مرشد کامل اکمل

قرآنِ مجید میں بھی وسیلہ تلاش کرنے کا حکم ہے۔

ترجمہ: اے ایمان والو !تقویٰ اختیار کرواور اللہ کی طرف وسیلہ پکڑو۔

اس آیت مبارکہ میں ایمان لانے والوں کو دو باتوں کا حکم ہوا ہے اول تقویٰ اختیار کرنا دوم اللہ کی پہچان کے لیے وسیلہ پکڑنا، ڈھونڈنا یا تلاش کرنا۔

و سیلہ کالغو ی معنی ''واضح راستہ اور ایسا ذریعہ ہے جو منزلِ مقصود تک پہنچادے اور اس حد تک معاون ومددگار ہو کہ حاجت مند کی حاجت باقی نہ رہے۔ اور اس وسیلہ کی بدولت وہ مقصودِ زندگی حاصل کر کے مطمئن ہو جائے'' ۔''لسان العرب'' (جلد 11 صفحہ 725 )میں وسیلہ کی تعریف یوں کی گئی ہے : ''جس کے ذریعے کسی دوسری چیز کا قرب حاصل کیا جائے اسے وسیلہ کہتے ہیں''

شرعی اصطلاح میں وسیلہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے کسی ایسی ہستی کو وسیلہ بنایا جائے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب اور پسند یدہ ہو، جس نے راہِ سلوک طے کیا ہو اور اس راستہ کے نشیب وفراز سے واقف ہو۔تصوف میں اس سے مراد مرشد ،ہادی ،شیخ یا پیر ہے جو خود شناسائے راہ ہو اور راہِ فقر کی منزلیں طے کرتا ہوا حریمِ قدس تک پہنچ چکا ہو اور اب اس قابل ہو کہ اُمت کے ناقص و خام عوام کی راہنمائی کر سکے۔ اور اپنی روحانی قیادت میں انہیں شیطانی وساوس و خطرات اور نفس کی تباہ کاریوں اور رکاوٹوں سے بچا کر آگے لے جاسکے۔ اِس صورت میں آیتِ کریمہ کا مطلب یہ ہوگا کہ ''اے لوگو! کسی ہادی کامل (مرشدِ کامل اکمل) کی تلاش کرو تاکہ ربّ تک پہنچ سکو۔''

اسم اور اسم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ذکر اور تصور بھی تبھی بندے کو اللہ سے ملاتاہے جب یہ ذکر وتصور ایسے رہنما کی نگرانی میں کیا جائے جو اللہ سے وصال کی راہ جانتا ہو ۔جس طرح انسان کسی نئے راستہ پر چلنے سے پہلے' جس سے وہ بالکل ناواقف ہو' ضرور کسی کی رہنمائی حاصل کرتا ہے یا کسی بھی سبق اور تعلیم یا ہنر کو سیکھنے کے لیے اسے معلم کی ضرورت ہوتی ہے' اسی طرح فقر کے اس باطنی سفر کی راہ سے نہ صرف انسان ناواقف ہے بلکہ اس راستے پر جگہ جگہ شیطان راہزن بن کر گھات لگائے بیٹھا ہے تاکہ انسان کو اس راہ سے بھٹکا سکے اور کبھی اللہ تک نہ پہنچنے دے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

ترجمہ: شیطان تمہیں فقر سے ڈراتا ہے اور فواحش کی تعلیم دیتا ہے۔

چنانچہ اس سفر میں اللہ کے طالب کو ذکر وتصورِ اسم  کے زادِ راہ کے ساتھ ساتھ ایک رہنما کی بھی بہت ضرورت ہے۔ اسی لیے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:

ترجمہ: پہلے رفیق تلاش کرو پھر راستہ چلو۔

مرشد کامل اکمل جواس راہ کو بخوبی جانتا ہے ایک سالک کا رہنما بھی ہے' معلم بھی ہے اور رفیق بھی۔ وہی طالب کو شیطانی وساوس اور خطراتِ ہوا و ہوس (نفسانی خواہشات) سے بچا کر اس راہ پر چلاتا اور منزل تک پہنچاتا ہے۔ مرشدِ کامل کے بغیر کسی بھی انسان کا' خواہ وہ کتنا ہی عبادت گزار اور نیک کیوں نہ ہو' اللہ کی معرفت کا سفر طے کرنا ناممکن ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا :

ترجمہ: جس کا شیخ (مرشد) نہیں اس کا شیخ (مرشد) شیطان ہے۔

یقیناًجب اصل رہنما کا ساتھ نہ ہوگا تو شیطان کے لیے آسان ہو جائے گا کہ وہ راستے سے ناواقف انسان کو بھٹکا دے۔ مرشدِ کامل ہی اس راہ میں سالک کا طبیب بھی ہے جو اس کی باطنی بیماریوں حسد' بہتان' غیبت' بغض' کینہ' بدگمانی' تکبر' عجب یعنی خود پسندی یا خودنمائی' ہوس' طمع لالچ' حرص وغیرہ کا علاج کر کے اس کی روح کو تندرست و توانا بناتا ہے تاکہ اس کے لیے یہ سفر طے کرنا مشکل نہ رہے۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

انسان کے وجود میں اللہ تعالیٰ اس طرح پوشیدہ ہے جس طرح پستہ کے اندر مغز چھپا ہوا ہے۔ مرشد کامل ایک ہی دم میں طالب اللہ کو حضورِ حق میں پہنچا کر مشرفِ دیدار کر دیتا ہے' کیا عالمِ حیات اور کیا عالمِ ممات کسی بھی وقت (طالب) اللہ تعالیٰ سے جدا نہیں ہوتا۔ (نور الہدیٰ کلاں)
بقول شاعر:

اللہ اللہ کرنے سے اللہ نہیں ملتا             یہ اللہ والے ہیں جو اللہ سے ملا دیتے ہیں

اقبال رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

اللہ تعالیٰ خود بھی ایسے مرشد کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیتا ہے جو ذکر میں کامل ہو۔

ترجمہ: پس اہلِ ذکر سے(اللہ کی راہ ) پوچھ لو اگر تم نہیں جانتے۔

یہاں اہلِ علم سے پوچھنے کا حکم نہیں دیا کیونکہ علم مختلف انسانوں کو ان کی سمجھ' approach اور زاویہ نگاہ کے مطابق ایک ہی شے کی حقیقت جاننے کے مختلف راستے بتاتا ہے اور یوں لوگوں میں تفرقہ کی بنیاد ڈالتا ہے۔ آج اُمتِ مسلمہ میں فرقہ پرستی کی بنیاد مختلف علماء کرام کا دین کے علم میں اختلاف ہی ہے کہ ہر عالم اپنی سمجھ کے مطابق دینِ اسلام کی نئی تشریح کرتا ہے۔ جن لوگوں کو اس کی تشریح کچھ مناسب معلوم ہوتی ہے وہ اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں چنانچہ امت عبادات و عقائد کی بنیاد پر بے شمار فرقوں میں بٹی ہوئی مختلف راہوں پر چل رہی ہے۔ حالانکہ اللہ تک پہنچنے کا ایک ہی راستہ ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:

ترجمہ:''اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔

''یہاں' اللہ کی رسی' سے مراد مرشدِ کامل ہی ہے جو بندے کو اس کے رب تک پہنچاتا ہے۔ علماء کرام تو خود تفرقے میں پڑے ہوئے ہیں وہ کسی کو اللہ تک کیسے پہنچائیں گے۔

مرشدِ کامل حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے باطنی جانشین' اُن کے نائب اور اُن کی امانتِ فقر کے وارث ہوتے ہیں۔ یہ ہمیشہ دنیا میں موجود ہوتے ہیں ا ور طالبانِ مولیٰ کو ان کے رب سے ملانے اور معرفتِ الٰہی کی تعلیم دینے کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں۔ دنیا کبھی ان سے خالی نہیں ہوتی۔ جو لوگ جعلی پیروں فقیروں کے چنگل میں پھنس کر اصل مرشدانِ کاملین سے بھی بدظن ہو بیٹھتے ہیں درحقیقت کھوٹ ان کی اپنی ہی نیت میں ہوتا ہے۔ جو مخلص ہو کر صرف اللہ کی طلب میں نکلے وہ کبھی دھوکہ نہیں کھاتا کیونکہ اللہ نے اپنی طرف آنے والے مخلصین کی رہنمائی کا خود وعدہ کیا ہے۔

ترجمہ: اور جن لوگوں نے ہماری راہ میں کوشش اور جدوجہد کی ہم ان کو ضرور بالضرور اپنے صحیح راستوں پر لگا دیں گے۔

