بیعت–Bayat

بیعت 

تحریر: مسز عنبرین مغیث سروری قادری ایم۔اے۔ ابلاغیات 

دینِ اسلام باطنی طور پر رجوع الی اللہ یعنی ہر طرف سے منہ موڑ کر اللہ کی طرف رجوع کرنے کا دین ہے اور ظاہری طور پر اسی رجوع الی اللہ کا ذریعہ بننے والے اعمال کا مجموعہ ہے۔ رجوع الی اللہ ہی دین کے تمام ظاہری و باطنی اعمال کا بنیادی مقصد ہے۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیے اپنے بندوں کی رہنمائی کی خاطر اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے دو ذریعے بنائے یعنی قرآن و سنت۔ ان دونوں میں سے کسی ایک کو بھی چھوڑ دینے، جھٹلانے یا اس کی آدھی ادھوری یا من پسند پیروی کرنے والا دین سے کچھ حاصل نہ کرپائے گا بلکہ دین و دنیا کے تمام معاملات میں صرف الجھاؤ اور ناقابلِ حل مسائل کا شکار رہے گا۔ آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذاتِ مبارکہ قرآن کی عملی تفسیر اور دین کے تمام احکام کا عملی نمونہ ہے۔ ان کا ہر عمل خواہ وہ دین کے ظاہری پہلوؤں کے متعلق ہو یا باطنی، تمام اُمت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ہدایت، فلاح اور رجوع الی اللہ کا راستہ دکھاتے ہوئے فرمایا ترجمہ:’’اے ایمان والو! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کے اسوۂ حسنہ میں تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے‘‘ اور فرمایا ترجمہ:’’(اے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)! کہہ دیجےۂ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا‘‘۔ چنانچہ یہ ہر سچے مسلمان کا اعتقاد ہے کہ سنتِ رسول پر عمل ہی ایمان کی تکمیل اور اللہ سے تعلق استوار کرنے کا ذریعہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ہر عمل ’’سنت‘‘ ہے۔ ان کا اٹھنا، بیٹھنا، سونا، جاگنا ہر عمل اُمت کے لیے نمونہ ہے کہ کس طرح دین و دنیا کو سنوارا جائے اور ان کا ہر عمل اُمت کی ہی رہنمائی اور بھلائی کے لیے ہے۔ ان کے کسی بھی عمل کو غلط کہنا یا کسی بھی صورت میں اس پر اعتراض کرنا کفر کے زمرے میں شمار کیا جائے گا۔ ایسا کرنے والا دنیا میں بھی رسوا ہوگا اور آخرت میں بھی۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے:  کُلُّ اُمَّتِیۡ یَدۡ خُلُوۡنَ الۡجَنَّۃَ اِلَّا مَنۡ اَبٰی قَالُوۡا: مَنۡ قَالَ مَنۡ اَطَا عَنِیۡ دَخَلَ الۡجَنَّہَ وَمَنۡ عَصَانِیۡ فَقَدۡ اَبٰی کُلُّ عَمَلٍ لَیۡسَ عَلٰی سُنَّتِیۡ فَھُوَ مَعۡصِیَّۃٌ o ترجمہ:’’میری ساری اُمت جنت میں جائے گی سوائے اس کے جو انکار کرے۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا :کس نے انکار کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’جس نے میری اطاعت کی، وہ جنت میں جائے گا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے انکار کیا۔ جو عمل میری سنت کے مطابق نہ ہو وہ نافرمانی ہے‘‘۔

 ایک اور جگہ فرمایا ’’جس نے میری سنت کو زندہ کیا اس نے مجھ سے محبت کی، وہ قیامت کے روز جنت میں میرے ساتھ ہوگا‘‘۔ حضرت سہل بن تستری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’اللہ تعالیٰ سے محبت کی علامت قرآنِ کریم کی محبت ہے اور اللہ تعالیٰ اور قرآنِ کریم سے محبت کی علامت حضور نبی اکرمصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت ہے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محبت کی علامت سنت کی محبت ہے‘‘۔

