سلطان باھو کی سلطان التارکین کو امانتِ الٰہیہ کی منتقلی

منتقلی امانتِ الٰہیہ اورسلطان العارفین سلطان الفقر حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کے خلفاء کے متعلق ذکر کرنے سے پہلے امانتِ الٰہیہ اور خلافت کے متعلق تفصیل بیان کرنا ضروری ہے۔

 Amnat

امانتِ الٰہیہ کے بارے میں قرآنِ پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے

amanat1

” ہم نے بارِ امانت (امانتِ الٰہیہ ) کو آسمانوں ‘ زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا سب نے اس کے اٹھانے سے عاجزی ظاہر کی لیکن انسان نے اسے اٹھا لیا”۔(الاحزاب 72)

فقراء کا ملین کے نزدیک اس امانت سے مراد حضور علیہ الصلوٰۃ ولسلام کی حقیقی وراثت اسمِ  ذات یعنی امانتِ فقر ( امانت الٰہیہ ) ہے۔

جس انسان میں امانتِ الٰہیہ یاامانتِ فقر منتقل ہونا ہوتی ہے وہ  (ترجمہ: جہاں فقر کی تکمیل ہوتی ہے وہیں اللہ ہوتا ہے ۔ ) کے مرتبہ پر فائز ہوتا ہے۔

جب طالب یا سالک فقر کی انتہا بقاباللہ پر پہنچ جاتا ہے تو جملہ صفاتِ الٰہی سے متصف ہو کر ”انسانِ کامل ” کے مرتبہ پر فائز ہوتا ہے اور وہی امانتِ الٰہیہ کا حامل ہوتا ہے ۔ اس کائنات کے کامل ترین انسان حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اللہ تعالیٰ کے مظہرِاُتّم ہیں۔ حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”جناب رسولِ مقبول علیہ الصلوٰۃ والسلام انسانِ کامل ہیں اور باقی لوگ حسبِ مراتب تقریب رکھتے ہیں”۔( عین الفقر )

انسانِ کامل ہی امانتِ الٰہیہ کا حامل اور اللہ تعالیٰ کا خلیفہ ہوتا ہے سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان ہے ” جمعیت جو کہ لطفِ رحمن ہے انسانِ کامل کے نصیب ہوتی ہے کامل انسان صرف انبیاء اور فقراء ہیں۔ ( فضل اللّقاء)

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

amanat3

ترجمہ :وہ رحمن ہے سو پوچھ اس کے بارے میں اُس سے جو اس کی خبر رکھتا ہے ۔ ”

انسانِ کامل اللہ تعالیٰ کا مظہر اور مکمل آئینہ بن جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے انوارِ ذات وصفات واسماء و افعال کا اپنے اندر انعکاس کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی جمیع صفات سے متصف اور اس کے جملہ اخلاق سے متخلق ہوجاتا ہے ۔

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ اپنی کتاب ” مراۃ العارفین ” میں فرماتے ہیں :

” پورا قرآنِ مجید اُم الکتاب ( سورہ فاتحہ) میں ہے اور سورہ فاتحہ  میں اور اسمانسانِ کامل کے دل میں جلوہ گر ہے ۔ اس لئے انسانِ کامل تمام صفات وذات کیلئے مجمل اور مفصل ہے ”۔

فقر کی اسی منزل پر جب حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ پہنچے تو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا :
” اور منزلِ فقر میں بارگاہِ کبریا سے حکم ہوا کہ تو ہمارا عاشق ہے ۔ اس فقیر نے عرض کی کہ عاجز کو حضرت کبریا کے عشق کی توفیق نہیں ‘ پھر حکم ہوا کہ تو ہمارا معشوق ہے اس پر یہ عاجز خاموش ہوگیا تو حضرت کبریا کے انوارِ تجلی کے فیض نے بندے کو ذرے کی طرح استغراق کے سمندروں میں غرق کردیا اور فرمایا کہ تو ہماری ذات کی ” عین ” ہے اورہم تمہاری ”عین ” ہیں حقیقت میں تو ہماری ” حقیقت ” ہے اور معرفت میں توہمارا یار ہے اور ”ھُو ” میں ” سِرِّ یاھُو ” ہے۔(رسالہ روحی شریف)

یہاں ھُو سے مراد ذاتِ حق تعالیٰ ہے اور یاھُو سے مراد ” حقیقتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ” ہے اور ”سِرّ” سے مراد تکمیلِ باطن وصالِ الٰہی ہے یعنی مقام فنا فی اللہ بقا باللہ ہے جہاں پر انسان کامل ہو کر ” امانتِ الٰہیہ” کے مرتبہ پر فائز ہوتا ہے۔

