سلطان الفقر

دنیا میں ہر دور میں ایک” انسانِ کامل” موجود ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کا نائب ، رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا خلیفہ اور امانتِ الٰہیہ کا حامل ہوتاہے۔لیکن ان تمام میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وصال مبارک سے لے کر قیامت تک سات ہستیاں ایسی ہیں جو سلطان الفقر کے مرتبہ پر فائز ہیں اوراولیائے کرام میں سب سے ممتاز ہیں اور ان کا قدم تمام اولیا ء اللہ غوث و قطب کے سر پر ہے۔ اس رازسے سب سے پہلے حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اﷲ علیہ نے پردہ اٹھایا۔ آپ اپنی مشہور زمانہ تصنیف رسالہ روحی شریف میں ان ارواح کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:-

Rasala-Roohi-Shareef

ترجمہ: جان لے جب نورِ احدی نے وحدت کے گوشۂِ تنہائی سے نکل کر کائنات (کثرت ) میں ظہور کا ارادہ فرمایا ‘ تو اپنے حسن کی تجلّی سے رونق بخشی ‘ اِس کے حسنِ بے مثال اور شمع جمال پر دونوں جہان پروانہ وار جل اٹھے اور میم احمدی کا نقاب اوڑھ کر صورتِ احمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اختیار کی پھر جذبات اور ارادت کی کثرت سے سات بار جنبش فرمائی جس سے سات ارواحِ فقراء باصفا فنا فی اللہ ‘بقا بااللہ تصورِ ذات میں محو ‘ تمام مغز بے پوست حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے ستر ہزار سا ل پہلے ‘ اللہ تعالیٰ کے جمال کے سمندر میں غرق آئینہ یقین کے شجر پر رونما ہوئیں ۔انہوں نے ازل سے ابد تک ذاتِ حق کے سوا کسی چیز کی طرف نہ دیکھا اور نہ غیر حق کو کبھی سنا ۔وہ حریمِ کبریا میں ہمیشہ وصال کا ایسا سمندر بن کر رہیں جسے کوئی زوال نہیں ۔کبھی نوری جسم کے ساتھ تقدیس و تنزیہ میں کوشاں رہیں اور کبھی قطرہ سمندر میں اور کبھی سمندر قطرہ میں ‘ اور  (جہاں فقر کی تکمیل ہوتی ہے وہیں اللہ ہے)کے فیض کی چادر ان پر ہے ۔پس انہیں ابدی زندگی حاصل ہے اور وہ( وہ نہ تو اپنے ربّ کے محتاج ہیں نہ ہی اس کے غیر کے) کی جاودانی عزت کے تاج سے معزز و مکرم ہیں ۔انہیں حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش اور قیامِ قیامت کی کچھ خبر نہیں ۔ان کا قدم تمام اولیاء اللہ غوث و قطب کے سر پر ہے ۔ اگر انہیں خدا کہا جا ئے تو بجا ہے اور اگر بندۂ خدا کہا جائے تو بھی روا ہے ۔اس راز کو جس نے جانا اس نے ان کو پہچانا۔ اُن کا مقام حریمِ ذاتِ کبریا ہے ۔انہوں نے اللہ تعالیٰ سے سوائے اللہ تعالیٰ کے کچھ نہ مانگا حقیر دنیا اور آخرت کی نعمتوں حور و قصور اور بہشت کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا اور جس ایک تجلی سے حضرت موسیٰ علیہ السلام سراسیمہ ہو گئے اور کوہ طور پھٹ گیا تھا ہر لمحہ ہر پل جذباتِ انوارِ ذات کی ویسی تجلیات ستر ہزار بار ان پر وارِد ہوتی ہیں لیکن وہ نہ دم مارتے ہیں اور نہ آہیں بھرتے ہیں بلکہ  مزید تجلیات کا تقاضا کرتے رہتے ہیں ۔وہ سلطان الفقر اور سیّد الکونین ہیں ۔(رسالہ روحی شریف)

یہ مبارک ارواح سات ہیں اِن کے ناموں کا انکشاف کرتے ہوئے حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

ترجمہ: ان میں ایک خاتونِ قیامت( فاطمۃ الزہرا) رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روح مبارک ہے ۔ایک حضرت خواجہ حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی روح مبارک ہے ۔ایک ہمارے شیخ ‘حقیقتِ حق ‘نورِ مطلق ‘ مشہود علی الحق حضرت سیّد محی الدین عبد القادر جیلانی محبوبِ سبحانی قدس سرہٗ العزیز کی روح مبارک ہے ۔ اور ایک سلطان انوار سرّالسرمد حضرت پیر عبدالرزاق فرزندِحضرت پیر دستگیر( قدس سرہ’العزیز) کی روح مبارک ہے ایک ھاھویت کی آنکھوں کاچشمہ سِرّ اسرار ذاتِ یاھو فنا فی ھو فقیر باھوؒ (قدس سِرّہ العزیز ) کی روح مبارک ہے ۔اور دو ارواح دیگر اولیاء کی ہیں ۔اِن ارواح مقدسہ کی برکت وحرمت سے ہی دونوں جہان قائم ہیں ۔جب تک یہ دونوں ارواح وحدت کے آشیانہ سے نکل کر عالمِ کثرت میں نہیں آئیں گی قیامت قائم نہیں ہوگی۔ ان کی نظر سراسر نورِوحدت اور کیمیا ئے عزت ہے۔ جس طالب پر ان کی نگاہ پڑ جاتی ہے وہ مشاہدہ ذاتِ حق تعالیٰ ایسے کر نے لگتا ہے گویا اس کا سارا وجود مطلق نور بن گیا ہو ۔انہیں طالبوں کو ظاہری ورد وظائف اور چلہ کشی کی مشقت میں ڈالنے کی حاجت نہیں ہے ۔(رسالہ روحی شریف)

