثرت چلّے کاٹنے’ لاکھوں کی تعداد میں سوار و پیادہ فوج اور مست ہاتھیوں کے لشکر جمع کرنے اور اُن پر سیم و زر و نقد و جنس کا بے شمار سرمایہ خرچ کرنے سے فقیرِ کامل کی ایک توجہ بہتر ہے۔ جو فقیرِ کامل کنہہ قرب ذات’ کنہہِ کن اور کنہہ کلمہ طیبات ”birth-childhood-education4” سے توجہ کرنا جانتا ہے اُس کی توجہ میں روز بروز ترقی ہوتی رہتی ہے جو قیامت تک نہیں رکتی۔ (نور الہدیٰ کلاں)

1.   رات کے وقت کسی ولی یا فقیر کی قبر پر حاضر ہو کر اس کی پائنتی یا اس کے سرہانے بیٹھ کر یا گھوڑے کی طرح قبر پر سوار ہو کر جس قدر ہو سکے قرآنِ مجید تلاوت کرے۔ (دعوت پڑھتے ہوئے قبر پر سوار ہونے کو سلطان صاحب رحمتہ اللہ علیہ بُرا نہیں سمجھتے۔ البتہ ناقص یا خام کو اس کے نتائج سے ضرور خبردار کر دیتے ہیں۔)

2.   اگر صاحبِ حضور ہے تو منہ کی زبان سے دعوت نہ پڑھے کیونکہ زبان نیک و بد گفتگو سے عموماً آلودہ رہتی ہے۔ اس لیے قرآن پڑھنے کے لائق نہیں’ صاحبِ دل’ دِل سے اور صاحبِ سِرّ ‘ سِرّکی زبان سے پڑھے ۔

1.   روحانی امداد کے لیے۔

2.  بادشاہ اسلام کے لیے جو کافروں سے جنگ کر رہا ہو۔

3.   رافضیوں اور خارجیوں کے لیے کہ اللہ انہیں ہدایت دے۔

4.   علمائے منافقین کے لیے جو حق قبول نہیں کرتے۔

5.   آبادی جمعیتِ خلق اور بارانِ رحمت کے لیے۔

6.   اس شخص کی مدد کے لیے جو دعوت پڑھتے وقت رجعت میں آکر دیوانہ ہوگیا ہو۔

7.    کسی عالم باعمل کے لیے جسے کوئی دینی مدد درپیش ہو۔

”استمدادعن القبور” (اہلِ قبور سے مدد طلب کرنا) کے مسئلہ پر علماء کرام میں گہرے اختلافات رہے ہیں۔ ایک گروہ نے انکار کا راستہ اختیار کیا اور دوسرا استمدادعن القبور کے اقرار اور وجود کے بارے میں فتویٰ دیتا رہا ہے لیکن صوفیاء کرام کے تمام گروہ اس معاملہ میں متفق رہے ہیں۔ چونکہ یہ معاملہ کشف اور مشاہدہ سے تعلق رکھتا ہے۔ لہٰذا صوفیاء کرام اپنے مشاہدات و تجربات کی رو سے ہمیشہ اولیاء اللہ کے وصال کے بعد ان کے فیوض و برکات اور دینی امور میں امداد و تصرف کے قائل رہے ہیں۔

حضرت معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ کا حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر روحانی مسئلہ کے لیے مسلسل چالیس روز چلہ کاٹنا ”علمِ دعوت” کا ایک مشہور واقعہ ہے اور جب حضرت معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ کا مسئلہ حل ہو گیا تو آپؒ پکار اٹھے:

ابنِ تیمیہ پہلے عالم تھے جنہو ں نے استمدادعن القبور کے سلسلے میں انکار کی راہ اختیار کی۔ جب صوفیاء کرام کے کشف’ تجربات اور مشاہدات کی طرف ان کی توجہ دلائی گئی تو انہوں نے ایسے معاملے میں جنات اور جنیوں کی تسخیر کا حوالہ دے کر اس قسم کی باتوں کو مسترد کر دیا اور علماء کرام کے ایک بہت بڑے گروہ نے ان کی پیروی کی۔

