تسلیم ورضا

فقر کا مرکز اور محور تسلیم ورضائے الٰہی ہے ۔ رضا کی اصل حقیقت یہ ہے کہ سالک ( طالب ) اس امر پر یقینِ کامل رکھے کہ ہر چیز کی عطا یا مناہی اللہ کی مشیت اور ارادہ ہے ۔ دنیا اور راہِ سلوک میں اس کی بہتری اسی بات میں ہے کہ ہر بات میں خوف اور امید میں رہے ۔ اطاعت کے وقت اس کے ہاں فخر نہ کرے اور مصیبت کے وقت اس کے در سے مایوس نہ ہو جائے ۔ ہیبت وپریشانی ‘ دکھ اور سکھ ‘ سکون اور اضطراب ‘ آسانی اور تنگی ‘ بیماری اور صحت ‘ بھوک اور سیری الغرض ہر حالت میں اللہ پاک کی رضا پر راضی رہنا اور سرتسلیمِ خم کردینا ہی اللہ پاک کی بارگاہ میں مقبول ومنظور ہے ۔ مقامِ رضا فقر کی منازل میں سے بہت بڑی منزل ہے اور مقامِ رضا کے بعد ہی باطن کے دو اہم اور آخری مقامات مشاہدہِ حق تعالیٰ اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ ان دو مقامات سے پہلے تسلیم ورضا کا مقام آخری مقامات میں سے ہے اور یہی نفسِ مطمئنہ کا مقام بھی ہے۔ ا رشادِ باری تعالیٰ ہے ۔

ترجمہ:” اے نفسِ مطمئنہ لوٹ اپنے رب کی طرف ، اس حالت میں کہ وہ تجھ سے راضی ہوگیا اور تو اس سے راضی ہوگیا۔ ( سورۃ الفجر۔ 27تا 30)

قرآنِ مجید میں بھی ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ دیدارِ حق تعالیٰ ان لوگوں کے نصیب میں ہوتا ہے جو اللہ کی رضا کے سامنے سر تسلیمِ خم کردیتے ہیں ۔

ترجمہ: اور اس شخص سے بہتر کون ہوسکتا ہے جس نے اپنا سر اللہ کی رضا کے سامنے جھکا دیا وہ محسن ( اللہ تعالیٰ کا دیدار کرنے والا ) ہے ۔

ترجمہ : ہاں جس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے سامنے سر تسلیمِ خم کردیا وہ محسن ( مرتبہ احسان تک پہنچنے والا یعنی اللہ تعالیٰ کا دیدار کرنے والا ) ہے اور اس کیلئے اپنے رب کی طرف سے اجر ہے اور اس کیلئے نہ کچھ خوف ہے اور نہ کوئی غم ۔

ان آیاتِ کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پسندیدہ اور مقبول طرزِ عمل یہ ہے کہ ہر دم اور ہر لحظہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے سامنے سرتسلیمِ خم رکھا جائے، نعمت پر شکر اور مصیبت میں صبر کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایمان صرف اس شخص کا مقبول اور منظور ہوتا ہے جو خلوصِ نیت سے اس کی رضا کے سامنے سرتسلیمِ خم کردیتا ہے اور اس کی خوشنودی اور رضا کی خاطر اپنی مرضی ‘ منشا ء اور اختیار سے دستبردار ہوجاتا ہے۔ اس ضمن میں جو تکالیف اور مصائب اس پروارد ہوتے ہیں انہیں خوش دلی سے قبول کرتا ہے اور اپنی خواہشات کو اللہ تعالیٰ کی رضا پر قربان کرکے تسلیم ورضا کی راہ اختیار کرتا ہے۔

حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے۔

عارفانِ حق پر رضائے حق کا اس قدر غلبہ ہوتا ہے کہ انہیں شدید سے شدید تر حالات میں بھی کوئی غم دکھ اور تکلیف محسوس نہیں ہوتی یعنی سرتسلیمِ خم ہے جو مزاج یار میں آئے۔اس مقام پر پہنچ کر اللہ تعالیٰ انہیں اپنے خاص نور یعنی لقائے الٰہی سے سرفراز کرتا ہے اور ان کو ایک نئی زندگی ہر لمحہ غیب سے عطا ہوتی ہے۔