عقلِ بیدار میں انسانِ کامل کے بارے میں حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”چونکہ اللہ تعالیٰ کے نورِ مبارک سے جنابِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا نور مبارک ظاہر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نور سے تمام مخلوق کا ظہور ہوا اس لئے انسان کی اصل نور ہے اور عمل کے مطابق جب نفس ‘ قلب اور روح تینوں نور بن جاتے ہیں اس کو انسانِ کامل کہتے ہیں۔ ”

آپ رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب نورالہدیٰ میں فرماتے ہیں: ”انسانِ کامل کا وجود طلسماتِ اسم ومسمیٰ کا گنج و معمّہ ہے۔”

یہاں آپ رحمتہ اللہ علیہ نے انسانِ کامل کے وجود کو طلسمات فرمایا ہے۔ انسانِ کامل ” اسم () اور مسمّٰی ” (ذاتِ الٰہی) کو پالینے کا رازجانتا ہے یہ ایک خزانہ (گنج) ہے اور جس طرح کسی خزانہ تک معمہ کو حل کرکے پہنچا جا سکتا ہے اسی طرح انسانِ کامل کو جاننا بھی ایک معمہ ہے اور جو اس معمہ کو حل کرلیتا ہے وہی انسانِ کامل کی حقیقت تک پہنچتا ہے ۔

علامہ ابنِ عربی رحمتہ اللہ علیہ انسانِ کامل کے بارے میں فرماتے ہیں:

” چونکہ اسمِ  ذات جامع جمیع صفات ومنبع جمیع کمالات ہے لہٰذا وہ اصل تجلیات ورب الارباب کہلاتا ہے اور اسکا مظہر جو عین ثانیہ ہوگا وہ عبداللہ عین الاعیان ہوگا ۔ ہر زمانے میں ایک شخص قدمِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر رہتا ہے جو اپنے زمانے کا عبداللہ ہوتا ہے اس کو قطب الاقطاب یا غوث کہتے ہیں جو عبداللہ یا محمدی المشرب ہوتا ہے وہ بالکل بے ارادہ تحت امروقربِ فرائض میں رہتا ہے اللہ تعالیٰ کو جو کچھ کرنا ہوتا ہے اس کے توسط سے کرتا ہے ”

جیسا کہ قرآنِ پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

amanat5

 ترجمہ :اور ہر امر (چیز ) کو جمع کررکھا ہے ہم نے امام مبین میں ۔

اس آیت میں امام مبین سے مراد ” انسانِ کامل ” ہے اوراللہ تعالیٰ نے اپنے ہر امر ‘ حکم اور اپنی پیدا کردہ کل کائنات کو ایک لوحِ محفوظ جو کہ انسانِ کامل کا دل ہے، میں محفوظ کررکھا ہے ۔ انسانِ کامل کا دل وہ جگہ ہے جہاں انوارِ ذات نازل ہوتے ہیں اور اس کی وسعت کا بیان واندازہ نہیں کیا جاسکتا ۔

amanat6

علامہ ابنِ عربی انسانِ کامل کے مقام کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

” چونکہ اسمِ  ذات جامع جمیع صفات و منبع جمیع کمالات ہے لہٰذا وہ اصل تجلیات و ربّ الاربابّ کہلاتا ہے اور اس کا مظہر جو عین ثانیہ ہوگا وہ عبدا ﷲ عین الاعیان ہوگا ۔ ہر زمانے میں ایک شخص قدمِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر رہتاہے جو اپنے زمانے کا عبداﷲ ہوتاہے اس کو قطب الاقطاب یا غوث کہتے ہیں جو عبداﷲ یا محمدی المشرب ہوتا ہے۔ وہ بالکل بے ارادہ تحتِ امر و قرب و فرائض میں رہتاہے اﷲ تعالیٰ کو جو کچھ کرنا ہوتاہے اسکے توسط سے کرتاہے”۔(فصوص الحکم صفحہ نمر232ترجمہ مولانا عبد القدیر صدیقی ناشر نذیر سنز لاہور)

حضرت شیخ موید الدین جندی رحمتہ اللہ علیہ اسمِ  کے بارے میں فرماتے ہیں:

