تفکر اور مراقبہ

قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

”کیا انہوں نے اپنے اندر فکر نہیں کیا کہ اﷲ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا اور جو کچھ ان میں ہے، حق کے ساتھ اور مقررہ وقت تک’ بے شک اکثر لوگ لقائے الٰہی(دیدارِ الٰہی) کو جھٹلاتے ہیں”۔ (سورہ روم۔ آیت ۸)

اس آیت مبارکہ میں اﷲ پاک نے دعوتِ غور و فکر دی ہے کہ اپنے اندر تفکّر اور غور و فکر کرو اور آسمانوں اور زمین میں اور ان کے اندر جو کچھ پیدا فرمایا گیا ہے یہ حق ہے اور مقررہ مدت تک کے لیے ہے۔

ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے:

ترجمہ: اللہ تعالیٰ کی آیات میں تفکّر کرو مگر اس کی ذات میں تفکّر مت کرو۔

ترجمہ: گھڑی بھر کا تفکّر دونوں جہان کی عبادت سے بہتر ہے۔

ترجمہ: فکر کے بغیر ذکر کرنا گویا کُتے کا بھونکنا ہے۔

کسی علم کو سیکھنے یا کسی چیز کو سمجھنے کے لئے جب ہم تفکّر کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں یہ تجسس پیدا ہوتا ہے کہ اس چیز کی اصلیت کیا ہے؟ یہ کیوں ہے؟ اور کس لئے ہے؟ اگر چھوٹی سے چھوٹی بات میں بھی تفکّر کیا جائے تو اس چھوٹی سی بات کی بڑی اہمیت معلوم ہوتی ہے اور اگر کسی بڑی سے بڑی بات پر غور وفکر نہ کیا جائے تو وہ بڑی بات غیر اہم اورفضول بن جاتی ہے۔ تفکّر سے ہمیں کسی شے کے بارے میں علم حاصل ہوتا ہے اورپھر تفکّر کے ذریعہ اس علم میں جتنی گہرائی پیدا ہوتی ہے اسی مناسبت سے اس چیز اور اس چیز کی صفات کے بارے میں ہم باخبر ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ دنیا آج مادی اور سائنسی ترقی کے جس مقام پر کھڑی ہے اس کی بنیاد غور و فکر ہی ہے ۔ ہر ایجاد اور دریافت کے پیچھے کسی سائنس دان، فلسفی یا مفکر کا غوروفکر اور تفکّر موجود ہے۔

اسی طرح راہِ فقر میں آگے بڑھنے اور ترقی کرکے قربِ الٰہی پانے کے لیے طالبِ مولیٰ پر لازم ہے کہ وہ قدرت کی نشانیوں اور دین کی حقیقتوں پر غورو فکر کے ساتھ ساتھ اپنی روح کی حقیقت اور اس کے اللہ تعالیٰ سے تعلق پر بھی غور کرے اور تفکر کے ذریعے اللہ کی رضا کو سمجھنے اور اس کے قرب کے حصول کے طریقوں کو جاننے کی کوشش کرے۔

علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

ترجمہ:

1.   فقرِقران ذکر اور فِکر کا باہم اختلاط ہے میں نے ذکر کے بغیر فِکر کو کامل نہیں دیکھا۔(فکر سے مراد اپنی ذات کے اندر غور کرنا اور خودی کی پہچان حاصل کرنا ہے جبکہ ذکر سے مراد ذکر اسمِ ذات ہے ۔ جب طالب ان دونوں خصوصیات کا حامل ہو جاتا ہے تو وہ صاحبِ فقر ہو جاتا ہے)

2.   ذکر کیا ہے؟ ذوق و شوق کو ادب سکھانے کانام ہے اور یہ روح کاکام ہے حلق اور ہونٹوں کا کام نہیں۔(یعنی اقبالؒ کے نزدیک ذکر وہ نہیں جو ہونٹوں یا زبان سے کیا جاتا ہے بلکہ ذکر سے مراد وہ ذکر ہے جو روح سے کیا جاتا ہے یعنی ذکرِ اسمِ  ذات)

3.   ذکر (ذکرِ اسمِ ذات) سے سینے کو جلا دینے والے (عشق کے) شعلے اٹھتے ہیں۔اور یہ ابھی تک تیرے مزاج سے موافقت نہیں رکھتے گویا ذکرسے پیدا ہونے والی عشق کی آگ ماسویٰ اللہ کو جلا ڈالتی ہے۔ (جاوید نامہ)

سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

کسی علم یا چیز کو سمجھنے کے لئے جب ہم سوچ بچار کرتے ہیں تو اسے فکر’ تفکر یا غوروفکر کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے دنیا آج مادی اور سائنسی ترقی کے جس مقام پر کھڑی ہے اس کی بنیاد سائنس دانوں کا مادیت میں غوروفکر ہی ہے۔ ہر ایجاد اور دریافت کے پیچھے غوروفکر اور تفکر پنہاں ہے ۔اسی طرح اللہ تعالیٰ انسان کو اپنی ذات کے اندر فکر کرنے کی دعوت دیتا ہے فرمانِ حق تعالیٰ ہے”کیا وہ اپنے اندر فکر نہیں کرتے۔” انسان جب اپنے اندر فکر کرتا ہے تو اس راز تک پہنچ جاتا ہے جس کے بارے میں حدیثِ قدسی ہے کہ ”انسان میرا راز ہے اور میں انسان کا راز ہوں۔”جب انسان اس رازسے آگاہ ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنا محرم راز بنا لیتا ہے اس لئے فقراء من میں ڈوبنے’ تن کے حجرے میں جھانکنے اور اپنے اندر داخل ہونے کی تلقین کرتے رہتے ہیں۔ یاد رہے کہ مراقبہ بھی فکر اور تفکر ہی کا نام ہے۔ ابتدائی مراقبہ یہ ہے کہ آنکھیں بند کرکے ذہن کو کسی ایک نقطہ پر یکسو کیا جاتا ہے اور عارفین کا مراقبہ یہ ہے کہ کھلی آنکھوں سے ہر چیز کا نظارہ کرتے ہیں جیسا کہ حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان ہے کہ میں چالیس سال تک اللہ تعالیٰ سے محو کلام رہا لوگ یہ سمجھتے رہے کہ میں ان سے باتیں کر رہا ہوں۔(شمس الفقرا) ز حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنی تصنیفات میں غور و فکر کے بارے میں بہت سی اصطلاحیں استعمال فرمائی ہیں۔ اور ان کا منشاء مندرجہ بالا قرآنی آیات کے مطابق تفکّر ہی ہے۔ مثلاً