ترجمہ :جو لوگ محبوب کی رضا کے سامنے سرتسلیمِ خم کردیتے ہیں انہیں ہر لمحہ غیب سے ایک نئی زندگی عطا کی جاتی ہے۔

جن عارفین یا عاشقوں کی زندگی کا مقصد ہی رضائے الٰہی ہوتا ہے وہ ہرحال میں اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہتے ہیں۔ شیخ فرید الدین عطار رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ کے لبوں پر تیس سال تک تبّسم نہ آیا لیکن جب ان کا بیٹا فوت ہوگیا تو لوگوں نے خلافِ معمول ان کو متبّسم دیکھا ۔پوچھا کہ اے شیخ یہ تبّسم کرنے کا کون سا موقع ہے، فرمایا ! ”مجھے یقین ہے کہ حق تعالیٰ میرے فرزند کی موت میں راضی تھا اس لئے میں نے بھی رضائے الٰہی کی خاطر تبّسم کیا، جو اس کی خوشی وہی میری خوشی ۔”

پیرانِ پیر غوث الاعظم حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

نزولِ تقدیر کے وقت حق تعالیٰ پر اعتراض کرنا ( یعنی اس کی رضا کے خلاف دل میں خیال لانا ) دین ‘ توحید ‘ توکل اور اخلاص کی موت ہے۔ ایمان والا قلب کیوں ‘ کس طرح کو نہیں جانتا ا س کا کام تو ” ہاں ” ہے ( یعنی حکمِ تقدیر کی موافقت کرتا ہے اور چوں چراں کے ساتھ رائے زنی نہیں کرتا ) جبکہ نفس کی یہی عادت ہے کہ نزاع کر ے ۔( فتح الربانی مجلس 1)

حضرت با یزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:” میں تسلیم کے معاملے میں اس منزل پر پہنچ گیا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی شخص کو ( میری جگہ ) اعلیٰ علیےّن ( فردوس بریں) میں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جگہ دے دے اور مجھے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اسفل السافلین یعنی جہنم کے انتہائی نچلے درجے میں پھینک دے تو میں اس شخص سے بھی بڑھ کر خدا سے راضی ہوں گا ۔ ”

حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ رضا کے معنی اختیار کو اٹھا دینے کے ہیں اور رضا یہ ہے کہ بلاکو نعمت سمجھ ۔

تفسیر اسرار الفاتحہ میں ہے کہ ایک دن حضرت خواجہ حسن بصریؒ ،حضرت مالک بن دینار ؒ ،حضرت شفیق بلخی ؒ اور حضرت رابعہ بصریؒ ایک محفل میں اکٹھے ہوئے اور بات اللہ تعالیٰ کی رضا میں صدق پر چل نکلی ۔ حضرت خواجہ حسن بصری ؒ بولے ” وہ شخص طلبِ مولیٰ میں صادق نہیں جو مولیٰ کی طرف سے دی گئی تکلیف پر صبر نہیں کرتا۔ ” حضرت رابعہ بصری ؒ نے فرمایا ” اس قول سے خود نمائی کی بو آتی ہے ۔بات اس سے بڑھ کر ہونی چاہیے ۔” حضرت شفیق بلخی ؒ بولے ” وہ شخص طلبِ مولیٰ میں صادق نہیں جو مولیٰ کی دی ہوئی تکلیف سے لطف اندوز نہیں ہوتا ۔ ”حضرت رابعہ بصری نے فرمایا ”اس بات سے بھی خود نمائی کی بوآتی ہے۔ ” حضرت مالک بن دینارؒ بولے ” وہ شخص طلبِ مولیٰ میں صادق نہیں جو مولیٰ کی طرف سے دی گئی تکلیف پر شکر نہیں کرتا ” حضرت رابعہ بصری ؒ بولیں ” وہ شخص طلبِ مولیٰ میں صادق نہیں جو مشاہدہ مطلوب میں غرق ہو کر مولیٰ کی طرف سے دی گئی تکلیف کو بھول نہیں جاتا۔”( عین الفقر)

علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:-

ترجمہ: فقر تو ذوق و شوق و تسلیم و رضا کی راہ ہے اور حقیقت میں یہی متاعِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے جس کے ہم وارث اور امین ہیں۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ فرماتے ہیں:
راہِ توکل اختیار کر اور رضائے الٰہی پر راضی ہو جا۔(عین الفقر)