”اسمِ اعظم جس کا ذکر مشہور ہوچکا ہے اور جس کی خبر چار سو پھیل گئی ہے وہ حقیقتاً و معناًعالمِ حقائق اور معنی سے ہے اور صورۃً و لفظاًعالمِ صور ت و الفاظ سے ہے۔ جمیع حقائق کمالیہ سب کی سب احادیث کا نام حقیقت ہے اور اس کے معنی وہ انسانِ کامل ہے جو ہر زمانہ میں ہوتاہے یعنی وہ قطب الاقطاب اور امانتِ الٰہیہ کا حامل اﷲ تعالیٰ کا خلیفہ ہوتاہے اور اسمِ اعظم کی صور ت ولی کامل (انسانِ کامل) کی ظاہری صور ت کا نام ہے۔” ( تفسیر روح البیان جلد اول صفحہ نمبر41ترجمہ مولانا فیض محمد اویسی ناشر مکتبہ اویسہ رضویہ بہالپور)

حضرت سید عبدالکریم بن الجیلیؒ اپنی تصنیف انسانِ کامل میں فرماتے ہیں:

”وجودِ تعینات میں جس کمال میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم متعین ہوئے ہیں کوئی شخص متعین نہیں ہوا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اخلاق ‘احوال ‘ افعال اور اقوال اس امر کے شاہد ہیں کہ آپ ان کمالات میں منفرد ہیں آپ انسانِ کامل ہیں اور باقی انبیاء و اولیاء اکمل صلوٰۃ اللہ علیھم آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ایسے ملحق ہیں جیسے کامل اکمل سے ملحق ہوتا ہے اور آپ کے ساتھ وہ نسبت رکھتے ہیں جو فاضل کو افضل سے ہوتی ہے لیکن مطلق اکمل انسان حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات مبارک ہی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بالاتفاق انسانِ کامل ہیں۔”

مزید فرماتے ہیں :

”انسانِ کامل وہ ہے جو بمقتضائے حکمِ ذاتی بطور مِلک و اصالت اسماء ذاتی و صفاتِ الٰہی کا مستحق ہو ۔حق کیلئے اس(انسانِ کامل) کی مثال آئینے کی سی ہے کہ سوائے آئینہ کے کوئی شخص اپنی صورت نہیں دیکھ سکتا۔ا ورنہ اس کیلئے ممکن کہ سوائے اسمِ  کے آئینہ کے، کہ وہ اس کا آئینہ ہے، اپنے نفس کی صورت دیکھ سکے اور انسانِ کامل بھی حق کا آئینہ ہے اس لئے حق تعالیٰ نے اپنے اوپر لازم کر لیا ہے کہ سوائے انسانِ کامل اپنے اسماء صفات کو کسی اور چیز میں نہ دیکھے ۔ یہی امانتِ الٰہیہ کا حامل ہے یہی معنی اللہ تعالیٰ کے اس قول کے:

amanat1

ترجمہ: ہم نے بارِ امانت کو آسمانوں زمین اورپہاڑوں پر پیش کیا۔ سب نے اس کے اٹھانے سے عاجزی ظاہر کی لیکن انسان نے اسے اٹھالیا ۔ بے شک وہ اپنے نفس کے لیے ظالم اور نادان ہے۔

آپ انسانِ کامل کی مزید تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”انسانِ کامل قطبِ عالم ہے جس کے گرد اوّل سے آخر تک وجود کے فلک گردش کرتے ہیں اور وہ جب وجود کی ابتداء ہوئی اس وقت سے لے کر ابد الاباد تک ایک ہی شے ہے۔ پھر اس کے لیے رنگا رنگ لباس ہیں اور باعتبار لباس کے اس کا ایک نام رکھا جاتا ہے دوسرے لباس کے اعتبار سے اس کا وہ نام نہیں رکھا جاتا اس کا اصلی نام محمد( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) ہے اور اس کی کنیت ابو القاسم اور اس کا وصف عبد اللہ ہے اور اس کا لقب شمس الدین ہے، پھر باعتبار دوسرے لباسوں کے اس کے نام ہیں پھر ہر زمانہ میں اس کا ایک نام ہے جو اس زمانہ کے لائق ہوتا ہے۔

”حقیقتِ محمد یہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہر زمانہ میں اس ز مانہ کے اکمل کی صورت میں اُس زمانہ کی شان کے مطابق ظاہر ہوتی ہے یہ انسانِ کامل اپنے زمانہ میں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا خلیفہ ہوتا ہے ۔” (ترجمہ فضل میراں ناشر نفیس اکیڈمی کراچی )