سلطان الفقر نورِ حق کی ایک فنا فی اﷲ صورت ہے جسے اﷲ تعالیٰ کا دائمی قرب و وصال اور مجلس محمدی صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کی دائمی حضوری حاصل ہوتی ہے۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ سلطان الفقر کی حقیقت کے بارے میں فرماتے ہیں:

جناب سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے معراج کی رات حق تعالیٰ کے حضور میں سلطان الفقر سے ملاقات کی اور اس سے بغلگیر ہو کر سر سے پاؤں تک روبرو ہو کر فقر سے لپٹ گئے تب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا وجود فقر میں بدل گیا۔ (جامع الاسرار)

جب سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم معراج پر تشریف لے گئے تو پہلے براق پر سوار ہوئے اور پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے دونوں جہان اور اٹھارہ ہزار قسم کی مخلوق کو ہر طرح سے آراستہ و پیراستہ کر کے دکھایا لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے آنکھ اٹھا کر بھی ان کی طرف نہ دیکھا ”ارشادِ باری تعالیٰ ہے ترجمہ:آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آنکھ (دیدارِ الٰہی سے) نہ پھری اور نہ ہی (مقررہ) حد سے بڑھی۔ یہ حالت ہر اعلیٰ اور ادنیٰ مقامات پر رہی اسی لیے حق تعالیٰ کے حضور قاب و قوسین کے مقام پر پہنچے اور دو نوں کے مابین پیاز کے چھلکے کا سا پردہ رہ گیا۔ جب حبیب عین بعین ہوئے تو آواز آئی” اے میرے حبیب ( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) جب میں نے دونوں جہان تجھ پر قربان کر دئیے اور دونوں جہان اور اٹھارہ ہزار عالم کا نظارہ آپ کو کرادیا تو ان میں کیا چیز آپ کو پسند آئی جو آپ کو عطا کی جائے۔” آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے عرض کی! ”اللہ تعالیٰ مجھے فقر عطا کیا جائے کیونکہ فقر کے برابر کسی کو قربِ الٰہی او رفنا فی اللہ حاصل نہیں ہے اور ایسا قرب کسی اور چیز سے حاصل نہیں ہوتا۔” یہی فقر ”سلطان الفقر” ہے۔ جو شخص ظاہر و باطن میں اس فقر کو دیکھتا ہے وہ صاحبِ اختیار ہو جاتا ہے اور مرتبہ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس پر غالب آجاتا ہے۔ (جامع الاسرار)

اللہ تعالیٰ نے فرمایا” اے محمد( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم )! میں نے سلطان الفقر کا مرتبہ آپ کو عطا کیا ہے اور آپ کے فقرا کو بھی اور آپ کے اہلِ بیت کو بھی اور آپ کے متقی اور صالح امتیوں کو بھی۔ ”آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے عرض کیا کہ ہزار ہزار شکر ہے۔ (جامع الاسرار)

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ سلطان الفقر کی عظمت اور شان بیان کرتے ہوئے اپنی فارسی تصانیف میں فرماتے ہیں:

سلطان الفقر کا نور آفتاب سے زیادہ روشن اور اس کی خوشبو کستوری و گلاب و عنبر و عطر کی خوشبو سے زیادہ فرحت بخش ہے ۔جو شخص دورانِ خواب سلطان الفقر کی زیارت کر لیتا ہے وہ ہر چیز سے بے نیاز ہو جاتا ہے اور حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام اس خوش نصیب کو باطن میں دستِ بیعت کر کے تلقین فرماتے ہیں ۔میر ا یہ قول میرے حال کے عین مطابق ہے۔( کلید التوحید کلاں)

ہزاروں میں سے کوئی ایک طالب ہوتا ہے جو سلطان الفقر کی لازوال معرفت حاصل کرتا ہے۔ اور جسے عین جمال کا وصال حاصل ہوتا ہے ۔پس معلوم ہوا کہ بہت سے ایسے ہیں جنہوں نے صرف فقر کا لباس پہنا ہوا ہے۔ ہزار میں سے کوئی ایک ہوگا جو فقر کا انتہائی مقام حاصل کرتا ہوگا۔فقر ایک نور ہے جس کا نام”سلطان الفقر” ہے۔ جسے یہ حاصل ہے اسے اللہ تعالیٰ کی حضوری حاصل رہتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا منظورِ نظر ہوتا ہے۔( امیر لکونین)

