انسانِ کامل یا فقیرِ کامل

راہِ فقر میں اپنی ہستی ا ور خودی کو ختم کرکے اللہ پاک کی ذات میں فنا ہو جانا عارفین کا سب سے اعلیٰ اور آخری مقام ہے۔ جہاں پر وہ دوئی کی منزل سے بھی گزر جاتے ہیں۔ حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ”talib-e-maula10” (مرنے سے پہلے مر جاؤ) میں اسی مقام کی طرف اشارہ ہے۔ فقر کے اس انتہائی مر تبہ کومقامِ فنا فی ھُو، وحدت، فقر فنا فی اللہ بقاباللہ یا وصالِ الٰہی کہتے ہیں اور یہ مقامِ توحید بھی ہے۔ یہاں پہنچ کر انسان ”سراپا توحید ” ہو جاتا ہے۔انسانی عروج کا یہ سب سے اعلیٰ مقام ہے۔ عام اصطلاح میں اس مقام تک پہنچنے والے انسان کو ”انسانِ کامل ”کہا جاتا ہے ۔ لیکن فقراء اور عارفین نے اپنی تصنیفات میں اس مقام کو مختلف ناموں سے موسوم کیا ہے۔

ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے:

ترجمہ:جہاں فقر کی تکمیل ہوتی ہے وہیں اللہ ہوتا ہے۔

جب طالب فقر کی انتہا پر پہنچ جاتا ہے تو جملہ صفاتِ الٰہی سے متصف ہو کر انسانِ کامل کے مرتبہ پر فائز ہوتا ہے۔ وجودِ کائنات کے تمام مراتب میں سب سے اکمل ”انسان” ہے اور جملہ افراد انسانی میں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سب سے اکمل و ارفع ہیں اور اللہ تعالیٰ کے مظہرِ اُتمّ ہیں آپ ہی انسانِ کامل ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی حق تعالیٰ کے خلیفہ برحق ہیں۔ اور اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نائبین کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وسیلہ سے یہ مرتبہ حاصل ہوا۔ایک شخص ہر وقت دنیا میں قدمِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ہوتا ہے جو انسانِ کامل’ امانتِ الٰہیہ’ خلافتِ الٰہیہ کا حامل اور حضورصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا باطنی نائب ہوتا ہے اور کائنات کا نظام اللہ تعالیٰ اس” انسانِ کامل ”کی وساطت سے چلاتا ہے ۔

حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ اسے ہی مرشد کامل اکمل فرماتے ہیں۔جب انسان پر فقر کی تکمیل ہوتی ہے تو اس مرتبہ پر صاحبِ فقر کی اپنی ہستی ختم ہو جاتی ہے، یہ وہ مقام ہے جہاں میں اور تو کا فرق مٹ جاتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے یکتائی کے اس مرتبہ پرفائزہو جاتا ہے جہاں دوئی نہیں ہوتی اس لئے اس کا بولنا اللہ کا بولنا ہوتا ہے، اس کا دیکھنا اللہ کا دیکھنا اور اس کا سننا اللہ کا سننا، اس کا چلنا اللہ کا چلنا اور اس کا پکڑنا اللہ کا پکڑنا ہوتا ہے۔اس مقام کی طرف علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے ان الفاظ میں اشارہ کیا ہے:

غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں:

اے بندے جب تو مقامِ فنا میں پہنچے گا تو تجھ پر تکوین (امرِکن کا اِذن )وارد کی جائے گی یعنی فنائیت کے بعد موجود کرنا اور کائنات پیدا کرنا تیرے سپرد کیا جائے گا اور عالم میں تصرف کرنے کی طاقت تجھے عطا کی جائے گی جس کی بدولت تو جہان میں تصرف کرے گا ۔( فتوح الغیب)

فقیر (انسانِ کامل) وہ نہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو بلکہ فقیر وہ ہے جو ”کن ”کہے اور” فیکون ”ہو جائے۔(الرسالۃ الغوثیہ)

فقر کی اسی منزل پر جب حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ پہنچے تو آپ ؒ نے فرمایا:

” منزلِ فقر میں بارگاہِ کبریا سے حکم ہوا کہ تو ہمارا عاشق ہے۔اس فقیر نے عرض کی کہ عاجز کو حضرتِ کبریا کے عشق کی توفیق نہیں پھر حکم ہوا کہ تو ہمارا معشوق ہے اس پر یہ عاجز خاموش ہوگیا تو حضرتِ کبریا کے انوارِ تجلی کے فیض نے بندے کو ذرے کی طرح استغراق کے سمندروں میں غرق کر دیا اور فرمایا کہ تو ہماری ذات کی ”عین” ہے اور ہم تمہاری ”عین” ہیں حقیقت میں تو ہماری ”حقیقت ” ہے اور معرفت میں تو ہمارا یار ہے اور ”ھو” میں سِرّ یا ھُو ہے” یعنی معشوقِ ھُو ہے۔ (رسالہ روحی شریف)

یہاں”ھو” سے مراد”ذاتِ حق تعالیٰ” ہے اور ”یاھو” سے مراد حقیقتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے اور” سِرّ ” سے مراد تکمیل باطن وصالِ الٰہی ہے یعنی مقامِ فنا فی ھُو( فنا فی اللہ بقاباللہ) ہے جہاں پر انسان کامل ہو کر تلقین و ارشاد کی مسند پر فائز ہوتا ہے۔ انسانِ کامل کے بارے میں حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

چونکہ اللہ تعالیٰ کے نور مبارک سے جناب سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا نور مبارک ظاہر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نور سے تمام مخلوق کا ظہور ہوا اس لئے انسان کی اصل نور ہے اور عمل کے مطابق جب نفس’ قلب اور روح تینوں نور بن جاتے ہیں اس کو انسانِ کامل کہتے ہیں۔(عقلِ بیدار)

