مجلسِ محمدی

حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سختی سے قائل ہیں آپؒ فرماتے ہیں:-

پس جو شخص حیات النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا منکر ہے وہ کس طرح حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا امتی ہو سکتا ہے وہ جو بھی ہے جھوٹا ہے وہ بے دین و منافق ہے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے ”جھوٹا آدمی میرا اُمتی نہیں ہے۔(کلید التوحید کلاں)

جسے حیات النبی (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم )کا اعتبار نہیں وہ ہر دو جہان میں ذلیل و خوار ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو وہ شخص مردہ سمجھتا ہے جس کا دِل مردہ ہوا ور اس کا سرمایہ ایمان و یقین شیطان نے لوٹ لیا ہو۔(کلید التوحید کلاں)

جو شخص اخلاص اور یقین کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں فریاد کرے تو حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مع لشکرِ صحابہؓ امام حسنؓ وامام حسینؓ تشریف لا کر ظاہری آنکھوں سے زیارت کراتے اور مدد فرماتے ہیں۔(عقلِ بیدار)

سن اگر کوئی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مُردہ سمجھتا ہے اور حیات النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا انکار کر تا ہے تو اس کا ایمان سلب ہو جاتا ہے۔(عین الفقر باب پنجم)

علامہ اقبال حیات النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بارے میں فرماتے ہیں:

میرا عقیدہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم زندہ ہیں اور اس زمانے کے لوگ بھی ان کی صحبت سے اسی طرح مستفیض ہو سکتے ہیں جس طرح صحابہ کرام j ہوا کرتے تھے لیکن اس زمانے میں تو اس قسم کے عقائد کا اظہار بھی اکثر دماغوں پر ناگوار ہوگا اس واسطے خاموش رہتا ہوں۔ (خط بنام نیازالدین خاں۔فتراکِ رسول۔7)

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھورحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں

کہ باطن میں دیدارِ الٰہی اور حضورئ مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دو ایسے انتہائی مقام ہیں کہ ان سے بلند مقام باطن میں او ر کوئی نہیں ہے اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم آج بھی اسی طرح موجود ہے جس طرح صحابہ کرامؓ کے دور میں تھی۔

حضرت سخی سلطان باھو ؒ کی شاید ہی کوئی تصنیف ایسی ہو جس میں” مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم” کا ذکر نہ کیا گیا ہو-”راہِ حق” میں یہ ایک ایسا مقام ہے جس میں طالبِ مولیٰ باطن میں مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دائمی حضور ی سے مشرف ہو جاتا ہے اور حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس کی تربیت فرماتے ہیں اور باطن میں اسے معرفتِ الٰہیہ کے مراتب طے کراتے ہیں –

حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

”مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری اسمِ ذات اور اسمِ  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے تصور سے حاصل ہوتی ہے۔”

اس عبارت کی شرح اس طرح ہے کہ صحابہ کرامؓ کے لئے اسمِ ذات حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ظاہری چہرہ مبارک تھا اور اسم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات مبارک تھی۔اب حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ تک رسائی کا طریقہ صرف اسمِ  ذات اور اسمِ  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا تصور ہے بشرطیکہ یہ وہاں سے حاصل ہو اہو جہاں پر اسے عطا کرنے کی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف سے باطنی طور پر اجازت ہو اور یہ بات طالب کو اسمِ  ذات کے تصور کے پہلے دن ہی معلوم ہو جاتی ہے کہ اس نے جہاں سے اسمِ  ذات یا اسم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حاصل کیا ہے وہ مرشدِ کامل ہی کی بارگاہ ہے۔

حضرت سخی سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

رُخِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زیارت سے تمام مرادیں پوری ہو جاتی ہیں اور حضوری غرق فنا فی اللہ بھی نصیب ہو جاتی ہے ۔(کلید التوحید کلاں)

مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حضوری کیلئے ذکرِ احوال تک پہنچنا ضروری ہے جب تک طالبِ اللہ کا وجود چار ذکروں’ چار مراقبوں اور چار فکروں سے برتن کی طرح پک نہیں جاتا وہ مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری کے قابل نہیں ہوتا۔