دوسرے گروہ میں علماء بھی ہیں اور صوفیاء کرام بھی۔ علمی سطح پر سب سے پہلے علامہ ابنِ قیم رحمتہ اللہ علیہ نے اس مسئلے کی طرف توجہ دی اور اپنی کتاب ”کتاب الروح’ ‘ میں اس مسئلے کے علمی پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے ثابت کیا کہ مردے سنتے ہیں ا ور کاملین سے عالمِ بیداری میں اور عوام سے عالمِ خواب میں ملاقاتی ہو کر رابطہ کرتے ہیں۔ اس مسئلے پر بے شمار کتب تحریر ہو جاچکی ہیں۔ یہاں ہم صرف شاہ ولی اللہ رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب ”ہمعات” سے ایک اقتباس درج کر رہے ہیں آپ لکھتے ہیں:

”اس سلسلہ میں فقیر کو بتایا گیا کہ جب مشائخ’ صوفیاء کو انتقال فرمائے چار سو سال پانچ سو سال یا اس کے قریب گزر جاتے ہیں تو ان کے نفوس کی طبعی قوتیں جو زندگی میں ان کی ارواح کو خالص مجرد صورت میں ظاہر ہونے نہیں دیتی تھیں’ اتنا عرصہ گزرنے کے بعد یہ طبعی قوتیں بے اثر ہو جاتی ہیں اور اس دوران میں ان نفوس کے نسمہ یعنی روح ہوائی کے اجزاء منتشر ہو جاتے ہیں اس حالت میں جب ان مشائخ کی قبور کی طرف توجہ کی جاتی ہے تو ان کی ارواح سے اس توجہ کرنے والے کی روح کو فیضان ہوتا ہے۔”

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے دعوت کے بے شمار فوائد بیان کیے ہیں۔ تمام ظاہری و باطنی قوتیں اس سے مسخر ہوتی ہیں، بڑے بڑے اسرار ظاہر ہوتے ہیں، دنیا کی ہر شے اپنے حقائق صاحبِ دعوت پر منکشف کر دیتی ہے، ماضی و حال و مستقبل کے حالات معلوم ہوجاتے ہیں اور ہر قسم کی مطلب برآری ممکن ہے۔ اگر یہ دعوت قبولیت کا درجہ پائے’ تو صاحبِ دعوت کو غیب سے آواز آتی ہے یا کوئی بزرگ خواب ‘ مراقبے ‘ دلیل، خیال یا وَھم سے کامیابی کی بشارت دیتا ہے۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

علمِ دعوت کی شرح و خاصیت یہ ہے کہ علمِ دعوت اللہ تعالیٰ کے کلام قرآن مجید کی دعوت ہے۔ جو آدمی قرآن مجید کو اپنا ہادی و پیشوا اور راہبر بنا لیتا ہے وہ دونوں جہان میں معتبر ہوجاتا ہے۔ اب قرآن و علمِ دعوت کی شرح علیحدہ علیحدہ بیان کی جاتی ہے۔ دعوت کئی قسم کی ہوتی ہے مثلاً دعوتِ جز’ دعوتِ کل’ دعوتِ ذکر’ دعوتِ فکر’ دعوتِ تجلیاتِ نورِ اللہ’ دعوتِ منتہی فقیر ولی اللہ جس کے متعلق فرمانِ حق تعالیٰ ہے:

ترجمہ: اللہ (اسم  ذات) مومنوں کا ایسا دوست ہے جو انہیں ظلمات سے نکال کر نور میں لے جاتا ہے۔

اور دعوتِ صاحبِ نظیر تمام عالمگیر اولیائے اللہ جس کے بارے میں فرمانِ حق تعالیٰ ہے۔

ترجمہ: بے شک! اولیاء اللہ پر کوئی خوف ہے نہ کوئی غم۔

ترجمہ: مرشدِ مرد اہلِ دعوت و اہلِ حضور ہوتا ہے اور خود پرست مرشد اہلِ غرور ہوتا ہے۔