1.  مراقبہ

2.  فکر  

3. تفکر

مراقبہ تفکّر ہی کی ایک قسم ہے لیکن مراقبہ اورتفکّر میں فرق صرف یہ ہے کہ مراقبہ کے لیے خلوت کا ہونا، آنکھیں بند کرکے قلب کو ایک نکتہ پر یکسو کرنا ضروری ہے۔ جب اس طریقہ سے تفکّر پختہ ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ وہ راز اس شخص پر عیاں کر دیتا ہے جس کے بارے میں تفکّر کیا جارہا ہو تا ہے لیکن فکر یا تفکّر کے لیے خلوت کا ہونا یا آنکھیں بند کرنا ضروری نہیں ہے۔ اس میں طالب ہر لمحہ ہر آن، تنہائی میں، ہجوم میں، دنیا کے معاملات کے وقت ایک ہی بات پر غور و فکر یا سوچ بچار کر رہا ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ اس پر وہ راز عیاں کرتا چلا جاتا ہے جس کے بارے میں وہ تفکّر کرتا رہتا ہے۔ یعنی کھلی آنکھوں سے ہر شے کو دیکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے رازوں سے آگاہ ہوتا ہے۔ یہ مراقبہ سے اعلیٰ مرتبہ ہے آپ یوں کہہ سکتے ہیں مراقبہ ابتدا ہے اور تفکّر انتہا ہے۔ مراقبہ یا تفکر دراصل اس غورو فکر کا نام ہے جس سے انسان اپنی روح کے علم کو حاصل کرتا ہے۔ یہ علم حاصل ہونے کے بعد انسان اپنی روح سے وقوف حاصل کر لیتا ہے۔ فقر کا راستہ تفکّر ہی کا راستہ ہے۔ تفکّر سے ہی اس راہ کے راز کھلتے چلے جاتے ہیں۔ اسی لیے طالبِ مولیٰ ہر لمحہ تفکّر میں گم رہتا ہے ۔ اور ہر لمحہ نئی منزل تفکّر کے ذریعہ حاصل کرتا ہے۔

مراقبہ میں استغراق یا غیب کی کیفیت بظاہر خواب سے ملتی جلتی ہے اور عام طور پر احوال بھی یکساں ہوتے ہیں۔ البتہ خواب میں دل کی نگہبانی و حفاظت میں اس قدر احتیاط نہیں رہتی اس لئے مراقبہ خواب سے زیادہ قوی اور کہیں زیادہ غالب ہوتا ہے۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

خواب و مراقبہ کی کیفیت ایک جیسی ہوتی ہے بلکہ مراقبہ خواب سے زیادہ گہرا ہوتا ہے کہ صاحبِ خواب تو شورو غوغا سے بیدار ہو جاتا ہے لیکن جس پر مراقبہ غالب آ جاتا ہے وہ نورِ وحدانیتِ ذات کے مشاہدہ میں غرق ہو کر اس حالت کو پہنچ جاتا ہے کہ اگر کوئی تن سے اس کا سر بھی اڑا دے تو اسے خبر نہیں ہوتی۔ پس ثابت ہوا کہ مراقبہ موت کی مثل ہے’ لیکن موت کی مثل ہوتے ہوئے بھی صاحبِ مراقبہ میں شعور بیدار رہتا ہے اور جواب باصواب پاتا رہتا ہے۔ مراقبہ سے عارفوں کو نورِ معرفت کی سرفرازی نصیب ہوتی ہے۔ اﷲ تعالیٰ اِن سے راضی رہتا ہے اور وہ اﷲ تعالیٰ سے راضی رہتے ہیں۔ مراقبہ واصل بحق کرنے والے عمل کو کہتے ہیں۔ مراقبہ محبوب کی صحبت’ اسرارِ الٰہی اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محرمیت اور نور الہدیٰ تجلّی ذات کے مشاہدہ کو کہتے ہیں۔(شمس العارفین)

مراقبہ دل کی ایک خاص کیفیت کا نام ہے جس کے تحت بندے کے دِل کی نگرانی ہوتی رہتی ہے ،ہر مراقبے کا مدعا اور منشاء یہ ہوتا ہے کہ غیر اﷲ دل میں نہ آنے پائے۔ مراقبے کے باعث نفسانی اور شیطانی خطرات سے چھٹکارا حاصل کیا جاتا ہے۔ مراقبہ وہ ذریعہ خاص ہے جو طالب کو مولا تک پہنچا دیتا ہے۔ ایسے مراقبہ کو مشاہدہ کا نام دیا جاتا ہے۔

سلطان العارفین حضرت سلطان باھو رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں:

مراقبہ دل کی نگہبانی کو کہتے ہیں مراقبہ ایک نگہبان ہے جو غیر حق رقیب مثلاً خطراتِ نفسانی،خطراتِ شیطانی، امراضِ پریشانی اور ماسویٰ اﷲ کسی چیز کو دل میں نہیں آنے دیتا۔ (شمس العارفین)

مراقبہ میں انسان پرروحانی اسرار منکشف ہوتے ہیں۔ صاحبِ مراقبہ اﷲ کے نور کا مشاہدہ کرتا ہے’ دیدارِ الٰہی نصیب ہوتا ہے۔ پھر وہ ایک لمحہ بھی تجلیاتِ ذات کے مشاہدہ اور دیدار سے نہیں رکتا۔ خواہ ظاہر میں لوگوں سے بات چیت ہی کیوں نہ کرتا ہو اور دنیاوی زندگی میں مصروف کیوں نہ رہتا ہو۔ اسے باطن میں ہمیشہ دائمی حضوری حاصل ہوتی ہے۔

آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

مراقبہ خدا کی محبت کا نام ہے اور یہ مقام ”حیّ و قیوم لازوال” میں استغراق کا راہنما ہے اس کے ذریعہ مقامِ talib-e-maula10 (موت سے قبل مر جانا) حاصل ہوتا ہے۔ مراقبہ سے آدمی صاحبِ مشاہدہ حضورِ حال احوال اور سِرّ اسرار کی سیر سے واقف ہوتا ہے اور مجلسِ محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری سے مشرف ہوتا ہے۔ (عین الفقر)

مراقبہ کا طریقہ یہ ہے کہ آنکھیں بند کر کے ذکر و فکر میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ یہ ذکر قلبی اور کسی اسماء الحسنیٰ کا بھی ہو سکتا ہے اور کسی آیت کا بھی اور اسم ذات کا تصور بھی ہو سکتا ہے۔ اس طرح آہستہ آہستہ ذکر’ فکر اور تصور اتنا پختہ ہو جاتا ہے کہ پھر مراقب کو آنکھیں بند کرنے کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔

حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اﷲ علیہ اس سلسلہ میں فرماتے ہیں:

مراقبہ کئی طرح کا ہوتا ہے مثلاً مراقبہ ذکرو فکر’ مراقبہ حضور مذکور’ مراقبہ فنا فی الشیخ’ مراقبہ فنا فی اﷲ’ مراقبہ فنا فی ھو’ مراقبہ فنا فی فقر’ مراقبہ فنا فی محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ‘ مراقبہ فنا فی نفس’ مراقبہ فنا فی نودنہ (99 اسماء الحسنیٰ)۔ (عین الفقر)

مراقبہ کا طریقہ بیان کرتے ہوئے آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

باطنی تحقیقات کی رُو سے وہ مراقبہ کہ جس میں باطل شیطانی’ خطراتِ نفسانی اور حادثاتِ دنیا فانی سے پیدا ہونے والے وہمات نہ پائے جاتے ہوں اور ذکر و فکر و کلماتِ تسبیح کے ذریعے بالکل صحیح ہو’ یہ ہے کہ جب طالب اﷲ باطن کی طرف متوجہ ہو کر تصورِ اسمِ ذات سے مراقبہ شروع کرے تو اُسے چاہیے کہ پہلے تین بار تین بار درود شریف’ تین بار آیۃ الکرسی’ تین بار تین بار چاروں قل شریف’ تین بار سورۃ فاتحہ’ تین بار استغفار’ تین بار کلمۂ تمجید اور تین بار کلمۂ طیب لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ پڑھ لے اور پھر اپنی نظر اسمِ ذات اور اسم  پر ٹکا دے۔ اس کے بعد آنکھیں بند کر کے مجلس انبیاء و اولیاء اﷲ اور معرفت الا اﷲ کی نیت کر لے تو مرشد کامل بے شک اپنی رفاقت میں اُسے حضورِ مجلس میں پہنچا دے گا۔ (مجالسۃ النبی خورد )