اس حقیقت کو مزید وضاحت سے حضرت علامہ ابنِ عربی رحمتہ اللہ علیہ ”فصوص الحکم” میں بیان کرتے ہیں:

ہر زمانہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ازل سے لے کر ابد تک اپنا لباس بدلتے رہتے ہیں اور اکمل افراد کی صورت پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی جلوہ نما ہوتے ہیں۔

پس ازل سے ابد تک انسانِ کامل ایک ہی ہے اور وہ ذات صاحبِ لولاک سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات پاک ہے جو آدم علیہ السلام سے لے کر عیسیٰ علیہ السلام تک کے تمام رسولوں، نبیوں، خلیفوں کی صورت میں ظاہر ہوتی رہی ہے اور ختمِ نبوت کے بعد غوث، قطب، ابدال، اولیاء اللہ کی صورت میں اعلیٰ قدرِ مراتب ظاہر ہوتی رہے گی۔ (شرح فصوص الحکم والایقان)

حضرت شاہ سیّد محمد ذوقی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:”انسانِ کامل تمام موجودات کا خلاصہ ہے باعتبار اپنی عقل اور روح کے اُمُّ الکِتاب ہے ‘باعتبار قلب کے لوحِ محفوظ ہے’ باعتبار اپنے نفس کے محو و اثبات کی کتاب ہے۔ انسانِ کامل ہی صحفِ مکرمہ اور یہی وہ کتابِ مطہر ہے جس سے کوئی چیز نہیں چھُوٹی۔ اس کے اسرار و معانی کو سوائے ان لوگوں کے جو حجاباتِ ظلماتی سے پاک ہوں کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا۔(سِرّ دلبراں، ناشر الفیصل ناشران کتب لاہور)

مولانا جلال الدین رومی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

” جس طرح خزانے ویرانوں میں ہوتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنی ” امانت ” (امانتِ الٰہیہ ) بھی ایسے شخص کے دل میں ودیعت کرتا ہے جس کی زیادہ شہرت نہ ہو۔” ( مثنوی مولانا روم دفتر سوم )

ہر دور میں ایک ایسا انسان موجود ہوتا ہے جو امانتِ الٰہیہ کا حامل یاامانتِ فقر کا وارث ہوتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم خزانہ فقر کے مالک اور مختارِ کل ہیں اس لئے انہی سے یہ امانت اور خزانہ فقر منتقل ہوتا رہتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اِذن کے بغیر کسی انسان کو امانتِ الٰہیہ منتقل نہیں ہوسکتی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے خزانہ فقر خاتونِ جنت حضرت فاطمتہ الزہرارضی اللہ عنہاکو منتقل ہوا۔اور آپ رضی اللہ عنہا اُمتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں فقر کی پہلی سلطان(سلطان الفقر اوّل) ہیں۔یہی خزانہ فقر بابِ فقر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو منتقل ہوا جن سے سلاسل کا آغاز ہوا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے فقر حسنین کریمینj کو منتقل ہوا۔پھر یہ منتقل در منتقل ہوتا ہوا شہسوارِ فقر غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ تک پہنچا پھر خزانہ فقر حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ تک پہنچا۔ اب جب بھی امانتِ الٰہیہ منتقل ہوتی ہے تو آقا پاک صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم اس انسان کو غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے حوالہ کرتے ہیں اور پھر وہاں سے اُسے امانتِ الٰہیہ یا خزانہ فقر کیلئے حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں حاضر ہونا پڑتا ہے۔اب قیامت تک یہ خزانہ ،خزانہ فقر کے مختارِ کل صاحبِ لولاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اجازت اور مہر سے اسی در سے منتقل ہوگا۔

امانتِ الٰہیہ کا حامل، جسے صاحبِ مسمّٰی مرشد کہا جاتا ہے ہی مرشدِ کامل اکمل نور الہدیٰ ہوتا ہے۔ اگر طالب کو ایسا مرشد مل جائے تو فقر کی انتہا پر پہنچنا کوئی مشکل مرحلہ نہیں ہے۔ اس کی شان یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ پہلے دِن ہی طالب کو سلطان الاذکار اسمِ اعظم ”ھُو” عطا کر دیتا ہے اور اسمِ  ذات تصور کے لیے عطا فرماتا ہے ۔ اگر ایسا مرشد مل جائے تو فوراً دامن پکڑ لے لیکن اس کو تلاش کرنا مشکل ہے کیونکہ یہ غیر معروف ہوتا ہے۔ سینہ بہ سینہ یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا لیکناس مرشد تک صرف وہی طالب پہنچتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی پہچان،دیدارِ حق تعالیٰ اور مجلسِ محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی حضوری کی طلب لے کر گھر سے نکلتے ہیں۔

