ترکِ دنیا

واضح ہو کہ عام طور پر مال و دولت کی فراوانی کو دنیا سمجھا جاتا ہے مگر اولیاء و فقرا نے دنیا کی تعریف یوں کی ہے کہ:

”ہر وہ چیز دنیاہے جو اللہ کی یاد سے ہٹا کر اپنی طرف مشغول یا متوجہ کر لے۔”

جیسا کہ حضو رِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے :

جو چیز تجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہٹا کر اپنے ساتھ مشغول کر لے تیرا بت ہے۔

سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ فر ماتے ہیں:

اگر تیرے پاس مال و دولت ہے لیکن تیرے دِل میں اس کی محبت نہیں ہے اور تُواسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں بے دھڑک صرف کرتا ہے تو یہ دنیا نہیں ہے البتہ اسبابِ دنیا کو جب تُو اپنی مجبوری بنالے گا تو تیرے لئے سب اسباب، دنیا بن جائیں گے۔ پس تو دنیا میں رہتے ہوئے اس سے دامن بچا کے ایسے نکل جا جیسے کہ مر غابی پانی میں رہتے ہوئے بھی اپنے پر خشک رکھتی ہے اور دنیا سے اپنا نصیب اس طرح حاصل کر کہ جیسے بگلا پانی کے کنارے پر رہ کر اس کے اندر سے اپنا رزق حاصل کر تا ہے اور خود کو پانی میں غرق نہیں کرتا۔تُو کاروبارِ دنیا کر مگر اللہ کے لئے ، دنیا کا رزق کھا مگر اللہ کیلئے ، دنیا میں چل پھر مگر اللہ کیلئے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ تم جہان بھر سے علیحدگی اختیار کر لو ہاں البتہ جو کام بھی کرو اس میں یادِ خدا ہو اور قلب اللہ کی طرف متوجہ ہو اور ہاتھ دنیا کے کام کی طرف۔

دنیا میں اس طرح رہنا چاہیے جس طرح کشتی پانی میں۔ جیسے ہی پانی کشتی کے اندر داخل ہو تا ہے کشتی ڈوب جاتی ہے ۔ اسی طرح انسان کو دنیا کی محبت اپنے دِل کے اندر داخل نہیں ہونے دینی چاہیے اور اصل میں اولیاء کرام کا فلسفہ بھی یہی ہے۔

ہر وہ چیز جو انسانی قلب کو اللہ کی طرف سے ہٹا کر اپنی طرف متوجہ کر لے دنیا ہے۔

ترک دنیا سے مراد ترکِ ہوسِ دنیا ہے یعنی دنیا سے باطنی لاتعلقی کا نام ترکِ دنیا ہے اور اس کے بغیر معرفتِ الٰہی حاصل نہیں ہوسکتی کیونکہ دنیا اور اللہ تعالیٰ کی محبت ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتیں۔

دنیا سایہ کی مانند ہے اگر آپ سورج کی طرف پیٹھ کرلیں تو آپ کا سایہ آپ کے سامنے آجائے گا اگر آپ اپنے سائے کو پکڑ نے کے لیے اس کی طرف بڑھیں گے تو وہ آپ کے آگے چل پڑے گا اور آپ کے ہاتھ نہیں آئے گا اور اگر آپ اپنے سائے کی طرف پیٹھ کرلیں اور سورج کی طرف منہ کرکے چل پڑیں تو سایہ آپ کے پیچھے بھاگنے لگے گا ۔بالکل اسی طرح اگر آپ اللہ سے منہ موڑ کر دنیا کی طرف چل پڑیں گے تو اسے پکڑ نہیں سکیں گے لیکن اگر آپ دنیا سے منہ موڑ کر اللہ کی طرف چل پڑیں گے تو دنیا آپ کے پیچھے بھاگنا شروع کر دے گی۔(شمس الفقرا)