سنت کے ساتھ ساتھ ہدایت کا دوسرا ذریعہ قرآنِ حکیم ہے۔ قرآن تمام اوامر و نواہی کا مجموعہ بھی ہے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تمام سنتوں اور اعمال کا گواہ اور انہیں اُمت تک پہنچانے والا بھی ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جس سنت کی گواہی قرآن دے دے اُمت پر اس کی پیروی دُہری تاکید کے ساتھ لازم ہو جاتی ہے کہ ایک تو سنت سے اس کا حکم ملتا ہے اور دوسرے قرآن سے۔ قرآن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ہمیں وہی سننتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پہنچائیں جن کے متعلق اللہ چاہتا تھا کہ اُمت لازماً ان کی پیروی کرے، ان پر اعتراضات نہ کرے اور ان سنتوں کو حکمِ الٰہی کی تائید سمجھ کر ان کی پیروی کرے۔
فیوض الباری شرح صحیح بخاری کے مطابق سننِ رسول ؐ دو قسم کی ہیں۔
1) سنن الہدیٰ: یہ ان سنتوں کا مجموعہ ہے جن کا تعلق راہِ ہدایت سے ہے، جن کا تارک یا تو دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا یا کبھی ایمان کے کامل درجات تک نہ پہنچ پائے گا۔ ان سنتوں میں بنیادی ارکانِ اسلام توحید، کلمہ، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، سچ بولنا، عہد پورا کرنا، تمام مکروہاتِ دین سے بچنا اور تمام مباہات کو اختیار کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ ان سنتوں کے تارک سے روزِ قیامت سوال کیا جائے گا کہ جب قرآن و سنت کے ذریعے تجھ تک واضح طور پر ان کو اختیار کرنے کی ہدایت پہنچائی گئی تھی تو تُو کیونکر ان کا منکر ہوا اور ان کا منکر بے شک رسول اللہ ؐ کا منکر اور رسول اللہ ؐ کا منکر بے شک اللہ کا منکر ہے۔ سنن الہدیٰ میں یقیناًوہ تمام سنتیں شامل ہیں جن کا ذکر قرآنِ کریم میں کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے۔
2) سنن زوائد: یہ ان سنتوں کا مجموعہ ہے جن کا تعلق حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عام روزمرہ زندگی سے ہے مثلاً آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نشست و برخاست، گفتگو کے آداب، مسواک کرنا، کھانے کے آداب وغیر ہ۔ ان سنتوں کو اختیار کرنا مستحب ہے یعنی ان کو اختیار کرنا محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی علامت ہے لیکن ان کو ترک کرنا گناہ یا مکروہ نہیں ہے، نہ ہی ان کی پیروی نہ کرنے والے سے روزِ قیامت کچھ پُرسش ہوگی بشرطیکہ وہ تمام سنن الہدیٰ پر عمل پیرا ہوتا رہا ہو۔