اور اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ جن لوگوں کی طلب ہی دنیا اور دنیاوی مال و دولت' عزت و جاہ یا اللہ کی بجائے بہشت و حور و قصور ہو' ان کو رہنما بھی تو پھر ان کی طلب کے مطابق ہی ملے گا۔ البتہ جو لوگ خالص ہو کر صرف قرب و دیدارِ الٰہی کے خواستگار ہوں گے ان کی رہنمائی اللہ تعالیٰ ضرور کسی کامل رہنما کی طرف کر دیتا ہے۔ یہ مرشد کامل حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس طریقہ کے مطابق طالب کے باطن کا تزکیہ اور قلب کا تصفیہ کرتا ہے جو قرآن پاک کی سورۃجمعہ میں مذکور ہے:

ترجمہ: (اللہ)وہی ہے جس نے اَن پڑھ لوگوں میں انہی میں سے ایک (باعظمت) رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بھیجا جو ان پر آیات تلاوت کرتا ہے اور (اپنی نگاہِ کامل سے) ان کو پاک کرتا ہے اور کتاب کی(قرآن کی حقیقی باطنی) تعلیم اور حکمت عطا کرتا ہے۔''

مرشد طبیب کی مانند سالک کی روح کو روحانی بیماریوں' حسد' تکبر' بہتان' غیبت' بغض' کینہ' بدگمانی' عجب یعنی خود پسندی یا خودنمائی' ہوس' طمع لالچ' حرص وغیرہ تمام باطنی بیماریوں سے پاک کرتاہے۔ مرشدِ کامل کی مہربانی اور اسم ذات کے ذکر و تصور سے طالب باطنی پاکیزگی کے اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں اس کی روح روحِ قدسی کہلاتی ہے۔ روحِ قدسی ہی وہ روح ہے جو اپنی پاکیزگی کی وجہ سے اللہ کے انتہائی قریب پہنچ کر اللہ کا دیدار اور پہچان حاصل کر سکتی ہے۔ یہی وہ روح ہے جو انسان کی پیدائش کے وقت اس کے اندر موجود تھی جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا

ترجمہ:''اور ہم نے انسان کو احسن ترین صورت پر پیدا کیا''

لیکن دنیا میں آنے کے بعد یہ روح دنیاوی آلائشوں اور بیماریوں میں مبتلا ہو جاتی ہے اور انسان کی بے توجہی سے پژمردہ ہو کر اپنی پاکیزگی اور قوت کھو بیٹھتی ہے۔

مرشدِ کامل روح کو پاکیزہ بنانے کے لیے سالک کی تربیت اس طریقے سے کرتا ہے کہ اس کو دنیا کی حقیقت معلوم ہوجاتی ہے۔ روحِ قدسی جب اللہ کے دیدار کی لذت پالیتی ہے تو دنیا کی فانی اور وقتی لذات اس کے لیے بے معنی ہو جاتی ہیں اور انہیں پانے کی تگ و دو کرنے کی بجائے وہ اللہ کا زیادہ سے زیادہ قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے دل سے مال و زر کی ہوس نکل جاتی ہے۔ اللہ کی رضا کے سامنے دنیا کی ہر شے ہیچ نظر آنے لگتی ہے۔ وہ اللہ کی رضا کی خاطر عاجزی و انکساری اختیار کرتا ہے۔ اللہ کی محبت اسے دنیا کی خواہشات سے نجات دلا کر دوسروں کی محتاجی سے خلاصی عطا کرتی ہے اور وہ اپنے رب کے سوا نہ کسی سے کوئی توقع رکھتا ہے نہ کچھ طلب کرتا ہے۔ بلکہ اس کی عاجزی و انکساری اور اللہ پر اس کا مکمل توکل اسے ہر حال میں اپنے رب سے راضی رہنا سکھا دیتا ہے۔ وہ نہ صرف لالچ اور حرص سے نجات حاصل کرتا ہے بلکہ اپنے رب کے سوا کسی غیر کا خوف بھی دل میں نہیں رکھتا۔ یوں اسے کوئی طاقت غلط کام کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ وہ جان لیتا ہے کہ قربِ خداوندی سے بڑھ کر دنیا و آخرت میں کوئی مرتبہ نہیں اس لیے دنیاوی مال و دولت' منصب و تکریم' شان و شوکت اس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتے اور ان کے حصول کے لیے وہ کبھی غلط قدم نہیں اٹھاتا۔ وہ جانتا ہے کہ جس دل میں بغض' حسد' کینہ' تکبر اور نفرت جیسی آلائشات ہوں وہاں اللہ کبھی نہیں آسکتا اس لیے لوگوں کے ساتھ بھی اپنے رویوں کو پاکیزہ بنا لیتا ہے اور کسی کے لیے اپنے دل میں میل نہیں آنے دیتا۔ یوں مرشد کامل کی مہربانی سے نہ صرف اس کا باطن درست ہوجاتا ہے بلکہ ظاہر بھی۔ معرفتِ الٰہی کے حصول کے بعد وہ حق الیقین سے اس بات کو جان لیتا ہے کہ اللہ ہر وقت اس کے پاس ہے اور اس کے ہر عمل کو دیکھ رہا ہے' چنانچہ خشیتِ الٰہی میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور وہ خود کو گناہوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

