فقر اور روز مرہ زندگی | Faqr aur Roz Marra Zindagi

فقر اور روز مرہ زندگی

فقر کیا ہے؟ 

میرے مرشد کریم شانِ فقر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں ’’فقر کے لغوی معنی تو تنگدستی اور احتیاج کے ہیں لیکن عارفین کے نزدیک یہ وہ منزلِ حیات ہے جس کے متعلق سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:

ترجمہ’’ فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے‘‘۔

٭  فقر ایک خاص باطنی مرتبہ اور کمال ہے۔ اس کے مقابلہ میں نہ کوئی مرتبہ ہے نہ کمال۔

٭  فقر دراصل ان لوگوں کا ازلی نصیب ہے جو روزِ الست دنیا اور عقبیٰ کی تمام نعمتوں کو ٹھکرا کر اپنے مولیٰ کی طرف متوجہ رہے اور کائنات کی تمام لذتیں ان کے پائے استقامت میں لغزش پیدا نہ کر سکیں۔

٭  فقر عشق ہے۔

٭  فقر وہ راہ ہے جو بندے کو اللہ سے ملادیتی ہے ۔ 

جیسے ہی ایک طالب مرشد ِ کامل (دورِ حاضر کے مرشد ِ کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن ہیں) کے ہاتھ پر بیعت کر کے راہ ِ فقر پر گامزن ہوتا ہے تو اس کے دل میں بے شمار سوالات اُبھرتے ہیں۔ ان میں سے ایک سوال ایسا ہے جو تقریباً ہر طالب کے دل میں اُبھرتا ہے’’اب ہمیں اپنی ظاہری زندگی کیسے گزارنی چاہیے؟ دنیاوی معاملات کو فقر کے ساتھ کس طرح جوڑا جائے؟ کیا دنیا کو مکمل طور پر چھوڑ دیں؟ کیونکہ تمام انبیا اور اولیا نے دنیا کی مذمت فرمائی۔ حقیقت یہ ہے کہ جیسے ہی طالب ِ مولیٰ پوری سچائی کے ساتھ راہ ِ فقر پر مرشد ِ کامل کے حکم کے مطابق چلنا شروع کرتا ہے اسی وقت شیطان بھی اپنی ازلی دشمنی کی بنا پر اسکو بہکانے اور ڈرانے کا کام شروع کر دیتا ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرُ وَیَاْمُرُکُمْ بِالْفَحْشآءِ ۔ (البقرہ۔ 268)

ترجمہ: شیطان تمہیں فقر سے ڈراتا اور بے حیائی کے کام کرنے کو کہتا ہے۔ 

اسی لیے وہ یہ وسوسے بھی انسان کے دل میں پیدا کرتا ہے کہ ظاہری زندگی کو چھوڑ دو، جنگل میں نکل جائو یاا پنوں سے محبت کرنا اور دیکھ بھال کرنا اب تمہارا کام نہیں تم تمام لوگوں سے ناطہ توڑ لو۔ انہی بہکاووں کے سبب اکثر طالب گھبرا کر انتہائی قدم اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ جبکہ اللہ پاک تو اپنے خاص بندوں کے لیے فرماتا ہے:

٭ مَازَاغَ الْبَصَرُ وَمَاطَغٰی (النجم۔17 )

ترجمہ: نہ ان کی نظر بہکی اور نہ حد سے بڑھی۔

یعنی میانہ روی اختیار کی۔ نہ تو شیطانی بہکاووں میں آکر اللہ کا راستہ چھوڑا نہ ہی اللہ کی بنائی دنیا سے منہ موڑا۔ 