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام انسانِ کامل ہیں اور باقی لوگ حسبِ مراتب تقریب رکھتے ہیں ۔(قربِ دیدار)

واضح رہے کہ ”انسانِ کامل” ہمیشہ دیدار کی طلب میں رہتا ہے اور احمق حیوان ہمیشہ دنیا مردار کی طلب میں رہتا ہے۔(امیر الکونین)

انسانِ کامل کا وجود طلسماتِ اسم و مسمّٰی کا گنج معمہّ ہے۔(نور الہدیٰ کلاں)

یہاں آپؒ نے انسانِ کامل کے وجود کو طلسمات فرمایا ہے کیونکہ وہ مظہر عجائب الغرائب ہے انسانِ کامل ”اسم () اور مسمّٰی” (ذاتِ الٰہی) کو پا لینے کا راز جانتا ہے یہ ایک خزانہ (گنج) ہے اور جس طرح کسی خزانہ تک معمّہ حل کر کے پہنچا جاسکتا ہے اسی طرح انسانِ کامل کو بھی پہچاننا ایک معمّہ ہے اور جو اس معمّہ کو حل کر لیتا ہے وہی انسانِ کامل کی حقیقت تک پہنچتا ہے۔یعنی انسانِ کامل کی حقیقت کی پہچان ادراکِ قلبی سے ہوتی ہے اور اس کے لئے تصورِ اسمِ  ذات ہی ایک ذریعہ ہے اسمِ  ذات کے تصور کے بغیر انسانِ کامل کی پہچان ناممکن ہے کیونکہ انسانِ کامل کی منزل تک بھی اسمِ ذات ہی پہنچاتا ہے اگر یہ صاحبِ مسمّٰی(انسانِ کامل) سے حاصل ہوا ہو۔جیسا کہ

علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

ترجمہ: مردِ میداں (انسانِ کامل )اللہ ھُو (اسمِ  ذات) سے زندہ ہے اور یہ جہانِ چار سو اس کے قدموں کے نیچے ہے۔

سلسلہ سروری قادری میں جب طالب ھُو میں فنا ہو کر فنا فی ھُو ہو جاتا ہے اور اس کے ظاہر و باطن میں ھُو کے سوا کچھ نہیں رہتا تو یہ ہے مرتبہ ”ہمہ اوست در مغزو پوست” اور یہی ہے فقیر مالک الملکی (انسانِ کامل، نائبِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) اور یہی ہے مرشد کامل اکمل نور الہدیٰ۔

ایسا انسان ہر وقت کائنات میں موجود ہوتا ہے جو حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا نائب ہوتا ہے یعنی حقیقتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مختلف زمانوں میں اپنے نائب ، خلیفہ اور جانشین کی صورت میں بدلتی رہتی ہے۔

قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔

ترجمہ:اور ہر امر کو جمع کر رکھا ہے ہم نے امامِ مبین میں۔

اس آیت میں امامِ مبین سے مراد ”انسانِ کامل ”ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے ہر امر ، حکم اور اپنی پیدا کردہ کل کائنات کو ایک لوحِ محفوظ جو کہ انسانِ کامل کا دِل ہے میں محفوظ کر رکھا ہے ۔ انسانِ کامل کا دِل وہ جگہ ہے جہاں انوارِ ذات نازل ہوتے ہیں اور اسکی وسعت کا بیان و انداز ہ نہیں کیا جاسکتا۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

ترجمہ :”وہ رحمٰن ہے سو پوچھ اس کے بارے میں اس سے جو اس کی خبر رکھتا ہے ”۔

انسانِ کامل اللہ تعالیٰ کا مظہر اور مکمل آئینہ بن جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے انوارِ ذات و صفات و اسماء و افعال کا اپنے اندر انعکاس کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی جمیع صفات سے متصف اور اس کے جملہ اخلاق سے متخلق ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے:

ترجمہ” : مومن کا دل اللہ تعالیٰ کا عرش ہے ”

تر جمہ : ”نہ میں زمین میں سماتا ہوں اور نہ آسمانوں میں لیکن بندہ مومن کے دل میں سما جاتا ہوں ”۔

حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اپنی کتاب ”مراۃ العارفین ”میں فرماتے ہیں:

پورا قرآنِ مجید اُم الکتاب (سورہ فاتحہ) میں ہے اور سورہ فاتحہ بسم اللہ میں اور اسمِ اللہ ”انسانِ کامل” کے دِل میں جلوہ گر ہے۔ اس لئے انسانِ کامل تمام صفات و ذات کے لئے مجمل اور مفصل ہے۔

علامہ ابنِ عربی رحمتہ اللہ علیہ پہلے عارف ہیں جنہوں نے انسانِ کامل کی اصطلاح وضع کی۔ انہوں نے” فتوحاتِ مکیہ” اور ”فصوص الحکم ”میں انسانِ کامل کے جو اوصاف تحریر کیے ہیں ان میں سے چند ایک یہ ہیں:-

1.    انسانِ کامل، اکمل موجودات ہے ۔

2.   واحد مخلوق ہے جو مشاہدے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت بجا لاتی ہے ۔

3.   صفاتِ الٰہیہ کا آئینہ ہے ۔

4.   مرتبہ حدِ امکان سے بالا اور مقامِ خَلق سے بلند ہے۔

5.   حادثِ ازلی اور دائمِ ابدی اور کلمہ فاصلہ جامعہ ہے۔

6.  حق تعالیٰ سے وہی نسبت ہے جو آنکھ کو پُتلی سے ہے۔

7.  عَالَم کے ساتھ اس کی نسبت انگشتری میں نگینے کی مانند ہے۔

8.  رحمت کی جہت سے اعظمِ مخلوقات ہے۔

9.  انسانِ کامل عالَم کی روح ہے اور عَالَم اس کا قالب ۔

10.  انسانِ کامل ربوبّیت اور عبودیت کا جامع ہے اگر اللہ واحد ہے تو اس کا خلیفہ (انسانِ کامل) بھی (دنیا میں) واحد ہے۔