منتہی صاحبِ دعوت اگر کسی کی طرف جذبِ قہر و غضب سے دیکھ لے تو خدائے عزوجل کے حکم سے وہ دم بھر میں فوراً بے جان ہو کر مرجاتا ہے کہ فقراء کا قہر’ قہرِخداوندی کا نمونہ ہوتا ہے۔ اور اگر وہ کسی کو جذبِ اخلاص سے دیکھ لے تو وہ زندہ دِل ہو کر با اخلاص طالبِ مولیٰ بن جاتا ہے۔ اکثر لوگ کہہ دیتے ہیں کہ پیر میرا اخص ہے اور اعتقاد میرا بس ہے۔ وہ یہ بات کج فہمی’ بے عقلی’ جہالت اور نادانی کی وجہ سے کہتے ہیں۔ اُنہیں کہنا چاہیے کہ پیر صاحبِ اسرارِ خاص الخاص اخص ہے اس لیے اعتقاد بھی میرا بس ہے۔ جان لے کہ دعوت یا تو جنات و مؤکلات کو قید و مسخر کرنے کے لیے پڑھی جاتی ہے یا انبیاء و اولیاء و اصفیاء و اتقیاء و غوث و قطب و شہداء و خاکیانِ اہلِ اسلام کی مقدس ارواح کو حاضر کرنے کے لیے پڑھی جاتی ہے اس لیے ضروری ہے کہ دعوت پڑھنے والا دعوت پڑھنے میں عامل کامل شہسوار ہو اور وہ آدھی رات کے وقت قبر کے پاس جائے اور اس کے گرد دعوت پڑھے۔ اگر روحانی حاضر ہو جائے یا ”وَھم” یا” خیال” یا کسی اور طریقے سے صاحبِ دعوت کا مطلوبہ کام کر دے تو ٹھیک ورنہ معلوم ہو جائے گا کہ صاحبِ قبر روحانی غالب ہے یا اُسے کلامِ الٰہی سے نورِ الٰہی کی دولت و نعمت مل رہی ہے جس کی وجہ سے وہ تاخیر کر رہا ہے۔ ایسی صورت میں پڑھنے والے کو چاہیے کہ وہ قبر پر سوار ہو جائے جیسا کہ شہسوار گھوڑے پر سوار ہوتا ہے۔ اگرچہ قبر پر سوار ہونا گناہ ہے تاہم مہمِ اسلام کی خاطر یا مسلمانوں کی بھلائی کی خاطر ایسا کرنا عین ثواب کا کام ہے۔ جو آدمی قرآن پڑھتا ہے اور بحرِ قرآن میں غواصی کرتا ہے وہ علم میں عامل اور دعوتِ تکسیر میں کامل مکمل ہوجاتا ہے اُس کے لیے کسی شہید یا فنا فی اللہ فقیر کی قبر کے نزدیک علمِ دعوت پڑھنا ایسا عمل ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ اپنے حکم و عظمت و امر و قہر و جلالیت و حیرت سے نوازتا ہے۔ اس دوران اللہ تعالیٰ صاحبِ دعوت کو ایسی توفیق بخشتا ہے کہ عرش سے تحت الثریٰ تک زمین و آسمان کی ہر چیز حتیٰ کہ کعبۃ اللہ اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا مدینہ بھی گردش میں آکر زیر و زبر ہونے لگتا ہے۔ پس کسی اور چیز کا کیا تذکرہ؟ اگر کوئی صاحبِ دعوت ایسی دعوت پڑھے اور جذبِ توجہ سے کسی کی جان لینا چاہے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے مشرق سے مغرب تک کہیں بھی عزرائیل علیہ السلام دم بھر میں اُس کی جان قبض کر لیں گے۔لیکن میں اس سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔

ترجمہ: اے باھوؒ ! تجھے خدا اور رسولِ خدا کا واسطہ تو اہلِ وصول کو اس سے باخبر کر دے۔