میانہ روی کیسے قائم کی جائے؟ فقر اور ظاہری زندگی میں توازن کیسے قائم رکھا جائے؟

اس بات کو سمجھنے کے لیے ہم اللہ کی بنائی کائنات کی ہی مثال لیتے ہیں۔

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں ہماری زمین سمیت تمام سیارے اپنے محور کے گرد بھی گھوم رہے ہیں اور ایک مخصوص مدار میں اپنے مرکز سورج کے اردگرد چکر بھی لگا رہے ہیں۔ اسی طرح ہر انسان کی اپنی زندگی اس کا محور ہے اور اللہ کی ذات اس کی زندگی کا مرکز۔ پس ایک طالب ِ مولیٰ کو اپنے محور کے گرد بھی گھومنا ہے اور ساتھ ساتھ اپنے  مرکز کے گرد اپنے مدار میں بھی گھومنا ہے۔ تب ہی اس کی زندگی کا نظام ایسے قائم ہوجائے گا جیسے اللہ چاہتا ہے۔ اگر ایک طالب ِ مولیٰ اپنی ظاہری زندگی کے معاملات جیسے تعلیم، نوکری، بچوں کی دیکھ بھال وغیرہ، خوش اسلوبی سے انجام دینا چھوڑ دے گا تو سارا نظامِ زندگی درہم برہم ہو جائے گا۔ فرق اب صرف یہ ہونا چاہیے کہ جو کام طالب پہلے اپنے ماں باپ ،اولاد اور خاندان کی خوشی کے لیے انجام دیتا تھا یا اپنی ذات کے مفاد کے لیے کرتا تھا اب صرف اور صرف اللہ کی رضاکے لیے اور اس کی محبت میں کئے جائیں۔ اعمال وہی، صرف نیت کی تبدیلی کی ضرورت ہے ۔

حدیث پاک ہے ’’ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ   (صحیح بخاری)

ترجمہ:’’ عملوں کا دارومدار نیتو ں پر ہے‘‘۔

فرمانِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے’’ بیشک اللہ تعالیٰ نہ تمہاری صورتوں کو دیکھتا ہے اور نہ تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے بلکہ صرف تمہارے قلوب کو دیکھتا ہے۔‘‘ یعنی وہ دیکھتا ہے کہ ایک نیک عمل کس کی خاطر کیا اور کس مقصد سے کیا۔

حضرت سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں ’’اللہ تعالیٰ کی پہچان صرف وہ طالبانِ مولیٰ حاصل کرتے ہیں جو راہِ حق پر ثابت قدم رہتے ہیں۔ اور کبھی شریعت ِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے خلاف عمل نہیںکرتے اور نہ ہی بدعت و استدراج کی گمراہ کن راہ اختیار کرتے ہیں۔‘‘

راہِ فقر پر چلتے ہوئے اپنے تمام روزمرہ کے اعمال کو ’’اللہ کی خاطر‘‘ شریعت کے دائرے میں رہ کر انجام دینا لازمی ہے۔

الرسالۃ الغوثیہ میں سیّدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؓ فرماتے ہیں ’’ میں نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا پھر میں نے سوال کیا ’اے ربّ! عشق کے کیا معنی ہیں؟‘ فرمایا’اے غوث الاعظم ؓ! عشق میرے لیے کر،عشق مجھ سے کر اور میں خود عشق ہوں اور اپنے دل کو، اپنی حرکات کو میرے ماسویٰ سے فارغ کردے۔‘‘ یہاں دل اور حرکات کو ماسویٰ اللہ سے فارغ کر دینے کا مطلب ہی یہ ہے کہ نہ تو دل میں اللہ سے بڑھ کر کسی کی محبت ہو اور نہ ہی اللہ کے سوا کسی کا خوف ہواور نہ ہی کوئی کام کسی انسان کی محبت میں ڈوب کر کریں۔ 

تو کیا فقر اختیار کرنے کے بعد دنیا کو چھوڑ دیا جائے ؟ کہیں خلوت نشینی اختیار کی جائے؟ دوسرے الفاظ میں کیا رہبانیت اختیار کر لی جائے؟ ہرگز نہیں کیونکہ اللہ پاک نے تو قرآن میں رہبانیت کی مذمت فرما دی ہے:

وَرَ ھْبَانِیَّۃَ اَبْتَدَعُوْھَا مَا کَتَبْنٰھَا عَلَیْھْم  (سورۃ العدید۔27 )

ترجمہ: اور رہبانیت کی بدعت انہوں نے خود ایجاد کر لی تھی، ہم نے ان پر مقرر نہیں کی۔

