سلطان باھوٌ کے مرشد

Sultan-Bahoo-k-Murshid

سیّد عبد الرحمن جیلانی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ سلطان العارفین سلطان الفقر حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کے ظاہری مرشد ہیں۔ آپ غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی اولاد پاک میں سے ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی ذات پاک پر اَسرار کے وہی پردے پڑے ہوئے ہیں جو سروری قادری مشائخ کا خاصہ ہیں یعنی دنیا سے مخفی اور پوشیدہ رہنا۔صاحبِ مناقبِ سلطانی کے مطابق” سیّد عبد الرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ سلطنتِ دہلی میں منصب دار تھے اور شاہی خزانہ کے امانت دار اور کلید دار تھے جس کے باعث محفوظ اور مناسب عمارت کے ساتھ کئی مسلح پہرہ داروں کا انتظام آپ رحمتہ اللہ علیہ کو حاصل تھا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ جب مریدین سے ملاقات کے لیے تشریف لاتے تو چہرہ مبارک پر ایک نقاب ڈال لیتے تھے کیونکہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے چہرہ مبارک پر جو جلال و جمالِ الٰہی کے انوار تاباں تھے لوگ اِن کو دیکھنے کی تاب نہ رکھتے تھے۔ گویا آپ رحمتہ اللہ علیہ فقر کے ساتھ ساتھ اعلیٰ دنیاوی منصب پر بھی فائز تھے۔”

مناقبِ سلطانی کی اس عبارت سے مندرجہ ذیل الجھنیں جنم لیتی ہیں:

1.     چونکہ سیّد عبدالرحمن جیلانی رحمتہ اللہ علیہ فقر کے اعلیٰ مراتب پر فائز تھے اس لیے ادنیٰ و اعلیٰ طالبانِ مولیٰ فقر کی نعمت کے لیے آپ رحمتہ اللہ علیہ تک پہنچتے ہوں گے اور آپ رحمتہ اللہ علیہ کی صحبتِ عالیہ سے بھی مستفید ہوتے ہوں گے’ ہندوستانی مصنفین کے مطابق لاکھوں لوگوں نے آپ رحمتہ اللہ علیہ سے فیض پایا’ اگر آپ رحمتہ اللہ علیہ اعلیٰ شاہی منصب پر فائز ہوتے تو ایسا ممکن نہ ہو پاتا کیونکہ پھر آپ رحمتہ اللہ علیہ اپنے اس دنیاوی منصب کے فرائض کی ادائیگی میں زیادہ مصروف رہتے۔ پھر شاہی منصب دار کی حیثیت سے آپ رحمتہ اللہ علیہ کا تذکرہ کسی مؤرخ نے نہیں کیا۔ ہندوستانی مصنفین نے بھی آپ رحمتہ اللہ علیہ کا تذکرہ صرف آپ رحمتہ اللہ علیہ کے مزار کے ضمن میں کیا ہے جو صرف چند سطروں پر مشتمل ہے۔ دوسری طرف اگر آپ رحمتہ اللہ علیہ اعلیٰ دنیوی منصب پر فائز تھے اور شاہی خزانہ کے انچارج و نگران تھے تو شاہی خاندان کے ہر فرد اور دربار کے ہر ملازم کا آپ رحمتہ اللہ علیہ سے واسطہ رہتا ہوگا۔ شاہجہان اور اورنگ زیب عالمگیر کے دور میں درجنوں مؤرخینِ تاریخ کا ایک ایک لمحہ قلمبند کرنے پر مامور تھے لیکن کسی نے بھی آپ رحمتہ اللہ علیہ کا تذکرہ نہیں کیا جو عجیب سی بات محسوس ہوتی ہے۔