جو لوگ ایسی دعوت پڑھنے میں عامل ہونے کے باوجود ظالم لوگوں کے ظلم سہتے رہتے ہیں اور کسی کو ستاتے نہیں وہ اپنے تمام احوال سے باخبر و ہوشیار رہتے ہیں۔ اہلِ دعوت فقیر بہت بڑی قوت کے مالک ہوتے ہیں’ وہ بے قوت نہیں ہوتے کہ لوگ اُن سے عداوت رکھیں کیونکہ طالب اللہ ہوتے ہیں اور طالبِ اللہ دونوں جہان پر غالب ہوتا ہے۔

ترجمہ: زمین و آسمان کا مقام فقیر کے قدموں کے نیچے ہے اس لیے وہ ہمیشہ اس کے زیر سایہ رہتے ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے:

ترجمہ:سب سے بہتر آدمی وہ ہے جو لوگوں کو نفع پہنچائے۔(محک الفقر کلاں)

اہلِ دعو ت کا قبر پر سوار ہونا روحانی کو پہاڑ سے زیادہ وزنی معلوم ہوتا ہے۔ اگر دعوت پڑھنے کے دوران اہلِ دعوت ایک تنکا اُٹھا کر قبر پر کوڑے کی طرح مار دے تو وہ تنکا روحانی کو ایسا زخم پہنچاتا ہے جیسا کہ تلوار یا کلہاڑی یا نیزہ یا چھری یا بندوق پہنچاتی ہے۔ روحانی یہ زخم کھا کر بلبلا اُٹھتا ہے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ میں فریاد کرتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ سے اُسے اہلِ دعوت کا کام کرنے کا حکمِ اعلیٰ صادر ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے کرم سے اہلِ دعوت کا رُ کا ہوا مشکل کام فوراً ہوجاتا ہے اور وہ اپنے مقصود کو پہنچ جاتا ہے۔ ایسی دعوت کو ننگی تلوار کہتے ہیں کہ ایسی دعوت پڑھنے والے کی زبان اللہ کی تلوار ہوتی ہے۔ اُس کا دل زندہ اور نفس مردہ ہوتا ہے اور اُسے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف سے ایسی دعوت پڑھنے کی اجازت ہوتی ہے۔

ترجمہ: جسے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ سے ایسی دعوت پڑھنے کی اجازت و رخصت نہ ملے وہ وصلِ وحدت کے ان مراتب تک کہاں پہنچ سکتا ہے؟”(محک الفقر کلاں)

دعوت کے ان مراتب کا تعلق زبانی قیل و قال اور گفتگو سے نہیں بلکہ اس کا تعلق  (اپنے نفس کو چھوڑ دے اور اللہ تعالیٰ کو پالے)کے لائحہ عمل سے ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے: ( مجاہدے کی تلوار سے اپنے نفسوں کو قتل کر دو) البتہ اہلِ نفس کو یہ طاقت کہاں کہ وہ روحانی کی قبر کے پاس جا کر اُس سے جنگ کرے؟ یہ روحانیت کی وہ راہ ہے کہ جس میں حقیقتِ روحانیت اولیاء اللہ پر غالب ہوتی ہے۔ تو اچھی طرح جان اور سمجھ لے کہ اسم ”” کا مجاہدہ تلوار کے مجاہدے سے غالب تر مجاہدہ ہے۔ محض ایک دفعہ پڑھ لینے سے دعوت ہرگز رواں نہیں ہوتی اور نہ ہی زیرِ عمل آتی ہے جب تک کہ اہلِ دعوت اس طرح دعوت نہ پڑھے کہ دعوت شروع کرتے وقت وہ اللہ تعالیٰ کو اپنے رو برو حاضر سمجھے’ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اپنا شفیع بنائے’ حضرت محی الدین شاہ عبدالقادر جیلانی قدس سرہٗ العزیز کو امینِ الٰہی سمجھے اور خود کو منصف بنا کر آنکھیں بند کر لے اور مراقبہ میں تفکر کر ے کہ خدائے تعالیٰ سے بہتر کون سی چیز ہے جسے میں دعوت پڑھ کر مسخر کروں؟ اور اگر اُسے یہ یقین ہو جائے کہ تمام مخلوق کمتر ہے اور خالق تمام مخلوق سے بہتر ہے تو اللہ تعالیٰ اُس پر مہربان ہو جائے گا اور دونوں جہان اُس کے تابع کر کے خدمت گار بنا دے گا۔ جو آدمی اس مرتبے پر پہنچ جاتا ہے خاک و سونا اُس کی نظر میں برابر ہو جاتے ہیں کہ اسم میں تاثیر کلی پائی جاتی ہے۔ اسم اعظم کی تاثیر سے وہ روشن ضمیر ہو کر بے نظیر مرتبے کا مالک ہوجاتا ہے اور ہر ملک و ولایت اور مشرق سے مغرب تک’ زمین کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک ہر بادشاہی اُس کے حکم و قید میں آجاتی ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ بادشاہ اہلِ فقر کے تابع ہوتا ہے۔ جس نے بھی فتح و نصرت و بادشاہی پائی نگاہِ فقیردرویش سے پائی۔(محک الفقر کلاں)