بلکہ سورۃ الاعراف میں تو اللہ پاک نے فرما دیا ہے ’’ اے بنی آدم، ہر عبادت کے موقع پراپنی زینت سے آراستہ رہو اور کھائو پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو۔ اللہ حد سے بڑھنے والوںکو پسند نہیں کرتا۔ اے محمد  (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) ان سے کہو کس نے اللہ کی اس زینت کو حرام کر دیا جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے پیدا فرمایا اور کس نے خدا کی بخشی ہوئی پاک چیزیں ممنوع کر دیں؟کہو یہ ساری چیزیں دنیا کی زندگی میں بھی ایمان لانے والوں کے لیے ہیں اور قیامت کے روز تو خالصتاً انہی کے لیے ہوں گی۔‘‘ (سورۃ الاعراف۔ 31-32 )

جب اولیا اللہ ترکِ دنیا کی بات کرتے ہیں تو درحقیقت دل سے دنیا کی محبت نکال دینے کا درس دیتے ہیں نہ کہ ظاہری طور پر دنیا کو چھوڑ دینے کا۔ ’’دنیا‘‘ سے اصل میں مراد کیا ہے؟

سلسلہ سروری قادری کے موجودہ امام مجددِ دین سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں ’’واضح ہو کہ عام طور پر مال و دولت کی فراوانی کو دنیا سمجھا جاتا ہے مگر دنیا کی تعریف یوں کی گئی ہے ’ہر وہ چیز دنیا ہے جو اللہ کی یاد سے ہٹا کر اپنی طرف مشغول یا متوجہ کرلے۔‘ جیسا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے ۔ ’’مَاشَغَلَکَ عَن اللّٰہِ فَھُوَ صَنَمَکَ۔ ‘‘

ترجمہ: ’’جو چیز تجھے اللہ کی طرف سے ہٹا کر اپنے ساتھ مشغول کر لے وہ تیرا بت ہے۔‘‘ ( کتاب سلطان العاشقین۔ فرمودات اور تعلیمات)

سلطان الفقر حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں ’’ پس دنیا کیا چیز ہے؟ کہو کہ ’’اللہ‘‘ کے سوا جو چیز بھی دل کو فرحت بخشے وہ دنیا ہے۔ (محک الفقر کلاں)

واضح ہو ا کہ ہر وہ چیز جس کی محبت اللہ کی محبت پر حاوی ہوجائے اور اللہ سے غافل کر دے وہ دنیا ہے۔ پھر چاہے وہ اولاد،ماں باپ یا رزقِ حلال ہی کیوں نہ ہوں۔ لیکن اگر یہ تمام چیزیں اللہ سے دوری کا باعث نہیں تو دنیا میں شمار نہیں ہوتیں۔ بوقت ِ ضرورت اللہ کی راہ میں قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ 

حقیقتاً دنیا ان تمام چیزوں کا مجموعہ ہے جو ایک طالب ِ مولیٰ کو اسکی اصل طلب یعنی اللہ سے غافل کر دیتی ہے اور اسی لیے ا س سے دور رہنے کا حکم ہے۔ قرآنِ پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

ترجمہ:’’ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) فرما دیجئے کہ تمہارے مال اور اولادیں تمہیں ذکر ِ الٰہی سے غافل نہ کردیں۔

یہ تھی دنیا کی حقیقت‘ اب ترکِ دنیا کی حقیقت سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس یوں بیان فرماتے ہیں :

٭  ’’ ترکِ دنیا سے مراد ترکِ ہوس دنیا ہے یعنی دنیا سے باطنی لاتعلقی کا نام ترکِ دنیا ہے۔‘‘

٭  ترکِ دنیا سے مراد دنیا کو چھوڑنا نہیں بلکہ اپنے با طن میں دنیا اور اس کی خواہشات کو شکست دینا ہے یعنی دل سے دنیا کی محبت نکال دی جائے کیونکہ جب تک دل سے دنیا کی ہوس اور محبت نہیں نکلے گی اللہ کی محبت نہیں آئے گی۔ (کتاب سلطان العاشقین)

سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے اس بات کو نہایت سادہ انداز میں بیان فرما دیا ہے’’ اگر تیرے پاس ما ل و دولت ہے لیکن تیرے دل میں اسکی محبت نہیں ہے اور تو اسے اللہ کی راہ میں بے دھڑک صرف کرتا ہے تو یہ دنیا نہیں ہے۔ البتہ اسبابِ دنیا کو جب تو اپنی مجبوری بنا لے گا تو تیرے لیے سب اسباب ہی دنیا بن جائیں گے۔ پس تو دنیا میں رہتے ہوئے اس سے دامن بچا کر ایسے نکل جا جیسے کہ مرغابی پانی میں رہتے ہوئے بھی اپنے پر خشک رکھتی ہے اور دنیا سے اپنا نصیب اس طرح حاصل کر جیسے بگلا پانی کے کنارے پر رہ کر اس کے اندر سے اپنا رزق حاصل کرتا ہے اور خود کو پانی میں غرق نہیںکرتا۔‘‘

یعنی انسان دنیا میں رہے لیکن دنیا انسان میں نہ رہے۔ ایک طالب کو ترکِ دنیا سے رہبانیت مراد نہیں لینی چاہیے بلکہ اسکا مطلب خود کو دنیا کی ہوس اور محبت سے آزاد کر کے اللہ کی محبت اور یاد میں گرفتار کرنا ہے، ہر سانس اللہ کے نام کرنی ہے اور اسکے ذکر سے اپنے باطن کو آباد کرنا ہے۔ اسی لیے سلسلہ سروری قادری میں لمبے لمبے ورد و وظائف نہیں دیئے جاتے جن کے لیے طالب کو اپنی مصروف زندگی میں سے وقت نکالنا مشکل لگے یا والدین اور اولاد سے دور ہوکر گوشہ نشینی اختیار کرنی پڑے بلکہ پاس انفاس کا ذکر دیا جاتا ہے جو وہ ہر لمحے چلتے پھرتے اُٹھتے بیٹھتے کر سکے اور اپنے دنیاوی کام بھی ساتھ ساتھ کرتا رہے۔ یوں نہ اس کی عبادت اوراللہ سے تعلق اس کے ظاہری معاملات میں رکاوٹ بنتے ہیں اور نہ ہی اس کے دنیاوی معاملات اس کے اللہ سے تعلق میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ اسی لیے اللہ نے بھی قرآن میں لمبے وظیفوں کی بجائے سانس کے ذریعے ذکر کا حکم دیا ہے۔

وَاذْکُرْ رَّبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَۃً وَّدُوْنَ الْجَھْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدْوِّ وَالْاٰصَالِ وَلَا تَکُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ۔ (اعراف205 )

ترجمہ: اور صبح و شام ذکر کرو اپنے ربّ کا دل میں‘سانسوں کے ذریعے، بغیر آواز نکالے خوف اور عاجزی کے ساتھ اور غافلین میں سے مت بنو۔

سلطان العارفین حضرت سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:

٭ اے باھُوؒ دل سے کیا گیا ایک لمحہ کا ذکر ِ اللہ نماز پڑھنے، روزہ رکھنے اور بہت زیادہ اطاعت کرنے سے بہتر ہے۔ (عین الفقر)

٭ اے باھُوؒ!عاشقوں کا یہی راز ہے کہ وہ ہمیشہ ذکر ِ ھُو کرتے رہتے ہیں ہر سانس کے ساتھ ھُو کا ذکر کرنے سے ہی ان کا ہر کام مکمل ہو جاتا ہے۔ (عین الفقر)

 سورۃ النور میں اللہ پاک ایسے ہی طالبانِ مولیٰ کے بارے میں فرماتا ہے۔

رِجَالٌ لاَّ تُلْھِیْھِمْ تِجَارَۃٌ وَّلَابَیْع عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ وَاِقَامِ الصَّلٰوۃِ اِیْتَآالزَّکٰوۃِ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْہِ الْقُلُوْبُ وَاْلاَبْصار۔(سورۃ النور۔37 ) 

ترجمہ: (اللہ کے نور کے حامل) وہی مردان (خدا) ہیں جنہیں تجارت اور خریدوفروخت نہ اللہ کی یاد (ذکر اسم ِ اللہ ذات) سے غافل کرتی ہے اور نہ نماز قائم کرنے سے اور نہ زکوٰۃ ادا کرنے سے (بلکہ دنیاوی فرائض کی ادائیگی کے دوران بھی) وہ (ہمہ وقت) اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں (خوف کے باعث) دل اور آنکھیں الٹ جائیں گے۔

سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ فرماتے ہیں ’’ تو کاروبارِ دنیا کر مگر اللہ کے لیے، دنیا کا رزق کھا مگر اللہ کے لیے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ تم جہان بھر سے علیحدگی اختیار کر لو، البتہ جو کام بھی کرو اس میں یادِ خدا ہو اور قلب اللہ کی طرف متوجہ ہو اور ہاتھ دنیا کے کام کی طرف۔‘‘ (سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ۔ حیات و تعلیمات)

اپنی اس سادہ اور مختصر لیکن جامع تحریر میں آپؒ نے طالبانِ مولیٰ کو زندگی گزارنے کا ایک نہایت انسان اور مجرب نسخہ بتادیا ہے۔

ظاہری اور باطنی زندگی میں میانہ روی اور ایک توازن رکھنے کی سب سے اعلیٰ مثال حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زندگی سے ملتی ہے۔ اسی طرح اہل ِ بیتؓ اور صحابہ کرامؓ کی حیات مبارکہ بھی بہترین نمونہ ہے۔

اگر ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زندگی پر نظر ڈالیں تو اللہ سے عشق آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بڑھ کر کسی نے نہ کیا۔ اسکے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے شادی بھی کی، اولاد پاک کی پرورش و تربیت بھی کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنی بکری کا دودھ خود دوہتے، سودا سلف بھی لاکر دیتے اور اپنے جوتے بھی خود ہی مرمت کرتے۔ ان سب کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے تبلیغ بھی کی اور اسلام کی سر بلندی کے لیے کفار سے جہاد بھی کیا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا باطن ہمیشہ اللہ کے ساتھ رہا اور ظاہر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دنیا کے معاملات کو بھی دیکھا، گھریلو معاملات بھی خوش اسلوبی سے نبھائے اور ظاہری رشتوں کے تقاضوں کو بھی بہترین طریقے سے پورا فرمایا۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی رزقِ حلال کی خاطر مختلف قسم کے شعبوں سے منسلک تھے۔ شادیاں بھی کیں اور اولادیں بھی ہوئیں لیکن کوئی بھی ذکر ِ الٰہی سے غافل نہ ہوا۔

اسی طرح حضرت بی بی فاطمہ ؓ گھر کے تمام کام کرتیں۔ چکی پیسنا، خاوند کی خدمت، بچوں کی پرورش کرنا آپؓ کے معمولات تھے لیکن یہ تمام کام کرنے کے دوران بھی زبان، دل اور دماغ پل بھر کے لیے بھی ذکر اور عشق ِ الٰہی سے غافل نہ ہوئے۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ آپ رضی اللہ عنہا کے متعلق فرماتے ہیں:

’’میں فاطمہؓ کو دیکھتا کہ وہ کھانا پکا رہی ہیں لیکن ساتھ ساتھ ذکر ِ الٰہی بھی کر رہی ہیں۔ چکی پیستے ہوئے وہ قرآن کی تلاوت کرتی رہتیں۔‘‘

اسی بات کو اقبالؒ نے اپنے اشعار میں یوں بیان فرمایا ہے:

نوری و ہم آتشی فرمانبرش
گم رضائش در رضائے شوہرش
آں ادب پروردۂ صبر و رضا
آسیا گردان و لب قرآں سرا
اشک او برچید جبرئیلؑ از زمیں
ہمچو شبنم ریخت بر عرش بریں

ترجمہ:حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مقام اتنا بلند ہے کہ نوری فرشتے اور آتشی جن بھی ان کے فرمانبردار ہیں لیکن ان کی رضا ان کے شوہر مولیٰ علیؓ کی رضا میں تھی۔ وہ صبر و رضا کی پروردہ چکی پیستے ہوئے بھی قرآن کی تلاوت کرتی رہتیں۔ اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت میں جو آنسو ان کی مبارک آنکھوں سے گِرتے، جبرائیل ؑ ان کو اٹھا کر شبنم کی طرح عرشِ بریں پر پھیلا دیتے۔