ترکِ دنیا کی اصطلاح کو منکرین اور ناقدینِ تصوف و طریقت نے خوب اچھالا ہے اور اسے رہبانیت یا غیر اسلامی قرار دے کر رد کر دیا گیا ہے۔ دراصل صوفیاء کرام کے فلسفہ کے مطابق اس اصطلاح کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی۔ اصل میں صوفیاء کرام کے فلسفہ کے مطابق ترکِ دنیا سے مراد ترکِ ہوسِ دنیا ہے یعنی دنیا سے باطنی لا تعلقی کا نام ترکِ دنیا ہے۔ اور یہ اصطلاح اُن کی خود ساختہ نہیں بلکہ انہوں نے اسے قرآن و حدیث سے حاصل کیا ہے۔

قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

”یہ دنیا کی زندگی سوائے کھیل تماشا کے اور کچھ نہیں ہے۔ بے شک آخرت کا گھر ہی اصل زندگی ہے۔ کاش وہ اس کو سمجھ جائیں”۔ (سورۃ عنکبوت ۶۵)

”دنیا کی زندگی تو ایک کھیل تماشا ہے اور آخرت کا گھر اہلِ تقویٰ کے لئے بہت بہتر ہے کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے”۔ (سورۃ الانعام ۳۲)

”جان لو کہ دنیا کی زندگی لہو و لعب’ آرائش اور آپس کی منافرت مال و اولاد میں کثرت طلب کرنے کے سوا کچھ نہیں”۔ (سورۃ حدید۔ ۲۰)

”لوگوں کے لئے (دنیا کو) عورتوں کی کشش’ اولاد’ جمع شدہ دولت کے خزانوں’ سونے اور چاندی’ شاندار گھوڑوں’ چوپایوں اور کھیتی سے زینت دی گئی ہے۔ یہ دنیا کا مال ہے۔ اﷲ کے پاس ہی اصل ٹھکانہ ہے”۔ (آلِ عمران ۱۴)

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی دنیا کی محبت کو ایمان کے لئے بہت بڑا فتنہ قرار دیا ہے۔ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کے ارشاداتِ مبارکہ ہیں: ‘

‘دنیا اور دنیا کے اندر جو کچھ ہے سب ملعون ہے”۔ (ابن ماجہ۔ بیہقی)

حضرت ابوہریرؓہ کا بیان ہے کہ حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا :

”دنیا مومن کے لئے قید خانہ ہے اور کافر کے لئے جنت”۔

”دنیا مردار ہے اور اس کے چاہنے والے کتے ہیں”۔

”دنیا گدھوں کی جنت ہے”۔

”دنیا کتے کا گھر ہے”۔

”دنیا کی لذت خنزیر کا گوشت ہے”۔

”دنیا کی عیش کافروں کا فخر ہے”۔

”دنیا دل کی سیاہی ہے”۔

نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کو اﷲ پاک نے یہ اختیار دیا کہ وہ دنیا اور آخرت میں سے جسے چاہیں پسند کر لیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے آخرت کو ترجیح دی۔ حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے کہ” اگر میں توجہ کروں تو احد پہاڑ بھی سونا بن جائے لیکن ہمیں دنیا منظور نہیں۔ ”

آیاتِ قرآنی اور احادیث مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ فقراء نے یہ اصطلاح خود ایجاد نہیں کی بلکہ عین حکمِ رَبانی کے مطابق ہے اور نہ ہی فقراء دنیا کو چھوڑ کر جنگلوں میں نکل جانے کا حکم دیتے ہیں۔ بلکہ ترکِ دنیا سے مراد ترکِ ہوسِ دنیا ہے۔ یعنی دنیا کی محبت دل سے نکال دی جائے کیونکہ جب تک دل سے دنیا کی ہوس اور محبت نہیں نکلے گی اﷲ کی محبت نہیں آئے گی۔ اس لئے وصالِ الٰہی کے لئے دِل سے دنیا اور دنیا کی اشیاء اور مخلوق کی محبت نکالنی ضروری ہے۔

سیّدناغوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں:

”جس دل میں دنیا کی محبت ہے وہ محجوب ہے اﷲ سے اور جس دل میں آخرت کی محبت ہے وہ محجوب ہے اﷲ تعالیٰ کے قرب سے۔ جوں جوں تیرے دل میں دنیا کی محبت بڑھتی جائے گی توں توں تیرے دِل میں آخرت کی محبت گھٹتی جائے گی اور جس قدر تیرے دِل میں آخرت کی محبت بڑھتی جائے گی اِسی قدر تیرے دل سے اﷲ تعالیٰ کی محبت گھٹتی جائے گی۔ ( فتح الربانی مجلس ۱۰)

حضرت بو علی شاہ قلندر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

”تو اﷲ کو بھی چاہتا ہے اور کمینی دنیا کو بھی۔ یہ محض ایک خیال اور پاگل پن ہے”۔ (مثنوی)

شیخ فرید رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ دنیا ایک پوشیدہ آگ ہے جس میں محبوبِ حقیقی کے عاشقوں کے سوا سب جل رہے ہیں۔

حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اﷲ علیہ نے بھی اپنی تعلیمات میں ترکِ ہوسِ دنیا پر بہت زور دیاہے ۔ آپ دُنیا کی تباہ کاریوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:-

”دنیا ایک پردرد بلا ہے جو حق تعالیٰ کے ذکر و فکر سے جدا کر دیتی ہے”۔(عین الفقر)

دنیا والوں اور انبیاء کرام و اولیاء کرام میں فرق صرف ترکِ دنیا اور محبت دنیا کا تھا۔ آپؒ فرماتے ہیں:

سونا چاندی’ اونٹ گھوڑے’ بیل گدھے’ ہاتھی’ نوکر’ سپاہی وغیرہ ابوجہل و یزید کا خزانہ و لشکر تھا۔ جبکہ صبر’ شکر’ ذکر فکر’ ذوق شوق’ محبت’عشق’ نماز’ روزہ اور فقر صحابہ کرامؓ’ مسلم’ مومن’ فرقان نص حدیث حضرت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم اور امام صاحبان کا لشکر تھا۔ نقارہ و دہل و دف و شرنا وغیرہ ابوجہل و یزید کی نوبت تھی جبکہ بانگ و اذان اور ذکر اﷲ کا بلند نعرہ حضرت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم و امام صاحبان کی نوبت تھی اور ہے۔ نوبتِ دنیا و بادشاہی باطل و فانی ہے جبکہ نوبتِ دین محمدی صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم باقی و غیر فانی ہے۔ (عین الفقر)

جان لے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے جس نے جنگ و دشمنی کی اسی درہمِ دنیا نے کی۔ اگر ابوجہل مفلس ہوتا تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تابعداری کرتا۔ امام حسن و حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کو شہید کیا تو اسی دنیا نے۔ (عین الفقر)

انسان دنیاوی خواہشات اور لذّ ات سے کبھی سیر نہیں ہوتا جو شخص دنیا کی محبت دِل سے نہیں نکالتا اسے نہ قربِ الٰہی حاصل ہوتا ہے نہ مجلسِ محمدی صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری۔ اور نہ اس کے قلب’ قالب اور ہر ایک بال سے ذکر جاری ہوتا ہے۔ معرفتِ الٰہی ترکِ دنیا کے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔ (کلید التوحید کلاں)

”جان لے نفسِ امارہ’ شیطان اور دنیا تینوں کا آپس میں گٹھ جوڑ ہے”۔(اسرارِ قادری)

یعنی انسان کو اﷲ کی یاد سے غافل کرنے کیلئے ان تینوں نے محاذ بنا رکھا ہے۔

”دین اور دنیا کی محبت ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتیں جیسے آگ اور پانی ایک برتن میں اکٹھے نہیں ہو سکتے”۔ (عین الفقر)

حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اﷲ علیہ دنیا اور طالبِ دنیا کے بارے میں اپنی تصنیف عین الفقر میں فرماتے ہیں:

دنیا کا طالب دو حکمت سے خالی نہیں ہوتا یا منافق یا ریاکار۔

دنیا شیطان اور طالبانِ دنیا شیاطین ہیں۔

دنیا فتنہ و فساد ہے اور طالبِ دنیا فتنہ انگیز ہے۔

دنیا نفاق ہے اور اس کا طالب منافق ہے۔

دنیا کذب ہے اور اس کو چاہنے والا کذاب ہے۔

دنیا شرک ہے اور طالبِ دنیامشرک ہے۔

دنیا خبث ہے اور طالبِ دنیا خبیث ہے۔

دنیا لعنت ہے اور اس کا طالب ملعون ہے۔

دنیا جہل ہے اور اس کا طالب جاہل ہے۔

دنیا فاحشہ و بدکار عورت ہے اور اہل دنیا اس کا شوہر دیوث (بیوی کی دلالی کھانے والا) ہے۔

دنیا بدعت ہے اور طالبِ دنیا ملحد ہے۔

آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

ترجمہ: جو شخص دنیائے مردار کی طلب میں غرق ہو جائے وہ دیدارِ الٰہی کا طلب گار کہاں ہو سکتا ہے پس تو اپنے دفترِ دل سے غیر اﷲ کا ہر نقش مٹا دے۔ (کلید التوحید کلاں)

جس دل میں دنیا کی محبت سما گئی ہو، ظلمات و خطراتِ شیطانی چھا گئے ہوں اور خواہشاتِ ہوس و نفسانی بھر چکی ہو اس دل پر حق تعالیٰ کی نظرِ رحمت نہیں ہوتی۔ (عین الفقر)

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے :

”ترکِ دنیا تمام عبادات کی جڑ ہے اور حُبِّ دنیا تمام بُرائیوں کی جڑ ہے۔” یہ بات حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک لگ بھگ ایک لاکھ چوبیس ہزار تما م پیغمبروں نے کہی ہے اور تمام انبیا ء نے ترکِ دنیا کا حکم دیا ہے، پھر تُو ان سب کے خلاف چلنے کی خطا کیوں کرتا ہے؟ دنیا کے چار حروف ہیں”د ن ی ا” حرف ”د” سے دنیا کا کوئی دین نہیں حرف ”ن” سے دنیا نافرمانِ حق فرعون ہے ، حرف ”ی” سے دنیا شیطان کی یارِ یگانہ ہے اور حرف ”ا” سے دنیا اظلم و آدم کش ہے۔ اے احمق ! دنیا سے وہ آدمی تارک فارغ ہوتا ہے جو دین کو قابو میں رکھتا ہے دین کے بھی تین حروف ہیں”دی ن” حرف ”د” سے دین معرفت کی آنکھ کو کھول کر مولیٰ کا دیوانہ و فریفتہ کرتا ہے جس سے بندہ طالبِ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بنتا ہے، حرف ”ی” سے دین یاری کراتا ہے اللہ سے اور یاری کراتا ہے تمام مومن بھائیوں ، اہلِ اسلام مسلمانوں اور تمام مومن مسلمانوں سے اور حرف ”ن” سے دین نیت کو خالص کرکے طالب اللہ کو صفا کیش و خیر اندیش بناتا ہے۔ ہر غنی و درویش اور ہر وہ آدمی جو دین کواپنے ہاتھ میں رکھ کر دنیا کو چھوڑ دیتا ہے، خطراتِ دنیا سے فارغ ہوجاتا ہے ، صدقِ دِل سے تن پر لباسِ فقر پہن لیتا ہے اور خدا سے صدقِ خاص و درست اعتقاد رکھ لیتا ہے تو حق سبحانہ ٗ تعالیٰ فرماتا ہے :

”اے میرے فرشتو! میری دوستی میں میرا ایک بندہ دنیا ئے مردار نجس و پلید سے الگ ہوگیا ہے۔”تمام انبیاء و اولیاء اور اتقیاء جملہ اہلِ اسلام کی ارواح اور اٹھارہ ہزار عالم کی کل مخلوقات کو حکم ہوتا ہے تم سب میرے دوست کی زیارت و پیشوائی کے لیے جاکر اُس کی ہمت پر آفرین کہو اور جو گدڑی و خاکسارانہ لباس اُس نے پہن رکھا ہے ویسا ہی لباس تم بھی پہنو۔ فقیر کو یہ مراتب ابتدا ہی میں پہلے ہی روز بخش دیئے جاتے ہیں ۔(محک الفقر کلاں) ہیں:

حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ اپنے پنجابی ابیات میں فرماتے

آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ دنیا اسی طرح پلید اور ناپاک ہے جس طرح عورت حیض کی حالت میں ہوتی ہے۔ وہ خواہ کتنا ہی پاکیزہ ہونے کی کوشش کرے پاک نہیں ہو سکتی۔ کتنے ہی عالم فاضل دنیا اور اس کی لذات کو ریاضت اور چلہ کشی کے ذریعے ترک کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن کامیاب نہیں ہوتے۔ بلکہ اس کے ذریعہ حاصل ہونے والے علم سے اور دنیا کماتے ہیں۔ جس کے گھر میں جتنی زیادہ دنیا اور مال و دولت ہوتا ہے وہ اتنا ہی بے آرام اور بے سکون ہوتا ہے۔ اور آرام کی نیند بمشکل ہی سوتا ہے کیونکہ اس کی حفاظت کی فکر ہی اسے سونے نہیں دیتی۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جن لوگوں نے مقصدِ حیات کو سمجھا اور خواہشاتِ دنیا سے منہ موڑ لیا وہ اس جہاں سے کامیاب و کامران گئے۔

عالمِ لاھوت میں جب سے  (کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں) سنا ہے اس وقت سے میری روح مسلسل  پکار رہی ہے۔ دنیا میں آنے کے بعد بھی مجھ پر وطن ( عالمِ لاھوت) کی محبت اس قدر غالب ہے کہ ایک لمحہ بھی چین اور سکون نہیں ہے۔ اے رہزن دنیا تجھ پر قہر نازل ہو کیونکہ تو ”حق” (وطنِ اصلی عالمِ لاہوت) تک جانے کی راہ میں حائل ہے۔ یہ دنیا خواہ کتنی ہی رنگین اور دلکش کیوں نہ ہو جائے عاشقِ ذاتِ الٰہی اس کی طرف توجہ نہیں دیتے اور مولیٰ کی طرف ہی متوجہ رہتے ہیں۔

دنیا پر آدھی اور ساری لعنت دنیاداروں پر ہے جو حق تعالیٰ کی محبت کو چھوڑ کر دنیا کی محبت میں مبتلا ہیں۔ جنہوں نے دنیا’ مال و دولت’ جان و اولاد اﷲ کی رضا کے لئے اس کی راہ میں خرچ نہ کی وہ دنیا اور آخرت میں سزا کے مستحق ہیں۔ یہ دنیا اس قدر انسان کو حرص و حسد میں مبتلا کر دیتی ہے کہ باپ اپنے بیٹے تک کو اس کے لئے قتل کر دیتا ہے۔ اے مکار دنیا خدا کرے تجھے آگ لگ جائے۔ جو لوگ دنیا کی محبت ترک کر کے اﷲ پاک کی محبت میں مبتلا ہو گئے وہی آخرت میں کامیاب اور سرخرو ہوں گے۔

طالبانِ دنیا کتوں کی طرح دنیا اور لذاتِ دنیا (مال و دولت) کی تلاش میں دنیا بھر میں دوڑتے پھر رہے ہیں اور کولہو کے بیل کی طرح ساری عمر اسی طرح گزار دیتے ہیں۔ ان کی تمام عمر گزر جاتی ہے اور عقل کے اندھوں کو اتنی خبر تک نہیں ہوتی کہ اﷲ پاک انہیں رزق عطا فرما رہا ہے اور اُن کے رزق کا ضامن ہے۔ لیکن اسمِ اللہ ذات کے ذکر کے بغیراس حقیقتِ حال تک راہنمائی اوررسائی نہیں ہوتی اور زندگی یونہی فضول تمام ہوتی ہے۔

دنیا ایک خوبصورت’ حسین لیکن مکار عورت ہے جس کے فریب کا شکار صرف منافق یا کافر ہی ہوتے ہیں۔ یہ اپنے فریبِ حسن اور بجلی کی سی جوانی سے سب کو لوٹ لیتی ہے۔ یہ دنیا اپنے محبّوں کو اسی طرح ہلاک کرتی ہے جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں تین آدمیوں کو ایک سونے کی اینٹ کے لئے جان دینا پڑی تھی۔

قصہ اس طرح ہے کہ تین مسافروں کو سونے کی ایک اینٹ مل گئی تھی۔ ایک بازار سے روٹی لینے چلا گیا اور دو اینٹ کی حفاظت کے لئے ٹھہر گئے ۔ دونوں نے سازش کی کہ جب وہ روٹی لے کر واپس آئے گا تو اس کو قتل کر کے اینٹ دونوں آپس میں بانٹ لیں گے۔ روٹی لانے والے کی نیت بھی خراب ہو گئی اس نے کھانے میں زہر ملا دیا جب واپس آیا تو اس کو دونوں نے قتل کر دیا اور وہ دونوں خود زہریلا کھانا کھا کر مر گئے۔

دینِ حق اور دنیا دو سگی بہنوں کی مثل ہیں جس طرح دو حقیقی بہنیں ایک مرد کے نکاح میں نہیں آ سکتیں اور جس طرح آگ اور پانی اکٹھے نہیں ہو سکتے اسی طرح دین اور دنیا کو ایک دِل میں اکٹھا نہیں کیا جا سکتا۔ جنہوں نے ایسے جھوٹے دعوے کیے وہ کذاب ہیں اور دونوں جہانوں میں خسارہ پانے والوں میں ہیں۔

طالبِ مولیٰ کا اصل گھر تو عالمِ لاہوت ہے جہاں پر اُس نے دیدارِ الٰہی کے سوا دنیا اور عقبیٰ کو ٹھکرا دیا تھا۔ آپؒ فرماتے ہیں کہ یہ تو ہماری تقدیر ہے جس نے ہمیں جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر رکھا ہے اور ہمیں اپنے وطنِ ازلی عالمِ لاہوت سے عالمِ خَلق میں لے آئی ہے۔ اے دنیا میرا پیچھا چھوڑ دے۔ میرا دل تو پہلے ہی فراقِ یار میں بے قرار اور بے چین ہے۔ ہم تو اس دنیا میں پردیسی ہیں۔ ہمارا وطن تو محبوبِ حقیقی کے پاس ہے جو بہت دور ہے اور اِس کی راہ میں بہت سی مشکلات اور مصائب کی منازل ہیں جسے ہم نے دنیا کی محبت دل سے نکال کر طے کرنا ہے۔ اسی لئے تو میرا دل پہلے سے زیادہ غمگین ہو رہا ہے۔

یہ دنیا ایک خطرناک اور گھنے جنگل کی طرح ہے جس میں ہم رہ رہے ہیں اور اس کی مثال کسی دریا کے کنارے کی طرح ہے جو ہمیشہ گرنے کے خطرہ سے دوچار رہتا ہے۔ اور ہماری مثال تو اس آدمی کی طرح ہے جو کسی ندی کے کنارے لیٹا ہو اور اس ڈر سے بیدار رہتا ہو کہ سونے سے کہیں ندی میں نہ گر جائے۔ جس جگہ محض ریت اور پانی اکٹھے ہوں وہاں کوئی مستقل بند نہیں باندھا جا سکتا۔ آخر پانی ریت کو بہا کر لے جائے گا اسی طرح یہ دنیا فانی ہے اور اِس نے ایک دن فنا ہونا ہی ہے۔

الغرض جب تک دل کے اندر دنیا’ لذّ اتِ دنیا’ خواہشاتِ دنیا اور شہواتِ دنیا موجود رہتی ہیں اس وقت تک دل کے اندر اﷲ پاک کی محبت نہیں آ سکتی۔ جو دنیا اور اﷲ پاک کی محبت کو دل کے اندر اکٹھا جمع کرنے کا دعویٰ کرتا ہے وہ کاذب ہے۔ اﷲ تعالیٰ کے محب اور عاشق دنیا کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتے خواہ پوری کائنات کی دولت ان کے سامنے ڈھیر کر دی جائے۔دنیا اور غیر اللہ کی محبت کو دِل سے نکال کر دِل میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور عشق کو بسالینا ہی کامیابی ہے اور یہ ذکر اور تصورِ اسم ذات کے بغیر ناممکن ہے۔ اور وہ بھی اگرکسی مرشدِ کامل اکمل سروری قادری صاحبِ مسمّٰی سے حاصل ہوا ہو۔