11.   عالم میں ہر موجود حق تعالیٰ کے کسی نہ کسی اسم کا مظہر ہے اور وہی اسم اس کا ربّ ہے اور انسانِ کامل حق تعالیٰ کے اسمِ جامع اسمِ h کا مظہر ہے جو سب اسماء الٰہی کا ربّ ہے پس رب الارباب ہے پس رب العالمین ہے۔

12.   حق تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میں نے انسانِ کامل کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پیدا کیا دونوں ہاتھوں سے مراد دونوں صفات جلال اور جمال کی ہیں۔ پس حضرت انسانِ کامل جو مدبّرِعالم ہے ،عالم کی روح ہے لہٰذا غائب ہے اگرچہ خلیفہ کی صورت میں خارج میں موجود ہے لیکن سوائے خاص اولیاء کے اس کوکوئی نہیں پہچانتا لہٰذا غائب ہے۔ خلیفہ سے مراد قطب زماں ہے اور وہ اپنے وقت کا سلطان ہے (یہاں خلیفہ سے مراد اس طرف اشارہ ہے جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں زمین پر اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں)

13.   چونکہ سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں نہ رسول جو نئی شریعت لائے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد ہر زمانہ میں ایک ایسا فردِ کامل ہوتا رہے گا جس میں حقیقتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ظہور ہوگا اور وہ فنا فی الرسول کے مقام سے مشرف ہوگا وہ فردِ کامل قلبِ زمان ہے اور ہر زمانہ میں ایک ولی اس منصب پر فائز کیا جاتا ہے۔

14.   ہر زمانہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ازل سے لے کر ابد تک اپنا لباس بدلتے رہتے ہیں اور اکمل افراد کی صورت پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی جلوہ نما ہوتے ہیں۔ ( شرح فصوص الحکم والایقان۔ فتوحاتِ مکیہ)

” چونکہ اسمِ  ذات جامع جمیع صفات و منبع جمیع کمالات ہے لہٰذا وہ اصل تجلیات و رب الارباب کہلاتا ہے اور اس کا مظہر جو عین ثانیہ ہوگا وہ عبدا ﷲ عین الاعیان ہوگا ۔ ہر زمانے میں ایک شخص قدمِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر رہتاہے جو اپنے زمانے کا عبداﷲ ہوتاہے اس کو قطب الاقطاب یا غوث کہتے ہیں جو عبداﷲ یا محمدی المشرب ہوتا ہے وہ بالکل بے ارادہ تحتِ امر و قرب و فرائض میں رہتاہے اﷲ تعالیٰ کو جو کچھ کرنا ہوتاہے اسکے توسط سے کرتاہے”۔(فصوص الحکم صفحہ نمر232ترجمہ مولانا عبد القدیر صدیقی ناشر نذیر سنز لاہور)

حضرت شیخ موید الدین جندی رحمتہ اللہ علیہ تفسیر روح البیان میں سورہ فاتحہ کی شرح کرتے ہوئے اسم کے بارے میں فرماتے ہیں:

” اسمِ اعظم کی صور ت ولی کامل (انسانِ کامل) کی ظاہری صور ت کا نام ہے۔” (تفسیر روح البیان جلد اول صفحہ نمبر41ترجمہ مولانا فیض محمد اویسی ناشر مکتبہ اویسہ رضویہ بہالپور)

حضرت سید عبدالکریم بن الجیلی رحمتہ اللہ علیہ اپنی تصنیف ”انسانِ کامل” میں فرماتے ہیں:

وجودِ تعینات میں جس کمال میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم متعین ہوئے ہیں کوئی شخص متعین نہیں ہوا آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اخلاق ‘احوال ‘ افعال اور اقوال اس امر کے شاہد ہیں کہ آپ ان کمالات میں منفرد ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم انسانِ کامل ہیں اور باقی انبیاء و اولیاء اکمل صلوٰۃ اللہ علیھم آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ایسے ملحق ہیں جیسے کامل اکمل سے ملحق ہوتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ وہ نسبت رکھتے ہیں جو فاضل کو افضل سے ہوتی ہے لیکن مطلق اکمل انسان حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات مبارک ہی ہے اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بالاتفاق انسانِ کامل ہیں۔”

مزید فرماتے ہیں:

انسانِ کامل وہ ہے جو بمقتضائے حکمِ ذاتی بطور مِلک و اصالت اسماء ذاتی و صفاتِ الٰہی کا مستحق ہو ۔حق کیلئے اس کی مثال آئینے کی سی ہے، کہ سوائے آئینہ کے کوئی شخص اپنی صورت نہیں دیکھ سکتا اورنہ انسان کیلئے ممکن ہے کہ سوائے اسمh کے آئینہ کے، کہ وہ اس کا آئینہ ہے، اپنے نفس کی صورت دیکھ سکے اور انسانِ کامل بھی حق کا آئینہ ہے اس لئے حق تعالیٰ نے اپنے اوپر لازم کر لیا ہے کہ سوائے انسانِ کامل اپنے اسماء صفات کو کسی اور چیز میں نہ دیکھے۔ یہی امانتِ الٰہیہ کا حامل ہے یہی معنی اللہ تعالیٰ کے اس قول کے:

ترجمہ: ہم نے بارِ امانت کو آسمانوں زمین اورپہاڑوں پر پیش کیا۔ سب نے اس کے اٹھانے سے عاجزی ظاہر کی لیکن انسان نے اسے اٹھالیا ۔ بے شک وہ( اپنے نفس کے لیے) ظالم اور نادان ہے۔