یہی انسانِ کامل صاحبِ مسمّٰی مرشد کامل اکمل نور الہدیٰ ‘ حاملِ امانتِ الٰہیہ اور خزانہ فقر کا مالک اور نائبِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہوتا ہے اس کی تلاش اور غلامی فقراء نے فرض قرار دی ہے اس لیے طالبِ مولیٰ پر اس کی تلاش فرض ہے۔

سلطان العارفین سلطان الفقر حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ منتقلی امانتِ الٰہیہ کے بارے میں فرماتے ہیں:

amanat7

ترجمہ :مجھے کوئی ایسا طالبِ مولیٰ زندگی میں نہیں ملا جو میرے پاس صرف طلبِ مولیٰ لیکر آیا ہو بلکہ میرے پاس تو جو بھی آیا وہ کسی نہ کسی نفسانی دنیاوی اور ذاتی خواہش کی تکمیل کے لیے آیا۔

آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

میں تیس سال تک اس طالبِ حق کی تلاش میں رہا جس کو وہاں پہنچاؤں جہاں میں ہوں (یعنی امانتِ الٰہیہ منتقل کرسکوں) لیکن مجھے کوئی ایسا طالبِ حق نہ مل سکا۔(امیر الکونین)

آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:-

amanat8

ترجمہ: میں ایسے ہی طالبِ مولیٰ کا خواہش مند ہوں اور ایک کامل مرشد کی حیثیت سے طالبی اور مرشدی کے تمام مقامات سے واقف ہوں۔

amanat9

ترجمہ: میں سالہا سال سے ایسے طالب کو تلاش کرتا پھر رہا ہوں جو دیدارِ الٰہی کے لائق ہو لیکن افسوس مجھے ایسا طالب نہیں ملا۔(نور الہدیٰ کلاں)

نور الہدیٰ کلاں میں فرماتے ہیں:

سالہا سال سے میں طالبانِ مولیٰ کی تلاش میں ہوں لیکن ابھی تک مجھے وسیع حوصلے اور ہمت والا لائقِ تلقین طالبِ صادق نہیں ملا جسے معرفت و توحیدِ الٰہی کے ظاہری و باطنی خزانوں کی نعمت اور دولت (ورثہ فقر۔ امانتِ الٰہیہ) کا نصاب بے حساب عطا کرکے تبرکاتِ الٰہی کی زکوٰۃ کے فرض سے سبکدوش ہوکر اللہ تعالیٰ کے حق سے اپنی گردن چھڑالوں ۔(باب شرح فقرِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)

اوپر حوالوں سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ حضرت سلطان العارفینؒ کو اپنی زندگی میں کوئی ایسا طالب نہ ملا جس کو امانتِ الٰہیہ منتقل کی جا سکتی اس لیے آپ رحمتہ اللہ علیہ امانتِ الٰہیہ منتقل کیے بغیر ہی وصال فرما گئے۔

اس امانت کو بعد ازوصال آپ رحمتہ اللہ علیہ نے طالبِ حق سلطان التارکین حضرت سیّد محمد عبداللہ شاہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کو منتقل کیا۔

سیّد محمد عبداللہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ 29رمضان المبارک 1186ھ (2دسمبر 1772ء) جمعتہ المبارک کی شب مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا پدرانہ شجرہ نسب حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے ذریعے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تک پہنچتا ہے جبکہ والدہ کی طرف سے آپ رحمتہ اللہ علیہ کاشجرہ نسب امام سیّد محمد تقی علیہ السلام کے توسط سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم تک جا پہنچتا ہے۔ حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کے مرشد سیّد عبدالرحمن جیلانی رحمتہ اللہ علیہ سیّد عبداللہ شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے پردادا ہیں۔ سیّد عبداللہ شاہ کے دادا سیّد عبدالعزیز 1696ء میں دہلی سے بغداد تشریف لے گئے پھر 1698ء میں مدینہ منتقل ہوئے اور وہیں مستقل سکونت اختیار کر لی۔

