طالبِ مولیٰ

دِل میں کسی خاص چیز کے حصول کی خواہش اور ارادہ کا نام طلب ہے، اور حصولِ طلب کا جذبہ دِل میں ہی پیدا ہوتا ہے۔ جو انسان اپنے دِل میں اللہ تعالیٰ کی پہچان ، دیدار اور معرفت کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کی خواہش کو” طلبِ مولیٰ ” اور اسے طالبِ مولیٰ یا ارادت مند کہتے ہیں، جسے عام طور پر سالک ، طالب یا مرید کے نام سے بھی موسوم کیا جا تا ہے۔
دنیا میں تین قسم کے انسان یا انسانوں کے گروہ پائے جاتے ہیں:

1۔  طالبانِ دنیا :

جو انسان اپنے علوم وفنون ، کمالات اور کوشش و کاوش دنیا کو حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اُسے ہی اپنی زندگی کا مقصد قرار دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ ان کا ذکر فکر ، عبادات وریاضت، چلہ کشی، ورد و وظائف کا مقصد بھی دنیاوی مال ومتاع کا حصول یا اس میں اضافہ ہے۔ دنیاوی آسائش کے حصول اور دنیاوی ترقی و عزّوجاہ کو وہ کامیابی گر دانتے ہیں۔

2۔  طالبانِ عقبیٰ:

جن کا مقصود آخرت کی زندگی کو خوشگوار بنانا ہے ۔ ان کے نزدیک نارِ جہنم سے بچنا اور بہشت، حورو قصور اور نعمت ہائے بہشت کا حصول ہی اصل کامیابی ہے۔ اس لیے یہ عبادت ، ریاضت ، زہد و تقویٰ، صوم و صلوٰۃ، حج ، زکوٰۃ، نوافل ، ذکر اذکار اور تسبیحات سے آخرت میں خوشگوار زندگی کے حصول کی کوشش کرتے ہیں ان کے نزدیک یہی زندگی کا مقصدہے۔

3۔ طالبانِ مولیٰ:

جن کی عبادات اور جدو جہد کا مقصود صرف دیدارِ حق تعالیٰ اور اُس کا قُرب و وصال ہے۔ یہ نہ تو دنیا کے طالب ہوتے ہیں اور نہ بہشت حورو قصور اور نعمت ہائے بہشت کے۔ ان کا مقصد ذاتِ حق تعالیٰ ہوتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے طالب اور عاشق ہوتے ہیں ۔ اس طلب کے لیے یہ دونوں جہانوں کو قربان کر دیتے ہیں اور دنیاوعقبیٰ کو ٹھکرا کر ذاتِ حق کے دیدار کے متمنی رہتے ہیں۔

”عارفین ہمیشہ طالبِ مولیٰ بننے کی تلقین کرتے ہیں”

ان تینوں گروہوں کو اس حدیث قدسی میں بیان کیا گیا ہے:

talib-e-maula1

ترجمہ: دنیا کا طالب (مخنّث) ہیجڑہ ہے’ عقبیٰ کا طالب (مؤنث) عورت ہے اور طالب مولیٰ مذکر(مرد) ہے۔

سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

مرد مذکرّ کِسے کہتے ہیں؟ مرد مذکرّ وہ ہے جس کے دِل میں بجز طلبِ مولیٰ اور کوئی طلب ہی نہ ہو۔ نہ دنیا کی طلب ، نہ زینتِ دنیا کی طلب ،نہ حورو قصور کی طلب،نہ میوہ و براق کی طلب اور نہ لذتِ بہشت کی طلب کہ اہلِ دیدار کے نزدیک یہ سب کچھ فضول اور بے کار چیز یں ہیں کیونکہ اِن کے دِلوں میں اسمِ ذات نقش ہے اور یہ یومِ اَلست ہی سے اسمِ  ذات کی مستی میں غرق چلے آرہے ہیں اور جن لوگوں نے اسمِ  ذات کو اپنا جسم وجان بنالیا وہ دونوں جہان میں غم والم سے آزاد ہوگئے۔(عین الفقر)