قرآن و سنت میں بیعت کا ثبوت

’’بیعت‘‘ لوازماتِ دین میں بنیادی حیثیت کی حامل ہے جس کا گواہ خود قرآن اور حدیث کی تمام کتب ہیں۔ ہر مسلمان کے لیے قبل اس کے کہ دین کے باقی لوازمات‘ نماز، روزہ، توحید وغیرہ کو سمجھے اور مدارجِ ایمان میں ترقی کرے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بیعت کرنا لازم تھا یعنی نبی ؐ پر ایمان لانے اور کلمۂ توحید زبان سے پڑھ لینے کے باوجود کوئی مسلمان مسلمان قرار نہیں دیا جاتا تھا جب تک کہ وہ بیعت نہ کر لے۔ پس بیعت اقرارِ توحید و رسالت کے ساتھ لازم و ملزوم قرار دی گئی۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا کوئی عمل بے حکمت اور بے سبب نہیں ہے اور ہر عمل میں اُمت کے لیے کوئی نہ کوئی رہنمائی کا پہلو بھی پوشیدہ ہے۔ چنانچہ ایمان کے زبانی اقرار کے ساتھ ہی بیعت کو لازم و ملزوم قرار دینا اس بات کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ نبی ؐ کے نورانی فیض کا حصول اور ان کی رہنمائی میں مدارجِ ایمان کی تکمیل بیعت کے بغیر ممکن نہیں اور اس بات میں بھی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بیعت کو اقرارِ توحید کے ساتھ لازم قرار دیا تو صرف اللہ کے حکم کے عین مطابق کیونکہ جن کے متعلق قرآن گواہی دے رہا ہے کہ وَ مَا یَنۡطِقُ عَنِ  الۡہَوٰی  ؕ﴿۳﴾اِنۡ  ہُوَ  اِلَّا  وَحۡیٌ   یُّوۡحٰی  ۙ﴿۴﴾  (النجم 3-4) ترجمہ:’’اور وہ اپنی خواہش سے کچھ نہیں فرماتے بلکہ ان کا کلام تو صرف وحیٔ الٰہی ہوتاہے جو ان کی طرف کی جاتی ہے۔‘‘ ان کا کوئی بھی عمل اپنی مرضی سے کیسے ہو سکتا ہے، یقیناًان کا ہر عمل بھی وحیٔ الٰہی کے مطابق ہی ہوگا اور یوں ہی بیعت بھی حکمِ الٰہی کے مطابق ہی ہوگی اور یقیناًتوحید و رسالت کے اقرار کی طرح انتہائی اہم اور دین کی تکمیل میں لازم ہوگی ورنہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہر مسلمان کے اقرارِ ایمان کے ساتھ ہی اس سے بیعت نہ لیتے۔ مزید برآں بیعت کا تعلق یقیناًسنتِ ھدیٰ سے ہے جن کا تارک منکرینِ اسلام میں شامل ہوتا ہے کیونکہ بیعت ان سنتوں میں شامل ہے جو دین کے احکام سے وابستہ ہیں اور جس کا ذکر قرآن میں بھی بڑے واضح الفاظ اور حکمت کے ساتھ موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّ الَّذِیۡنَ یُبَایِعُوۡنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوۡنَ اللّٰہَ ؕ یَدُ اللّٰہِ  فَوۡقَ اَیۡدِیۡہِمۡ ۚ فَمَنۡ  نَّکَثَفَاِنَّمَا یَنۡکُثُ عَلٰی نَفۡسِہٖ ۚ وَ مَنۡ اَوۡفٰی بِمَا عٰہَدَ عَلَیۡہُ اللّٰہَ فَسَیُؤۡتِیۡہِ  اَجۡرًا عَظِیۡمًا﴿٪۱۰﴾ (الفتح۔10) ترجمہ:’’بے شک جو لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) سے بیعت کرتے ہیں وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ سے بیعت کرتے ہیں اور اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے۔ پس جس نے توڑ دیا اس بیعت کو تو اس کے توڑنے کا وبال اس کی ذات پر ہوگا اور جس نے پورا کیا اس عہد کو جو اس نے اللہ تعالیٰ سے کیا تو وہ اس کو اجرِ عظیم عطا فرمائے گا۔ 

اس آیتِ مبارکہ سے جہاں رسول اللہ ؐ کی عظیم ذات کا اعلیٰ ترین رُتبہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا عمل اللہ کا عمل ہے، ان سے تعلق اللہ سے تعلق ہے، ان سے بیعت اللہ سے بیعت ہے وہیں بیعت کے عمل کی عظمت اور فضیلت بھی ثابت ہوتی ہے کہ اللہ نے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ ساتھ اپنی ذات سے بھی منسوب کیا کہ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بیعت کرتے ہیں وہ درحقیقت ان کے وسیلے سے اللہ کے ساتھ بیعت کرتے ہیں۔ یوں بیعت لینے کا عمل صرف سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی نہ ہوئی بلکہ سنتِ الٰہی بھی ہوئی۔پورے قرآن میں دین کے کسی دوسرے جز اور عبادت کو اللہ نے اپنی ذات سے منسوب نہیں کیا سوائے درود پاک کے کہ ’’اللہ اور اس کے فرشتے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر درود بھیجتے ہیں اے ایمان والو! تم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر درود و سلام بھیجو‘‘۔ لیکن درود پاک اللہ کی سنت تو ہے لیکن نبی کی سنت نہیں کیونکہ انہوں نے خود اپنے آپ پر درود نہ بھیجا۔ اور دیگر تمام عبادات سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تو ہیں لیکن سنتِ الٰہی نہیں۔ پس بیعت دین کا وہ واحد جز ہے جو سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بھی ثابت ہوئی اور سنتِ الٰہی بھی۔
مندرجہ بالا سورۃ فتح کی آیت10 کے مطابق بیعت کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اللہ سے عہد اور وعدے کی ایک صورت قرار دیا ہے۔ بیعت لفظ ’’بیع‘‘ سے مشتق ہے جس کے معنی ’’لین دین‘‘ کے ہیں۔ جب دو افراد ایک دوسرے سے لین دین کے معاملات طے کرتے ہیں اور عہد کرتے ہیں کہ ایک فرد ایک چیز دے گا مثلاً مال روپیہ وغیرہ تو دوسرا اس کے بدلے میں دوسری چیز مثلاً کوئی سامان یا مال دینے والے کی ضرورت کی کوئی شے وغیرہ دے گا جس کا وہ طالب ہے اور جس کو لینے کے لیے وہ مال دے رہا ہے، اس معاملے کے عہد کو بیع کہتے ہیں۔ بیعت بھی اللہ سے لین دین کے سودے کا نام ہے جس میں بیعت کرنے والا اپنا آپ اور اپنا سب کچھ جو درحقیقت پہلے ہی اللہ تعالیٰ کا ہے، اللہ کے حوالے کرتا ہے اور بدلے میں اللہ کی رضا اور اللہ کی ذات کا طالب بنتا ہے۔ پس جس نے اللہ سے سودا ہی نہ کیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرح، ان کے بعد ان کے خلفاء کی صورت میں کسی اللہ کے ولیٔ کامل کے وسیلے سے اللہ سے بیعت ہی نہ کی وہ اللہ سے کیسے اور کیا تعلق جوڑے گا، کیا دے گا اور کیالے گا۔