حضرت خضر علیہ السلام کی مجلس اُسے نصیب ہوتی ہے جس کی باطنی خضر سے ملاقات ہو جائے باطنی خضر ”سلطان الفقر” کو کہتے ہیں ۔جس کی ملاقات باطنی خضر سے ہوجائے اُسے علمِ ظاہری بھول جاتا ہے کیونکہ اس کے باطن کو علمِ باطن ، نورِ معرفت اور توحیدِ الٰہی کی تجلیات اس قدر معمور کر دیتی ہیں کہ وہ ہر وقت قرب و وصال کی حضوری میں غرق رہتا ہے۔( محک الفقر کلاں)

فقر کے مراتب سے وہی شخص واقف ہوتا ہے جو فقرتک پہنچا ہو اور جس نے فقر کی لذت چکھی ہو اور فقر اختیار کیا ہو اور ”سلطان الفقر” کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہو۔( اسرارِ قادری)

پس اس دیو سلمانی و بادشاہ شیطانی” نفس” کو زندانِ فنا فی اللہ میں قید کرنا اس کے گلے میں تفسیر، قرآن و حدیث و معرفتِ الٰہی اور روشن ضمیری کی زنجیر ڈال کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قید کرنا”سلطان الفقر” کاکام ہے۔(کلید التوحید کلاں)

جو شخص چاہتا ہے کہ مجھے دریائے وحدتِ الٰہی تک رسائی اور مجلسِ محمدی صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کی دائمی حضوری حاصل رہے اور سلطان الفقر کے ساتھ مجلس و ملاقات نصیب رہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ کم و بیش تیس کروڑ تیس لاکھ بال آدمی کے جسم میں موجود ہیں اور ہر بال میں شیطان کا ایک گھر’ ہوائے نفس کا قلعہ اور حواسِ نفس کی جڑ ہوتی ہے۔ جو شخص اپنے دل سے دنیا کی محبت کو نہیں نکال دیتا وہ نہ تو قرب پا سکتا ہے اور نہ حضوری۔ (کلید التوحید کلاں)

اسی طرح آپ دو اور مقامات پر طالبِ صادق کے متعلق فرماتے ہیں کہ

جو طالب راہِ فقر پر چلتے ہوئے مقاماتِ ترک و توکل’ تسلیم ورضا’ تجرید و تفرید’ فنا و بقا اور توحید کا مشاہدہ کرتا ہے تو اسے خواب میں انبیاء و اولیاء اور سلطان الفقر کی مجلس کی حضوری اور ملاقات نصیب ہوتی ہے۔ (کلیدالتوحید کلاں)

فنا فی اللہ فقر کا انتہائی مقام ہے جو نہ تو عقل اور چالاکی سے ہاتھ آتا ہے اور نہ ذکر، فکر اور مراقبہ سے مگر مرشدِ کامل چاہے تو طالب کو کبھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں، کبھی مقامِ فنا فی اللہ کی حضوری میں اور کبھی ”سلطان الفقر” فنا فی اللہ کی صحبت میں لے جاتا ہے۔ جس شخص کے لیے یہ تینوں مراتب ایک ہوجائیں وہ فقر کی تمامیت کو پہنچ جاتا ہے۔( عقلِ بیدار)

جب طالب مراتبِ رضا و قضا سے آگے بڑھ کر وحدتِ کبریا و لقائے خدا کی طرف متوجہ ہو تا ہے قُرب اللہ حضور سے ایک صورتِ نور ظاہرہو تی ہے جو حورانِ بہشت سے زیادہ حسین ، انوارِ الٰہی سے منور اور مشاہدہ انوارِ دیدار اور معرفت و محبت میں سوختہ ہوتی ہے اس کا نام ”سلطان الفقر” ہے ۔یہ صورت عاشقِ ہوشیار سے بغل گیر ہو کر ملتی ہے جس سے طالبِ اللہ سر سے قدم تک لا یحتاج ہو جاتا ہے اور اس کے وجود میں دنیا و عقبیٰ کا کوئی غم باقی نہیں رہتا۔( نور الہدیٰ کلاں)

آدمی اس وقت تک مراتبِ فقر تک نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ باطن میں سرِّالٰہی کی صورتِ خاص ”سلطان الفقر” اُسے اپنے ساتھ بغل گیر کرکے زیارت اور تعلیم و تلقین سے مشرف نہیں کر لیتی چاہے کوئی ریاضت کے پتھر سے سر ہی کیوں نہ پھوڑتا پھرے۔ جب تک ”سلطان الفقر” کی طرف سے اشارہ نہیں ہو گا وہ فقر کی خوشبو تک بھی نہیں پہنچ سکے گا کہ ”سلطان الفقر” کی وہ باطنی صورت ہر وقت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس میں حا ضر رہتی ہے۔ (محک الفقر کلاں)

سلطان الفقر کی مجلس توحیدِ باری تعالیٰ کا ایک دریا ہے جوکوئی اس دریاکے کنارے پر پہنچ جاتا ہے وہ باوصال ہو جاتا ہے۔ ( محکم الفقراء)