ترجمہ: اللہ کے بندوں میں سے اہلِ علم ہی اللہ سے ڈرتے ہیں۔

یہاں علم سے مراد دنیاوی علم نہیں بلکہ اللہ کی معرفت کا علم ہے جو صرف مرشد کامل اکمل سے حاصل ہوتا ہے۔

مرشدِ کامل کے بارے میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

مرشدِ کامل کسے کہتے ہیں ؟ مرشد کِن خواص واوصاف کا ما لک ہوتا ہے؟ مرشد طالب کو کس طرح غرقِ تو حید کرتا ہے اور کس طرح مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں پہنچاتا ہے؟ اور مرشد کس مقام اور کس درجے کا مالک ہوتا ہے؟مرشد ''صاحبِ تصرف فنافی اللہ بقاباللہ'' فقیر ہوتا ہے جو مردہ قلب کو زندہ کرتا ہے زندہ نفس کو مارتا ہے، مرشدلا یحتاج (ہر حاجت سے پاک) ہوتا ہے۔مرشداُس سنگِ پارس کی مثل ہوتاہے جو اگر لوہے کوچھو جا ئے تو لوہا سو نا بن جاتا ہے ۔مرشد کسوٹی کی مثل ہے ۔اس کی نظر آفتاب کی طرح فیض بخش ہوتی ہے جو طالب کے وجود سے خصائلِ بد کو مٹادیتی ہے۔مرشد رنگریز کی مثل ہے۔ مرشد تنبولی کی مثل ہے جو پا ن کے پتوں سے کار آمد پتوں کو چھانٹتا ہے۔ مرشد صاحبِ خُلق ہوتا ہے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام جیسے خُلق کا مالک ہوتا ہے ،مہربان ایسا کہ ماں باپ سے زیادہ مہربان ،راہِ خدا کاہادی وراہنما ،گوہر بخش ایسا کہ جیسے کانِ لعل وجواہر ،موجِ کرم ایسے کہ جیسے دریائے دُر، منزل کشا ایسے کہ جیسے قفل کی چابی ، مال وزردنیا سے بے نیاز ،طمع سے پاک ،طالبوں کو اپنی جان سے عزیز تر رکھنے والا مفلس درویش۔مرشد مردوں کے غسا ل کی مثل ہوتا ہے اور ہر وقت مُردہ طالب کی تلاش میں رہتا ہے جو '' '' (مرنے سے قبل مرجاؤ) کا مصداق بن کر مرنے سے پہلے مرچکا ہو ، جس کا نفس مردہ مگر دل زندہ ہو اور ر اہِ فقر میں فاقہ کشی کرنیوالا ہو ورنہ نالا ئق طالب تو اپنی مرضی پر چلتا ہے۔مرشد کمہار کی مثل ہوتا ہے جس کے سامنے مٹی دم نہیں مارتی چاہے وہ اس سے جو بھی سلوک کرے۔مرشد کو چاہیے کہ وہ خدابین ہو اور طالب کو چاہیے کہ وہ صادق الیقین ہو۔ مرشد رفیق کو کہتے ہیں چنانچہ حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کا فرمان ہے ''پہلے رفیقِ راہ تلاش کرو پھر راہ چلو''۔اِس دور کے مرشد زرپرست ہیں ،نظر سے مٹی کو سونا بنانے والے مرشد نایاب ہیںآج کل کے مرشد زر پرست و زن پرست ہیں ،زر پر ست وزن پرست ودل سیاہ خود پرست ہیں۔