پہلا ذکر ”ذکرِزوال” ہے جس کو شروع کرتے ہی جملہ اعلیٰ و ادنیٰ مخلوق ذاکر کی طرف رجوع کرتی ہے۔بے شمار طالب’ مرید اس ذکر کو اختیار کرتے ہیں لیکن آخر کار جب یہ ذکر اختتام کو پہنچتا ہے تو تمام طالب (مرید) رجعت کھا کر اس ذکر کو چھوڑ دیتے ہیں اور بیزار ہو کر پکار اُٹھتے ہیں۔”ایسے ذکر فکر سے سو بار ہماری توبہ۔”صرف وہ طالبِ صادق اپنے حال پر قائم رہتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی انتہائی معرفت و وصال میں غرق ہو۔

دوسرا ذکر”ذکرِ کمال” ہے جس کو شروع کرتے ہی فرشتے ذاکر کی طرف رجوع کرنے لگتے ہیں اور کراماً کاتبین کے علاوہ دوسرے فرشتوں کے لشکرذاکر کے اردگرد جمع ہو جاتے ہیں جو اسے نیک و بد کے الہامات دیتے ہیں اور اسے گناہوں سے باز رکھتے ہیں۔

جب یہ ذکر مکمل ہو جاتا ہے تو تیسرا ذکر ”ذکرِ وصال”کھل جاتا ہے جو ذاکر کو مجلس انبیاء و اولیاء میں پہنچا دیتا ہے اور جب یہ تیسراذکر ”ذکرِ وصال” مکمل ہو جاتا ہے تو چوتھا ذکر ”ذکرِاحوال” کھل جاتا ہے جس سے ذاکر تجلیاتِ نورِ ذات سے فیض یاب ہو کر مراتبِ فنا وبقاء تک پہنچ جاتا ہے۔ان اذکار سے گذرنے کے بعد ذاکر کا وجود مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری کے لائق ہو جاتا ہے۔(کلید التوحید کلاں)

جس شخص کے دِل کی نوری آنکھ کھل جاتی ہے اُسے مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری حاصل ہو جاتی ہے۔(کلید التوحید کلاں)

معرفت خدائی بھیدوں میں سے ایک بھید ہے جو عارفوں کو محمدِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ سے حاصل ہوتا ہے۔آپ ( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) کی مجلس کی حضور ی کے حالات یوں ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ظاہر میں نفسانی لوگوں سے ملاقات کرتے ہیں تو اپنے نفسانی وجود کے ساتھ اُن سے گفتگو فرماتے ہیں اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم باطن میں روحانیوں سے ملاقات کرتے ہیں تو اپنے روحانی وجود کے ساتھ اُن سے ہم کلام ہوتے ہیں اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنے لب مبارک ہلاتے ہیں تو اہلِ تحقیق عبرت و حیرت میں ڈوب جاتے ہیں ۔ کیونکہ نفسانی بندہ سمجھتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس سے مخاطب ہیں اور روحانی سمجھتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس سے ہم کلام ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اللہ سے ہم کلام ہوتے ہیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے وجود میں نفس کو فنا کر رکھا ہے جس سے نفس کا یار شیطان بہت پریشان ہے۔ جیسا کہ حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ میں تیس سال سے اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوں لیکن نفسانی لوگ سمجھتے ہیں کہ میں اُن سے ہم کلام ہوں اور روحانی سمجھتے ہیں کہ میں اُن سے مخاطب ہوں۔(کلید التوحید کلاں)

وردو وظائف او راعمالِ ظاہر سے طالبِ اللہ باطن میں کبھی بھی مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری تک نہیں پہنچ سکتا خواہ عمر بھر ریاضت کرتا رہے کہ راہِ باطن صرف صاحبِ باطن مرشدِ کامل سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