فقیر کی پڑھی ہوئی دعوت حضوری حق کی دلیل ہوتی ہے’ فقیر کا ہر کلام مثل کلامِ خلیل ؑ ہوتا ہے’ ہم مجلس فقیر ہم مجلس ربِ جلیل ہوتا ہے’ ایسا مظہر نورِ الٰہی فقیر جہان میں قلیل ہوتا ہے۔ ارے ہاں! جس آدمی کا باطن صاف ہو جائے اُس کا دل معرفتِ الٰہی سے مزین ہو کر جامِ جہاں نما ہوجاتا ہے۔ ایسے فقیر لب بستہ خاموش رہتے ہیں کہ وہ اللہ سے پیوستہ ہو جاتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے بات نہیں کرتے کیونکہ غیر اللہ سے بات چیت سے غم پیدا ہوتے ہیں۔دنیا غم ہے اور فقر اللہ کا نام ہے جو بہت بڑی غنیمت ہے ۔ اہلِ غم اور اہلِ غنیمت کا آپس میں کوئی جوڑ نہیں۔ صاحبِ دعوت منتہی فقیر ظاہری و باطنی قوت کی وجہ سے لارجعت و لازوال ہوتا ہے۔ ایسے دعوت خواں فقیر کو مراتبِ قرب و وصال حاصل ہوتے ہیں۔ منتہی صاحبِ دعوت کو ستارے و بروج شمار کرنے کی کیا حاجت ہے اور اُسے نحس و سعد ساعتوں کے اعداد و شمار جمع کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ کہ وہ تو لاتخف و لا تحزن (خوف و غم سے آزاد) مرتبے کا مالک ہوتا ہے۔ وہ جب قبر کے پاس جا کر مراقبہ کرتا ہے تو خود سے بے خود ہو کر روحانی سے جواب باصواب پاتا ہے اور اگرچہ وہ احوالِ قبر سے باخبر ہوتا ہے از راہِ دل قبر سے خبریں وصول کرتا ہے کہ اُس کی باطنی دلیل کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ ایسے صاحبِ دعوت فقیر مذکور کا وجود صاف اور قلب طاہر ہوتا ہے۔(محک الفقر کلاں)