مرشد درخت کی مثل ہوتا ہے جو موسم کی سردی گرمی خود برداشت کرتا ہے لیکن اپنے زیرِ سایہ بیٹھنے والوں کو آرام وآرائش مہیا کرتا ہے مرشد کو دشمنِ دنیا اور دوستِ دین ہونا چاہیے اور طالب کو صاحبِ یقین، جو مرشد پر اپنی جان ومال قربان کرنے سے دریغ نہ کرے۔مرشد کو نبی اللہ کی مثل ہونا چاہیے اور طالب کو ولی اللہ کی مثل۔(عین الفقر)

وسیلت (مرشد)بہتر ہے فضیلت (علم)سے۔ گناہ کرتے وقت علمِ فضیلت بندے کو گناہ سے نہیں روک سکتا جبکہ وسیلت بندے کو گناہ سے روک لیتی ہے جیساکہ حضرت یوسف علیہ السلام کو وسیلت نے زلیخا کے شر سے بچالیا تھا۔ حضور علیہ لصلوٰۃالسلام کا فرمان ہے ''شیخ اپنی قوم میں اس طرح ہوتا ہے جس طرح کہ نبی اپنی اُمت میں ۔''(عین الفقر)

مرشد تین قسم کے ہوتے ہیں:

1.   مر شدِ د نیا

2.  مرشدِ عقبیٰ اور

3.  مرشد کامل اکمل۔

اوّل مرشد دنیا مال ودولت ، عزت وشہرت اور رجو عاتِ خَلق کا طا لب ہوتا ہے ، مرید کی ہڈیاں بیچ کھانے ، خا نقا ہیں بنانے ،زمین وآسمان کا سیر تما شا کرنے، صاحبِ کشف وکرامات ہونے اور بادشاہِ دنیا کے قرب وملا قات کا طا لب ہوتا ہے ۔ ایسی طلب کا تعلق مرتبہِ مخنّث(ہیجڑہ) سے ہے لہٰذا عارفِ دنیا مرشدمخنثّ ہوتا ہے ۔اس کا طا لب بھی مخنث ہو تا ہے۔دوم مرشدِ عقبیٰ عابدزاہد ، ا ہلِ علم اور متقی وپر ہیز گا ر ہو تا ہے جس پر خوفِ جہنم سوار رہتا ہے اور ہر وقت طلبِ جنت میں عبا دت کرتا ہے ،اس کا تعلق مرتبہِ مؤنث سے ہے اور اس کا طالب بھی مؤنث ہی ہو تا ہے ۔ سوم مر شد کا مل اکمل جو عارفِ مولیٰ عارفِ باللہ تو حیدِ الٰہی میں غرق صاحبِ حضور ہوتا ہے جو دنیا و عقبیٰ سے دُور اور اشغالِ اللہ میں مسرور ہوتا ہے ۔ اللہ بس ماسویٰ اللہ ہوس ۔(عین الفقر)

پس مرشدکسے کہتے ہیں ؟ جو دل کو زندہ کردے اور نفس کو ما ر دے اور جب طا لب پر جذب وغضب کی نگاہ ڈالے تو اس کے دل کو زندہ کردے اور نفس کو ما ردے ۔ مرشد اسے کہتے ہیں جو فقر میں اس درجہ کا مل ہو کہ اس نے خود پر غیر ما سویٰ اللہ کو حرام کر رکھا ہو اور ازل سے ابد تک احرام با ند ھے ہوئے حاجی بے حجاب ہو۔ایسا مرشد طبیب کی مثل ہوتا ہے اور طا لب مریض کی مثل ۔ طبیب جب کسی مریض کا علا ج کرتا ہے تو اسے تلخ وشیریں دوائیں دیتا ہے اور مریض پر لازم ہو تا ہے کہ وہ یہ دوائیں کھائے تاکہ صحت یاب ہوسکے۔(عین الفقر)

مرشد کامل اکمل کی نشانی کیا ہے ؟ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

مرشد کامل پہلے دن اسمِ ذات لکھ کرطالب کے حوالے کردیتا ہے ۔اور اسے کہتا ہے ''اے طالب اسمِ  ذات دِل پر لکھ اور اس کا نقش جما ۔''جب طالب تصور سے دل پر اسمِ  ذات نقش کرنے میں کا میاب ہوجاتاہے تو مرشد طالب کو توجہ دے کر کہتا ہے'' اے طالب اب اسمِ کو دیکھ ''چنانچہ اسی وقت اسمِ  ذات آفتاب کی طرح تجلّی انوار سے روشن اور تاباں ہوجاتا ہے۔ (نورالہدیٰ )

مرشدِ کامل وہ ہوتا ہے جو طالب کو اسمِ کے ذکر کے ساتھ ساتھ اس کا تصوربھی عطا کرے آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:''جو مرشد طالب کو تصور اسمِذات عطا نہیں کرتا وہ مرشد لائقِ ارشاد مرشد نہیں۔''(نور الہدیٰ)

مرشدِ کامل پہلے دن ہی طالب مولیٰ کو اسم اللہ ذات تحریر کرکے دے دیتا ہے۔(کلید جنت)

بندے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پہاڑ یا دیوار حائل نہیں ہے ۔اور نہ ہی میلوں تک پھیلی ہوئی طویل مسافت ہے۔بلکہ پیاز کے پردہ سے بھی زیادہ باریک پردہ ہے جسے تصورِ اسمِ  ذات اور صاحبِ راز مرشد کامل کی توجہ سے توڑ نا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ تو آنا چاہے تو درواز ہ کھلا ہے، اگر نہ آئے تو اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے۔(کلید التوحید کلاں )

مرشدِ کامل اکمل باطن کی ہر منزل اور ہرراہ کا واقف ہوتا ہے۔باطن کی ہر مشکل کا مشکل کشاہوتا ہے۔مرشدِ کا مل توفیق الٰہی کا نام ہے جب تک توفیقِ الٰہی شاملِ حال نہ ہو کو ئی کام سرانجام نہیں پاتا۔ مرشدِ کامل کے بغیر اگر تو تمام عمر بھی اپنا سر ریا ضت کے پتھر سے ٹکراتارہے تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا کہ بے مرشد وبے پیر کوئی شخص خداتک نہیں پہنچ سکا ۔مرشدِ کا مل اکمل جہاز کے دیدہ با ن معلم کی طرح ہوتا ہے۔ جو جہاز رانی کا ہر علم جانتا ہے اور ہر قسم کے طوفان وبلاسے جہاز کو نکال کر غرق ہونے سے بچا لیتا ہے ۔مرشد خود جہاز ، خود جہاز ران ہوتاہے( سمجھ والا سمجھ گیا) ۔(عین الفقر)

تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ صاحبِ راز (مرشد کا مل اکمل)کے سینے میں ہے کیونکہ قدرتِ توحید و دریاء وحدتِ الٰہی مومن کے دل میں سمائی ہوئی ہے اس لیے جو شخص حق حاصل کرنا چاہتا ہے اورواصلِ باللہ ہونا چاہتا ہے اسے چاہیے سب سے پہلے مرشد کاملِ اکمل کی طلب کرے اس لیے کہ مرشد کامل اکمل دل کے خزانوں کا مالک ہوتا ہے۔جوشخص اپنے دِل کا محرم ہوجاتاہے وہ دیدارِ الٰہی کی نعمت سے محروم نہیں رہتا۔(عین الفقر)

مرشدِ کامل وہ ہے جو طالب کے ہر حال، ہر قول، ہر فعل، حالتِ معرفت و قرب وصال اور ہر حالتِ و دلیل و وہم خیال سے باخبر رہے۔ مرشد کو اس قدر ہو شیار ہونا چاہیے کہ وہ ہر وقت طالب کی گردن پر سوار رہے اور اس کی ہر بات اور ہر دم نگہبانی کرتا رہے۔ مرشد اس قدر باطن آباد ہو کہ طالب اسے حاضراتِ اسمِ ذات کی مدد سے ظاہر و باطن میں ہر وقت حاضر ناظر سمجھے اور اس سے کامل اعتقاد رکھے ۔ہر عام و خاص مرشدی کا اہل نہیں ہوتا ۔مرشد تو پارس پتھر کی مثل ہوتا ہے جسے چھو کر لوہا سونا بن جاتا ہے۔(کلید التوحید کلاں)

مرشدِ کامل طالبِ اللہ کو تصورِ اسمِ  ذات کے ذریعے معرفت و دیدار کا سبق دیتا ہے۔ اور دنیا مردار سے بیزار کر کے ہزار بار توبہ کراتا ہے۔ مرشدِ کامل وہ ہے جو تصورِ اسمِ  ذات سے معرفتِ دیدار منکشف کرتا ہے پھر اسمِ  ذات میں لوٹ آتا ہے کیونکہ ابتدا اور انتہا کا کوئی مرتبہ بھی اسمِ  ذات سے باہر نہیں اور نہ ہوگا۔(نور الہدیٰ)