(معراج کی رات جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ) سدرۃ المنتہیٰ کے مقام پر پہنچے تو وہاں صورتِ فقر کا مشاہدہ کیا اور مراتبِ ”سلطان الفقر” کی لذت سے لطف اندوز ہوئے، فقر نورِ الٰہی سے باطن کو معمور فرمایا اور قابَ و قوسین کے مقام پر اللہ تعالیٰ کے قرب و وصال سے مشرف ہو کر ذاتِ حق تعالیٰ سے ہم کلام ہوئے۔ (محک الفقر کلاں)

فقیرِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم استقامت و مضبوطی سے فقر فنا فی اللہ میں قدم رکھتا ہے کہ اس کے سر پر فقر کانام ہے اور فقر کے سر پر اللہ کا نام ہے یعنی فقراء اسمِ  سے فقیر بنتے ہیں اور اسمِ  ہی سے شہباز بنتے ہیں۔ راہِ فقر میں اگر کوئی ثابت قدم رہتا ہے تو وہ صاحبِ راز حقیقی بن جاتا ہے اگر کوئی فقر اور اسمِ  سے بر گشتہ ہو جاتا ہے اور ہمت و استقامت کو چھوڑ کر دنیا و اہلِ دنیا کی طرف مراجعت کرتا ہے(لوٹ جاتا ہے) تو وہ مرتبہ شہبازی فقر و رازسے منہ موڑتا ہے وہ گویا چیل ہے جس کی نظر مردار پر اٹکی ہوئی ہے اس لیے وہ دونوں جہان میں ذلیل و خوار ہے اس کا دِل دنیا سے سیر نہیں ہوتا۔ اُس کی آنکھوں میں دنیا کی بھوک بھری رہتی ہے وہ فقرِ حقیقی اور ”سلطان الفقر تحقیقی” (سلطان الفقر کی حقیقت) تک نہیں پہنچ سکتا وہ طالبِ دنیا بلکہ زندیق ہے۔( محک الفقر کلاں)

جاننا چاہیے کہ سلطان الفقر کی ابتداء غیر مخلوق نورِ ایمان ہے اور اس کی انتہا غیر مخلوق نورِ ذاتِ رحمن ہے۔(قربِ دیدار)

جو آدمی باطن میں سلطان الفقر کے چہرے کی زیارت کر لیتا ہے وہ لا یحتاج ہو کر صاحبِ لفظ ہو جاتا ہے۔(محک الفقر کلاں)

جاننا چاہیے کہ معرفتِ فقر کے مختلف مراتب کے لیے انبیاء، صحابہ اور اولیاء اللہ میں سے ہر ایک نے اللہ تعالیٰ سے التجا کی لیکن ماسویٰ حضرت احمدِ مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کوئی بھی فقر کی تمامیت کو نہیں پہنچا اور کسی نے سلطان الفقر کی انتہا پر قدم نہیں رکھا مگر حکمِ الٰہی اور بہ اجازت سیّد عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم شاہ محی الدین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فقر کے ابتدائی اور انتہائی مراتب اور سلطان الفقر کو عمل، قبضہ اور اپنے تصرف میں لائے ۔(توفیق الہدایت)

اس سلسلہ میں سب سے بڑا اعتراض یہ کیا جا تا ہے کہ رسالہ روحی شریف میں دنیا کے تمام اولیاء کرام میں سے صرف سات اولیائے کرام کو سلطان الفقر اور سید الکونین کے جلیل القدر لقب سے یاد کیا گیا ہے اور ان میں صحابہ کرام ‘ آئمہ و مجتہدین اور دیگر اولیا ئے مقربین میں سے کسی کو بھی شامل نہیں کیا گیا ۔

پہلے اس مسئلہ کو منطق اور دلائل سے سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جیساکہ ظاہر میں مختلف فنون اور کمالات ہیں’ ایک ہنر اور کمال دوسرے ہنر اور کمال سے کوئی لگاؤ نہیں رکھتا ۔مثلاً کوئی معاشیات اور اکاؤنٹنگ میں ماہر ہے تو کوئی فزکس کیمسٹری ‘بیالوجی اور باٹنی میں یدِ طولیٰ رکھتا ہے ۔کسی کو کرکٹ اور کسی کوہاکی میں کمال حاصل ہے تو کوئی صحافت ‘ خوش نویسی اور دوسرے شعبوں میں ماہر ہے ۔یعنی ہر فن میں خاص صاحبِ کمال انسان ہوتے ہیں اور ہر انسان کے لئے ایک خاص فن ہوتا ہے۔سو مختلف فنون میں ماہر لوگوں کی آپس میں نہ تو کوئی نسبت قائم کی جاسکتی ہے اور نہ ہی مقابلہ ۔مثلاً یہ نہیں کہا جاسکتا کہ فلاں ڈاکٹر اورکھلاڑی میں کون بہتر ہے ۔