جان لے اُمت پیروکارکو کہتے ہیں اور پیروکار وہ ہے جو قدم بقدم حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نقشِ قدم پر چل کر خود کو ان کی مجلس میں پہنچائے۔مجھے تعجب ہوتا ہے ان لوگوں پر جو راہِ حضوری نہیں جانتے لیکن نفس پرستی’خود نمائی اور کبر و ہوا کے باعث عارفانِ باللہ سے طلب بھی نہیں کرتے -بھلا جو شخص نظرِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں منظور و حضور ہی نہیں وہ مومن’ مسلمان’ فقیر ‘درویش ‘عالم فقیہہ’پیروکار اور اُمتی کیسے ہوسکتا ہے؟جان لے کہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ کی حضوری ہدایت کی جڑ ہے اور یہ ہدایت بدایت (ابتدا’بنیاد) میں ہے۔ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے کہ ”انتہا ابتدا ء کی طرف لو ٹ جانے کا نام ہے-” ظہورِحق کی ابتداء چونکہ نورِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ظہور سے ہوئی اور تمام مخلوق نو رِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ظہور پذیر ہوئی اس لئے ”ابتداء” نورِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی ہے’ لہٰذا ابتداء نورِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک پہنچنا ہی انتہا ہے۔یہی مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری ہے اور یہی سِرِّ ہدایت ہے۔جو شخص اس کا قائل و طالب نہیں وہ گویا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اُمتی و پیروکار ہی نہیں۔(کلید التوحید کلاں)

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کافرمان ہے کہ ”جس نے مجھے دیکھا بے شک اس نے حق کو دیکھا’ بے شک شیطان میری مثل نہیں بن سکتا۔”

جان لے کہ باطن میں ہر وقت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس میں حاضر رہنے والا طالب اگر کسی دینی یا دنیوی کام کے لئے التماس کرتا ہے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اس کی درخواست منظور فرمالیتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اصحابؓ اس کے لئے دعائے خیر فرمادیتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ کام نہیں ہوتا تو اس کی وجہ کیا ہے؟ اس طالب کو معلوم ہو نا چاہیے کہ ابھی وہ کمال کو نہیں پہنچا’ ابھی وہ ترقی کر رہا ہے اور طلب کے مشکل مرحلے میں ہے اس لئے باطن میں اسے اس کی درخواست کا نعم البدل عطا کر دیا جاتا ہے جو اس کے لئے باعثِ فرحت ہوتا ہے۔ ترقئ قرب کے اس مرتبے پر اسے مبارکباد ہو۔اگر طالب جاہل ہے یا مردار دنیاکا طالب ہے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلسِ خاص میں طلبِ دنیا کا سوال کر دیتا ہے تو اس نالائق کو اس مجلسِ خاص سے نکال دیا جاتا ہے یا اس کا اعلیٰ مرتبہ سلب کر لیا جاتا ہے۔ جس طالب کا ظاہر باطن ایک ہو جائے اور وہ یکجائی کے مقام پر قائم رہے اور اس کے درجات میں ترقی نہ ہو تو وہ توحید میں غرق ہوتا ہے اورتوحیدِ الٰہی ایسے ہی اہلِ توحید پر مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا دروازہ کھولتی ہے۔(شمس العارفین)

جو لوگ مجلسِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں حاضر ہو جاتے ہیں وہ یکبارگی ولی اللہ اور عارف باللہ کے مرتبے پر پہنچ جاتے ہیں یا یکبارگی انہیں مجذوب کے مراتب حاصل ہوتے ہیں یا یکبار گی مراتبِ محمود کو پالیتے ہیں یا مراتبِ مردود تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ مجلسِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دیکھنے میں کسی قسم کا شک و شبہ نہ کرے کیونکہ یہ مجلسِ بہشت سرشت ہے۔مجلسِ حضور میں نص ‘ حدیث اور ذکر مذکور کا تذکرہ رہتا ہے ۔مجلسِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بعض محمود نیک خصلت بن جاتے اور بعض مردود ہو جاتے ہیں کیونکہ یہ کسوٹی ہے اس کے دیکھنے سے وجود کے اندر کا پوشیدہ کذب ظاہر ہو جاتا ہے اور طالبِ صادق جب اس مجلس کو دیکھتا ہے تو اس کا وجود سراسر نور ہو جاتا ہے اور پھر اسے مجلسِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری دائمی طور پر حاصل ہو جاتی ہے۔اگر کوئی حاسدمنافق’ مردہ دل کاذب جو شیطان کے فرزندوں اور خناس کے وسوسہ کی طرح ہے اور جو پیر مرشد کا منکر’ بے پیر بے مرشد اور بے معرفت ہے یہ کہے کہ اس زمانہ میں کوئی پیر یا مرشد لائق ارشاد نہیں اس کی بجائے صرف مطالعہ کتب کافی ہے تو وہ اس حیلہ شیطانی اور مکروفریب نفسانی کے سبب رہزن ہے اور معرفت اور ہدایتِ خدا سے باز رکھتا ہے اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حضوری سے روکتا ہے ایسے شخص کی بات کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔کیونکہ ایسا شخص مردہ دل ہے اور کتیّ کی طرح مُردار کی تلاش میں مارا مارا پھرتا ہے۔(امیر الکونین)