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے طلبِ مولیٰ کے بارے میں فرما یا ہے:

talib-e-maula2

ترجمہ: جو شخص کسی چیز کی طلب کرتا ہے وہ اس میں کبھی بھلائی نہیں پاتا اور جو شخص مولیٰ کی طلب کرتا ہے اُس کے لئے سب کچھ ہے۔

talib-e-maula3

ترجمہ:جودنیا طلب کرتاہے اُسے دنیا مِلتی ہے جو عقبیٰ(آخرت)کا طلبگار ہوتا ہے اُسے عقبیٰ ملتی ہے اور جو مولیٰ کی طلب کرتا اُسے سب کچھ ملتا ہے۔

talib-e-maula4

ترجمہ: دنیا اہلِ عقبیٰ پر حرام ہے۔ عقبیٰ اہلِ دنیا پر حرام ہے اور طالبِ مولیٰ پر دنیا و عقبیٰ دونوں حرام ہیں جسے مولیٰ مل گیا سب کچھ اسی کا ہوگیا۔

talib-e-maula5

ترجمہ: اِن کے اجسام دنیا میں اور اِن کے دِل آخرت میں ہیں وہ دائمی نماز دِل میں ادا کرتے ہیں۔

حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا :-

talib-e-maula6

ترجمہ:”جو اللہ کا ہوگیا اللہ اس کا ہوگیا”

talib-e-maula7

”بہترین طلب اللہ تعالیٰ کی طلب ہے اور بہترین ذکر” ” (یعنی اسم ذات ) کا ذکر ہے۔”

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فرما ن ہے :

‘میں اللہ تعالیٰ کی عبادت جنت کی طلب یا دوزخ کے خوف سے نہیں کرتا بلکہ میں اللہ کی عبادت اس لیے کرتا ہوں کیونکہ وہی عبادت کے لائق ہے۔”

حضرت امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے کانوں سے حضرت فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ کو یہ فرماتے سنا کہ” طالبِ دنیا رسوا اور ذلیل ہوتا ہے ۔”( باب 10تذکرۃُ الاولیاء)

غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ طالبِ مولیٰ کے بارے میں فرماتے ہیں :
”دنیا کے طالب بہت ہیں اور عقبیٰ کے کم اور طالبِ مولیٰ بہت ہی کم ہیں لیکن وہ اپنی کمی اور نایابی کے باوجود اکسیر کا حکم رکھتے ہیں ان میں تانبے کو زرِّ خالص بنانے کی صلاحیت ہے ۔ وہ بہت ہی شاذو نادر پائے جاتے ہیں ۔وہ شہروں میں بسنے والوں پر کو توال مقرر ہیں ۔ ان کی وجہ سے خلقِ خدا سے بلائیں دور ہوتی ہیں انہی کے طفیل اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش نازل کرتا ہے ۔ اور انہی کے سبب زمین قسم قسم کی اجناس اور پھل پیدا کرتی ہے ۔ابتدائی حالت میں وہ شہر در شہر اور ویرانہ در ویرانہ بھاگتے پھرتے ہیں ،جہاں پہچانے جائیں وہاں سے چل دیتے ہیں پھر ایک وقت آتا ہے کہ ان کے ارد گرد خدائی قلعے بن جاتے ہیں ۔الطافِ ربانی کی نہریں انکے دلوں کی طرف جاری ہو جاتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا لشکر انہیں اپنی حفاظت میں لے لیتا ہے ۔وہ مکرم و محفوظ ہو جاتے ہیں۔ اب خلقت پر توجہ کرنا ان پر فرض ہو جاتا ہے اوروہ طبیب بن کر مخلوقِ خدا کا علاج کرتے ہیں لیکن یہ تمام باتیں تمہاری عقل اور فہم سے بالا تر ہیں ۔(الفتح الربانی)

شیخِ اکبر محی الدین ابنِ عربی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