گھریلو خواتین کے لیے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی زندگی ایک نمونہ ہے کہ کیسے دنیاوی زندگی اور فقر کی باطنی زندگی میں توازن قائم رکھا جائے۔ نہ گھر کی ذمہ داریاں فراموش کی جائیں اور نہ ہی ان کی خاطر اللہ سے تعلق کو پس ِ پشت ڈال دیا جائے۔

ملازمت پیشہ خواتین کے لیے حضرت رابعہ بصریؒ کی بہترین مثال موجود ہے۔ آپ ؒ دن میں کسی کے گھر ملازمت کرتی تھیںاور رات کو اللہ کی عبادت۔ لیکن ملازمت کے دوران بھی دل اصل آقا(اللہ) کی یاد سے غافل نہ ہوتا تھا۔ دورِ حاضر کے مرشد ِ کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی زندگی ہمارے سامنے ایک زندہ اور روشن مثال ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے بھر پور ظاہری و باطنی زندگی گزاری اور دونوں میں ایسا توازن قائم رکھا جس کی مثال ملنا ناممکن ہے۔ سرکاری نوکری، بچو ں کی پرورش اور دیگر ظاہری معاملات کو نبھاتے ہوئے اپنے مرشد پاک کی ایسی خدمت کی کہ شاید ہی کسی طالب ِ مولیٰ نے کی ہو۔ باطن میں اللہ سے ایسا عشق کیا کہ سلطان العاشقین کہلائے اور ظاہر میں فقر کی تبلیغ و اشاعت کے لیے اتنا کام کیا کہ شانِ فقر اور آفتابِ فقر کہلائے۔

آپ مدظلہ الاقدس تبلیغی دوروں پر شہر شہر بھی جاتے ہیں، کتابیں بھی لکھیں، فقر کی ترقی کے لیے انٹر نیٹ پر جوکام آپ مدظلہ الاقدس کی زیر نگرانی ہو ا کسی نے نہیں کیا۔ لیکن باطن میں ہمہ وقت اللہ کی طرف متوجہ رہتے ہیں کیونکہ اللہ سے مسلسل جڑے بغیر اللہ کے دین کا کام اس قدر خوش اسلوبی سے انجام نہیں دیا جا سکتا اور یہی دینی و دنیاوی کامیابی کا راز ہے۔ 

سلطان الفقر ششمؒ فرماتے ہیں’’ دنیا سا یہ کی مانند ہے۔ اگر آپ سورج کی طرف پیٹھ کر لیں تو آپ کا سایہ آپ کے سامنے آجائے گا۔ اگر آپ اپنے سائے کو پکڑنے کے لیے اسکی طرف بڑھیں گے تو وہ آپ کے آگے چل پڑے گا اور آپ کے ہاتھ نہیںآئے گا اور اگر آپ اپنے سائے کی طرف پیٹھ کر لیں اور سورج کی طرف منہ کر کے چل پڑیں تو سایہ آپ کے پیچھے بھاگنے لگے گا۔ بالکل اسی طرح اگر آپ اللہ سے منہ موڑ کر دنیا کی طرف چل پڑیں گے تو اسے پکڑ نہیں سکیں گے لیکن اگر آپ دنیا سے منہ موڑ کر اللہ کی طرف چل دیں گے تو دنیا آپ کے پیچھے بھاگنا شروع کر دے گی۔‘‘ (شمس الفقرا) 

تو روزمرہ کی زندگی میں سے اگر کسی عمل کو خارج کرنا ہے تو حرصِ دنیا کو اور کچھ لازم کرنا ہے تو دائمی ذکر ِ الٰہی کو۔

ذکر ِ الٰہی کنجی ہے جو باطن کے بند قفل کو کھول دیتی ہے اور اس ذکر ِ الٰہی کی بدولت انسان باطنی بیماریوں مثلاً بغض، حسد، کینہ، لالچ وغیرہ سے پاک ہو جاتا ہے جو کہ دیدارِ الٰہی کی راہ میں حجاب ہیں۔