رزق دو قسم کا ہے ایک رزق مملوک ہے اور دوسرا رزقِ مرزوق ۔ زیادہ مال وزر جمع کرنا جمعیتِ نفس اور اعتبارِ خلق کی خاطر ہوتا ہے کیونکہ ان کے نزدیک عنایت پہلے ہے اور ہدایت بعد میں ہے۔ لیکن تو سب سے پہلے دل کو سلیم بنا اور تسلیم ورضا اختیار کر تاکہ تجھے کنہہ کن سے قربِ الٰہی کے مراتب حاصل ہوں ۔ عقل والوں کیلئے تو یہی ایک بات کافی ہے کہ تسلیم ورضا سے انسان کے وجود میں نہ چوں باقی رہتی ہے اور نہ چرا ں۔( نور الہدیٰ کلاں)

حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ ساری عمر شہر شہر، نگر نگر گھوم پھر کر فقر کا خزانہ لٹاتے رہے اس کیلئے آپ ؒ کو در در جانا پڑا ۔آپؒ اس سلسلہ میں فرماتے ہیں:

ترجمہ:میں رضائے الٰہی کی خاطر اپنے نفس کو رُسوا کرتا ہوں اور رضائے الٰہی ہی کی خاطر ہر در سے بھیک مانگتا ہوں۔ ( نو ر الہدیٰ اور کلید التوحید کلاں )

ترجمہ: اگر تو قبر کے احوال کو دیکھ لے تو زیر وزبر کی سب کیفیت تجھ پر منکشف ہوجائے ۔ پھر تجھے انتہائی غم میں بھی عبرت حاصل ہوگی اور تیرا دل تسلیم ورضا اختیار کرلے گا اور جملہ مقامات کی حقیقت تجھ پر واضح ہوجائے گی ۔( نور الہدیٰ کلاں)

ترجمہ :درویش( مرشد کامل اکمل ) اگر تجھے سرزنش بھی کرے تو اس کے سامنے سر جھکائے رکھ کہ رضائے الٰہی کی خاطر کسی درویش ( مرشد کامل ) کی خدمت کرنا عملِ صالح ہے ۔ ( نور الہدیٰ کلاں)

خُلقِ عظیم قلبِ سلیم کا مرتبہ تسلیم ورضا ہے اور یہی وہ مرتبہ صراطِ مستقیم ہے جس پر انعام یافتہ لوگ گامزن رہے ہیں۔ ( نور الہدیٰ کلاں)

ترجمہ :خود پرستوں کو کبھی خدا نہیں ملتا کہ ان کا خدا تو ہوائے نفس ہوتا ہے۔ خدا انہیں ملتا ہے جو رضائے الٰہی کی خاطر اپنی جان پر کھیل کر نفس کو قابو میں رکھتے ہیں۔ ( نور الہدیٰ کلاں)

یاد رہے کہ بہت زیادہ علم حاصل کرنا فرضِ عین نہیں ہے مگر اسلام کے متعلق ضروری معلومات حاصل کرنا ‘ گناہوں سے باز رہنا اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا بہت ضروری ہے ۔لیکن نفس وہوا سے خلاصی پانا ‘محبتِ الٰہی میں غرق ہونا اور معرفتِ اللہ توحید حاصل کرنا فرضِ عین ہے اور اس کیلئے قدیم وعظیم صراطِ مستقیم پر گامزن ہونا ‘ قلبِ سلیم حاصل کرنا اور تسلیم ورضا اختیار کرنا ضروری ہے ۔ ( نور الہدیٰ کلاں)

ترجمہ :یہ فقیر باھوؒ محض رضائے الٰہی کی خاطر وحدتِ حق کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور طالبانِ حق کو بارگاہِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں پہنچاتا ہے ۔ ( کلید التوحیدکلاں )

ترجمہ : اے باھو ؒ تسلیم ورضا اختیار کر کہ صاحبِ تسلیم ورضا قلب ہی حضوری مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بہرہ ور ہوتا ہے ۔ ( کلید التوحیدکلاں )

ترجمہ :صبر کر صبر! کہ صبر کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ۔ اگرتوتسلیم ورضا اختیار نہ کرے گا تو کیا کرے گا۔ ( کلید التوحیدکلاں )