”معرفتِ الٰہی کے قابل وہ شخص ہے جس کی ہمت بلند ہو یعنی نہ وہ دنیا کا طالب ہو نہ آخرت کا طالب بلکہ محض حق تعالیٰ کی ذات کا طالب ہو۔(شرح فصوص الحکم والایقان)

علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ کے کلام میں جابجا طالبِ مولیٰ سے خطاب کیا گیا ہے اور عبادت کے بدلے میں کسی جزا اور اجر کی تمنا رکھنے کو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے سوداگری قرار دیا ہے اور ہر عمل اور عبادت صرف بے غرض ہو کر اللہ تعالیٰ ہی کے لیے کرنے کی تلقین فرمائی ہے:

talib-e-maula8

جاوید نامہ میں آپؒ مُلاّ (طالبِ عقبیٰ) اور عاشق کی جنت کا فرق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

talib-e-maula9

ترجمہ:

1.    ایک طالبِ مولیٰ ( عاشق) کی روح جو کہ محبوبِ حقیقی کے لیے تڑپ رہی ہوتی ہے’ بہشت میں نہیں سماسکتی۔

2.  مُلاّ (طالبِ عقبیٰ)کی جنت تو شرابِ طہور حوروغلمان والی جنت ہے اور عاقوں کی جنت ہمیشہ سیرِ دوام (دیدارِ حق) میں مصروف رہنا ہے۔

3.  مُلاّ(طالبِ عقبیٰ) کی جنت کھانا’ پینا اور جنت کا عیش و آرام ہے اور عاشق کی جنت محبوبِ حقیقی کا دیدار ہے۔

4.  مُلاّ (طالبِ عقبیٰ)کے مطابق قیامت قبر کے کھلنے اور صورِ اسرافیل پر مُردوں کے اٹھنے کا نام ہے’ لیکن ایک عاشق قیامت سے پہلے ہی قیامت (محبوبِ حقیقی کا دیدار) دیکھ لیتا ہے۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنی تصانیف میں تمام گفتگو طالبانِ دنیا’ طالبانِ عقبیٰ اور طالبانِ مولیٰ کے معاملات پر کی ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی نگاہ میں عوام طالبانِ دنیا ہیں’ خواص یعنی علماء’ عابد’ زاہد اور متقی پرہیزگار طالبانِ عقبیٰ ہیں اور خاص الخاص لوگ انبیاء و اولیاء کرام ، صدیقین اور صالحین طالبانِ مولیٰ ہیں۔

حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں:

جاننا چاہیے کہ طالبِ اللہ کے لیے فرضِ عین ہے کہ پہلے مرشد کامل کی تلاش کرے خواہ اسے مشرق سے مغرب اور قاف سے قاف تک ہی کیوں نہ ڈھونڈنا پڑے۔ ناقص مرشد تقلیدی ہوتا ہے لیکن کامل مرشد کی ابتدا اور انتہا ایک ہوتی ہے اسے سلک سلوک کا تصور ، قرب مع اللہ کی معرفت، تجلّیاتِ ذات کے نور کا مشاہدہ اور حضور کی جانب سیدھی راہ حاصل ہوتی ہے اور ناقص مرشد جس قدر زیادہ مرید کرتا ہے اتنا ہی دنیا اور آخرت میں زیادہ بے عزت اور خوار ہوتا ہے اور معرفتِ پروردِگار کے قرب سے محروم اور خراب ہوتا ہے۔(قربِ دیدار)

آپ رحمتہ اللہ علیہ طالبِ مولیٰ کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

طالبِ حق ہمیشہ حق کے ساتھ آتا ہے اور حق ہی کے ساتھ جاتاہے، وہ دنیا کے باطل اور غیر ماسویٰ اﷲ کی طرف ہرگز متوجہ نہیں ہوتا۔ (کلید التوحید کلاں)