2.    جب سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ آپ رحمتہ اللہ علیہ سے ملاقات کے بعد دہلی کی جامع مسجد میں تشریف لے گئے اور سب پر نگاہ فرمائی سب پر اس کا اثر ہوا لیکن اورنگ زیب عالمگیر اور کوتوال پر نہیں ہوا جس پر اورنگ زیب عالمگیر نے فیض کی درخواست کی اور آپ رحمتہ اللہ علیہ نے ”رسالہ اورنگ شاہی” تصنیف فرمایا۔ کیا اِس ملاقات میں اورنگ زیب عالمگیر نے آپ رحمتہ اللہ علیہ سے یہ سوال نہیں کیا ہوگا کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ دہلی کیسے تشریف لائے؟ اورجواب میں آپ رحمتہ اللہ علیہ نے سیّد عبد الرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کا تذکرہ فرمایا ہو گا، اگر سیّد عبد الرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ شاہی ملازم ہوتے تو اورنگ زیب عالمگیر فوراً سیّد عبد الرحمن جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کو پہچان جاتا اور پھر سیّد عبد الرحمن جیلانی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ سے مسلسل ملاقات رکھتا اور آپ رحمتہ اللہ علیہ کو اپنے مشیروں میں شامل کرتا ۔

3.    پھر چہرے پر نقاب ڈالنا سروری قادری مشائخ کی خصوصیت نہیں ہے ۔ اس طرح سے انسان زیادہ مشہور اور معروف ہوتا ہے اور اس کی شہرت جلد پھیلتی ہے جبکہ سروری قادری شیخ گمنامی اور خمول کو پسند کرتا ہے اور حکمرانوں سے دور بھاگتا ہے اور عوام میں رہتا ہے ۔

4.    آپ رحمتہ اللہ علیہ کا مزار مبارک پرانی دہلی میں لاہوری دروازہ سے کافی فاصلے پر باہر واقع ہے اور ساتھ ہی مسجد شاہ عبد الرحمن بھی ہے اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ قلعہ کے اندر نہیں بلکہ باہر عوام الناس میں رہے اور عوام الناس ہی آپ رحمتہ اللہ علیہ سے فیض یاب ہوتے رہے۔

مندرجہ بالا دلائل کی روشنی میں ثابت یہی ہوتا ہے کہ صاحبِ مناقبِ سلطانی نے تحقیق نہیں کی اور نہ ہی اس غرض سے دہلی کا سفر فرمایا۔ جو روایت خاندان میں کسی سے سنی درج فرما دی۔

1934ء میں سیّد تجمل شاہ نقوی اچوی کی کتاب ”باغِ سادات” شائع ہوئی۔ 1947ء میں بارِ سوم شائع ہوا۔ اب یہ کتاب نایاب ہے اس کتاب کا بارِ اوّل تو1934ء ہی میں شائع ہوا کیونکہ”شریف التواریخ” جو 1934ء میں شائع ہوئی تھی، میں اِس کتاب کا حوالہ موجود ہے۔ اس کتاب کے صفحہ 61پر سیّد عبد الرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کا شجرہ نسب اس طرح درج کیا گیا ہے :

غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ

سیّد عبد الرزاق جیلا نی رحمتہ اللہ علیہ

ابو صالح نصر

سیّد یٰسین

سیّد احمد شاہ

سیّد عبد القادر

سیّد عبد الطیف

سیّد عبد الرحمن عرف بھولو شاہ مدفن دہلی پیشوا سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ

یہ شجرہ نسب آگے اس طرح چلتا ہے:

پیر حبیب شاہ

پیر رجب شاہ

عبد اللہ

محمد شاہ

پیر اللہ بخش

پیر کریم شاہ

حضورشاہ

نور شاہ

زمان شاہ (مزار موضع تنگ عیسیٰ خیل میانوالی پاکستان میں ہے)

اس نسب نامہ پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ سیّد عبد الرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کا لقب کبھی بھی بھولو شاہ نہیں رہا۔ بھولو شاہ رحمتہ اللہ علیہ دہلی میں1200ھ میں ایک اور قادری بزرگ گزرے ہیں جن کا مزار سیّد عبد الرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے مزار سے دو یا تین کلو میٹر کے فاصلے پر ہے اور ان کا تذکرہ ہندوستان کی موجودہ اور قدیم کتب میں ملتا ہے۔ ان کو تمام مصنفین نے بھولو شاہ رحمتہ اللہ علیہ ، مگر غلام یحییٰ انجم نے تاریخ مشائخ قادریہ جلد سوم میں شاہ بہلنؒ عرف بھولو شاہ لکھا ہے۔بھولو شاہ رحمتہ اللہ علیہ ایک مجذوب قادری بزرگ تھے اور پنجاب سے ہجرت کرکے دہلی تشریف لے گئے تھے سلسلہ قادریہ میں آپ عبد الحمید کے مرید و خلیفہ تھے ۔

‘واقعات دار الحکومت دہلی” (جلد دوم) میں ہے:

”بھولو شاہ رحمتہ اللہ علیہ کا مزار1201ھ کابلی دروازہ تو اب نہیں رہا مگر اس کی جگہ سب کو معلوم ہے اسی کے پاس آپ کا مزار ہے۔ آپ سلسلہ قادریہ کے بزرگ تھے 1201ھ میں انتقال کیا، مست روز الست تاریخ وفات ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے مزار کے برابر ہی آپ رحمتہ اللہ علیہ کے خاص مرید شاہ محمد حفیظ صاحب کا مزار ہے جن کے برابر اِن کے صاحبزادے شاہ غلام محمد مدفون ہیں۔ 19محرم کو بھولو شاہ صاحب کا عرس ہو تا ہے”۔(صفحہ473)

محمد عالم شاہ فریدی کی کتاب ”مزاراتِ اولیاء دہلی” اولین کتاب ہے جو1927ء میں دہلی کے مزارات کے بارے میں شائع ہوئی اس کا دوسرا ایڈیشن 1930ء میں طبع ہوا۔ 1947ء میں مصنف اور پبلیشر پاکستان ہجرت کر آئے۔ 2006ء میں ڈاکٹر حفیظ الرحمن صدیقی نے اضافہ و تصحیح کے ساتھ اسے دوبارہ دہلی سے شائع کیا ہے۔ اس میں درج ہے:

”بھولو شاہ رحمتہ اللہ علیہ 1789ء نزد کابلی دروازہ پرانی دہلی ۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ پنجاب کے رہنے والے تھے سلسلہ قادریہ رزاقیہ میں شاہ عبد الحمید رحمتہ اللہ علیہ کے خلیفہ ہیں اور مولانا فخرالدین چشتی و شاہ نانو کے صحبت یافتہ ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ مجذوب سالک تھے آپ رحمتہ اللہ علیہ نے20محرم 1204ھ بمطابق 1789ء کو بعہد شاہ عالم ثانی انتقال فرمایا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا مزار کابلی دروازہ کے باہر ہے”۔ (طبع دہلی انڈیا۔صفحہ157۔158)

راہنما ئے مزاراتِ دہلی میں ہے:

”آپ (حضرت بھولو شاہ رحمتہ اللہ علیہ ) سلسلہ قادریہ رزاقیہ میں حضرت شاہ عبد الحمید رحمتہ اللہ علیہ کے مرید و خلیفہ ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا اصلی وطن پنجاب تھا اور حضرت شیخ نانو و حضرت شاہ فخر الدین رحمتہ اللہ علیہم کے صحبت یافتہ تھے۔ 20محرم 1204ھ میں وفات پائی۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا مزار مٹھائی پل پر داہنی طرف نیچے اتر کر ریلوے لائن کے پاس ہے (لاہوری گیٹ4 پرانی دہلی6) قریب میں مسجد بنی ہوئی ہے۔ حضرت شاہ حفیظ الرحمن رحمتہ اللہ علیہ حضرت شاہ بھولو رحمتہ اللہ علیہ کے خاص مریدوں میں تھے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اکبر شاہ ثانی کے دورِ حکومت میں30ذیقعد 1236ھ میں وفات پائی اور اپنے مرشد کے پہلو میں مدفون ہوئے۔ حضرت شاہ غلام محمد آپ رحمتہ اللہ علیہ کے فرزند اور خلیفہ تھے ان کا مزار اپنے مرشد والد کی پائنتی کی طرف ہے”۔(طبع دہلی انڈیا۔صفحہ284 تا286)

غلام یحییٰ انجم تاریخ مشائخ قادریہ (جلد سوم) میں رقمطراز ہیں:

”حضرت شاہ بہلن عرف بھولو شاہ رحمتہ اللہ علیہ ۔ آپ کا تعلق سلسلہ قادریہ رزاقیہ سے ہے اس سلسلہ میں آپ رحمتہ اللہ علیہ شاہ عبد الحمید رحمتہ اللہ علیہ کے مرید و خلیفہ تھے مولانا فخر الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ سے بھی فیض حاصل کیا تھا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی کیفیت مجذوب سالک کی سی تھی 19محرم 1204ھ(1789ء) کو وصال ہوا۔مست روز الست تاریخ سنہ ولادت ہے۔ دہلی میں کابلی دروازہ سے متصل ”تکیہ بھولو شاہ” میں دفن ہوئے مزار مقدس پر موسم بہار میں بسنت کا میلہ بڑی دھوم دھام سے آپ رحمتہ اللہ علیہ کے عقیدت مند مناتے ہیں”۔ (طبع دہلی انڈیا۔ صفحہ291)

ان تمام تحریروں سے واضح ہوتا ہے کہ صاحبِ باغِ سادات نے سیّد عبد الرحمن دہلوی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کا جو شجرہ نسب بھولو شاہ صاحب کے نام سے درج کیا ہے وہ سیّد عبد الرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کا نہیں بلکہ بھولو شاہ رحمتہ اللہ علیہ کا ہے جن کا تعلق پنجاب سے تھا اور آپ رحمتہ اللہ علیہ پنجاب سے ہجرت کرکے دہلی تشریف لے گئے اور شاہ عبد الحمید رحمتہ اللہ علیہ سے قادریہ سلسلہ کا فیض حاصل کیا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی اولاد پنجاب میں ہی رہی اس لیے آپ رحمتہ اللہ علیہ کے خلیفہ شاہ محمد حفیظ صاحب اور اس کے بعد اُن کے صاحبزادے شاہ محمد صاحب سجادہ نشین ہوئے جن کے مزارات حضرت بھولو شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ ہی ہیں ۔سیّد عبد الرحمن جیلانی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کا مزار مبارک ان کے مزار سے تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر لاہور ی گیٹ صدر بازار ریلوے سٹیشن ریلوے کالونی مسلم وقف بورڈ کوارٹر پرانی دہلی6میں واقع ہے۔

Kutab-m-Tabsara

‘مزاراتِ اولیاء دہلی” میں ہے:

”آپ رحمتہ اللہ علیہ بڑے مستند اولیاء میں سے ہیں قادریہ خاندان میں سیّد عبد الجلیل رحمتہ اللہ علیہ کے مرید و خلیفہ ہیں اور سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ پنجاب کے مشہور بزرگ کے پیرو مرشد ہیں۔ صاحبِ تصرف و کرامات تھے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا مزار ریلوے سٹیشن صدر بازار کے مسافر خانہ کے پیچھے ایک احاطہ میں ہے آپ رحمتہ اللہ علیہ کا انتقال آخر زمانہ شاہجہاں یا شروع زمانہ عالمگیر میں ہوا سن وفات معلوم نہیں۔(طبع اوّل دہلی 1927)

اور اسی کتاب کے بعد شائع ہونے والی کتب میں آپ رحمتہ اللہ علیہ کے حالاتِ زندگی اسی طرح نقل در نقل ہوتے چلے آرہے ہیں۔

”راہنمائے مقاماتِ مقدس دہلی” میں درگاہ سیّد عبد الرحمن دہلوی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں درج ہے:

”یہ درگاہ متصل صدر سٹیشن دہلی ہے آپ رحمتہ اللہ علیہ اولاد سیّدنا عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ سے ہیں۔ اعظم اولیاء اللہ ہوئے ہیں۔ سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ جو بڑے اولیاء اللہ پنجاب میں مشہور ہیں آپ رحمتہ اللہ علیہ کے خلیفہ اعظم تھے۔ یہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا تصرفِ ولایت ہے کہ گورنمنٹ نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کی درگاہ کو سڑک اور ریل سے بچایا بلکہ اس کا احاطہ بہت پختہ ریختہ کا اور جنگلہ آہنی اور درگاہ شریف میں جانے کا راستہ بنوا دیا ہے۔”(طبع 1914دہلی)

ڈاکٹر غلام یحییٰ انجم تاریخ مشائخ قادریہ جلد سوم میں تحریر فرماتے ہیں:

”حضرت سیّدنا شیخ عبد الرحمن گیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کا شمار دہلی کے اہم مشائخ میں ہوتا ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا نسبی رشتہ سیّدنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی اولاد سے ہے۔ تقویٰ ، تدین اور زہدو ریاضت میں ممتاز تھے کشف و کرامات میں آپ رحمتہ اللہ علیہ کا پایہ بہت بلند تھا۔ حضرت سیّد عبد الرحمن گیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو سلسلہ قادریہ کی دولت سیّد عبدالجلیل رحمتہ اللہ علیہ سے حاصل ہوئی تھی اس سلسلہ میں آپ رحمتہ اللہ علیہ انہی کے مرید و خلیفہ تھے۔ دہلی اور اس کے اطراف و نواح میں آپ رحمتہ اللہ علیہ کی ذات سے سلسلہ قادریہ کو بے حد فروغ حاصل ہوا۔ بے شمار بندگانِ خدا آپ رحمتہ اللہ علیہ کے دامنِ ارادت سے وابستہ ہوئے اور کتنوں کو اجازت و خلافت کا منصب عطا ہوا۔ مشہور بزرگ حضرت سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ آپ رحمتہ اللہ علیہ ہی کے خلیفہ تھے۔”(طبع دہلی2006)

راہنمائے مزارات دہلی میں آپ رحمتہ اللہ علیہ کے مزار کے ضمن میں تذکرہ ہے:

”حضرت عبد الرحمن گیلانی رحمتہ اللہ علیہ پنجاب کے مشہور بزرگ حضرت سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کے پیرو مرشد ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ صاحبِ تصرف و کرامات اور خاندانِ قادریہ کے مستند بزرگ تھے”۔(طبع دہلی2007ء)

بیلی(Bale) نے اورینٹل بائیوگرافیکل ڈکشنری(Oriental Biographical Dictionary) میں تحریر کیا ہے کہ سیّد عبد الرحمن گیلانی رحمتہ اللہ علیہ وہی ہیں جو عبد العزیز نقشبندی کے فرزند تھے اور جن کی بیٹی کی شادی داراشکوہ کے بیٹے سلیمان شکوہ سے ہوئی۔ ڈاکٹر راما کرشناکا بھی یہی موقف ہے لیکن یہ بات قیاس لگتی ہے کیونکہ ایک تو سیّد عبد الرحمن جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نسبی جیلانی سادات ہیں اور دوسرے آپ سلسلہ فقر میں پشت ہا پشت سے قادری سلسلہ سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اُن کے والد نقشبندی سلسلہ سے ہوں اور یہ بات بھی حتمی ہے کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ ہی ہند تشریف لائے تھے آپ رحمتہ اللہ علیہ کے والد نہیں آئے تھے اور پھر بیلی (Bale) کی اس رائے کو کسی نے بھی مستند نہیں سمجھا اور نہ ہی یہ سلسلہ سروری قادری یا قادری سلسلہ میں کوئی اہمیت رکھتی ہے۔ قدیم اور جدید مصنفین میں سے کسی نے اس کا تذکرہ تک نہیں کیا۔

سیّد عبد الرحمن جیلانی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں ہندوستانی اور پاکستانی مصنفین کی تمام تحقیق ہم نے واضح طور پر بیان کر دی ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہندوستانی مصنفین وہی درج کرتے چلے آ رہے ہیں جو1914میں ”آثارِ دہلی” یا 1927میں ”مزاراتِ اولیاء دہلی” میں شائع ہو چکا ہے اور پاکستانی مصنف وہی درج کرتے چلے آرہے ہیں جو ”مناقبِ سلطانی” میں شائع ہو چکا ہے۔ تحقیق کرنا تو دور کی بات ہے کسی نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کے مزار مبارک تک جانے کی کوشش تک نہیں کی۔

Swan-e-Hayat-2

مخطوطہ سیّد سلیم الزماں ہاشمی کے مطابق سیّد عبدالرحمن دہلوی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ درج کی جار ہی ہے۔

سیّد عبد الرحمن دہلوی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القار جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی اولاد پاک سے ہیں آپ رحمتہ اللہ علیہ کا شجرہ نسب اس طرح حضرت غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے جا ملتا ہے:

سیّد عبد الرحمن دہلوی جیلانی بن سیّد عبد القادر بن شرف الدین بن سیّد احمد بن علاؤ الدین ثانی بن سیّد شہاب الدین ثانی بن شرف الدین قاسم بن محی الدین یحییٰ بن بدرالدین حسین بن علاؤ الدین بن شمس الدین بن سیف الدین یحییٰ بن ظہیر الدین بن ابی نصر بن ابو صالح نصر بن سیّدنا عبد الرزاق جیلانی رحمتہ اللہ علیہ بن غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ ۔

سیّد عبد الرحمن جیلانی رحمتہ اللہ علیہ شام کے شہر حماہ میں1024ھ(1615 ء) میں پیدا ہوئے آپ رحمتہ اللہ علیہ کے والد سیّد عبد القادر رحمتہ اللہ علیہ درویش منش انسان اور ولئ کامل تھے ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے والد سے ہی حاصل کی۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ 35سال کی عمر میں حماہ سے بغداد تشریف لائے اور جدِ امجد غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے مزار شریف پر معتکف ہوگئے۔ تین سال تک آپ رحمتہ اللہ علیہ مزار شریف پر معتکف رہے تین سال بعد آپ رحمتہ اللہ علیہ کو غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی جانب سے باطنی حکم ملا کہ ہندوستان میں سیّد عبد الجلیل رحمتہ اللہ علیہ کے پاس چلے جاؤ۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ 38سال کی عمر میں شاہ جہان کے دورِ حکومت میں13۔ذیقعد 1062ھ(15اکتوبر 1652ء) بروز منگل براستہ ایران اور افغانستان ہندوستان تشریف لائے اور برہان پور، عادل پور یا دریائے سندھ کے کنارے مقیم سیّد عبد الجلیل رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور اُن کے دستِ مبارک پر10۔ ذوالحجہ 1062ھ (10نومبر1652ء) بروز سوموار بیعت کی اور سیّد عبد الجلیل رحمتہ اللہ علیہ کے حکم پر آپ رحمتہ اللہ علیہ 9صفر 1063ھ (8جنوری1653ء) بروز بدھ دہلی تشریف لائے اور اب جہاں آپ رحمتہ اللہ علیہ کا مزار مبارک ہے، وہاں اپنا مکان اور خانقاہ تعمیر کرائی اور ارد گرد کی زمین خرید کر سالکین کے لیے حجرے بنوائے اور ایک مسجد تعمیر کروائی جو اب بھی مسجد شاہ عبد الرحمن کے نام سے موجود ہے۔ موجودہ صدر سٹیشن پرانی دہلی اور مسلم وقف بورڈ کوارٹرز آپ رحمتہ اللہ علیہ کی زمین پر بنائے گئے ہیں۔

سیّد عبد الرحمن جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے خمول و گمنامی کی زندگی گزاری شہرت سے آپ رحمتہ اللہ علیہ کو سخت نفرت تھی کبھی شاہی دربار اور درباری حکام سے ملاقات کے لیے نہیں گئے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ صاحبِ تصرف قادری فقیر تھے۔ دہلی اور اس کے گردو نواح میں لاکھوں لوگوں نے آپ رحمتہ اللہ علیہ سے فیض پایا اور لاکھوں لوگ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے دامنِ ارادت سے وابستہ ہوئے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ قائم مقام فقیر تھے یعنی وہ فقیر جو ایک ہی جگہ مقیم رہ کر فیض تقسیم کرتا ہے۔ اس بات کے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ دہلی آمد کے بعد آپ رحمتہ اللہ علیہ کبھی دہلی سے باہر تشریف لے گئے ہوں۔

سیّد عبد الرحمن جیلانی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کا رنگ گندمی، قد میانہ اور آنکھیں بہت خوبصورت تھیں آپ رحمتہ اللہ علیہ کے چہرہ مبارک پر اتنا نور ہوتا تھا کہ طالبِ مولیٰ کے لیے زیادہ دیر آپ رحمتہ اللہ علیہ کے چہرہ مبارک پر نگاہیں جمائے رکھنا ممکن نہ تھا۔

سیّد عبد الرحمن جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے6جمادی الثانی 1065ھ (12۔اپریل1655ء)بروز سوموار دہلی میں جیلانی سادات میں سیّدہ زاہدہ خاتون سے نکاح فرمایا۔ 1070ھ (1660ء) میں آپ رحمتہ اللہ علیہ کے ہاں پہلے فرزند سیّد تاج العارفین کی ولادت ہوئی جن کا1075ھ(1665ء) میں مرضِ اسہال سے وصال ہو گیا۔ 1082ھ (1671ء) میں آپ رحمتہ اللہ علیہ کے ہاں دوسرے فرزند سیّد عبد العزیز رحمتہ اللہ علیہ کی ولادت ہوئی۔ دورِ عالمگیری میں21۔رمضان المبارک 1088ھ (16نومبر1677ء) شبِ جمعہ وصال فرمایا اور اپنے حجرہ میں مدفون ہوئے۔ سیّد عبد الرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے وصال کے بعد آپ رحمتہ اللہ علیہ کی زوجہ محترمہ سیّدہ زاہدہ خاتون رحمتہ اللہ علیہا 10سال حیات رہیں اُن کا وصال 1098ھ (1687ء) میں ہوا۔

سلطان العارفین سلطان الفقر حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کے بعد سیّد عبدالرحمن جیلانی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے پڑپوتے اور سیّد عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کے پوتے سلسلہ سروری قادری کے شیخِ کامل ہوئے جن کا مزار احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور پاکستان میں ہے۔

سیّد عبد الرحمن جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کا سلسلہ فقر حضرت غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ تک اس طرح پہنچتا ہے:

آپ مرید تھے سیّد عبد الجلیل رحمتہ اللہ علیہ کے وہ مرید تھے سیّد عبد البقاء رحمتہ اللہ علیہ کے وہ مرید تھے سیّد عبد الستار رحمتہ اللہ علیہ کے وہ مرید تھے سیّد عبدالفتاح رحمتہ اللہ علیہ کے وہ مرید تھے سیّد نجم الدین برہان پور والے کے، وہ مرید تھے سیّد محمد صادق یحییٰ جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے، وہ مرید تھے سیّد عبد الجبار بن ابو صالح نصر کے، وہ مرید تھے سیّد عبد الرزاق جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے اور وہ مرید تھے سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے۔ سیّد عبد الرحمن جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے خلیفہ اکبر سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ ہیں۔ خلفاء اصغر میں شاہ حبیب اللہ قادری رحمتہ اللہ علیہ ہیں اور دوسرے خلیفہ اصغر سیّد محمد صدیق رحمتہ اللہ علیہ تھے جو پہلے سجادہ نشین ہوئے اور لاولد فوت ہوئے۔

آپ رحمتہ اللہ علیہ کا عرس مبارک21۔رمضان المبارک کو ایک عرصہ تک بڑی شان و شوکت سے منعقد ہوتا رہا ہے اور اب بھی عقیدت مند ہر سال 21رمضان المبارک کو آپ رحمتہ اللہ علیہ کا عرس مبارک مناتے ہیں۔

آپ رحمتہ اللہ علیہ جس حجرہ میں رہائش پذیر تھے وصال کے بعد آپ رحمتہ اللہ علیہ کو وہیں دفن کیا گیا آپ رحمتہ اللہ علیہ کے خلیفہ سیّد محمد صدیق دربار کے متولی اور سجادہ نشین ہوئے لیکن دور عالمگیری میں ہی وہ لاولد فوت ہوگئے۔ اُن کا کب وصال ہوا اور تربت مبارک کہاں ہے کچھ پتہ نہیں چل سکا۔ برطانوی دورِ حکومت میں جب اس علاقہ سے سڑک اور ریل کی پٹری گزاری گئی اور صدر ریلوے سٹیشن بنایا گیا تو آپ رحمتہ اللہ علیہ کے مزار کو محفوظ بنانے کے لیے پٹری کا رخ بدلا گیا اور ایک احاطہ بنا کر آپ رحمتہ اللہ علیہ کے دربار کو اس نظام سے علیحدہ رکھا گیا۔

مزار کا پتہ: پرانی دہلی6۔لاہوری دروازہ سے مشرق کی جانب نزد صدر ریلوے سٹیشن ریلوے کالونی مسلم وقف بورڈ کوارٹرز دہلی6۔انڈیا۔