ہر دم ذکر فکر کی ترتیب سے اگر دعوتِ باطن پڑھی جائے تو باطن کی خاص الخاص راہِ مطلق کھل جاتی ہے جس سے دل بیدار ہو کر طلبِ حق میں مشغول ہوجاتا ہے۔ ایسی دعوت کو دعوتِ غرق یا دعوتِ جذب کہتے ہیں۔ اس دعوت میں اسمکے حروف سے نورِ ذات کی تجلیات قطراتِ بارش کی مانند برستی ہیں۔ تجلیات کی یہ بارش اسم  کے حرف  حرف  حرف ” دوم” اور حرف سے برستی ہے۔ حروفِ اسم  سے پھوٹنے والی یہ تجلّی دیکھ کر چشم دل عین الیقین کا مرتبہ حاصل کر لیتی ہے اور چشمِ ظاہر کو علم الیقین کی حد تک معرفتِ الٰہی نصیب ہوجاتی ہے۔ جو آدمی اس یقین سے بے یقین ہو جاتا ہے وہ کافر ہو جاتا ہے۔ حروف اسم ذات کی اس تجلی کی تحقیق طریقِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کی جائے کہ نورِ اللہ کی اس تجلّی کی باریدگی کے وقت جن اور شیاطین بھی کثیر تعداد میں راہزنی کی غرض سے اُس کے اردگرد ناری تجلیات کا مظاہرہ کرتے ہیں ا ور ذاکر کو بدعت و شرک و استدراج میں مبتلا کرتے ہیں۔ اس مقام پر ذاکر کو خبردار و ہوشیار رہنا چاہیے۔ ان احوال و مقامات سے نمٹنے کے لیے ایک نہایت ہی باخبر مرشد دستگیر ہونا چاہیے جو ان مقامات کی ہر زیر و زبر کی گمراہی سے آدمی کو نکال کر تصورِ اسم  ذات کی لازوال توفیق بخشے۔ یہ متاعِ نیک جس دوکان سے بھی ملے اسے مت چھوڑ اور شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ابتدا سے انتہا تک زیرِ عمل رکھ کہ یہی اصل دین ہے۔ دعوتِ ریاضت اور چیز ہے اور دعوتِ راز اور چیز ہے۔

ترجمہ: دعوتِ دم نوش جب رواں ہوجاتی ہے تو تیز دھار تلوار کی طرح کاٹ کرتی ہے’ یہ تیز اثر دعوت وَھم سے دل سے ابھرتی ہے۔

اس قسم کی تیغ برہنہ دعوت مردہ نفس و زندہ قلب و جان اولیائے اللہ کی قبر کی ہم نشینی میں قرآن خوانی سے تعلق رکھتی ہے۔ جب کوئی فقیرِ کامل اس قسم کی جان گیر دعوت پڑھنا شروع کرتا ہے تو بے شک کل و جز کی تمام مخلوق’ تمام انبیاء اولیاء کلمہ طیب ” birth-childhood-education4” پڑھنے والے تمام اہلِ اسلام کی ارواح’ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور اصحاب کبار’ اصحابِ صفہ’ اصحابِ بدر’ اصحابِ اہلِ مدینہ اور اصحابِ عرب و عجم پر مشتمل لگ بھگ ایک لاکھ تیرہ ہزار صحابہ کرامؓ حاضر ہو جاتے ہیں اور تمام مؤکل فرشتے اور حضرت آدم علیہ السلام سے خاتم الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک تمام انبیائے کرام کی ارواح اور اٹھارہ ہزار عالم کے جملہ جن و انس’ عرشِ اکبر’ کعبتہ اللہ اور زمین و آسمان کے تمام طبقات جنبش میں آکر صاحبِ دعوت کی قید میں آجاتے ہیں۔ جب تک وہ دعوت پڑھنا ختم نہیں کرتا اہلِ خاص خلاصی نہیں پاتے۔ اس دعوت سے سخت تر دعوت اور کوئی نہیں۔ اگر کوئی متواتر گیارہ دن تک ہر روز یہ دعوت پڑھے تو بے شک یہ اپنا اثر دکھائے گی اور اللہ کی عزت کی قسم فرشتے اُس ملک و ولایت کی زمین کو ہلا کر رکھ دیں یا الٹ کرتہس نہس کر دیں چاہے اس ملک و ولایت و زمین و شہر کے باسی انبیاء و اولیاء کی مثل ہی کیوں نہ ہوں۔ دعوت خواں اس دعوت کو ایک رات پڑھے یا دوسری رات پڑھے اور اگر اُس کا کام سخت و دشوار تر ہو تو تیسری رات بھی پڑھ لے۔ اگر وہ اس سے زیادہ دنوں تک پڑھے تو اُس کے اس عمل کا اثر قیامت تک ختم نہیں ہوگا۔ جو آدمی دعوتِ دعائے سیفی سیف اللہ اور دعوتِ کلام اللہ کی اس تاثیر پر شک کرتا ہے وہ کافر مطلق ہے کہ دعوتِ کلامِ ربانی برحق ہے لیکن شرط یہ ہے کہ جس طرح پارہ کسی عامل کامل کیمیا گر کے بغیر کشتہ نہیں ہوتا نہ خاکستر و نابود ہو کر کھانے کے قابل بنتا ہے اور نہ ہی لوہا سونا بنتا ہے اُسی طرح عملِ دعوت بھی مرشدِ کامل کی اجازت اور قبر اولیائے اللہ کی ہم نشینی کے بغیر نہ تو کارگر ہوتا ہے نہ رجعت سے محفوظ ہوتا ہے اور نہ ہی رواں ہوتا ہے۔ صاحبِ دعوت عامل کامل کے لیے صاحبِ اکسیر کو قید کر کے اپنے تابع کرنا کون سا مشکل کام ہے۔ (محک الفقر کلاں)