اپنی کتاب محک الفقراء میں مراقبہ کی آپ رحمتہ اللہ علیہ نے تین منازل بیان کی ہیں؛ پہلا مراقبہ مبتدی جس میں استغراق حاصل ہوتا ہے اور طالب روشن ضمیر ہو جاتا ہے دوسرا مراقبہ متوسط جس میں استغراق اس حد تک جا پہنچتا ہے کہ طالب ظاہر کے عوامل سے بالکل بے خبر ہو جاتا ہے اور تیسرا مراقبہ منتہیٰ جس میں نورِ وحدانیت ذات کے مشاہدہ میں غرق ہو جاتا ہے۔

جب کوئی علمِ مراقبہ کا مطالعہ شروع کرتا ہے تو سب سے پہلے اُس کے دل میں محبت پیدا ہوتی ہے جس سے سات مجالس کی حضوری کھلتی ہے اور وہ آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم الانبیاء حضرت محمد رسول اﷲ  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک تمام انبیائے کرام کی ارواح کی زیارت کرتا ہے۔ بے شک یہ علم مراقبہ کا ابتدائی سبق ہے۔ اسم  ذات کا مراقبہ صاحبِ مراقبہ کو لاھوت لامکان میں پہنچا کر مشاہدۂ حضور کراتا ہے۔ مراقبے کی قدر و قیمت وہ نادان اہلِ ذکر فکر نہیں جانتا جو حبسِ دم کر کے حیوانوں کی طرح پریشان رہتا ہے۔ مراقبہ تو موت جیسی کیفیت ہے۔ جو کوئی اسمِ  ذات کی توجہ و تصور سے مراقبہ اختیار کرتا ہے اس پر احوالِ موت و جان کنی کا مشاہدہ و معائنہ کھل جاتا ہے اور وہ حقیقتِ قبر’ سوالاتِ منکرنکیر اور حسابگاہِ قیامت کو دیکھ لیتا ہے اور پل صراط سے گزر کر بہشت میں داخل ہو جاتا ہے جہاں وہ تماشائے حور و قصور اور انوارِ دیدارِ پروردگار سے مشرف ہوتا ہے۔ یہ ہے مرتبہ صاحبِ حق الیقین و صاحبِ وصال اہلِ مراقبہ کا۔ (عین الفقر)

راہِ سلوک میں جب طالب مختلف منازل طے کرتا ہے تو اسے اپنی ہر منزل اورمقام پر اسی منزل کی مناسبت سے مشاہدات حاصل ہوتے ہیں جیسا کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

چار منازل پر چار قسم کا مراقبہ ہوتا ہے۔

1.    شریعت اطاعتِ عبودیت کا مراقبہ ناسوت کا مشاہدہ ہے۔ اس مراقبہ میں طالب جو کچھ دیکھتا ہے ناسوت کو دیکھتا ہے؛ دنیا کو دیکھتا ہے۔

2.   دوسرا مراقبہ مقامِ ملکوت میں صاحبِ ورد و وظائف کا مراقبہ ہے۔ جس میں صاحبِ مراقبہ کو فرشتوں کی سی پاکی تن حاصل ہوتی ہے اور وہ مِلکی صفات سے متصف ہو جاتا ہے۔ اِس مراقبہ میں وہ جو کچھ دیکھتا بھالتا ہے عالمِ ملکوت کو دیکھتا ہے اور عالمِ ملکوت کو وہ اِس لئے دیکھتا ہے کہ وہ فرشتوں کی سی صفات کا حامل ہوتا ہے۔

3.  تیسرا مراقبہ اہلِ جبروت کا مراقبہ ہے جس میں اہلِ اﷲ ذکرکے ذریعے جو کچھ دیکھتا ہے مقامِ جبروت میں دیکھتا ہے۔ جبرائیل علیہ السلام کو دیکھتاہے۔

4.  چوتھا مراقبہ عالمِ لاھوت کا مراقبہ ہے جس میں اہلِ معرفت جو کچھ دیکھتا ہے عالم لاھوت میں دیکھتا ہے۔

اِن چار مقامات کے مراقبوں کے علاوہ پانچواں مراقبہ بھی ہے جو مقامِ ربوبیت میں غرق فنا فی اﷲ حضور کا مراقبہ ہے۔ مقامِ ربوبیت کے اِس مراقبہ میں انسان جو کچھ بھی دیکھتا ہے سوائے ربوبیتِ توحید کے اور کچھ نہیں دیکھتا۔ اِس مقام پر اﷲ تعالیٰ کے فرمان ” ” (ہر روز اﷲ تعالیٰ کی ایک نئی شان ہوتی ہے) کے مطابق طالب اﷲ کو ہر روز ایک نئی شان حاصل ہوتی ہے۔ (عین الفقر)

آپ رحمتہ اللہ علیہ مزید ارشاد فرماتے ہیں:

جو شخص مراقبہ کرتا ہے اور اِس میں غرقِ فنا ہو کر ایسا بے خود ہو جاتا ہے کہ اُسے اپنے آپ کی بھی خبر نہیں رہتی اور پھر پلک جھپکنے کی دیر میں مراقبہ سے نکل کر سب دیکھا بھالا بھلا دیتا ہے تو معلوم ہوا کہ اُس نے منجانب الوہیت عین ذات کو دیکھا ہے۔ یہ مراتب اُس عاشق دیوانہ کے ہیں جو اپنی جان سے بیگانہ ہو کر پروانے کی طرح آتشِ عشق میں جلتا رہتا ہے لیکن یہ مراقبہ بھی درمیانہ ہے کہ ابھی وحدت میں نہیں آیا۔ ابھی حق سے بیگانہ ہے اور شانے پر پڑی ہوئی زلفوں کی طرح پریشان ہے۔ ابھی تک وہ خام و ناتمام ہے۔ مراقبہ سمندر کے اُس غواص کی طرح ہونا چاہیے جو ہر دم میں سمندر سے موتی نکال لاتا ہے۔ (عین الفقر)

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ مراقبہ کا ذکر کرتے ہوئے شمس العارفین میں فرماتے ہیں کہ مراقبہ سے اسرارِ الٰہی کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ سب سے اعلیٰ مراقبہ اسمِذات کے مراقبہ کو قرار دیتے ہیں اور اسی سے طالب لاھوت لامکان میں پہنچ کر دیدارِ الٰہی سے مشرف ہوتا ہے۔ اِسی مراقبہ سے طالب کو معراج حاصل ہوتی ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

صاحبِ مراقبہ’ مراقبہ میں جب تصورِ اسمِ  ذات کرتا ہے تو تصورِ اسم ذات اُسے مقامِ عین میں پہنچا دیتاہے’ جہاں وہ اپنا مطلب اپنے سامنے پاتا ہے اور وہ مراقبہ میں ایسا غرق ہوتا ہے کہ اُسے نہ ذکر فکر یاد رہتا ہے نہ دم قدم و راحت و غم یاد رہتا ہے۔ نہ اُسے فقر و فاقہ یاد رہتا ہے نہ نفس ذائقہ یاد رہتا ہے۔ نہ اُسے حضور مذکور کی خبر رہتی ہے نہ اُسے دور و نزدیک کا پتہ یاد رہتا ہے۔ نہ اُسے قدر و قضا یاد رہتی ہے اور نہ ہی اُسے حرص و ہوا کا پتہ رہتا ہے۔ پھر وہ کون سے مقام پر پہنچتا ہے؟ اُسے بھلا کیا یاد رہتا ہے؟ ذوق شوق محبت۔ عاشق جب اِس مقام پر پہنچتا ہے تو اُس کا ہر کام مکمل ہو جاتا ہے اور اُس پر ذکر فکر حرام ہو جاتا ہے۔ اِس مقام پر وہ جو کچھ دیکھتا ہے’ خاص ہی دیکھتا ہے۔ (عین الفقر)