سلطان التارکین حضرت سخی سلطانسیّد عبداللہ شاہ رحمتہ اللہ علیہ کی پیشانی بچپن سے ہی نورِ حق سے درخشاں تھی، جو بھی آپ رحمتہ اللہ علیہ کو دیکھتا آپ رحمتہ اللہ علیہ کا دیوانہ ہو جاتا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کو بچپن سے ہی عباداتِ الٰہی سے خصوصی شغف تھا۔ 12سال کی عمر میں آپ رحمتہ اللہ علیہ نے قرآن پاک حفظ کر لیا۔

والدین کی وفات کے بعد آپ رحمتہ اللہ علیہ کا دل دنیا سے بالکل اچاٹ ہوگیا اور آپ رحمتہ اللہ علیہ نے گھر بار چھوڑ کر روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر مستقل سکونت اختیار کر لی۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ تمام وقت روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت اور عبادات میں مصروف رہتے۔ عرصہ چھ سال کی خدمت اور غلامی کے بعد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خواب میں دیدار کی نعمت عطا کی اور پوچھا ”تو اس خدمت کے بدلے میں کیا چاہتا ہے”؟ سیّد محمد عبداللہ شاہ رحمتہ اللہ علیہ نے عرض کی ”حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جانتے ہیں کہ یہ غلام فقر چاہتا ہے” اس پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ”فقر کے لیے تجھے ہند سلطان العارفین سلطان باھو( رحمتہ اللہ علیہ ) کے پاس جانا ہوگا”۔ جب سیّد محمد عبداللہ شاہ رحمتہ اللہ علیہ خواب سے بیدار ہوئے تو بہت حیران اور پریشان ہوئے کہ رشد و ہدایت کا منبع تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم خود ہیں پھر مجھے سلطان باھو( رحمتہ اللہ علیہ ) کے پاس کیوں بھیجا جا رہا ہے؟ لہٰذا دوبارہ خدمت اور غلامی کا سلسلہ شروع فرما دیا۔ مزید چھ سال کے بعد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دیدار سے مستفید فرمایا اور پوچھا کہ” اس خدمت کے بدلہ میں کیا چاہتے ہو؟” تو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے پھر عرض کیا کہ ”حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جانتے ہیں کہ یہ غلام فقر چاہتا ہے”۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ” تجھے فقر سخی سلطان باھو( رحمتہ اللہ علیہ ) سے ہی ملے گا” اس مرتبہ سیّد محمد عبداللہ شاہ نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں تو اس علاقے کی زبان اور رسم رواج، رہن سہن اور کھانے پینے تک سے ناواقف ہوں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ” ہم تجھے اپنے محبوب شیخ عبد القادر جیلانی(رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ ) کے سپرد کرتے ہیں تمہاری رہنمائی کرنا اور وہاں تک پہنچانا اب ان کی ذمہ داری ہے۔

خواب سے بیدار ہوتے ہی سیّد محمد عبداللہ شاہ رحمتہ اللہ علیہ حکم کے مطابق بغداد شریف حضرت غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے مزار مبارک پر پہنچے اور وہاں سے اُن کی باطنی رہنمائی میں تمام سروری قادری مشائخ کے مزارات سے ترتیب وار فیض حاصل کرتے ہوئے جھنگ پاکستان حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر 1825ء میں پہنچے۔ حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے باطنی طور پر انہیں امانتِ فقر منتقل فرمائی۔حضرت سیّد محمد عبداللہ شاہ رحمتہ اللہ علیہ نے مزار حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ پر ہی رہائش اختیار کر لی جہاں چھ ماہ تک حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے ان کی باطنی تربیت فرمائی اور پھر حکم دیا کہ احمد پور شرقیہ میں رہائش اختیار کر کے طالبانِ مولیٰ کی راہِ فقر پر راہنمائی کریں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے حکم پر عمل کیا۔

احمد پور شرقیہ میں آپ رحمتہ اللہ علیہ سے ہزاروں لوگوں نے فیض حاصل کیا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے معتقدین میں نواب بہاول خان سوئم بھی شامل تھے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کوحضور غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی بارگاہ سے سلطان التارکین کا لقب عطا ہوا۔ 29رمضان المبارک1276ھ (20 اپریل 1860ء) میں اپنے وصال سے قبل حضرت سیّد محمد عبداللہ شاہ رحمتہ اللہ علیہ نے امانتِ فقر اپنے سب سے صادق اور لائق طالب اور دل کے محرم حضرت پیر عبدالغفور شاہ رحمتہ اللہ علیہ کو منتقل فرمائی۔

آپ رحمتہ اللہ علیہ کا مزار مبارک فتانی چوک احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور (پنجاب) پاکستان میں ہے۔