آپ انسانِ کامل کی مزید تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

انسانِ کامل قطبِ عالم ہے جس کے گرد اوّل سے آخر تک وجود کے فلک گردش کرتے ہیں اور وہ جب وجود کی ابتدا ہوئی، اس وقت سے لے کر ابد الاباد تک ایک ہی شے ہے پھر اس کے لیے رنگا رنگ لباس ہیں اور باعتبار لباس کے اس کا ایک نام رکھا جاتا ہے اور دوسرے لباس کے اعتبار سے اس کا وہ نام نہیں رکھا جاتا۔ اس کا اصلی نام محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے اور اس کی کنیت ابو القاسم اور اس کا وصف عبد اللہ ہے اور اس کا لقب شمس الدین ہے پھر باعتبار دوسرے لباسوں کے اس کے نام ہیں پھر ہر زمانہ میں اس کا ایک نام ہے جو اس زمانہ کے لائق ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔
حقیقتِ محمد یہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہر زمانہ میں اس ز مانہ کے اکمل کی صورت میں اُس زمانہ کی شان کے مطابق ظاہر ہوتی ہے یہ انسانِ کامل اپنے زمانہ میں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا خلیفہ ہوتا ہے۔(ترجمہ فضل میراں ناشر نفیس اکیڈمی کراچی )

انسانِ کامل کے بارے میں کپتان ڈبلیو بی سیال لکھتے ہیں:

مقام فنا فی اﷲ میں رہ کر بحر ذات و صفاتِ الٰہی میں غوطے لگا کر بندۂ مومن بمصداق حدیث قدسی ”بِیْ یَسْمَعْ وَ یُبْصَرْ ”حق تعالیٰ کی صفات سے متصف ہوتاہے۔ اس مقام کی طرف ایک اور حدیث سے بھی اشارہ ہوتاہے جس میں کہاگیا ہے  (ﷲ کی صفات سے متصف ہوجاؤ)۔ جب صفاتِ الٰہی سے بندہ مومن متصف ہوکر واپس بقا کی حالت کی طرف آتاہے تو بحیثیت انسانِ کامل خلافتِ الٰہیہ کا تاج اس کے سر پر رکھا جاتا ہے اور یہ مقام انسانی عروج کا بلند ترین مقام ہے اور پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کا خاصہ ہے ۔ یہ عبدیت کا بلند ترین مقام ہے کیونکہ فنا میں رہ کر آدمی ہمیشہ کیلئے غرق ہوجاتا ہے”(روحانیت اور اسلام)

اقبال ؒ اس کو یوں بیان کرتے ہیں:-

قلب را از صبغتہ،اللہ رنگ دہ
عشق راناموس و نام و ننگ دہ

ترجمہ: اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگ لے اسی طرح عشق کو عزت و احترام حاصل ہوتا ہے۔

ترجمہ: مسلمان بندہ(انسانِ کامل) خدا کی صفات سے متصف ہوتا ہے اور اس کا باطن خدا کے رازوں میں سے ایک راز ہے۔ اُس کا حسن رازِ حق سے آشنا آنکھ ہی دیکھ سکتی ہے اور اس (انسانِ کامل)کی جڑ کائنات کے ضمیر(روح ) میں ہے۔یعنی وہ کائنات کے ہر راز سے آگاہ ہوتا ہے۔
انسانِ کامل کے بارے میں اقبال ؒ فرماتے ہیں:

مولانا رومؒ فرماتے ہیں:

ترجمہ:” عشق وہ شعلہ ہے کہ جب روشن ہوا تو ماسویٰ معشوق سب کچھ جل گیا اُس نے ”غیر اللہ” پر جب ”لا” کی تلوار چلائی تو ذرا سوچ ”لا” کے بعد باقی کیا رہ گیا ۔

حضرت امیر خسروؒ فرماتے ہیں:

”ترجمہ: میں تُو ہوگیا اور تُو میں ہوگیا میں جسم ہو گیا تو اس کی جان۔ اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں اور ہوں اورتُو اور۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ مقامِ فنا فی ھُو،وحدت، فنافی اللہ بقاباللہ اور وصالِ الٰہی کے بارے میں اپنی تصانیف میں فرماتے ہیں:

ترجمہ: پہلے میں چار تھا پھر تین ہوا پھر دو ہوا اور جب دوئی سے بھی نکل گیا تو یکتا بخدا ہوگیا۔(عین الفقر)

آپؒ اس شعر میں فرماتے ہیں کہ میں پہلے چار تھا یعنی میں، مرشد، رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور اللہ تعالیٰ۔ جب میں فنا فی الشیخ ہو گیا تو تین رہ گیا اور جب فنا فی الرسول ہو گیا تو دو رہ گیا اور جب فنا فی اللہ ہو گیا تو یکتا ہو کر سراپا توحید ہو گیا۔

مرتبہ فنا فی اللہ بقا باللہ تک کیسے رسائی حاصل ہو سکتی ہے؟

مراتب تین قسم کے ہیں فنا فی الشیخ ، فنا فی الرسول اور فنا فی اللہ، ان مراتب تک پہنچنے کیلئے مرشد سے عشق ضروری ہے۔ اسے فقر میں عشقِ مجازی کہا جاتا ہے اور عشقِ مجازی ہی عشق حقیقی تک راہنمائی کر تاہے۔

عارفین یا فقراء کاملین کے نزدیک عشقِ مجازی (عشقِ مرشد) کے زینہ کے ذریعہ ہی ہم عشقِ حقیقی (اللہ تعالیٰ کے عشق) تک پہنچ سکتے ہیں۔ عام طور پر عشقِ مجازی کسی عورت سے مرد اور مرد کے کسی عورت سے عشق کو سمجھا جاتا ہے’ جو بالکل لغو اور شیطانی کھیل ہے۔ شریعت اس کی اجازت نہیں دیتی۔ راہِ فقر میں عشق مجازی سے مراد عشقِ مرشد ہے۔ عشقِ مجازی (عشقِ مرشد) کے لیے عام سلاسل میں یہ طریقہ اختیار کیا جاتا ہے کہ طالب (مرید) کو تصورِ مرشد کے لیے کہا جاتا ہے بلکہ آج کل تو کچھ سلاسل یا پیروں نے باقاعدہ اپنی تصاویر بھی دینا شروع کر دی ہیں۔ طالب (مرید) ہر وقت اپنے مرشد کے تصور اور خیالوں میں مگن رہتا ہے’ اس طریقہ میں استدراج اور دھوکہ ہو سکتا ہے اور آج کے پُر فتن دور میں سو فیصد ہوتا بھی دھوکہ ہی ہے’ پھر یہ شرک اور بُت پرستی کے زمرے میں آتا ہے اور یہ تو انسانی جبلّت ہے کہ وہ جس کے تصور میں ہر وقت محو اور جس کے خیالوں میں ہر وقت مگن رہتا ہے’ اُسے اس سے محبت ہو ہی جاتی ہے۔ سلسلہ سروری قادری میں یہ طریقہ کبھی بھی نہیں رہا کیونکہ سروری قادری سلسلہ، درجات (عالمِ ملکوت و جبروت اور سدرۃ المنتہیٰ کی سیر) سے تعلق نہیں رکھتا۔ اس کی ابتداء اور انتہا ہے ہی عشق۔ کیونکہ اس میں دیدارِ الٰہی ہے اور دیدار عشق کے بغیر حاصل نہیں ہوتا کیونکہ جو اللہ تعالیٰ سے نظر ہٹا کر عالمِ ملکوت و جبروت کے نظاروں میں کھو گیا ہے اس کا دیدارِ الٰہی کا سفر ختم ہوگیا۔ عشق والے اللہ کے سوا کسی اور کی طلب نہیں کرتے اور کسی طرف دھیان نہیں کرتے۔ سلسلہ سروری قادری یا عشقِ الٰہی کے سفر میں عشقِ مجازی (عشقِ مرشد) تصورِ اسمِ  ذات سے حاصل ہوتا ہے۔ بشرطیکہ اسمِ  ذات کسی صاحبِ مسمّٰی مرشد سے حاصل ہوا ہو۔ طالب (مرید) جب اسم ذات کا تصور شروع کرتا ہے’ تو سب سے پہلے اُسے اسمِ ذات سے تصورِ مرشد حاصل ہوتا ہے۔ اس کے دو فوائد ہیں کہ ایک تو اس میں استدراج اور دھوکہ نہیں ہے’ کیونکہ جس کا تصور کیا جائے اُسی کا تصور پختہ ہوتا ہے’ یہاں تو ابتدائی منزل پر اسمِ  ذات کا تصور کیا جارہا ہے’ لیکن حاصل مرشد کا تصور ہو رہا ہے جو کہ حقیقت کے بالکل برعکس ہے اس سے طالب کو یقین ہوجاتا ہے کہ میرا مرشد کامل ہے اور پھر عشقِ مجازی (عشقِ مرشد) کا آغاز ہوتا ہے’ پھر عشقِ مرشد سے یہ عشق آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے عشق کی طرف اور اس کے بعد عشقِ حقیقی میں تبدیل ہوجاتا ہے اور طالب دریائے وحدت میں غرق ہو جاتا ہے۔مرشد خود” اسمِ  ذات” کی صورت ہے اور طالب جب مرشد کی صورت یعنی فنا فی الشیخ ہو جاتا ہے تو اسے از خود ہی وصال یا وحدت حاصل ہو جاتی ہے طالب کو کوئی کوشش یا کاوش نہیں کرنی پڑتی راہِ فقر میں تمام کاوش اور کوشش کا مقصد مرشد میں فنا ہونا ہے پھر وحدت تک رسائی اپنے آپ ہو نے والا عمل ہے۔ اس عمل کو صوفیا ؒ ء فنا فی الشیخ کی کیفیت قرار دیتے ہیں۔ سب سے پہلے مرشد کی سطح پر وحدت حاصل ہوتی ہے جس میں مرید مرشد کی ہستی میں فنا ہو کر اپنی انفرادی ہستی ختم کرکے سیرت وکردار اور صورت میں مرشد کی مثل ہو جاتا ہے مرشد چونکہ پہلے ہی وحدت کی صورت ہو تا ہے اس لئے طالب کو وحدتِ حق تعالیٰ تک رسائی حاصل ہو جاتی ہے۔

فنا فی الشیخ کے بارے میں حضرت سخی سلطان با ھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

مرشدِ کامل جس طالبِ اللہ کو تصور اسمِ ذات کے ذریعے تلقین سے نوازتا ہے اُسے فنا فی الشیخ کر کے مرتبہ نعم البدل پر پہنچا دیتا ہے۔ (نورالہدیٰ)

یاد رہے کہ مرتبہ فنافی الشیخ عظیم الشان مرتبہ ہے بعض احمق فنا فی الشیطان کے مرتبے پر ہوتے ہیں مگر خود کو فنا فی الشیخ سمجھتے ہیں مرتبہ فنا فی الشیخ یہ ہے کہ طالب اپنے جسم میں، قال و احوال میں، عادات و خصائل میں اور صورت و سیرت میں اپنے شیخ جیسا ہو جائے اور اس کا سارا وجود شیخ کے وجود میں ڈھل جائے۔( نورالہدیٰ)

سلسلہ سروری قادری میں فنا فی الشیخ کے یہ تمام مراتب اسمِ ذات سے حاصل ہوتے ہیں۔اس کے بعد مرشدِ کامل باطن میں طالب کو مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں پیش کر دیتا ہے یہ مرتبہ بھی تصور اسمِ  ذات سے حاصل ہوتا ہے۔ الغرض وردو وظائف اور اعمالِ ظاہر سے طالبِ اللہ باطن میں کبھی بھی مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری تک نہیں پہنچ سکتا خواہ عمر بھر ریاضت کرتا رہے کہ راہِ باطن صرف صاحبِ باطن مرشدِ کامل ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ جو طالب مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اس مرتبے پر پہنچ جاتا ہے اس کی روح فرحت یا ب ہو جاتی ہے اور اس کے نفس کی ہستی نیست و نابود ہو جاتی ہے۔ جب کوئی طالب حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس میں داخل ہو تا ہے تو اس پر چار نظروں کی تا ثیر وارد ہوتی ہے حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی نظر سے اس کے وجود میں صدق پیدا ہوتا ہے اور جھوٹ و نفاق اس کے وجود سے نکل جاتا ہے ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی نظر سے عدل اور محاسبہ نفس کی قوت پیدا ہوتی ہے اور اس کے وجود سے خطرات ہوائے نفسانی کا خا تمہ ہو جاتا ہے ۔ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہٗ کی نظر سے ادب و حیا پیدا ہوتا ہے اور اس کے وجود سے بے ادبی اور بے حیائی ختم ہو جاتی ہے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی نظر سے علمِ ہدایت و فقر پیدا ہوتا ہے اس کے وجود سے جہالت اور حُبِ دنیا کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے چہرے کی زیارت سے اس کے تمام مطالب پورے ہو جاتے ہیں اور وہ فنافی الرسول ہو جاتا ہے۔لا مکان ہر وقت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مدِ نظر رہتا ہے جہاں دریائے وحدت میں گوُناں گُوں قسم کی موجیں ”وَحْدَہٗ” ”وَحْدَہٗ” کے نعرے بلند کرتی ہیں۔ جو شخص دریائے توحید کے کنارے پر پہنچ کر نورِ الٰہی کا مشاہدہ کر لیتا ہے وہ عارف باللہ ہو جاتا ہے اور جنہیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پکڑ کر اپنے دستِ مبارک سے دریائے وحدت میں غوطہ دیتے ہیں وہ غواصِ توحید ہو جاتے ہیں اور مرتبہ فنا فی اللہ پر پہنچ جاتے ہیں۔(شمس العارفین) یاد رکھنا چاہیے کہ راہِ فقر میں سب سے مشکل مقام فنا فی الشیخ ہے جس نے اس کو طے کرلیا اس نے سب مقامات کو طے کر لیا کیونکہ مرشد پہلے ہی وحدت کی صورت ( فنا فی اللہ بقاباللہ) ہوتا ہے جیسے ہی کوئی طالب فنا فی الشیخ کے مرتبے پر فائز ہو تا ہے وہ خود بخود ہی فنا فی اللہ اور بقاباللہ کے مرتبہ پرپہنچ جاتا ہے۔

”انسانِ کامل” اصل میں ”مرشدِ کامل” ہی ہے کیونکہ جب طالب فنا فی اللہ بقا باللہ کے مقام پر پہنچ جاتا ہے تو تب ہی مسندِ تلقین وا رشاد پر فائز ہوتا ہے۔ اس سلسلہ میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ ”مرشد کامل اکمل” اور مرشد کامل اکمل نور الہدیٰ اور صاحبِ مسمّٰی مرشد کی اصطلاحیں بھی استعمال فرماتے ہیں۔ خود اپنے آپ کو حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے نہ صرف” کامل و مکمل و اکمل و نور الہدیٰ جامع مرشد” فرمایا ہے بلکہ مرشد کے ساتھ ساتھ اپنے آپ رحمتہ اللہ علیہ کو” مالک الملکی فقیر” (انسانِ کامل) بھی فرمایا ہے ۔ نور الہدیٰ کلاں میں فرماتے ہیں:

میں”کامل و مکمل و اکمل و نور الہدیٰ جامع مرشد” ہوں اور ”مالک الملکی مرتبے کا جامع فقیر” ہوں اور انسانِ کامل کا یہ سب سے اعلیٰ ترین مرتبہ ہے۔

اس کے علاوہ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تصانیف میں ”انسانِ کامل” کو مختلف ناموں سے موسوم فرمایا ہے۔

1.   فقیر مالک الملکی.

2.   امیر الکونین

3.   سلطان العارفین

4.   عارف کامل قادری

5.   سلطان التارکین

6.   صاحبِ امر یا فقیر صاحبِ امر

7.   اولی الامر

8.   فقیر

9.   فقیرِ کامل یا کامل فقیر

10.  عارف باللہ یا عارف اللہ فقیر

11.   مست فقیرِ کامل

12.   فقیر صاحبِ قلب

13.   صاحبِ راز فقیر

14.  صاحبِ عین العیان’ صاحبِ عیاں فقیر یا عین العیان فقیر

15.   غوث و قطبِ وحدت یا غوث وقطب صاحبِ تحقیق یا اہلِ وحدت واحد غوث و قطب

16.  فنا فی اللہ فقیر

17.  حقیقی فقیر

18.  عارف ختم الفقرا

19.   ختم الفقر فقیر

20.   لایحتاج فقیر یا صاحبِ جمعیت لایحتاج

21.   فقیر۔ ۔عاشق فقیر

22.   فقیر درویش یا درویش فقیر

23.    غنی فقیر

24.   کامل کُل فقیر۔

ان تمام اصطلاحات سے مراد انسانِ کامل ہے۔ اس بات کو مدنظر رکھ کر حضرت سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کے ارشادات کا مطالعہ فرمائیں۔

قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

ترجمہ:”اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو اللہ کے رسول کی اور اس کی جو تم میں ہو۔”
اور سے یہاں مراد انسانِ کامل ہے جیسا کہ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

ترجمہ: عارف کامل قادری (انسانِ کامل) ہر قدرت پر قادر اور ہر مقام پر حاضر ہوتا ہے۔(رسالہ روحی شریف)

بیشک وہ انسانِ کامل ہے جس کا ظاہر مخلوق کے ساتھ اور باطن حق کے ساتھ ہو۔(سلطان الوھم)

فقیر صاحبِ امر ہے صاحبِ امر اسے کہتے ہیں جس کا امر روکا نہ جائے کیونکہ فقیر کی زبان رحمن کی تلوار ہوتی ہے۔ جس چیز کے لیے وہ لفظ کن کہتا ہے وہ امرِ الٰہی سے دیر میں یا جلدی ضرور ہوجاتی ہے۔ (امیر الکونین)

صاحبِ امر اسے بھی کہتے ہیں جس کا امر سب پر غالب ہو اور اس پر کوئی غالب نہ آسکے خواہ وہ اکیلا ہو یا لشکر کے ساتھ۔ پس معلوم ہوا فقیر امرِ الٰہی ہے اور امر پر غالب ہے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:(اللہ اپنے امر پر غالب ہے)۔ (امیر الکونین)

جان لے کہ فقیر کو قربِ الٰہی میں اعلیٰ مرتبہ حاصل ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا رفیق باتوفیق اور صاحبِ دیدار ہوتا ہے وہ  (بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے) کے مرتبے کا مالک’ مالک الملکی فقیر ہوتا ہے۔ وہ عارف ولی اللہ’ محقق عالم باللہ اور روشن ضمیر ہوتا ہے جو کونین پر امیر(امیر الکونین) ہوتا ہے کل و جز کی تمام مخلوق اس کی قیدی اور اسیر ہوتی ہے۔ لوحِ محفوظ پوری تفسیر کے ساتھ اس کے مطالعہ میں رہتی ہے۔ وہ دائمی طور پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوتا ہے اور اہلِ قبور کی روحانیت پر حاکم ہوتا ہے کیونکہ وہ صاحبِ بصارت اور صاحبِ  ہوتا ہے۔ (نورالہدیٰ کلاں)

”فقیر ”کے لیے دنیا ایک قدم ہے۔ فقیر دنیا سے قدم اٹھا کر عقبیٰ میں رکھتا ہے پھر توکّل اختیار کر کے عقبیٰ سے قدم اٹھاتا ہے اور آدھے قدم پر معرفتِ توحید میں جاپہنچتا ہے اور پھر وہاں سے آدھا قدم چل کر فقر کے کامل مرتبے پر پہنچ جاتا ہے جس کے متعلق فرمایا گیا ہے (جب فقر کامل ہوتا ہے تو اللہ ہی ہوتا ہے)۔ (نورالہدیٰ کلاں)

جان لے کہ” کامل مکمل اکمل جامع نور الہدیٰ فقیر ”خدا کا عاشق اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا معشوق ہوتا ہے ان مراتب کے حامل فقیر کو ”کامل کُل فقیر” کہا جاتا ہے کیونکہ کامل مکمل جامع نور الہدیٰ عاشق و معشوق کے جملہ مراتب کامل کُل میں آجاتے ہیں۔(نورالہدیٰ کلاں)

”صاحبِ عیاں عارف فقیر” اُسے کہتے ہیں جو حقیقتِ احوال ”” حقیقتِ احوالِ ازل’ حقیقتِ احوالِ ابد’ حقیقتِ احوالِ دنیا’ حقیقتِ احوالِ موت و حیات و ارواحِ اہلِ قبور’ حقیقتِ احوالِ حساب گاہِ حشر’ حقیقتِ احوالِ پل صراط’ حقیقتِ احوالِ دوزخ بہشت’ حقیقتِ و احوالِ شراباً طہورا کہ اس کا جام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دستِ مبارک سے پیتا ہے اور حقیقتِ احوالِ حضوری مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور باعیاں شرفِ دیدارِ ربّ العالمین پر ابتدا سے انتہا تک نظر رکھتا ہے اور توفیقِ الٰہی سے ان احوال کی تحقیق بھی کرتا ہے وہ ان تمام احوال کا علم پڑھتا ہے اور پھر بھلا دیتا ہے۔ یہ ہے تمامیت فقر کا مرتبہ جو اللہ تعالیٰ کی بخشش و عطا اور مجلس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری سے حاصل ہوتا ہے۔(نورالہدیٰ کلاں)

جہاں” فنا فی اللہ عارف باللہ فقیر” وحدت میں غرق ہوتا ہے وہاں تک مرتبۂ فنا و قضا و رضا کی رسائی نہیں ہے۔ مرتبہ فنا ”ہمہ اوست در مغز و پوست” (ہر چیز کے ظاہر و باطن میں صرف ایک ہی ذات موجود ہے) کا مرتبہ ہے اور ”ہمہ اوست در مغز و پوست” کے مرتبے پر وہ شخص پہنچتا ہے جو مرتبۂ وصالِ حضور سے آگے نکل جاتا ہے۔(نورالہدیٰ کلاں)

فقرا ء کے حکم کی تعمیل کر کہ اُن کی مخالفت آدمی کو دونوں جہان میں خوار کرتی ہے۔(کلید التوحید کلاں)

فقیرِ کامل اسے کہتے ہیں کہ جو اللہ تعالیٰ کی نظر میں منظور ہو کر ہر وقت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس میں حاضر رہے اور دم بھر کے لیے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مجلس سے غیر حاضر نہ رہے۔ ظاہر میں وہ عام لوگوں کی مجلس میں رہے لیکن باطن میں ہمیشہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہم مجلس رہے۔(کلید التوحید کلاں)

فقیر میں ایک صفتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم موجود ہوتی ہے وہ ہے خُلقِ عظیم جس کے متعلق ارشاد ہے (خُلقِ الٰہیہ سے متصف ہو جاؤ) ۔فقیر میں چاروں صفات صحابہ کبارؓ جیسی ہونی چاہیں۔ حضرت صدیق اکبرص جیسا صدق، حضرت عمر فاروق ص جیسا محاسبہ نفس اور عدل، حضرت عثمان غنی ص جیسی حیا اور سخاوت،اور حضرت علی ص جیسا علم و فقر۔(اسرارِ قادری)

جاننا چاہیے کامل فقیر ظاہر میں تو عام لوگوں میں بیٹھ کر عام باتیں کرتا ہوا معلوم ہوتا ہے لیکن باطن میں اسے حضوری حاصل ہوتی ہے۔ جب فقیر بات کرنے کے لیے لبوں کو جنبش دیتا ہے تو ظاہر کے دیکھنے والے لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہم سے باتیں کرتا ہے ۔روحانی انبیاء اور اولیاء اللہ جانتے ہیں کہ ہم سے باتیں کرتا ہے مؤکّل ملائکہ سمجھتے ہیں کہ ہم سے کلام کرتا ہے اللہ عزّوجل کو علم ہے کہ مجھ سے کلام کرتا ہے اور حضور پر نور سیّد یوم النشور احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تصور فرماتے ہیں کہ ہم سے کچھ کہنا چاہتا ہے۔ ایسے فقیر کا جسم سورج کی مانند چمکتا ہے وہ ہر وقت ہر مقام پر صاحبِ حضور ہوتا ہے۔(اسرارِ قادری)

فقیر جناب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا معشوق اللہ تعالیٰ کا عاشق ہوتا ہے اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس کے عاشق ہوتے ہیں۔ یہاں عاشق’ معشوق اور عشق تینوں اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ یہاں پر جب وصل کی گنجائش نہیں تو ہجر کا کیا دخل’ یہ مراتب ان کے ہیں جو فنا فی اللہ’ فنا فی الرسول اور فنا فی الشیخ ہیں۔(عقلِ بیدار)

فقیر اسے کہتے ہیں جسے نہ دنیاوی عزت و مرتبے کی خواہش اور طلب ہو اور نہ عمارات روضہ اور خانقاہ کی طلب کرے بلکہ فقیر وہ ہے کہ نہ موت سے ڈرے اور نہ زندگی سے خوش ہو کیونکہ فقیر ان دونوں مرتبوں سے نجات یافتہ ہے اور نور بانور ہو کر فنا فی ذات ہے۔(عقلِ بیدار)

فقیر حقیقت میں بادشاہ (سلطان) ہوتا ہے۔(توفیق الہدایت)

کامل فقیر کی ایک نظر تمام عمر کی عبادت سے بہتر ہے۔(محبت الاسرار)

عارف باللہ فنا فی اللہ فقیر اسے کہتے ہیں جو فنا فی رسول ہو’ فنا فی فقر ہو اور فنا فی ھُو ہو۔(عین الفقر)

سلطان العارفین حضر ت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فقیر (انسانِ کامل) کے دشمن کے بارے میں فرماتے ہیں:

فقراء کا دشمن خدا کا دشمن ہے۔ (محبت الاسرار)

فقیر (انسانِ کامل) کے تین دشمن ہوتے ہیں یہ تینوں ہی دنیا کو دوست رکھتے ہیں۔ ایک منافق دوسرا حاسد اور تیسرا کافر۔ (اسرارِ قادری)

فقیر (انسانِ کامل) کا دشمن تین حال سے خالی نہیں ہوتا یا تو مردہ دل اور حاسد عالم ہے جس کی زبان زندہ اور دل تصدیق سے بے خبر ہے یا وہ جھوٹا’ منافق اور کافر ہے یا اہلِ دنیا ہے جسے بہشت میں بالشت بھر بھی جگہ نہیں ملے گی۔ (عقلِ بیدار)

جو فقیر کو بے برکت جانتا ہے خود بے برکت رہتا ہے ۔ جو فقیر کو بے حکمت سمجھتا ہے خود بے حکمت ہوتا ہے ‘ جو شخص تصور اسم ذات والے عارف فقیر کو جاہل جانتا ہے خواہ وہ ظاہری علم پڑھے بھی تو بھی وہ جاہل ہے۔ (امیر الکونین)

فقراء کا دشمن اللہ تعالیٰ سے بے بہرہ اور شفاعتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے محروم ہوتا ہے۔(کلید التوحید کلاں)

جو شخص فقراء فنا فی اللہ کا منکر ہے وہ دونوں جہان میں خوار اور پریشان ہے۔(کلید التوحید کلاں)

آئیں کسی انسانِ کامل کی تلاش کریں اور پھر اس کی صحبت میں رہ کر راہِ فقر کا سفر اختیار کریں اور جُز سے کُل کی منزل پر پہنچ جائیں یعنی مقامِ وحدت یا فقر فنا فی اللہ بقا باللہ یا وصالِ الٰہی تک رسائی حاصل کریں اور مسافر سے راہنما تک کا یہ سفر کسی انسانِ کامل (مرشد کامل) ہی کی زیرِ نگرانی ہو سکتا ہے ۔ کیونکہ اس مقام تک رسائی کے بغیر راہِ فقر کے تمام مقامات و منازل کہانیوں اور قصوں کی مثل ہیں۔