اسی طرح باطنی دنیا کے مراتب’ کمالات اور فنون کے مختلف شعبے اور قسمیں ہیںیعنی بعض اولیاء صدق میں ‘ بعض عدل و محاسبہ نفس میں’ بعض حیا میں’ بعض زُہد میں’ بعض ترک میں ‘بعض ریاضت میں ‘بعض صبر میں ‘ بعض شکر میں ‘بعض جُود و سخا میں مشہورِ زمانہ ہوئے ہیں۔چنانچہ اس طرح انبیاء علیہم السلام میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام زاہد البشراور حضرت داؤد علیہ السلام عبد البشر اور حضرت ایوب علیہ السلام ا صبر البشر ہوئے یعنی ہر نبی کسی خاص باطنی صفت اور مرتبہ میں صاحب ِ کمال ہوا ہے۔

اسی طرح ”فقر ” ایک خاص باطنی مرتبہ اور کمال ہے اس کے مقابلہ میں باطن میں نہ کوئی کمال ہے اور نہ مرتبہ اور یہ خزانہ تمام انبیائے کرام میں سے بدرجہُ اتمّ ہمارے آقائے نامدار حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا جس میں نہ کوئی نبی اورنہ کوئی رسول آپ کے ہمسر اور برابر ہو سکتا ہے اور اسی پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فخر فرمایا ہے اور فقر کی بدولت آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تمام انبیاء اور مرسلین کے درمیان سر بلند اور ممتازہیں۔ مقامِ غور بات یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام تمام ظاہری اور باطنی کمالات کے جامع ہیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کسی کمال پر فخر نہیں فرمایا یعنی نہ شجاعت پر ‘ نہ سخاوت پر نہ تقویٰ و صبر پر نہ ترک و توکل پر اور نہ فصاحت و بلاغت پر لیکن آپ نے ”فقر ” پر فخر کا اظہار فرمایا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فقر ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا اصل ترکہ اور ورثہ ہے۔غرض باطن میں صدق و وفا’ عدل و محاسبہ نفس’ حیا’ صحابیت ‘امامت ‘شہادت ‘ فقہہ ‘اجتہاد ‘ولایت ‘غوثیت ‘قطبیت ‘صدیقیت ‘تقویٰ ‘زہد ‘ صبر ‘شکر ‘ تسلیم ‘رضا ‘خوف ‘رجا ‘ُ جودو کرم ‘عِلم ‘شجاعت اور شفقت و غیرہ کے بے شمار الگ الگ منصب اور مراتب ہیں لیکن فقران سب سے اعلیٰ اور افضل مرتبہ ہے ۔

کچھ بے بصیرت لوگ جنہیں معاملاتِ فقر کی ابجد بھی نہیں معلوم وہ ”مرتبہ سلطان الفقر” پر مندرجہ ذیل بے بنیاد اعتراضات کرتے ہیں:

اِن سات ہستیوں میں بابِ فقر ‘ امام الفقر حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم جو سلاسل قادری ‘ چشتی اور سہروردی کے امام ہیں اور یہ سلاسل اِن ہی کے وسیلہ سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تک پہنچتے ہیں’کا نام شامل نہیں ہے ۔کیا اُن کو وراثتِ فقر منتقل نہیں ہوئی؟

کیا حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے یارِ غار ‘امامِ صدیقین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ جن سے سلسلہ نقشبندیہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تک پہنچتا ہے’ کو فقر منتقل نہیں ہوا؟

کیا دیگر دو خلفا ء راشدین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو فقر منتقل نہیں ہوا؟

کیا امامینِ پاک حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ورثہ فقر نہیں ملا؟

کیا صحابہ کرامؓ جو تمام امت کا سب سے اعلیٰ ترین طبقہ ہے ‘ کو فقر نہیں ملا؟

کیا تمام مجتہدین اور امت میں دوسرے اولیاء کرام کو فقر نہیں ملا؟

ان تمام اعتراضات کا جواب حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ اپنی تصانیف میں فرما چکے ہیں۔ انہی کی کتب کے حوالوں کے ذریعے ان اعتراضات کا جواب درج ذیل ہے:

ترجمہ:حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے صدق ‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے عدل’ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے حیا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فقر پایا۔(عین الفقر،محک الفقر کلاں)

چار پیروں کو شناخت کر لو کہ اوّل صدیقوں کے پیر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ، دوم عادلوں کے پیر حضرت عمر خطاب رضی اللہ عنہٗ، تیسرے اہلِ حیا کے پیر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ اور فقراء کے پیر حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہیں۔ (جامع الاسرار)

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ اس عبار ت میں فرماتے ہیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وراثت اور متاع یعنی فقر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو منتقل ہوئی۔ آپ بابِ فقر اور ورثہ فقر کو منتقل کرنے والے ہیں اس لیے یہ اعتراض قابلِ توجہ نہیں ہے۔ پھر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو صدق حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو عدل اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو حیا کے مراتب نصیب ہوئے ۔پھر آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ طالبِ مولیٰ کو صدق میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی طرح’ عدل اور محاسبہ نفس میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی طرح اور شرم و حیا میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اور فقر میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی طرح ہونا چاہیے یہ چاروں مراتب یکساں نہ ہوں تو فقر کا کامل مرتبہ حاصل نہیں ہوتا۔

سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو ”چار پیر” فرمایا ہے کیونکہ چاروں کی ”توجہ” سے باطن میں فقر کی تکمیل ہوتی ہے لیکن ”بابِ فقر” حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم ہی ہیں ۔ سلطان العارفین رحمتہ اللہ کے بیعت کے واقعہ سے اس بات کی وضاحت ہوجائے گی کہ اِن چار پیروں کی توجہ سے کیا مراد ہے۔