جب کوئی توجہ و تصرف کے ساتھ روحی زبان سے علمِ دعوت پڑھتا ہے تو تمام انبیاء و اولیاء اور جملہ اہلِ ایمان کی ارواح بھی اُس کے گرد حلقہ بنا کر اُس کی امداد و رفاقت میں علمِ دعوت پڑھنے لگتی ہیں۔ ایسی دعوت سے ایک ہی دم اور ایک ہی قدم پر مشرق سے مغرب تک ملکِ سلیمانی جیسی حکومت صاحبِ دعوت کے قبضے و عمل داری میں آجاتی ہے۔ ایسی دعوت کو مستجاب الداعوت کہا جاتا ہے۔ جو کوئی نوری زبان سے تصور اسمِ  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دعوت پڑھتا ہے تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مقدس و معظم و مکرم روح مبارک اور چھوٹے بڑے تمام اصحابہ کرام کی ارواح مبارکہ بھی اُس کے گرد حلقہ بنا کر اُس کی امداد و رفاقت میں آیاتِ قرآن سے علمِ دعوت پڑھتی ہیں۔ ایسی دعوتِ تکسیر کا عمر بھر میں ایک ہی بار پڑھنا کافی ہوتا ہے۔ (شمس العارفین)

جان لے کہ دعوت پانچ قسم کی ہوتی ہے۔ ایک دعوت وسیلہِ ازل ہے جو مقامِ ازل تک پہنچاتی ہے۔ دوسری دعوت وسیلہِ ابد ہے جو مقامِ ابد تک پہنچاتی ہے۔ تیسری دعوت وسیلہِ دنیا ہے جو مشرق سے مغرب تک تمام روئے زمین کی حکومت و تصرف تک پہنچاتی ہے۔ چوتھی دعوت وسیلہِ عقبیٰ ہے جو عقبیٰ تک پہنچاتی ہے۔ پانچویں دعوت معرفتِ مولیٰ ہے جو مقامِ معرفتِ الٰہی پر مشاہدہِ نُورِ نامتناہی اور مجلسِ محمد مصطفی ( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) کی حضوری تک پہنچاتی ہے۔(شمس العارفین)

علمِ دعوت راہِ فقر میں اہم حیثیت رکھتی ہے جو مرشد کامل طالب کو اس وقت عطا کرتا ہے جب وہ تصور اسم  ذات سے حضورِ حق میں پہنچ جاتا ہے لیکن طالب کو یاد رکھنا چاہیے کہ اس کی طلب صرف دیدار حق تعالیٰ اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری ہونی چاہیے ۔