جان لے کہ جو شخص خواب یا مراقبہ کے دوران بہشت میں داخل ہو کر بہشتی کھانا کھا لیتا ہے اور بہشتی نہر کا پانی پی لیتا ہے اور حور و قصور کا نظارہ کر لیتا ہے تو پھر اُسے زندگی بھر کھانے پینے کی حاجت نہیں رہتی کہ اُس کے وجود سے بھوک و پیاس ہمیشہ کے لیے مٹ جاتی ہے، زندگی بھر اُسے نیند نہیں آتی خواہ بظاہر وہ سوتا ہوا ہی کیوں نہ نظر آئے اور ایک ہی وضو میں وہ ساری عمر گزار دیتا ہے اور اُس کے وجود میں اِس قدر قوت و تو فیقِ الٰہی پیدا ہو جاتی ہے کہ رات ہو یا دن کسی وقت بھی اس کا سر سجدے سے فارغ نہیں ہوتا اور وہ روز بروز فربہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ بظاہر وہ جو کچھ بھی کھا تا پیتا ہے تو محض لوگوں کی ملامت اور خود کو لوگوں کی نظر سے پوشیدہ رکھنے کے لیے کھاتا پیتا ہے۔ اُس کے لیے موسمِ سرما اور گرما برابر ہوتے ہیں۔ نہ اُسے سردی بھاتی ہے اور نہ ہی گرمی ۔ لیکن یہ مرتبہ بھی ایک خام و کمتر درویش کا مرتبہ ہے ۔ فقیر کو اس مرتبے سے شرم و حیا آتی ہے کہ فقرِ محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) سے یہ مرتبہ بہت دور ہے اور اس کا تعلق نفس و ہوا سے ہے۔ انتہائی مرتبہ یہ ہے کہ خواب و مراقبہ میں دیدارِ الٰہی نصیب ہو جائے جس کی مثال نہیں دی جا سکتی ۔ ایسے خواب و مراقبہ میں صاحبِ مراقبہ کے وجود میں تصورِ اسمِ  ذات ، معرفتِ توحید اور طلب ومحبت سے قہر و جلالیت کی آگ بھڑک اٹھتی ہے جس سے وہ اپنے نفس کو قہر و غضب میں گرفتار کرکے ہر وقت عبادت میں مشغول رہتا ہے، ہر وقت لباسِ شریعت میں ملبوس رہتے ہوئے اتباعِ شریعت میں کوشاں رہتا ہے اور کہتا رہتا ہے کہ”اللہ تعالیٰ کی ذات میں غورو فکر مت کرو بلکہ اُس کی آیات میں غور و فکر کرو۔(کلید التوحید کلاں)

آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی مشہور زمانہ تصنیف لطیف عین الفقر میں مراقبہ کے سات مراتب بیان فرمائے ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

مراتب مراقبہ سات قسم کے ہیں۔ اول مراقبہ جاہل۔ یہ نقلی مراقبہ ہے’ جعل ہے۔ دوم مراقبہ اہلِ بدعت سرود، جیسے کہ دجال کا استدراج ہے۔ سوم مراقبہ ذکر۔ اس مراقبہ میں ذاکر مراتبِ ذکر دیکھتا ہے کہ وہ صاحبِ حال ہوتا ہے۔ چہارم صاحبِ فکر کا مراقبہ جس میں وہ صاحبِ تفکر و صاحبِ احوال ہوتا ہے جس کے بارے میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ”گھڑی بھر کا تفکّر دونوں جہان کی عبادت سے بہتر ہے۔ ”پنجم مراقبہ کامل عارف باﷲ کا ہے جس میں وہ عرفان کا مشاہدہ کرتا ہے۔ ششم مراقبہ مکمل ہے جو معارف اہلِ روح دیکھتا ہے۔ ہفتم مراقبہ فقر ہے جسے زوال نہیں۔ یہ مراقبہ اُس فنا فی اﷲ فقیر کا ہے جو بعینِ ذات غرقِ وحدانیت ہوتا ہے۔ جس کے متعلق حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ” جب فقر کامل ہوتا ہے وہی اﷲ ہے۔ ”

صاحبِ مراقبہ کے مراتب بیان کرتے ہوئے آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

صاحبِ مراقبہ انتہائی عظیم مراتب کا مالک ہوتا ہے کہ وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قدیم باطنی صراطِ مستقیم (غارِ حرا کی عبادت) پر گامزن اہلِ ہدایت ہوتا ہے۔ صاحبِ مراقبہ کا مراقبہ اُس وقت تک ثابت نہیں ہوتا جب تک کہ وہ تصورِ اسم ذات کے ذریعہ مراقبہ نہیں کرتا۔ خاص الخاص مراقبہ تصورِ اسمِ  ذات کا مراقبہ ہے کہ اس کی اساس صحیح ذکر فکر اور تسبیح پر ہے۔ صاحبِ مراقبہ کا مرتبہ اتنا عظیم ہے کہ ہدایتِ الٰہی کا یہ راہی دورانِ خواب باطن میں معرفتِ الٰہی اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا مشاہدہ کرتا ہے اور انبیاء و اولیاء اﷲ سے مجلس و ملاقات کرتا ہے۔ جس کے پاس مراقبہ کے یہ دو گواہ نہ ہوں اس کا مراقبہ غلط ہے بلکہ وہ مراقبہ کی راہ ہی نہیں جانتا۔ مراقبہ ایک ایسا نگہبان و محافظ ہے جو صاحبِ مراقبہ کو خطراتِ نفس و شیطان و دنیائے پریشان سے بچا کر منزل پر منزل اور مقام پر مقام طے کراتا ہوا معرفت الا اﷲ میں غرق کر کے مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں پہنچا دیتا ہے۔ ایسا صاحبِ مراقبہ جب بھی چاہتا ہے طریق تحقیق سے ملازم حضور ہو جاتا ہے۔ عارف باﷲ کا مراقبہ انتہائی کامل مراقبہ ہوتا ہے کہ اس کا باطن معمور ہوتا ہے اور خاتمہ بالخیر ہوتا ہے۔ایسی کامیابی پراُسے مبارکباد ہو۔ (شمس العارفین)