”ایک روز کا ذکر ہے کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ (سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ ) شورکوٹ میں اس کے گردو نواح میں کھڑے تھے کہ اچانک ایک صاحبِ نور’ صاحبِ حشمت اور بارعب گھڑ سوار نمودار ہوا جس نے آپؒ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کوپیچھے بٹھالیا۔آپ ؒ ڈرے’ کانپے اور پوچھا کہ آپ کون ہیں؟پہلے ”توجہ” کی اور بعدازاں فرمایا کہ میں علی ابن طالبؓ ہوں۔پھر آپؒ نے عرض کی کہ مجھے کہاں لے جارہے ہو؟ فرمایا حسبِ الارشاد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حضور پر نور میں لیے جاتا ہوں۔ اسی وقت لے جاکر مجلسِ محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) میں حاضر کر دیا ۔اس وقت حضرت صدیق اکبر، حضرت امیر عمر بن خطاب اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی مجلسِ اہلِ بیت میں حاضر تھے۔ آپؒ کو دیکھتے ہی پہلے پہل حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے مجلسِ منّور سے ا ٹھ کر آپؒ سے ملاقات کی اور” توجہ” فرما کر مجلس سے رخصت ہوئے۔ بعدازاں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ ‘حضرت عثمان ذی النورین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ ، باری باری اٹھے اور ”توجہ”اور ملاقات کے بعد مجلس شریف سے رخصت ہوگئے تو مجلس شریف میں صرف اہلِ بیت علیہم الصلوٰۃ والسلام رہ گئے۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو ؒ فرماتے ہیں کہ مجھے امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے چہرہ مبارک سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جناب سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میری بیعت حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے سپرد فرمائیں گے لیکن بظاہر خاموش تھے، چونکہ امیر المومنین اسد اللہ الغالب حضرت علی مرتضیٰ ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ میرے پہلے وسیلہ اور اکمل ہادی تھے۔ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے دونوں دستِ مبارک میری طرف بڑھا کر فرمایا ”میرے ہاتھ پکڑو” اور مجھے دونوں ہاتھوں سے بیعت اور تلقین فرمایا ۔مجھے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ایک مرتبہ کلمہ birth-childhood-education4تلقین فرمایا تو درجات اور مقامات کا کوئی حجاب نہ رہا۔ چنانچہ اوّل و آخر یکساں ہوگیا۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے تلقین سے مشرف ہوا تو خاتونِ جنت سیّدۃ النساء فاطمۃ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھے فرمایا ” تو میرا فرزند ہے” میں نے امامین پاک حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے قدم مبارک چومے اور اپنے گلے میں غلامی کا حلقہ پہنا ۔(مناقبِ سلطانی)

سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کی اس عبارت سے یہ اعتراض کہ چاروں خلفائے راشدین کا ذکر مرتبہ سلطان الفقرمیں نہیں ہے ‘دور ہو جانا چاہیے اور چاروں پیروں کی ”توجہ” کی بات بھی سمجھ میں آجانی چاہیے کہ ان ”چار پیروں” کی ”توجہ” کے بغیر فقر کامل نہیں ہوتا ۔

حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

اللہ تعالیٰ سے وصل اوروصال کے دو طریقے اور راستے ہیں۔ ایک نبوت کا طریقہ اور راستہ ہے اس طریق سے اصلی طور پر واصل اور موصل محض انبیاء علیہم السلام ہیں اور یہ سلسلہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ گرامی پر ختم ہوا۔ دوسرا طریقہ ولایت کا ہے اس طریق والے واسطے (وسیلہ) کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے واصل اور موصل ہوتے ہیں۔ یہ گروہ اقطاب، اوتاد، ابدال، نجباء وغیرہ اور عام اولیاء پر مشتمل ہے اور اس طریقے کا راستہ اور وسیلہ حضرت سیّدنا علی کرم اللہ وجہہ کی ذاتِ گرامی ہے اور یہ منصبِ عالی آپ رضی اللہ عنہٗ کی ذاتِ گرامی سے متعلق ہے۔ اس مقام میں خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا قدم مبارک حضرت امیر کرم اللہ وجہہ کے سر پر ہے اور حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا اور حسنین کریمین رضی اللہ عنہم اس مقام پر سیّدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھ شامل اور مشترک ہیں۔ (مکتوباتِ امام ربانی، مکتوب123بنام نور محمد تہاری)

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ اس حقیقت کو یوں بیان فرماتے ہیں:

حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے فقر پایا۔ (عین الفقر۔ محک الفقر کلاں)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فقر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو عطا فرمایا۔ (جامع الاسرار)

فقراء کے پیر حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہیں۔ (جامع الاسرار)

حدیث پاک  کا اہلِ علم اس طرح ترجمہ کرتے ہیں ”میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ” لیکن سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کو اس مفہوم میں بیان فرماتے ہیں کہ میں فقر کا شہر (مرکز) ہوں اور علی اس کا دروازہ (باب)۔ اس لیے فقراء حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو ”بابِ فقر” کے لقب سے بھی یاد کرتے ہیں۔

سیّدہ کائنات حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا کے بارے میں تو پہلے ہی بیان ہو چکا ہے کہ وہ سلطان الفقر ہیں۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ جامع الاسرار میں فرماتے ہیں :

حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا فقر کی پلی ہوئی تھیں اور انہیں فقر حاصل تھا جو شخص فقر تک پہنچتا ہے ان ہی کے وسیلہ سے پہنچتا ہے۔

حسنین کریمین رضی اللہ عنہم کے بارے میں سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

 (فقر) میں کمال امامین پاک حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ کو نصیب ہوا جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور خاتونِ جنت حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں۔ (محک الفقر کلاں)

مندرجہ بالا عبارت سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ فقر کے کمال فنا فی اللہ بقا باللہ کے مقام اور مرتبہ پر یہ چاروں ہستیاں یکتا اور متحد ہیں اور ان میں کوئی فرق نہیں ہے جب تک ان چاروں ہستیوں کے مقام اور مرتبہ کے بارے میں طالبِ مولیٰ بھی یکتا نہیں ہو جاتا فقر کی خوشبو تک کو نہیں پا سکتا۔

کیا تما م اصحاب رضی اللہ عنہم کو فقر کی نعمت ملی ؟ سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

یاد رہے ”اصحابِ پاک رضی اللہ عنہم کے بعد” (لفظ ”اصحابِ پاک کے بعد ”پر غور فرمائیں اس کا مطلب ہے اصحابِ پاک رضی اللہ عنہم کو فقر کی نعمت ملی) فقر کی نعمت و دولت دو حضرات نے پائی ایک غوثِ اعظم محی الدین حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ اور دوسرے حضرت امام ابو حنیفہ کوفی رحمتہ اللہ علیہ جو ایک تارکِ دنیا صوفی تھے آپ رحمتہ اللہ علیہ نے ستر سال تک نہ کوئی نماز قضا کی نہ روزہ ۔ اور ایسا ہی کمال (میں) صالحہ و ساجدہ ولیہ حضرت بی بی رابعہ بصری رحمتہ اللہ علیہا کو نصیب ہوا۔(محک الفقر کلاں)

مندرجہ بالا عبارت سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ اصحابِ پاک رضی اللہ عنہم نے مراتب بہ مراتب فقر کی نعمت پائی اور اس کے بعد غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ ‘ حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت رابعہ بصری رحمتہ اللہ علیہا کو یہ نعمت نصیب ہوئی ۔ لہٰذا یہ اعتراض کہ اصحاب پاک رضی اللہ عنہم اور ان کے بعد کسی ولی یا مجتہد کو فقر ملا یا نہیں ‘ سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کی اس تحریر سے دور ہو جاتا ہے لیکن پھر بھی ایک اور تحریر حاضر ہے۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان بَاھُو رحمتہ اللہ علیہ کا جو عقیدہ ہے اُسے آپ رحمتہ اللہ علیہ نے کلیدالتوحید کلاں میں بیان فرمایا ہے آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

جان لے مندرجہ ذیل مراتب تک کوئی نہیں پہنچ سکتا اگر کوئی اِن مراتب تک پہنچنے کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ کاذب و ساحر و صاحبِ استدراج مرشد ہے۔ وہ خاص الخاص چھ مراتب یہ ہیں:

1.   یہ کہ آیاتِ قرآنِ مجید حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سوا کسی اور پر نازل نہیں ہوئیں۔

2.  یہ کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام خاتم النبیین ہیں اُن کے بعد کسی اور پر وحی نازل نہیں ہوسکتی ۔

3.   یہ کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سوا اور کوئی شخص معرفتِ الٰہیہ کے انتہائی مراتب تک نہیں پہنچ سکتا۔

4.   یہ کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سوا کوئی اور شخص مراتبِ قابَ قَوسَین پر پہنچ کر چشمِ ظاہر سے معراج نہیں پا سکتا۔

5.   یہ کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اصحابِ پاکؓ کے سوا کوئی اور شخص اصحابِ صفہّ ، اصحابِ بدر، اصحابِ کبار اور جملہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مراتب تک نہیں پہنچ سکتا ۔

6.   یہ کہ علمِ روایت کے چار اجتہادی مذاہب کے مجتہد امامین (حضرت امام ابو حنیفہ ؒ ؒ ، حضرت امام شافعی ؒ ، حضرت امام مالک ؒ ، حضرت امام احمد بن حنبلؒ ) کے مرتبہ اجتہاد پر سوائے اُن چاروں اماموں کے اور کوئی نہیں پہنچ سکتا اور یہ کہ چاروں اجتہادی مذاہب بر حق ہیں۔

مندرجہ بالا چھ مراتب جو سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ نے بیان فرمائے ہیں ان پر کسی تبصرہ کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک ایک مرتبہ صاف اور واضح طور پر بیان کیا گیا ہے اور خاص کر اصحاب پاک کے مرتبہ کی جو وضاحت آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمائی ہے اس کے بعد تو کسی قسم کے اعتراض کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی۔