حضرت سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں ’’ جو شخص اسم ِ اللہذات کے دائمی ذکر، فکر، اور تصور میں مشغول نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ اس پر قہر ، غضب اور جلالیت کی نگاہ ڈالتا ہے اور دنیا کی ترقی اور عزو جاہ دے کر اس کے دل کو سیاہ کر دیتا ہے۔اور حرص، حسد، ہوا، تکبراور طمع کے ذریعے اسے تباہ کر دیتا ہے۔ وہ گمراہ ہو کر اللہ تعالیٰ کی معرفت سے محروم رہتا ہے اور دن رات دنیا کی حرص کی آگ میں جلتا رہتا ہے۔ (گنج الاسرار)

حضرت سلطان باھُوؒ عین الفقر میں فرماتے ہیں:

٭ مرشد طبیب کی مثل ہوتا ہے اور طالب مریض کی مثل۔طبیب جب کسی مریض کا علاج کرتا ہے تو اسے تلخ و شیریں دوائیں دیتا ہے اور مریض پر لازم ہوتا ہے کہ وہ یہ دوائیں کھائے تاکہ صحت یاب ہو سکے۔ (عین الفقر)

آپؒ کے اس قول میں تلخ ادویات سے مراد آزمائش اور مشکل حالات ہیں جو طالب ِ مولیٰ کو راہِ فقر کے سفر میں لازماً پیش آتے ہیں۔ انہی آزمائشوں سے گزر کر طالب ترقی کی منازل طے کرتا ہے اور یہ آزمائشیں اس کی ظاہری زندگی سے بھی جڑی ہوتی ہیں۔ اگر استقامت اختیار کر یں گے اور مرشد پر کامل یقین رکھیں گے تو مرشد پاک خود ہی آرام سے آزمائشوں سے نکال دیں گے ۔ کبھی مرشد پاک کی طرف سے ایسی ذمہ داری طالب کو دی جاتی ہے جو اس کی ظاہری ذمہ داریوں سے ٹکرا رہی ہوتی ہے اور اس کے لیے دونوں کو بیک وقت سرانجام دینا ناممکن ہوتا ہے۔ ایسے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ کا یہ قول اس کے لیے مشعل ِ راہ ہو گا ’’جب مجھے کوئی ایسا معاملہ در پیش آتا ہے کہ اللہ کا کام اور ذاتی کام اکٹھے آجائیں  تو میں اپنا کام چھوڑ کر اللہ کا کام کرتا ہوں اور اپنا کام اللہ کے حوالے کر دیتا ہوں۔ پس اللہ کا کام بھی احسن طریقہ سے ہو جاتا ہے اور میرا کام بھی اللہ اس سے بہتر طریقے سے کروا دیتا ہے جیسے کہ میں خود کرتا۔‘‘

سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں ’’ وہی طالب فقر میں کامیاب ہوسکتا ہے جو مرشد کے کسی بھی عمل پر کبھی اعتراض نہ کرے اور ہمیشہ اسکی رضا کو سمجھنے کی کوشش کرے۔‘‘ (سلطان العاشقین)

اب جب ہم نے اپنے اُٹھنے والے ہر قدم اور چلنے والی ہر سانس کو اللہ کے نام کر دیا تو اپنے مال، اولاد ، علم اور باقی تمام قابلیتوں کو بھی اللہ کے نام کر دیں اور باطنی اور ظاہری حکم ِ مرشد کے مطابق استعمال میں لائیں۔

آج کے دور میں تلوار کے ساتھ جہاد تو عام نہیں لیکن جہاد بالقلم اور جہاد بالمال تو کیا جا سکتا ہے۔ تحریک کی کامیابی کے لیے جو ڈیوٹی بھی دی جائے پورے ذوق و شوق سے کریں اور حرصِ دنیا کی جگہ حرصِ معرفت ِ الٰہی کو اپنائیں۔ 

استفادہ کتب:

محک الفقر کلاں۔ تصنیف حضرت سخی سلطان باھُوؒ

گنج الاسرار۔ ایضاً

عین الفقر ۔  ایضاً

شمس الفقرا۔ تصنیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس

سلطان محمد اصغرعلیؒ۔ حیات و تعلیمات۔ ایضاً

سلطان العاشقین۔ مطبوعہ سلطان الفقر پبلیکیشنز

اپنا تبصرہ بھیجیں