طالبِ مولیٰ کے معنی کیا ہیں؟ دِل کا طواف کرنے والا اہلِ ہدایت’ جس کے دِل میں صدق ہو’ جیسے حضرت ابوبکر صدیقؓ صاحبِ صدق’ جیسے حضرت عمرؓ بن خطاب صاحبِ عدل’ جیسے حضرت عثمانؓ صاحبِ حیا’ جیسے حضرت علی المرتضیٰؓ صاحبِ غزا (جہاد کرنے والا) و صاحبِ رضا’جیسے سرتاجِ انبیاء و اصفیاء خاتم النبیین امین رسول رب العالمین’ صاحبِ شریعت و السِرّ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم۔ کیونکہ طالبِ مولیٰ مذکر ہوتا ہے۔ (عین الفقر)

جب تک طالب”talib-e-maula10 مرنے سے پہلے مر جاؤ” کے مراتب کو نہیں پہنچتا ۔ وہ محرمِ اسرار ہی نہیں ہوتا اور جو طالب بے جمعیت اور دنیا کا طالب ہے وہ ہمیشہ خوار ہے۔ طالبِ عقبیٰ اور حورو قصور کے طالب بے شمار ہیں۔ ہزار میں سے ایک طالبِ مولیٰ ایسا ہوتا ہے جو مرشد دلدار کے موافق ہوتا ہے اور لائق حضور پروردِ گار ہوتا ہے۔ جو طالب معرفتِ مولیٰ اور وصال کا طلب گارہے اس کو چاہیے کہ وہ سارا مال اُس کے حصول میں خرچ کر دے۔(تیغِ برہنہ)

طالبِ مولیٰ کے لیے فرضِ عین ہے کہ مرشد سے صراطِ مستقیم کی تلاش کرے اور زر و مال و نقد و جنس اور گھر بار اللہ تعالیٰ کی راہ میں دے دے ۔ جس طرح کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سنت ہے۔(قربِ دیدار)

جان لے کہ صاحبِ صدق طالب جان سے بھی زیادہ پیارا اور عزیز ہوتاہے اور جھوٹا طالب جان کا دشمن مثلِ شیطان ہے بلکہ شیطان سے بھی بد تر ہے کیونکہ شیطان تو لاحول پڑھنے سے بھاگ جاتا ہے لیکن یہ سو مرتبہ لاحول پڑھنے سے بھی نہیں بھاگتا بلکہ جان لے لیتا ہے۔(قربِ دیدار)

ترجمہ: اے باھو( رحمتہ اللہ علیہ) ! اگر صادق طالب نے مرشد کو قبول کر لیا تو کامل مرشد طالبوں کو ایک نظر میں منزلِ مقصود تک پہنچا دیتا ہے۔

اے راہِ حق کے طالب اس بات کو جان لے کہ دنیاوی عزت و مرتبے کا طالب حقیر مرد، ہیجڑا اور بے مقصود ہے اور عاقبت کا طالب مجذوب اور عاقبت مردود ہے لیکن محبوب طالب کی عاقبت محمود ہے۔ (قربِ دیدار)

طالبِ اللہ دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک مردوا دوسرا غازی، مردوا وہ جودِن رات اللہ تعالیٰ کے دشمنوں یعنی نفس و شیطان سے لڑائی کرتا رہے۔ اور غازی مرد وہ جو اسم  ذات کے تصور کی تلوار سے اغیار کاسرتن سے جد ا کر دے اور لڑائی سے بے کھٹکے ہوجائے۔ مطلب یہ کہ” استقامت عبادت سے بڑھ کر ہے۔”(امیر الکونین)

طالب کو چاہیے کہ عمارتِ قالب یعنی جسم کو معیشت تصور کرے اور اپنے اقوال و افعال ، حرکات و سکنات، کھانے پینے اور سونے جاگنے یعنی ہر حال میں اللہ کے ساتھ رہے۔ ”

talib-e-maula13

(الحدید۔۴) ترجمہ:جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ”تم جہاں کہیں بھی ہو اللہ تمہارے ساتھ ہے اور اللہ تمہارے تمام اعمال کو دیکھ رہا ہے۔(سلطان الوھَم خورد)

طالب کس کو کہتے ہیں؟

talib-e-maula14

(ترجمہ:طالبِ مولیٰ دُنیا اور دُنیا کی ہر چیز سے مستغنی اور بے نیاز ہوتا ہے) اور

talib-e-maula15

(ترجمہ: طالب اپنے آپ سے بھی بے نیاز ہوتا ہے)(سُلطانُ الوَھم خورد)

طالبِ مولیٰ کو چاہیے کہ اپنے آپ کو اللہ کی مخلوق’ مقدُور’ مامُور’ منظُور اور مرزُوق جانے’ احکم الحاکمین کے حکم پر راضی ہو جائے اور خوش رہے تاہم اُسے معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ کی رضا مخلوق کی مرضی سے مختلف ہے۔ کبھی قسمت اُس کا ساتھ دیتی ہے’ کبھی نہیں۔ کبھی اُس پر تنگی آتی ہے کبھی فراخی’ انسان کو چاہیے کہ ہر چیز کو اُس کی طرف سے جانے۔ جو چیز بھی اللہ کی طرف سے آئے اُس کو قبول کرے اور قناعت کرے بلکہ خوش ہو جائے تاکہ اُس کا مقام اللہ کے ساتھ ہو جائے اور قیامت کے دن صابروں میں سے اُٹھے۔

talib-e-maula16

ترجمہ:جس طرح اللہ کا فرمان ہے کہ ”بے شک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔”(البقرہ۔153 )(سُلطانُ الوَھم خورد)

طالب کو چاہیے کہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے ذکرمیں رہے اور اللہ کے ذکر سے باہر نہ آئے۔ خلوت اور عُزلتِ حق اختیار کرے تاکہ اُسے اللہ تعالیٰ کے ذکر میں استقامت حاصل ہو اور اپنی ذات کی نفی اور شیطان سے خلاصی پائے اور دنیاوی لذّ ات اور حیوانی شہوات کو کم کرے تاکہ اللہ کے اس ذکر (تصورِ اسمِ  ذات) سے شیرینی اور لذّ ت حاصل ہو اور معرفتِ حق تعالیٰ زیادہ سے زیادہ حاصل ہوتی جائے اور اللہ تعالیٰ کی غلامی نصیب ہو۔

talib-e-maula17

ترجمہ:ذاکر وہ ہے جو ماسویٰ اللہ ہر چیز کو چھوڑ دے’ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے” اپنے ربّ کو اتنا یاد کر کہ خود کو بھول جائے۔”(الکھف۔24 )(سُلطانُ الوَہم خورد)

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ اپنے فارسی کلام میں طالبِ مولیٰ کے بارے میں فرماتے ہیں:

talib-e-maula18

ترجمہ:

1.  اے طالب اگر تجھے دیدارِ خدا کا شوق ہے تو سر کٹا کے آ

2.  سرفروش طالب ہی دیدارِ خدا سے مشرف ہوتے ہیں کہ سرِّوحدت اِن کا پیشوا ہوتا ہے۔

3.  سر بُریدہ و بے سر طالب ہی سر پر تاج سجاتا ہے اور اسے دائمی معراج رہتی ہے۔

4.  ایسے سر فروش طالبانِ حق کو نورِ ذات کی سیر حاصل رہتی ہے اور وہ ہر وقت ذکرِ خفی میں محو رہتے ہیں۔

5.  جو طالب راہِ حق میں سر قربان کر دیتا ہے وہی دیدارِ الٰہی سے سرفراز ہوتا ہے ورنہ ظاہری آنکھوں سے تو کسی نے خدا کو نہیں دیکھا۔(نور الہدیٰ کلاں)

talib-e-maula19

ترجمہ: اپنے دِل میں طلبِ اللہ پیدا کر کہ طلبِ اللہ کے بغیر تو بے مطلوب رہے گا۔(محک الفقر کلاں)

talib-e-maula20

ترجمہ: اے طالبِ مولیٰ ظاہر میں دیوانہ مگر باطن میں ہوشیار بن کے رہ اور طلبِ مولیٰ میں طالبِ دیدار بن کے رہ۔(محک الفقر کلاں)