تفکّر کے چار حروف ہیں، ت ف ک ر ۔ حرف ”ت ”سے ترکِ ہوا ، حرف ”ف”سے فنائے نفس حرف”ک” سے کرامتِ روح اور حرف”ر” سے رازِ حق۔ جس تفکّر سے ترکِ ہوا و فنائے نفس نہ ہوا اور کرامتِ روح و رازِحق واضح نہ ہوسکے اُسے تفکّر نہیں کہا جاسکتا ۔ صاحبِ تفکّر کی پہچان کیا ہے؟ یہ کہ وہ اپنے معبود کے اسمِ  ذات میں تفکّر کرتا ہے جس کی برکت سے اُس سے کسی قسم کا گناہ سرزد نہیں ہوتا اور وہ ہمیشہ راہِ راست پر قائم رہتا ہے۔ صاحبِ تفکّر کی اور کیا نشانی ہے؟ یہ کہ وہ ہر دم ذکرِ اسمِ  ذات میں غرق رہتا ہے جس سے اُس کے دِل میں کسی قسم کا نفاق باقی نہیں رہتا اور وہ باطن صفا ہو جاتا ہے۔ صاحبِ تفکّر کی مزید پہچان کیا ہے؟ یہ کہ صاحبِ تفکّر اسمِ  ذات کے ذکرمیں غرق ہو کر ماسویٰ اللہ کے نقوش پر خطِ تنسیخ کھینچ دیتا ہے۔ طالبِ مولیٰ بن جانا بے حد مشکل کام ہے اور مولیٰ کے بھی چار حروف ہیں”م و ل ی” طالبِ مولیٰ وہ آدمی ہوسکتا ہے جو مولیٰ کے ان چار حروف کی موافقت میں چار چیزیں اختیار کرے۔ سب سے پہلے مولیٰ کے حرف ”م” سے موت اختیار کرے کہ جو آدمی زندگی ہی میں موت اختیار کرتا ہے وہ ہمیشہ کے لیے زندہ ہو جاتا ہے ۔ جو آدمی مولیٰ کے حرف”و” کو اختیار کرتا ہے وہ واحد فنا فی اللہ ہو کر تنہائی اختیار کر لیتا ہے۔ جو آدمی مولیٰ کے حرف”ل” کو اختیار کرتا ہے وہ ترکِ لعنت اختیار کرلیتا ہے کہ دنیا کا ذکر کرنے سے لعنت نصیب ہوتی ہے۔ اور جو آدمی مولیٰ کے حرف”ی” کو اختیار کرتا ہے وہ مولیٰ سے یگانہ ہو جاتا ہے اور مولیٰ کے سوا کسی اور کی یاری پسند نہیں کرتا ۔ ایسا ہی صاحبِ تفکّر طالب المولیٰ اؤلیٰ ولی اللہ ہوتا ہے۔ جو آدمی ان صفات سے متصف ہو جاتا ہے وہ دِل و جان سے طالبِ مولیٰ ہوتا ہے ورنہ غولِ بیابانی(جنگل بیابان کا جن بھوت) ہوتا ہے۔ ”اَلْعِلْمُ نُکْتَۃٌ” یعنی علم تو ایک نکتہ ہے۔(محک الفقر کلاں)

جب مرشد طالب اللہ کو اسمِ  ذات کے تصور و ذکر کا تفکّر بخشتا ہے اور طالب اپنی خودی سے دست بردار ہو کر بے خود ہوجاتا ہے اور جب خواب نما تفکّر کے اُس مراقبہ میں دنیا و عقبیٰ اور کونین کی زیب و زینت اُس کے سامنے لائی جاتی ہے تو وہ اشتغال اللہ میں پیش آنے والے اسم ذات کے انوار کو دونوں جہان سے بہتر سمجھتا ہے اور اُس کے مقابلہ میں دونوں جہان کو کمتر سمجھتا ہے۔ یہاں پر اسمِ  ذات کا غیر مخلوق نور مخلوق انسان کو اپنی طرف اس شان سے کھینچتا ہے کہ اُسے غیر ماسویٰ اللہ کی طرف جانے ہی نہیں دیتا۔اُس کا سارا اختیار چھین کر حق الحق مختار کے تابع کر دیتا ہے ۔اٰ مَنَّا وَصَدَ قْنَا یعنی ہم نے مانا اور اُس کی تصدیق کی۔ جو آدمی اس بات کا انکار کرتا ہے وہ وحدتِ ربانی کا انکار کرتا ہے۔تفکّر اؤلیائے اللہ کی تربیت کا نتیجہ ہے۔ تفکّر کی صورت سِرّ کی ہے چنانچہ آدمی کے وجود میں ایمان کی صورت اسمِ  ذات کے نور کی سی ہے اولیائے اللہ جب انتقال کرتے ہیں تو اُن کے ایمان کی صورت اُن کے جسم سے باہر آجاتی ہے اور اہلِ جنازہ کے ساتھ مل کر اپنا جنازہ خود پڑھتی ہے۔ عارفانِ الٰہی اور اولیائے اللہ کے علاوہ ایمان کی اُس صورت کو کوئی نہیں جانتا ۔ جس روحِ پاک کی صورتِ ایمان ایسی ہو اُسے یومِ حشر کے حساب کتاب کا کیا خطرہ؟ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:-”خبردار ! بے شک اولیائے اللہ پر کوئی خوف ہے نہ غم۔” حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہر وقت تفکّر میں غرق رہتے تھے اور شجرۃ النور مغفور کی صورت میں ہر وقت معراجِ حضور سے مشرف رہتے تھے۔ اُن کی یہ کیفیت خلقِ خدا وندی میں مشہور ہے۔ عالمِ غیب کے ان عجائبات میں شک نہ کر کہ یہ راہِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا نتیجہ ہیں۔جو ان میں شک کرے وہ کافر ہے ۔ میں اس سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ۔ جوآدمی ایمان اور صورتِ ایمان جو نورِ اسمِ ذات ہے پر یقین نہیں رکھتا وہ محض اپنے ایمان کو برباد کرتا ہے اور وہ منافق و بے ایمان ہے۔تفکّر کی شرح یہ بھی ہے کہ جب کوئی صاحبِ تفکّر غرق فنا فی اللہ کے انتہائی تفکّر کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو وہ اسمِ  ذات کی معیت میں دائمی سلامتی کے مراتب پر پہنچ جاتا ہے اور اُس کی برکت سے دونوں جہان سلامت رہتے ہیں وہ اس لیے کہ ایک دن حضرت رابعہ بصریؒ ایک ہاتھ میں پانی کا پیالہ اور دوسرے ہاتھ میں آگ کے انگارے لیے جارہی تھیں کہ لوگوں نے پوچھا ”اے رابعہؒ ! یہ کیا ماجرا ہے؟ آپؒ نے جواب دیا ”میں چاہتی ہوں کہ آگ سے جنت کو جلا دوں اور پانی سے جہنم کو بجھادوں کہ ان دونوں نے لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کر رکھا ہے اور طلبِ الٰہی کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتا۔” تفکّرِ طلبِ مولیٰ کا مرتبہ یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کا فرمان ہے ”گھڑی بھر کا تفکّر دونوں جہان کی عبادت سے افضل ہے۔”(محک الفقر کلاں)

تفکّر بھی تین قسم کا ہے ۔

ابتدائی درجے کا تفکّر
درمیانے درجے کا تفکّر
انتہائی درجے کا تفکّر۔

1.   ابتدائی درجے کا تفکّر ایک سال کی عبادت سے افضل ہے کہ اُس میں صاحبِ تفکّر جب ذکر فکر شروع کرتا ہے تو ابتداہی میں اس پر شدید خوفِ موت طاری ہو جاتا ہے۔ اور وہ موت کے خیال سے کسی وقت بھی فارغ نہیں ہوتا۔ حیاتِ دنیا سے اُمید توڑ بیٹھتا ہے اور ہر دم ، ہر گھڑی اور ہر روز خود کو مسافر گر دانتا ہے۔

خاص خلوت خانہ باشد قبور
از جدائی خلق بہ خالق حضور
عارفاں را قبر از حق شد خبر
شد وجودِ ذاکر عارف سر بہ سر

ترجمہ:-”عارفوں کی قبریں اُن کے لیے خاص خلوت گاہ ہوتی ہیں جہاں وہ خلق سے جدائی اختیار کرکے معیتِ خالق اختیار کیے رہتے ہیں۔ قبر عارفوں کو ذاتِ حق کی آگاہی بخشتی ہے کہ قبر میں پہنچ کر عارف کا سارا وجود ذاکر بن جاتا ہے۔”

عزرائیل علیہ السلام عارفوں کے ان احوال سے بے خبر رہتے ہیں کہ اولیائے اللہ فقیر مرتے نہیں بلکہ وہ زندہ رہ کر ہر وقت اسمِ ذات کے نور میں غرق رہتے ہیں۔جس آدمی کو تصورِ اسمِ ذات سے ایسی زندگی نصیب ہوجاتی ہے اور وہ غرقِ تجلیات ہو کر فنا فی اللہ ذات ہو جاتا ہے وہ ہر وقت خوف میں مبتلا رہتا ہے۔ اسی لیے فرمایا گیا ہے کہ” جو جتنا عارف ہوتا ہے اُتنا ہی عاجز ہوتا ہے۔”یہی وجہ ہے کہ عارف کبھی خوف کی حالت میں ہوتا ہے اور کبھی اُمید کی حالت میں۔وہ غیر و غیریت سے نکل کر ہر وقت حیرت میں ڈوبا رہتا ہے ، اُس کی یہ حیرت حضورئ حق کی وجہ سے ہوتی ہے۔

ذکر فکر سیرے از اسرار حق
زیر پائے ذاکرانش نہ طبق

ترجمہ:”ذکر و فکر سے اسرارِ حق کی وہ سیر نصیب ہوتی ہے کہ نو(9)طبق ذاکر کے قدموں کے نیچے آجاتے ہیں۔”

نظر بالا عرش تر نہ یک مقام
ناظرے بہ ایں نظر ذاکر تمام

ترجمہ:”ذاکر کی نظر بالائے عرش چلی جاتی ہے جہاں سے نو (9)طبق محض ایک مقام نظر آتے ہیں۔ جس ذاکر کو ایسی نظر حاصل ہوجائے وہ ذاکرِ کامل کہلاتا ہے۔”

ہر کرا از دیدہ دِل واز شد
درمیانِ ذاکراں شہباز شد

ترجمہ:”جس ذاکر کی چشمِ دِل روشن ہو جاتی ہے وہ ذاکروں کا شہباز کہلاتا ہے۔”

ھوؒ !درمیان شیر و روباہ دور تر
شغال روباہ را بود پس با نظر

ترجمہ:”اے باھُوؒ ! شیر و لومڑی میں بڑا فرق ہے۔ گیدڑ و لومڑی کی نظر ہمیشہ پستی پہ رہتی ہے۔”

2.   درمیانے درجے کا تفکّر وہ ہے کہ جس سے ذکرِ سلطانی پیدا ہوتا ہے جسے سیرِسِرّ مشاہدہ نور اللہ مطلق رحمانی کہتے ہیں۔اس تفکّر میں سب سے پہلے وہ ذکر کھلتا ہے جس سے سات و لائتوں کی بادشاہی ہاتھ آتی ہے۔ اس کے بعد ذکرِ سلطانی کھلتا ہے جس کا ذاکر سلطان العارفین ، سلطان الواصلین، سلطان الصابرین، سلطان العاملین، سلطان العاشقین اور سلطان الذاکرین کہلاتا ہے ۔ سلطان الذاکرین کی نشانی کیا ہے؟ یہ کہ ذکرِ سلطانی مطلق عین العیانی(ذاتِ حق کو بلا حجاب دیکھنے ) کاعمل ہے بلکہ یہ عمل اللہ تعالیٰ کی قدرت و سرِّ سبحانی ہے کہ سلطان الذاکرین خطراتِ شیطانی اور وہماتِ نفسانی سے فارغ ہوتا ہے کیونکہ اس ذکر کا تعلق روح سے ہے اور صاحبِ روح کو رنج و زحمت و بلا بھی خوشگوار لگتی ہے۔ اور وہ اس سے خوش ہوتا ہے جس طرح بچے اورلڑکے مٹھائی و حلوا کھا کر خوش ہوتے ہیں۔ ایسے ذاکر کے دِل کو مضبوط دِل کہتے ہیں۔ دِل بھی تین قسم کے ہوتے ہیں ۔ اہلِ محبت کا دِل پہاڑ کی مثل ہوتا ہے۔ وہ ہلتا ہے نہ لرزتا ہے۔ صدیقین کا دِل مضبوط جڑ والے درخت کی مثل ہوتا ہے جو زمینِ شوق سے کبھی جدا نہیں ہوتا ۔ عاشقوں کا دِل درخت کے پتوں کی مثل ہوتا ہے جو عشق کی گرمی و حرارت اور بادِ خزاں کے تھپیڑے کھا کھا کر کبھی برہنہ اور کبھی پوشیدہ ہوتا رہتا ہے۔ اس دِل کی بہار وصالِ یار سے ہے۔ بے یار بہار کس کام کی؟ جو دِل ذکرِ اللہ کے شغل میں محو رہتا ہے وہ معیتِ پروردگار میں غرق رہتا ہے اور جو دِل نجاستِ کفر سے آلودہ ہو کر مر جاتا ہے وہ اپنے گلے میں زنار پہنے رہتا ہے۔ ایسے دِلوں سے ہزار بار استغفار توبہ۔ صاحبِ معرفت کے لیے ضروری ہے کہ وہ چشمِ معرفت حاصل کرے۔ ایسی آنکھ کہ جس کی بینائی اسرارِ الٰہی کا مشاہدہ کرکے باخدا ہوسکے اگرچہ چشمِ معرفت دیگر چیز ہے لیکن اس میں لوگوں کی دلداری کا پورا پورا سامان ہے۔ عارف جس چیز کی طرف بھی دیکھتا ہے اُس میں نورِ الٰہی ہی دیکھتا ہے وہ حسنِ خلق کو نہیں دیکھتا کہ حسنِ خلق پر نظر رکھنا گمراہی ہے۔ اے صاحبِ علم معرفتِ الٰہی حاصل کر تاکہ معرفت تجھے ”کُن فَیَکُونَ”کے مرتبے پر پہنچا دے۔ یہ پیشہ و فکر اندیشہ ذکرِ سلطانی سے حاصل ہوتا ہے اور ذکرِ سلطانی اُس ذکر کو کہتے ہیں جس میں تمام وجود ذکرِ اللہ سے معمور ہو جاتا ہے اور وجود کے اندر گمراہی اور گناہ کا عمل دخل ختم ہوجاتا ہے۔ذکرِ سلطانی چار اذکار کا مجموعہ ہے یعنی ذکرِ زبان ، ذکرِ قلب، ذکرِ روح اور ذکرِ سِرّ۔ ذکرِ سلطانی میں گھڑی بھر کا تفکّر ستر سال کی عبادت سے افضل ہے اگرچہ اس تفکّر میں کبھی غیرت ، کبھی حیرت، کبھی جذبِ جلالی اورکبھی وجدِ جمالی کا غلبہ رہتا ہے۔ ان حالات میں صاحبِ مشاہدہِ وصال کو خبردار رہنا چاہیے کہ اس مقام پر غلباتِ ذکر اور انتہائے سکر کی وجہ سے کفر و شرک و اَنا کا غلبہ ہوجاتا ہے جس سے بعض طالب اَنا کی مستی میں گرفتار ہو کر ابلیس کی طرح راندہِ درگاہ ہو جاتے ہیں اس راہ میں ثابت قدم رہنے کے لیے لازم ہے کہ صاحبِ تفکّر کی نظر اسمِ  ذات اور حق الیقین کے مرتبے پر رہے۔

3.   انتہائی درجے کا تفکّر یہ ہے کہ جو فقیر چار افکار یعنی فکرِ ازل ، فکرِ ابد، فکرِ دنیا، فکرِ عقبیٰ چار اذکار یعنی ذکرِ زبانی جو محض عادت ہے، ذکرِ قلبی جو ارادت ہے، ذکرِ روحی جو عبادت ہے اور ذکرِ سِرّی جو عین سعادت ہے، چار دموں یعنی دمِ ناسوت، دمِ ملکوت ، دمِ جبروت اور دمِ لاھُوت، چار نفسوں یعنی نفسِ امارہ، نفسِ ملہمہ، نفسِ لوامہ اور نفسِ مطمئنہ، چار مقامات یعنی مقامِ شریعت، مقامِ طریقت، مقامِ حقیقت اور مقامِ معرفت میں سے ہر مقام کو طے کرکے پسِ پشت نہیں ڈال دیتا ، ہر ایک کو بھلا نہیں دیتا ، اپنا رُخ نورِ اللہ کی طرف کرکے غرق فنا فی اللہ ، فنا فی فنا، بقا فی بقا اور مغفور فی مغفور نہیں ہو جاتا اور مراتبِ قرب و وصال حاصل کرکے عین بعین صاحبِ حضور نہیں ہوجاتا اُسے فقیر نہیں کہا جا سکتا کہ ابھی تک اُس میں ”ہم اور مَیں” کی بُو سمائی ہوئی ہے۔حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے:نَفْسُکَ عَدُ وُّکَ فِیْ جَنْبِکَ(ترجمہ: تیرے وجود میں تیرا نفس ہی تیرا دشمن ہے) بعض فقیروں کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے ساتھ پابند کرکے دونوں جہان کو اُن کا غلام اور دنیا و اہلِ دنیا کو اُن کا پابوس (قدم بوسی کرنے والا) بنا دیتے ہیں اور اُنہیں ترک و توکل ، توحید ، صبر و شکر ، معرفت اور ذکر و فکرِ الٰہی بخش دیتے ہیں جس سے وہ مستغنی ہو کر ہر وقت غرق باخدا رہتے ہیں۔ جس آدمی پر فقر و فاقہ (یعنی رزق کی فکر) غالب آجاتا ہے اور اُسے اپنا قیدی بنا لیتا ہے تو اُسے در بدر کا گدا بنا کر رُسوا کرتا ہے اور وہ وصالِ حق سے محروم ہو جاتا ہے اس لیے اے مردِ حق! فقر میں تفکّر کر کہ فقر تو حیدِ الٰہی کا نور ہے جو اسمائے الٰہی کے ذکر سے دِل کی گہرائیوں سے طلوع ہوتا ہے۔(محک الفقر کلاں)

انتہائے تفکّر پر پہنچنا بہت ہی مشکل کام ہے اس لیے تفکّر کی اس راہ میں ایسے صاحبِ تفکّر مرشد کا ہاتھ پکڑ جو کامل فقیر ہو۔(محک الفقر)

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ تفکر کے بارے میں مزید فرماتے ہیں:

بے شک جب طالبِ صادق اور صاحبِ تصرف مرشدِ کامل مکمل اکمل ایک دوسرے سے پُر خلوص ملاقات کرتے ہیں تو مرشد اگر چاہے تو طالب کو مشرق سے مغرب تک تمام جہان کا تصرف بخش دے اور اگر چاہے تو مجلسِ محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) میں حاضر کرکے مَناصِبِ فقر سے سرفراز کرا دے۔ اس پر تعجب و اعتراض نہ کر کہ صاحبِ باطن کی مہربانی کے بغیر مقصودِ باطن حاصل نہیں ہوتا۔ البتہ طالب کے لیے ضروری ہے کہ وہ طالبِ صادق ہو۔ یہی وہ کامل تفکّر ہے جو دونوں جہان کی عبادت سے افضل ہے اور اسی کے بارے میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ”گھڑی بھر کا تفکّر دونوں جہان کی عبادت سے بہتر ہے۔”(کلید التوحید کلاں)

جان لے کہ جب کوئی ایسا صاحبِ تصرف کہ جسے تصورِ اسمِ  ذات اور باترتیب کلمہ طیب پڑھنے پر تصرف حاصل ہو اور مجلسِ محمدی ؐ کی حضوری سے بھی مشرف ہو اپنی آنکھیں بند کرتا ہے اور مراقبہ میں غرق ہو کر تصورِ اسمِ  ذات کی تلوار ہاتھ میں پکڑتا ہے تو گویا وہ قتل کرتا ہے عمر بھر کے تمام صغیرہ و کبیرہ گناہوں کو، قتل کرتا ہے نفس و شیطان کو، قتل کرتا ہے خناس، خرطوم اورجملہ خطرات کو اور تہہِ تیغ کرتا ہے زمین بھر کے دارالحرب کو۔حضور علیہ الصلوٰ ۃ ولسلام کا فرمان ہے: -”گھڑی بھر کا تفکّر دونوں جہان کی عبادت سے افضل ہے ۔” اس قسم کے ذکرِ مدام، تفکّرِ تمام اور مراقبہِ حضوریِ مجلسِ حضور علیہ الصلوٰۃ ولسلام کو مجموعتہ الحسنات کہتے ہیں اور یہ اس فرمانِ حق تعالیٰ کے عین مطابق ہے کہ”بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں ۔” یہ تذکرہ ہے ذکر کرنے والوں کا۔(کلید التوحید کلاں)

جان لے کہ علمِ فقہ و نص وحدیث کے عالم و صاحبِ تفسیر کا مرتبہ اور ہے۔صاحبِ وِرد و وظائف و صاحبِ ذکر فکر باتاثیر کا مرتبہ اور ہے۔ ایک تفکّر ہے جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں کیا جاتا ہے ، اُس سے دِل میں محبت پیدا ہوتی ہے۔ ایک تفکّر ہے جو اللہ تعالیٰ کے احسان میں کیا جاتا ہے اُس سے دِل میں حیا پیدا ہوتی ہے۔ ایک تفکّر ہے جو اللہ تعالیٰ کے وعدہ وعید میں کیا جاتا ہے اُس سے دِل میں خوف پیدا ہوتا ہے۔ ایک تفکّر ہے جو اللہ تعالیٰ کی معرفت میں کیا جاتا ہے اُس سے دِل میں نورِ توحید پیدا ہوتا ہے۔ ایک تفکّر ہے جو علمِ قرآن میں کیا جاتا ہے اُس سے دِل میں اعمالِ صالحہ کا شوق پیدا ہوتا ہے۔ایک تفکّر ہے جو معاملاتِ دنیا میں کیا جاتاہے اُس سے دِل میں سیاہی اور شیطانی منصوبہ بندی پیدا ہوتی ہے۔جہان بھر میں دنیا اور اہلِ دنیا سے بدتر چیز اور کوئی نہیں ہے۔ عجیب احمق لوگ ہیں وہ جو اس بدتر چیز کو اللہ کے نام پر، دینِ محمدی ؐ پر اور فقر محمدی(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) پر ترجیح دیتے ہیں۔ مومن و مسلمان وہ ہے جو

1.    ہمیشہ اللہ تعالیٰ کو حاضرو ناظر اور ہر قدرت پر غالب ماننے کا فرض ادا کرتا رہتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو حاضرناظر اور غالب ماننا فرضِ عین ہے اور تمام فرائض سے عظیم تر ہے۔

2.   اللہ کی راہ میں اپنا گھر بار لٹا کر حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی عظیم سنت ادا کرتا ہے کہ یہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سنتوں میں بزرگ ترین سنت ہے ۔ اس فرض و سنت پر عمل درآمد صرف اہلِ اللہ ہی کرتے ہیں۔(کلید التوحید کلاں)

تفکر اور ذکرِ اوہام سے حاصل ہونے والے وصالِ وحدت کے بارے میں سلطان الفقر و سُلطا نُ الوَہم فرماتے ہیں:-

ترجمہ:

1.   تفکّر اوہام کے ساتھ ہو تو وصالِ وحدت بخشتا ہے اور معیتِ مولیٰ میں غرق کرکے وبالِ ہستی سے نجات دلاتا ہے۔

2.  وَھم بادشاہ ہے، تفکّر اس کا وزیر ہے اور تذکر اس کا دلپذیر لشکر ہے۔

3.   اگرکسی کو تجرد و تفکّر کا زادِ راہ میسر آجائے تو اس توشۂ ہمت سے وہ بادشاہ بن جائے گا۔

4.   جب وَھم تجھے عالمِ وصال تک پہنچا دے گا تو تیرا وجود اس کی محبت سے کمال پذیرہو جائے گا ۔

5.   جب میں اوہام کی مدد سے مراتبِ یقین پر پہنچا تو تمام جہان میری تدبیر کے غلام بن گئے۔

6.   جب سلطان الوھم(مرشدِ کامل)اپنے کمال کا ظہور فرماتا ہے تو دِل میں دم بہ دم نورِ جمال کے سینکڑوں جلوے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔۷۔اگر تُو خود کو اس وھم؂۱ سے آراستہ کرلے تو تُو حقیقت کو پالے گا اور خود کو بھی پالے گا۔(محک الفقر کلاں)

7.  اگر تُو خود کو اس وھم؂۱ سے آراستہ کرلے تو تُو حقیقت کو پالے گا اور خود کو بھی پالے گا۔(محک الفقر کلاں)

بہ اوہام حالش برآور توسیر
اگر وصل خواہی بروں شوزغیر

ترجمہ: اوہام کی مدد سے تو اُس کے احوال کی سیر حاصل کر اگر تو وصالِ حق چاہتا ہے تو غیر حق سے جدا ہوجا۔(محک الفقر کلاں)

آپؒ اپنے پنجابی ابیات میں فرماتے ہیں:-

ذکر کنوں کر فکر ہمیشاں، ایہہ لفظ تکھا تلواروں ھُو
کڈھن آہیں تے جان جلاون، فکر کرن اسراروں ھُو
ذاکر سوئی جیہڑے فکر کماون، ہک پلک ناں فارِغ یاروں ھُو
فکر دا پھٹیا کوئی نہ جیوے، پٹے مڈھ چا پاڑوں ھُو
حق دا کلمہ آکھیں باھوؒ ،ربّ رکھے فکر دِی ماروں ھُو

آپؒ فرماتے ہیں کہ اے طالب تو ذکر( اسمِ ذات) اور تفکّر کیا کر کیونکہ جب ذکر اور فکر آپس میں مل جاتے ہیں تو اِن کی تاثیر تلوار سے بھی تیز ہوتی ہے۔ تفکّر سے ہی اﷲ تعالیٰ کے اسرار اور بھید سے آشنائی ہوتی ہے۔ اہلِ تفکّر جب اسرارِ الٰہیہ سے واقف ہوتے ہیں تو ان کے دِل سے پردرد اور پر سوز آہیں نکلتی ہیں جو وساوس’ خناس اور خواہشاتِ دنیا کو جلا کر راکھ کر دیتی ہیں۔ اصل ذاکر تو وہ ہیں جو اسمِ  ذات کے تفکّر میں محو رہتے ہیں اور ایک لمحہ بھی فارغ نہیں ہوتے۔ تفکّر سے وہ اسرار اوربھید القاء ہوتے ہیں جو کسی اور ذریعہ سے ہو ہی نہیں سکتے۔ آپؒ فرماتے ہیں ہمیشہ کلمہ حق کہتے رہنا چاہیے اور گمراہ کرنے والے فکر سے اﷲ تعالیٰ کی ذات ہمیشہ محفوظ رکھے۔

گمراہ کرنے والے تفکّر کے بارے میں سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:-

اے درویش ! غور کر، تیرا فکر و غم حق سبحانہٗ کی خاطر ہونا چاہیے نہ کہ اولاداور رزق کی خاطر کہ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:-”زمین میں کوئی جاندار ایسا نہیں جس کی روزی کا ذمہ خود اللہ نے اُٹھانہ رکھا ہو۔”(ھود 6) فرمانِ حق تعالیٰ ہے:-”ہم نے دنیا میں اُن کی روزی تقسیم کردی ہے اور بعض کو بعض پرفوقیت دے دی ہے ۔” (الزخرف32) فرمانِ حق تعالیٰ ہے:-”بے شک اللہ روزی دینے والا اور زبر دست قوت والاہے۔”(الذٰرِیت 58) فرمانِ حق تعالیٰ ہے:-”اور تمہاری روزی کا بندوبست آسمانوں میں ہے جس کا وعدہ تم سے کیا گیا ہے۔”(الذٰرِیت 22) فرمانِ حق تعالیٰ ہے:-”اور کتنے ہی جانور ہیں جو اپنی روزی اپنے ساتھ اُٹھا کر نہیں چلتے کہ اُنہیں روزی اللہ دیتا ہے اور تمہیں بھی روزی دینے والا اللہ ہی ہے کہ وہی ہے جو ہر ایک کی سنتا ہے اور ہر ایک کے حالات کو جانتا ہے۔(العنکبوت 60) (محک الفقر)

دن رات انسان دنیا بنانے کے لیے سوچ و بچار (تفکّر) میں مصروف رہتا ہے۔ غفلت انسان کو عباداتِ شریعت کی طرف آنے نہیں دیتی اور جو عباداتِ شریعت (نماز’ روزہ’ حج’ زکوٰۃ’ تلاوت قرآن) تک پہنچ چکے ہیں وہ اسی میں مگن ہیں اس سے آگے بڑھنے کے بارے میں سوچتے ہی نہیں ظاہری عبادات اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا راستہ ضرور ہیں لیکن منزل نہیں ہیں۔ جو جہاں پر ہے اسی مقام میں مگن اور غفلت کا شکار ہے۔ ہم اپنے بارے میں’ اپنے بیوی بچوں’ گھر بار’ کاروبار’ عزیز رشتہ داروں اور دوستوں کے بارے میں ہر لمحہ سوچتے اور غوروفکر کرتے رہتے ہیں کیا ہم نے کبھی مقصدِ حیات کے بارے میں غور کیا ہے؟ چونکہ بندے کی زندگی کا مقصد اللہ کو پانا ہے اور جو اس مقصد سے غافل رہے گا وہ ناکام و نامراد ہو جائے گا۔

”تو اپنی اولاد کے لیے بڑی فکر میں رہتا ہے کیا تو اللہ تعالیٰ سے بھی بڑاربّ ہے۔”(عین الفقر)

حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اﷲ علیہ کی تعلیمات سے واضح ہوتا ہے کہ مراقبہ اور تفکّر صرف اس طالبِ مولیٰ کو فائدہ دیتا ہے جو تزکیۂ نفس، تصفیۂ قلب ،تجلّیہ روح اورتجلّیہ سِرّکی راہ پر چل پڑے ہوں اوردیدارِ حق تعالیٰ بھی مراقبہ اور تفکّر میں انہی کو حاصل ہوتا ہے ورنہ اہلِ دنیا کے لئے یہ شیطانی کھیل ہے اور اہلِ حجاب کا مراقبہ یا تفکّر بے فائدہ اور گمراہ کرنے والا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ایسے تفکّر سے محفوظ رکھے۔