اگر کوئی شخص تمام عمر ریاضت میں گزار ے اور تیس سال تک ایک پاؤں پر کھڑ ا ہو کر عبادت کرتا رہے، تب بھی وہ رموز باطنی اور دیدار حق سے نا آشنا رہتا ہے یہ نعمت مرشدِ کامل کی رحمت کے بغیر نصیب نہیں ہو سکتی مرشد کامل کی ایک نگاہِ کرم سالہا سال کی عبادت سے بہتر و بالا ہے ۔(امیر الکونین)

سروری قادری مرشد کے بارے میں آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں

ترجمہ: عارف کامل قادری (صاحبِ مسمّٰی مرشد کامل سروری قادری)ہر قدرت پر قادر اور ہر مقام پر حاضر ہوتا ہے۔(رسالہ روحی شریف)

سروری قادری مرشد بھی دو طرح کے ہوتے ہیں:

صاحبِ اسمِ:

صاحبِ اسم صاحبِ ذکر ہے اور صاحبِ اسم مقامِ خَلق پرہوتا ہے، یہ خلفاء ہوتے ہیں ۔ اِن کے مریدین ساری عمر اسم نقش کرنے میں گزار دیتے ہیں۔

صاحبِ مسمّٰی:

صاحبِ مسمّٰی فقیر فنا فی اللہ بقاباللہ ہوتا ہے۔ امانتِ الٰہیہ ، خلافتِ الٰہیہ کا حامل اور انسانِ کامل کے مرتبہ پر فائز ہوتا ہے اور یہی مرشدِ کامل اکمل نور الہدیٰ ہے۔ اِن کے مریدین کو اسمِ  ذات سے تصورِ شیخ حاصل ہوتا ہے ایسے مرشد کے بارے میں سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں'' عارف باللہ، فنا فی اللہ فقیر اسے کہتے ہیں جو فنا فی الرسول ہو، فنا فی فقر ہو اور فنا فی 'ھُو' ہو۔''(عین الفقر)

صاحبِ اسم اور صاحبِ مسمّٰی کے بارے میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ عین الفقر میں فرماتے ہیں:

نفس و زبان ''مخلوق'' ہیں اور قلب و جسم و روح بھی ''مخلوق'' ہیں جبکہ اسمِ  ''غیر مخلوق'' ہے لہٰذا ''غیر مخلوق'' کو غیر مخلوق ہی سے یاد کرنا چاہیے۔

''اسم ''اور ''مسمّٰی '' کے درمیان کیا فرق ہے ؟

صاحبِ اسم صاحبِ ذکر ہے اور صاحبِ اسم ''مقامِ خَلق ''(مخلوق) پر ہوتا ہے اور صاحبِ مسمّٰی صاحبِ ِ استغراق ہے۔ اور صاحبِ مسمّٰی مقامِ '' غیر مخلوق'' پر ہوتا ہے۔ صاحبِ مسمّٰی پر ذکر حرام ہے کہ وہ ظاہر باطن میں ہر وقت غرق فنا فی اللہ ہوتا ہے۔(عین الفقر)

ترجمہ: مقامِ مسمّٰی لازوال مقام ہے جہاں پر ذکر ،فکرو وصال کی گنجائش نہیں اس مقام پر پہنچ کر طالبِ اللہ فنا فی اللہ فقیر ہوجاتا ہے اور اُس پر رازِ پنہاں ظاہر ہو جاتا ہے۔(محک الفقر کلاں)

آپ رحمتہ اللہ علیہ اپنے پنجابی ابیات میں مرشد کے بارے میں فرماتے ہیں:

آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مرشد کامل کو دھوبی کی طرح ہونا چاہیے۔ جس طرح دھوبی کپڑوں میں میل نہیں چھوڑتا اورمیلے کپڑوں کو صاف کردیتا ہے اسی طرح مرشد کامل اکمل طالب کو وردوظائف ،چلہ کشی ،رنجِ ریاضت کی مشقت میں مبتلا نہیں کرتا بلکہ اسمِ  ذات کی راہ دکھا کر اور نگاہِ کامل سے تز کیہ ء نفس کر کے اس کے اندر سے قلبی اور روحانی امراض کا خاتمہ کرتا ہے اوراسے خواہشاتِ دنیااور نفس سے نجات دلاکر غیر اللہ کی محبت دل سے نکال کر صرف اللہ تعالیٰ کی محبت اور عشق میں غرق کردیتا ہے اور ایسا مرشد تو طالب کے لُوں لُو ں میں بستا ہے۔

آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جس طرح زرگر سونے کوکٹھا لی میں ڈال کر پگھلا کر اسے مائع کی شکل دیتا ہے اور پھر اس سے اپنی مرضی کا زیور تیار کرتا ہے مرشدِ کامل کو بھی ایسا ہونا چاہیے کہ طالبِ مولیٰ کوعشق کی بھٹی میں ڈالے اور اسمِ ذات کی حرارت سے اس کے وجود کے اندر سے خواہشاتِ ماسویٰ اللہ نکال باہر کرے۔ یعنی اس کی پہلی عادات وخواہشات کو ختم کردے اور پھر اپنی مرضی کے مطابق اس کی تربیت کرے اوراس کو تیار کرے ۔

اس بیت میں آپ رحمتہ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں کہ کاش میرا سارا جسم آنکھ بن جائے تاکہ وہ یکسو ہو کر ہر لمحہ مرشد کا دیدار کرتا رہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ بھی کم ہے ، میری طلب تو یہ ہے کہ میرے جسم کے روئیں روئیں میں لاکھ لاکھ آنکھیں ہوں تاکہ آنکھ جھپکتے وقت لمحہ بھر کے لئے اگر کچھ آنکھیں بند بھی ہو جائیں تو میں باقی کھلی آنکھوں سے مرشد کے دیدار میں محو رہوں۔ یعنی مرشد کے دیدار میں ہر لمحہ محو رہنا ہی طالب کے لئے کامیابی کی کلید ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اتنی آنکھوں سے دیدار کرنے کے باوجود بھی میری طلب اور خواہش کم نہیں ہورہی اور بے چینی اور بے قراری بڑھتی ہی جارہی ہے جو مجھے اگلی منزل کی خبر دیتی ہے اور مرشد کا دیدار تو میرے لئے کروڑہا حج کے برابر ہے اللہ کرے یہ حالت مجھے ہمیشہ نصیب رہے۔

جنگل جنگل ،صحراصحرا پھرتا رہا ،چلہ کشی میں مصروف رہا ،نمازیں پڑھ پڑھ کر، روزے رکھ رکھ کر اور حج کر کے تھک گیا لیکن دِل کی مراد پوری نہ ہوئی یعنی معرفتِ حق تعالیٰ حاصل نہ ہوسکی ۔لیکن جب مرشد کامل نے ایک نگاہِ محبت ڈالی توسارے حجاب دور ہوگئے۔

مرد مرشدِ کامل اور نامرد مرشدِ ناقص کی پہچان

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ طالب کے لیے تو معیار یہ رکھتے ہیں کہ اُس کی طلب صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہو اور مرشد کے لیے معیار یہ ہے کہ وہ صاحبِ تصورِ اسمِ ذات ہو اورطالب کو پہلے دِن ہی سلطان الاذکار  اور اسمِ  ذات کا تصور اور مشقِ مرقومِ وجودیہ عطا کر کے اُسے انتہا تک پہنچا دے۔آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

پس معلوم ہو اکہ تلقین کسی مرد مرشد سے لینی چاہیے ۔ زن سیرت ونامرد مرشد کو تین طلاقیں دے دینی چاہئیں۔ مرد مرشدِ کامل اور نامرد مرشدِ ناقص کی پہچان کیا ہے؟ مرشدِ کامل طالب کو اسمِ  ذات اور اسکی مشقِ وجودیہ کراتا ہے اور اپنی توجہ سے حضوری میں پہنچاتا ہے لیکن نامرد مرشدِ ناقص آج کل کے وعدے کرتا ہے۔(نور الہدیٰ کلاں)

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

اگر مرشد مل جانے سے قلب کی حالت نہ بدلے اور اس سے ظاہر وبا طن میں کوئی فرق نہ پڑے، نہ ہی ''راہِ حق'' کی طلب پوری ہو اور نہ ہی ایسے مرشد کے پاس ہدایت دینے کی طاقت ہوتو ایسے ناقص مرشد کو تسلیم نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس سے بچنا چاہیے ۔ہاں اگر سر دینے سے دیدارِ حق حاصل ہو تو ایسی موت سے کبھی گریز نہیں کرنا چاہیے ۔