معترضین کے مرتبہ سلطان الفقر پر اعتراضات کو سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کی تصانیف سے ہی دور کر دیا گیا ہے۔ بناتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں حضرت فاطمتہ الزہرارضی اللہ عنہا کی فضیلت فقر کی وجہ سے ہے آپ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے اصل وراثت فقرِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حاصل کی اسی وراثت کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہا کی اولاد آلِ نبی ہوئی اس لیے آپ رضی اللہ عنہا پہلی سلطان الفقر ہوئیں تاکہ دنیا کو آپؓ کی فضیلت معلوم ہوسکے ورنہ آپؓ نے تلقین و ارشاد کا فریضہ تو سر انجام ہی نہیں دیا۔امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم تو ہیں ہی بابِ فقر۔کیونکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ورثہ فقر امت کو آپ کرم اللہ وجہہ کے وسیلہ سے منتقل ہوا۔ دوسرے سلطان الفقر حضرت خواجہ حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ جن کو ورثہ فقر حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے منتقل ہوا ،اس حقانیت کو ثابت کرتا ہے کہ ورثہ فقر موروثی نہیں ہے ورنہ امامین پاک حسنین کریمین رضی اللہ عنہم فقر کے کمال پر ہیں اور سلطان الفقر دوم حضرت خواجہ حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اور سلطان الفقر پنجم سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ امامین پاک کی غلامی پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

المختصر فقر کی یہ نعمتِ عظمیٰ معراج کی رات حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام کوعطاہوئی اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے طفیل آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی امت میں یہ مرتبہ عالی جناب خاتونِ جنت سیدۃ النسا ء حضرت فاطمۃ الزہراؓ کو عطا ء ہوا ‘ اور بابِ فقر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو خرقہ فقر پہنایا گیا اور آپ کرم اللہ وجہہ سے ہی فقر امت کو منتقل ہوا۔ پھر حسنین کریمین علیہ السلام اور صحابہ کرامؓ نے فقر پایا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی امت میں سے چھ مزید ایسی ہستیوں کا انتخاب کیا گیا جن کو بعض پر فضیلت عطا کی گئی اور ان کو فقر میں ایک خاص مرتبہ ”سلطان الفقر ” کا تاج پہنایا گیا ۔ ان کی نشانی یہ بیان فرمائی گئی :

ان کی نظر سراسر نورِوحدت اور کیمیا ئے عزت ہے جس طالب پر ان کی نگاہ پڑ جاتی ہے وہ مشاہدہ ذاتِ حق تعالیٰ ایسے کر نے لگتا ہے گویا اس کا سارا وجود مطلق نور بن گیا ہو ۔انہیں طالبوں کو ظاہری وردووظائف اور چلہ کشی کی مشقت میں ڈالنے کی حاجت نہیں ہے ۔ (رسالہ روحی شریف)

یعنی یہ طالبانِ مولیٰ کو ورد وظائف چلہ کشی اور مشقت میں نہیں ڈالتے بلکہ ان کی نظر ہی نور ہے جن پر پڑ جاتی ہے وہ بھی نور بن جاتا ہے۔

امید ہے اس بحث سے بہت سے شکوک و شبہات رفع ہوگئے ہوں گے۔ لیکن ایک بات ذہن میں رہے کہ ”فقر کے مختارِ کل” حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں اور فقر ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اصل وراثت ہے اور اہلِ بیت ؑ اس وراثت کے وارث اور اس کو منتقل کرنے والے ہیں۔

رسالہ روحی شریف میں حضرت سخی سلطان باھُوؒ نے جن سات سلطان الفقراور سیّد الکونین ہستیوں کا ذکر فرمایا ہے اِن میں سے پانچ اَرواح کے ناموں کا تو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے انکشاف فرما دیا تھا جو دنیا میں جلوہ گر ہوکر اپنے اپنے زمانہ کے لوگوں کے لئے رحمت اور فیض کاموجب بنے ۔ان پانچ ارواح کے حالاتِ زندگی اور مناقب پر بہت سی کتب اور رسائل تصنیف ہو چکے ہیں اور وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں۔ لیکن مستقبل میں آنے والی دو ارواح کے ناموں کو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے پوشیدہ رکھا تھا۔ ان میں سے ایک روح اور ہستی دنیا میں ظاہر ہو چکی ہے جس کی غلامی اور زیارت کا شرف اس زمانہ کے لوگوں کو حاصل ہوا۔ان کا نام سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ ہے ۔ 14۔اگست 1947 (27رمضان المبارک 1366ھ ) بروز جمعتہ المبارک کو آپ رحمتہ اللہ علیہ کی ولادت ہوئی اور26۔ دسمبر 2003 (2۔ذیقعد 1424ھ) بروز جمعتہ المبارک آپ رحمتہ اللہ علیہ نے وصال فرمایا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے حالاتِ زندگی اور تعلیمات پر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے ایک کتاب ”مجتبیٰ آخر زمانی” تحریر کی ہے اس کا مطالعہ فرمائیں۔

www.sultanulfaqr.com