talib-e-maula21

ترجمہ: طالبانِ مولیٰ ہر وقت اپنے مطلوب کی تلاش میں رہتے ہیں ان کے دِل کا آئینہ ان کا ہر مطلب اُن کے سامنے رکھتا ہے۔(محک الفقر کلاں)

talib-e-maula22

ترجمہ:” بہت ہی تھوڑے طالب ہوتے ہیں جو رازِ ربّ کے متلاشی ہوتے ہیں اور ہر وقت وحدتِ رازِ رَبّ کی ذکر فکر میں غرق رہتے ہیں۔ جو بھی طالبِ ھُوْ بنتا ہے وہ ھُوْ (ذاتِ حق تعالیٰ) کا یاربن جاتا ہے ، اُس کے وجود سے غرور تکبر نکل جاتا ہے اور وہ دیدارِ الٰہی کے لائق بن جاتا ہے۔ جو بھی اللہ تعالیٰ کا طالب بنتا ہے وہ اُس تک پہنچ جاتا ہے پھر وہ غیر ماسویٰ اللہ کی طرف ہر گز نہیں دیکھتا۔”(محک الفقر کلاں)

talib-e-maula23

ترجمہ: جو طالب انسان کی صورت میں فرشتوں جیسا صا ف دِل رکھتا ہو وہی طالب مجلسِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری کے قابل ہوتا ہے۔(امیر الکونین)

سلطان العارفین ؒ اپنے پنجابی ابیات میں فرماتے ہیں:

talib-e-maula24

اے طالب توسچا طالب بن اور ہر وقت مرشد کی تعریف میں رطب اللسان رہ۔ اپنے آپ کو مرشد کی ذات میں فنا کر دے۔ کلمہ طیبہ کا ذکر کر۔ نفی’ اثبات اور حقیقتِ محمدیہ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی کنہہ اور حقیقت کو پا کر ہمیشہ کے لئے پاکیزہ ہو جا۔ جب تو اپنے آپ کو اسمِ  ذات میں فنا کر دے گا تو اﷲ تعالیٰ تجھ سے ہر قسم کی نجاست دور کر کے تجھے بھی پاک اور صاف کر دے گا۔

talib-e-maula25

اے طالب! اﷲ تعالیٰ نے تجھے اپنے قرب و وصال کے لئے پیدا فرمایا ہے۔ زندگانی بہت کم ہے۔ اس سے پہلے کہ تیری زندگی کی دکان بند ہو جائے تو اپنا ”مقصدِ حیات”یعنی اللہ تعالیٰ کی پہچان اور معرفت حاصل کر لے ورنہ موت کے وقت بہت پشیمان ہو گا۔ موت تو ہر وقت سر پر منڈلاتی رہتی ہے خدا کرے محبوبِ حقیقی تجھ سے راضی ہو جائے مگر دنیا’ نفس اور شیطان نے متحد ہو کرتیری کشتی حیات پر قبضہ جمالیا ہے۔ اﷲ تعالیٰ کا فضل ہی اِس کو سلامت پار پہنچا سکتا ہے۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ طالبِ دنیا کے بارے میں عین الفقر میں فرماتے ہیں:

دنیا کا طالب دو حکمت سے خالی نہیں ہوتا یا منافق یا ریاکار۔

دنیا شیطان اور طالبانِ دنیا شیاطین ہیں۔

دنیا فتنہ و فساد ہے اور طالبِ دنیا فتنہ انگیز ہے۔

دنیا نفاق ہے اور اس کا طالب منافق ہے۔

دنیا کذب ہے اور طالبِ دنیا کذاب ہے۔

دنیا شرک ہے اور طالبِ دنیامشرک ہے۔

دنیا خبث ہے اور طالبِ دنیا خبیث ہے۔

دنیا لعنت ہے اور اس کا طالب ملعون ہے۔

دنیا جہل ہے اور اس کا طالب ابو جہل ہے۔

دنیا فاحشہ و بدکار عورت ہے اور طالبِ دنیا اس کا شوہر دیوث (بیوی کی دلالی کھانے والا) ہے۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ جاسوس’ ناقص اور خام طالب کے بارے میں فرماتے ہیں :