چونکہ بیعت اللہ سے ایک عظیم عہد ہے اور اس سے رشتہ جوڑنے کا ذریعہ بھی ہے اس لیے اللہ نے اس عہد کو نبھانے کی سخت تاکید کی ہے اور اس کے توڑنے پر پُرسش کی تنبیہ بھی کی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:وَاَوۡفُوۡا بِعَہۡدِ اللّٰہِ  اِذَاعٰہَدۡتُّمۡ  وَ لَاتَنۡقُضُوا الۡاَیۡمَانَ بَعۡدَ تَوۡکِیۡدِہَا وَ قَدۡ جَعَلۡتُمُ اللّٰہَ  عَلَیۡکُمۡ  کَفِیۡلًا ؕ(النحل ۔91) ترجمہ:اور پورا کرو اللہ کے عہد کو جب تم نے اس سے عہد کر لیا ہے اور نہ توڑو اپنی قسموں کو انہیں پختہ کرنے کے بعد، اور تحقیق تم نے کر دیا ہے اللہ تعالیٰ کو اپنے اوپر گواہ۔دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا:وَاَوۡفُوۡا بِالۡعَہۡدِ ۚ اِنَّ الۡعَہۡدَ  کَانَ  مَسۡـُٔوۡلًا (بنیۤ اسرآءِیل ۔34) ترجمہ:اور پورا کیا کرو اپنے عہد کو بے شک ان وعدوں کے بارے میں تم سے پوچھا جائے گا۔اور پھر اللہ تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے کہ بیعت اللہ کی رضا کا اور مومنین کے دل کی تسکین کا ذریعہ بھی ہے کیونکہ یہ ان کے اللہ سے رشتہ اور تعلق قائم ہونے کی دلیل ہے۔ اللہ فرماتا ہے: لَقَدۡرَضِیَ اللّٰہُ  عَنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ  اِذۡ یُبَایِعُوۡنَکَ تَحۡتَ الشَّجَرَۃِ  فَعَلِمَ  مَا فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ  فَاَنۡزَلَ السَّکِیۡنَۃَ  عَلَیۡہِمۡ  (الفتح۔18) ترجمہ:بے شک اللہ تعالیٰ مومنوں سے راضی ہو چکا جس وقت وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے، پس اِن کے دِلوں میں جو کچھ تھا (اللہ نے) جان لیا، پھر ان پر خاص تسکین نازل کی۔

قرآن کے ساتھ ساتھ کثیر متفقہ علیہ احادیثِ مبارکہ جو تقریباً تمام معتبر کتبِ احادیث میں روایت کی گئی ہیں، بھی بیعت کے عظیم سنتِ رسولؐ ہونے کا ثبوت ہیں۔ آغازِ اسلام میں جب مدینہ سے کچھ وفود مکہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انہیں اسلام کی دعوت دی تو جن افراد نے پہلے سال دعوتِ حق کو لبیک کہا ان کی بیعت ’’بیعت عقبہ اولیٰ‘‘ کے نام سے اور دوسرے سال بیعت کرنے والوں کی بیعت ’’بیعت عقبہ ثانی‘‘ کے نام سے مشہور و معروف ہے۔ حضرت کعب بن مالکؓ اس بیعت کے متعلق فرماتے ہیں ’’جب وہ رات آئی جس کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے وعدہ فرمایا تھا تو ۔۔۔مزید پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں