سلطان باھو کی مسندِ تلقین وارشاد کاآغاز

Masnad-e-Talqeen-o-Irshad

ظاہری دستِ بیعت کے بعد دہلی سے واپس تشریف لا کرسلطان العارفین سلطان الفقر حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ نے رشدوہدایت کا آغاز فرما یا تھا۔ اس روز سے آپ رحمتہ اللہ علیہ پر ذاتِ الٰہی کے جذبات و انوار اس طرح متجلی ہونا شروع ہوئے کہ سینکڑوں لوگوں کو ایک ہی نگاہ سے ایک ہی قدم میں واصل باللہ کر دیتے۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے رسمی پیر یا سجادہ نشین شیخ کے مقابلے میں آزاد فقیر کی تعریف یہ کی ہے” آزاد فقیر مصلحتوں اور آداب ورسوم کی جکڑ بندیوں سے آزاد ہوتا ہے، آزاد فقیر ایک تو کسی جگہ کا پابند ہو کر رہنے پر مجبور نہیں ہوتا دوسرے اس کا فیض ہر حال اور ہرصورت جاری رہتا ہے عام طور پر وہ سیر وسفر میں رہتے ہوئے فقر کی نعمت لوگوں کے گھروں اوردروازوں پر لٹاتا پھرتا ہے”۔

حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ بھی لوگوں کو معرفت اور فقر کی تعلیم وتلقین کیلئے ہمیشہ سفر میں رہے اور آپ رحمتہ اللہ علیہ ساری عمر گھوم پھر کر محبت اور معرفتِ الٰہی کا خزانہ بانٹتے پھرے ۔یہ سب کچھ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے کیا جیسا کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:-

throne1

ترجمہ : میں رضائے الٰہی کی خاطر اپنے نفس کو رسوا کرتا ہوں اور رضائے الٰہی ہی کی خاطر ہر در سے بھیک مانگتا ہوں۔(نور الہدیٰ کلاں)

تلقینِ رشد و ہدایت کے لیے آپ رحمتہ اللہ علیہ نے زیادہ تر سفر وادی سون سکیسر ، ملتان ،ڈیرہ غازی خان، ڈیرہ اسماعیل خاں،سندھ اور بلوچستان کی طرف کیے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا تذکرہ کسی کتاب، مجموعہ یا ملفوظات میں اس لیے نہیں ملتا کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ اس زمانہ کے تہذیب و ثقافت اور علوم کے مراکز سے دور رہے اور آپ رحمتہ اللہ علیہ کی ملاقات کسی صاحبِ تصنیف سے بھی نہیں ہوئی۔ دہلی جانے کا بھی ذکر ایک بار ہی ملتا ہے۔آپ رحمتہ اللہ علیہ دیہاتوں کے سیدھے سادھے لوگوں میں اسمِ  ذات کا خزانہ لٹاتے رہے اور پھر انہی دیہاتی لوگوں نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کے کام کو آگے بڑھایا۔

سفر میں اکثر ایسا ہوتا کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کسی پر نگاہ فرماتے اور اسے خدا رسیدہ بنا دیتے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے والد حضرت بازید محمد رحمتہ اللہ علیہ کو شہنشاہ شاہ جہاں کی طرف سے ایک بہت بڑی جاگیر ملی ہوئی تھی جس میں ایک اینٹوں کا قلعہ اور کئی آباد کنویں بھی تھے۔ گو خاصی وسیع جاگیر تھی اورہمہ وقت انتظام اور نگرانی کی متقاضی تھی لیکن حضرت سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کا یہ معمول تھا کہ جب جذبہ نے غلبہ کیا گھر سے نکل کھڑے ہوئے ۔مصنف ”مناقبِ سلطانی” لکھتے ہیں کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے عمر بھر کسی دنیاوی تعلق یا شغل سے دستِ مبارک کو آلودہ نہ فرمایا ۔ ہاں دو دفعہ بیل لیکر اپنے ہاتھ سے ہل چلایا اور کھیتی باڑی کی لیکن دونوں مرتبہ عشقِ الٰہی کے جذبات کے سبب آپ رحمتہ اللہ علیہ نے بیلوں کو جُتے جتائے کنویں پر چھوڑا اور خود تجلیات اور مکاشفاتِ دیدار میں مست ہو کر پہاڑوں اور جنگلوں کی سیر کو نکل گئے۔

آپ رحمتہ اللہ علیہ مرشد کامل اکمل نور الہدیٰ تھے اور مرشدِ کامل نورالہدیٰ سالک ( طالب اللہ) کو تعلیم ‘ توجہ اور تلقین کے ذریعے عین العیان کے مرتبہ پر پہنچا دیتا ہے ۔ یہاں تک کہ اسے ذکر ‘ فکر وردو وظائف کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی ساری زندگی شہر شہر قریہ قریہ گھوم پھر کر طالبانِ مولیٰ کو تلاش کرنے اور انہیں واصل باللہ کرنے میں گزری ۔ اور خلقِ خدا کو تلقین کی یہ ذمہ داری آپ رحمتہ اللہ علیہ کو بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عطا ہوئی تھی ۔