”جس کی نظر میں دنیا اور اہلِ دنیا کی محبت، وقعت اور عزت ہے وہ ملعون طالب ہے۔ ”(محبت الاسرار)

جاسوس طالب تو لاکھوں کی تعداد میں پائے جاتے ہیں لیکن طالبِ حق ایک دو ہی ملتے ہیں، (کلید التوحید کلاں)

جو طالبِ مولیٰ منافق ، جھوٹا ہے اس کے ساتھ مرشد کبھی پیار نہیں کرتا اور نہ کبھی معرفتِ الٰہی عطا کرتا ہے طالب کوحق صفا اور مخلص ہونا چاہیے۔(فضل اللقاء)

طالب مرد کون ہے؟ نامرد کون ہے؟ طالب نامرد وہ ہے جو مرشد سے دنیاوی مال و زر طلب کرتا ہے اور مرد طالب وہ ہے جو جان و مال راہِ حق میں صرف کرکے راہِ حق کو تلاش کرتا ہے۔(تو فیق الہدایت)

بے اخلاص، بے ادب، بے وفا اور بے حیا طالب سے کتّا بہتر ہے۔ جو مرید(طالب) دنیا مردار سے محبت کرتا ہے وہ طلبِ معرفت میں مردار رہتا ہے(فضل اللقاء)

نامراد طالب کون ہے؟ طالب کی کیا طاقت کہ مرشد کے مرتبے کی تحقیق کرے تاوقتیکہ مرشد طالب سے یکتا نہ ہوجائے طالب کی کیا ہستی ہے کہ مرشد کے مرتبے تک پہنچ سکے تا وقتیکہ خود مرشد اسے عطا نہ فرمائے اور اسے وصال و عطائے الٰہی کے احوال سے واقف نہ کرائے۔ جو طالب مرشد کو اپنے قبضے میں لا کر اس کے نیک و بد کی ٹوہ میں رہتا ہے وہ دونوں جہان میں نامر اد رہتا ہے۔(فضل اللقاء)

مجھے ایسے طالبوں پر تعجب آتا ہے کہ زبان پر حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کا ذکر ہے اور دِل میں فرعون کا سا نفاق، زبان پر تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا سا کلام جاری ہے اور دِل میں نمرود کا سا حسد بھرا ہوا ہے اور زبان پر تو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا کلام ہے اور دِل میں ابو جہل کی سی غیریت

talib-e-maula26

ترجمہ:ان کے دِل میں بیماری ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اور بھی بڑ ھا دیا ہے۔(البقرہ۔10)(عقلِ بیدار)

”المختصر بات صرف ایک نکتہ کی ہے اگر وہ نکتہ سمجھ آجائے تو تمام مسائل حل ہوجاتے ہیں تمام کا ئنات بشمول دنیا، عقبیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے ان کا مالک و خالق اللہ تعالیٰ ہے پھر کیوں نہ دنیا اور عقبیٰ، جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہے، کو چھوڑ کر دنیا و عقبیٰ کے مالک کے دیدار اور پہچان کے لئے اس کی عبادت کی جائے۔ جب مختارِ کل اللہ تعالیٰ کی پہچان اور معرفت حاصل ہوجائے گی اور وہ راضی ہو جائے گا تو دنیا و عقبیٰ کا حصول معمولی بات ہے۔اگر کوئی یہ گمان کرے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف قدموں سے چل کر پہنچا جا سکتا ہے تو وہ گمراہی پر ہے۔ اللہ تعالیٰ جہات، زمان ، مکان، اوان، دِن رات، حدود اقطار اور حدود ومقدار سے منزّہ اور مبّرہ ہے۔دیدارِ الٰہی کا سفر انسان کی اپنی حقیقت کی پہچان یا ”نفس کے عرفان” یا خود اس کے باطن کا سفر ہے۔ اور باطن کا یہ سفر اسمِ ذات اور مرشد کامل اکمل کی راہبری کے بغیر نا ممکن ہے۔