ترجمہ: دِن رات مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری کی طلب کر لیکن یاد رکھ اس خاص نور تک مرد مرشد ہی پہنچا سکتا ہے۔ جو کوئی اس خاص راہ کا انکار کرتا ہے وہ کافر ہو کر روسیاہ ہوجاتا ہے۔(مجا لستہ النبیؐ خورد)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس مبارک میں نفسِ امارہ اور شیطان لعین داخل نہیں ہوسکتے-یہ اسمِ  ذات کے حاضرات کی راہ ہے ۔اس سے ازل ‘ابد’ دنیا’ حشر’قیامت گاہ’ حضوری’ قربِ الٰہی’ دوزخ بہشت اور حوروقصور کا تماشا دکھائی دیتا ہے۔(عقلِ بیدار)

جان لے کہ اپنے اپنے مقام اور مرتبے کے لحاظ سے خاص مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نو(9) مقامات پر منعقد ہوتی ہے۔

1.   مقامِ ازل میں

2.  مقامِ ابد میں

3.  حرمِ مدینہ روضہ پاک میں

4.  داخلی خانہ کعبہ یا حرمِ خانہ کعبہ یا میدانِ عرفات میں جہاں لبیک ودعائے حج قبول ہوتی ہے

5.  عرش کے اوپر

6.  مقامِ قابَ قوسین میں

7.  مقامِ بہشت میں جہاں سے اگر کچھ کھا پی لیا جائے عمر بھر نہ تو بھوک لگتی ہے اور نہ ہی نیند آتی ہے

8.  مقامِ حوضِ کوثر پر جہاں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دستِ مبارک سے شراباً طہورا پی لیا جائے تو وجود پاک ہوجاتا ہے اور ترک وتوکل و توحید و تجرید و تفرید اور توفیقِ الٰہی نصیب ہوجاتی ہے

9.  دیدار انوارِ ربوبیت کی دید میں غرق ہوناہے۔ جو طالب اپنی ہستی کو مٹا دیتا ہے وہ معرفتِ فقر کی انتہا کو پہنچ جاتا ہے۔(شمس العارفین)

آپ رحمتہ اللہ علیہ اپنے پنجابی ابیات میں فرماتے ہیں:

بسم اللہ میں ”اسمِ ذات” پوشیدہ ہے اور یہ وہ بھاری امانت ہے جس کو اٹھانے سے سوائے انسان کے ہر شے اور مخلوق نے عاجزی ظاہر کردی تھی یہ امانت ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی کے وسیلہ سے نصیب ہوئی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لیے یہ کائنات آراستہ و پیراستہ کی گئی ہے ۔ قیامت کے دِن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شفاعت سے ہی نجات حاصل ہو گی ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر لا محدود درود وسلام بھیجنا چاہیے کہ ہم ایسے صاحبِ عظمت و برکت نبی اور رحمتہ اللعالمین کی امت میں سے ہیں۔میں اس طالبِ مولیٰ پر قربان جاؤں جس نے اپنی طلبِ صادق کی بنا پر اور مرشد کی مہربانی سے مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری حاصل کر لی ہے۔

علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بارے میں فرماتے ہیں:

ترجمہ: تو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم (مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) تک خود کو پہنچا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی مکمل دین ہیں اگر تو اُن(مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) تک نہیں پہنچتا تو تیرا سارا دین ابو لہب کا دین ہے۔(جاوید نامہ)

مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری باطن کا اہم مقام ہے جس کو مکمل طور پر بیان نہیں کیا جاسکتا۔ یہ تو حق الیقین کی منزل ہے اس کی حقیقت سے وہی واقف ہوتا ہے جو اسے پا لیتا ہے۔کیونکہ مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری کے بعد ہی طالب لقائے الٰہی سے مشرف ہوتا ہے۔