ترجمہ :اے باھو ؒ رضا جب قضا پر غالب آتی ہے تو تقدیرِ خدا وندی کا خوف ختم ہوجاتا ہے۔ تقدیرِ الٰہی سے وہ کیوں ڈرے کہ جسے اللہ تعالیٰ کا قربِ تمام حاصل ہو ،ڈرے تو وہ جو ناقص وعام وخام ہو ۔۔۔رضا قاضی ہے اور قضا اس کی غلام ہے ۔حکمِ رضا کے بغیر قضا ایک بال کی بھی جان نہیں لے سکتی ۔( کلید التوحیدکلاں )

حکمِ قضا سے سامنا کرتے وقت چہرے کو شکن آلو د نہ کر اور نہ ہی حکمِ قضا سے خود کو چھپا ۔ ( کلید التوحید کلاں)

جان لے کہ بندہ اپنی مرضی سے پیدا نہیں ہوتا کہ ہر کام اس کی مرضی سے ہوا کرے پس بہتر یہ ہے کہ ہر کام اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا جائے اور خود کو درمیان سے نکال لیا جائے ۔ ( کلید التوحید کلاں)

آپ رحمتہ اللہ علیہ اپنے پنجابی ابیات میں فرماتے ہیں :

میں بہت ہی بد نصیب اور گناہ گار ہوں لیکن مجھے فخر ہے کہ میرے گلے میں مرشد کی غلامی کی زنجیر ہے جو مجھے خوش بخت لوگوں کے گروہ میں شامل کروا دے گا ۔ بہت سے لوگ شیطان کی طرح اپنے علم پر تکبر کی وجہ سے وصالِ حق تعالیٰ سے محروم ہیں او رلاکھوں لوگوں کو دوزخ کے عذاب کا خوف لاحق ہے لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جو بہشت کی نعمتوں کو ٹھکرا کر دیدارِ حق تعالیٰ کے لئے تڑپ رہے ہیں ۔ عاشقِ حقیقی تو ہمیشہ اپنے محبوب کی رضا کے سامنے سر تسلیمِ خم کیئ رہتے ہیں۔

اس بیت میں آپؒ مرشد کی غلامی کے دوران دنیا داروں کی طرف سے پہنچنے والی اذیتوں اور تکلیفوں کو برداشت کرنے کے لیے صبرو تحمل کا سبق دے رہے ہیں ۔فرماتے ہیں اگر ” مو توا قبل ان تموتو ” ( مرنے سے پہلے مر جاؤ ) کا مقام حاصل کرنا ہے تو دنیا میں گدا بن کررہنا چاہیے۔ اگر کوئی کوڑا کرکٹ بھی اوپر پھینکے تو اسے اسی طرح برداشت کرنا چاہیے جس طرح کوڑے کا ڈھیر اپنے اوپر مزید گندگی کو سہارتارہتا ہے۔ اگر کوئی گالیاں نکالے او ربر ا بھلا کہے تو ترکی بہ ترکی جواب دینے کی بجائے بڑی محبت اور پیار سے جی جی کہتے رہنا چاہیے۔گلے،طعنے ،بدنامی اور خواری اپنے یارِ حقیقی(مرشد کامل ) کی خاطر برداشت کرنا ہی پڑتی ہے۔ ہم نے تو اپنی زندگی کی ڈور اپنے مرشد کے ہاتھ میں دیدی جیسے اس کی رضا ہو اس پر راضی رہنا چاہیے ۔

اگرتو عاشق ہے اور عشق کی راہ میں کامیابی وکامرانی چاہتا ہے تو اپنے آپ کو قوی اور مضبوط رکھ ۔ راہ عشق میں تو لاکھوں دشمنیاں اور ہزاروں طعنے برداشت کرنا پڑتے ہیں یہ کوئی آسان راہ نہیں ہے منصورحلا ج ؒ کو رازِ حقیقی سے واقف ہونے پر ہی سولی پر لٹکا دیا گیا تھا ۔ اگر ایک دفعہ مرشد کامل کی غلامی نصیب ہوجائے تو پھر سر کو اس در سے ہٹنا نہیں چاہیے خواہ دنیا کافر ہی کیوں نہ کہتی رہے ۔

مرشد کامل کی اسم  ذات کے تصور کے ذریعہ تربیت طالبِ مولیٰ میں تسلیم و رضا کی عادت کو اتنا پختہ کر دیتی ہے کہ اُسے اللہ تعالیٰ کے ہر حکم اور فعل پر پیار آتا ہے۔