خصائصِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم| Khasais e Mustafa

خصائصِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم

تحریر: صائمہ واجد سروری قادری۔ لاہور

خصائص سے مراد وہ اوصاف و کمالات اور امورو معاملات ہیں جو کسی کی ذات کے ساتھ خاص ہوں اور کسی دوسرے میں نہ پائے جائیں۔ خالقِ کائنات نے انسان کی رشدو ہدایت کے لیے اپنے برگزیدہ بندوں کو پیغمبر بنا کر دنیا میں بھیجا تو اُنہیں دیگر انسانوں سے متمیز کرنے کے لیے اَن گنت اوصاف و کمالات سے متصف فرمایا، یہ اوصاف و کمالات اُن کے خصائص کہلاتے ہیں ۔ جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مبعوث ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ان تمام خصائص و امتیازات کا جامع بنایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بے پایاں اعزازات، القابات، معجزات اور اختیارات عطا فرمائے گئے جو صرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا خاصہ ہیں ۔

تخلیق میں اوّلیت

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ربِّ کائنات کی تخلیقِ اوّل ہیں۔ اس کائنات کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لیے ہی تخلیق اور آراستہ کیا گیا ہے۔ عالمِ کون و مکا ں کو ابھی وجود بھی نہیں ملا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو عدم سے عالمِ وجود میں منتقل فرما دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اللہ تعالیٰ کی مراد ہیں۔ نورِ ذات حق تعالیٰ سے سب سے پہلے نورِ محمدی ظاہر ہوا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نور سے تمام کائنات کی تخلیق مرحلہ وار عمل میں آئی۔ تخلیق میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اوّل اور عالمِ ناسوت میں ظہور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم آخر ہیں ۔ 
جیسا کہ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

ھُوَاْلاَوَّلُ وَ اْلاخِرُ وَالظَّاھِرُ وَالْبَاطِنُ وَ ھُوَ بِکُلِّ  شَئْیٍ عَلِیْمٌ (الحدید۔ 3)
ترجمہ : ’’وہی اوّل ہے، وہی آخر ہے،وہی ظاہر ہے، وہی باطن ہے اور وہی سب کچھ جانتا ہے۔‘‘
مفسرینِ حق اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ آیت مبارکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں نازل ہوئی ہے ، 
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا :
یَاجِابِرُ اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی خَلَقَ قَبْلَ الْاَ شْیَآءِ نُوْرَ نَبِیِّکَ مِنْ نُوْرِہٖ
ترجمہ : اے جابرؓ! بے شک اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں سے پہلے تیرے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کے نور کو اپنے نور سے پیدا فرمایا۔ 

*اَوَّلَ مَاخَلَقَ اَللّٰہُ  نُوْرِیْ ۔
ترجمہ: سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے میرے نُور کو پیدا فرمایا۔

مزید ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے:
*اَنَا مِنْ نُّوْرِ اللّٰہِ تَعَالٰی وَکُلُّ خَلَآئِقِ مِنْ نُّوْرِیْ 
ترجمہ : میں اللہ پاک کے نور سے ہوں اور تمام مخلوقات میرے نور سے ہیں۔ 
اگر اللہ تعالیٰ نے کائنات کو تخلیق کر کے مخلوقات میں اپنے ربّ اور خالق و مالک ہونے کو ظاہر کیا ہے تو حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وجہ سے، ورنہ اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نہ ہوتے تو میں بھی اپنے آپ کو ظاہر نہ کرتا۔ حدیثِ قدسی میں خود اللہ تعالیٰ نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بتایا :
*لَوْلَاکَ لَمَا اَظْہَرْتُ الرَّبُوْبِِیَّۃَ
ترجمہ : (اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) اگر آپٖ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نہ ہوتے تو میں اپنا ربّ ہونا بھی ظاہر نہ کرتا ۔
شاعر نے کیا خوب کہا ہے :
* اے کہ تیرےؐ وجود پہ خالقِ دو جہاں کو ناز
اے کہ تیراؐ وجود ہے وجہ وجودِ کائنات
جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کائنات میں سب سے پہلے ساجد، عابد، اللہ کے بندے اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے والے ٹھہرے تو یہ ثابت ہو گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پہلے خدا کی کوئی مخلوق نہیں تھی، اگر کسی مخلوق کا وجود ہوتا تو وہی اللہ پر سب سے پہلے ایمان لاتی اور اقرارِ بندگی کرتی ۔ 
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اوّل الخلق ہونے پر درج ذیل آیتِ کریمہ بھی دلالت کرتی ہے ۔ 
ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
وَ مَآ اَ رْسَلْنَکَ اِلَّا رَحْمَۃَ لِّلْعَلَمِیْنَ ۔(الانبیاء)
ترجمہ : ’’اور ( اے رسو ل صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) ہم نے آپ ؐ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہا نوں کے لیے رحمت بنا کر۔ ‘‘
اس آیت کریمہ کی روشنی میں اگر غور کریں تو رحمت کے کئی درجے نظر آتے ہیں جو کائنات کی تخلیق اور اُس کی نشوو نما میں کار فرما ہیں۔ 
کسی بھی چیز کے لیے سب سے پہلی رحمت تو یہ ہے کہ وہ عدم سے وجود میں لائی جائے۔ اسی طرح اس وجود کا باقی رہنا اور بتدریج درجۂ کمال تک پہنچنا بھی رحمت ہے۔ رحمت کا آغاز ہی اس وقت ہوتا ہے جب کسی شے کو وجود ملتا ہے اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے متعلق فرمایا گیا کہ :
ترجمہ:’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ساری کائنات کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔‘‘
اس سے ثابت ہوا کہ کائنات کی ہر شے کو وجود بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی رحمت کے تصدق سے ملا ہے ۔ کائنات اپنے وجود میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی رحمت کی محتاج ہے۔ جب ساری کائنات حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی رحمت کی محتاج ٹھہری تو قرآن کی اس آیت کریمہ کے مطابق ساری کائنات کو وجود بعد میں ملا اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خلقت اور رحمت کا آغاز پہلے ہو ا۔
بقول علامہ اقبال ؒ :

نگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل وہی آخر 
وہی قرآں وہی فرقاں وہی یٰسین وہی طٰہٰ 

گویا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نور مبارک کی کائنات میں اوّلین تخلیق، اس کے عالم ارواح میں ملکوتی قیام اور عالم اجسام میں ناسوتی سفر کا ذکر مختلف محققین اور اصحابِ فضائل کے ہاں آج تک تواتر سے ہوتا چلا آ رہا ہے ۔
* حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا :
ترجمہ:’’ میں تخلیق کے لحاظ سے تمام انبیا سے اوّل اور مبعوث ہونے کے اعتبار سے سب سے آخری (نبی) ہوں۔‘‘ (دلائل النبوۃ)
* حضرت جابر بن عبداللہ انصاریؓ روایت فرماتے ہیں :
ترجمہ: میرے ماں باپ آ پ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر قربان ہوں! مجھے بتا دیجیے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے کون سی چیز پیدا فرمائی؟ فرمایا! اے جابرؓ بے شک اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات سے پہلے تیرے نبیؐ کا نور اپنے نور سے پیدا فرمایا ۔ وہ نور قدرتِ الٰہی سے جہاں جہاں اللہ تعالیٰ نے چاہا گردش کرتا رہا۔ اس وقت نہ لوح تھی نہ قلم تھا۔ نہ آسمان تھا، نہ سورج تھا، نہ چاند تھا، نہ جن تھے نہ انسان تھے (یعنی اس وقت کچھ نہیں تھا)۔ (زرقانی جلد 1 صفحہ 46)
* حضرت عمرؓ روایت فرماتے ہیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مجھ سے فرمایا !
ترجمہ: ’’اے عمرؓ کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں کون ہوں ؟ میں وہ ہوں کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے میرے نور کو پیدا فرمایا تو میرے نور نے اللہ تعالیٰ کو سجدہ کیا ۔ سات سو سال سجدہ میں رہا ۔ تو سب سے پہلے جس نے اللہ تعالیٰ کو سجدہ کیا وہ میرا نور تھا ۔ اور یہ بات میں فخر سے نہیں کر رہا ہوں۔ اے عمرؓ کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں کون ہوں ؟ میں وہ ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے عرش کو میرے نور سے پیدا فرمایا اور کرسی کو میرے نور سے پیدا فرمایا اور سورج و چاند اور آنکھوں کے نور کو میرے نور سے پیدا فرمایا اور عقل کو میرے نور سے پیدا فرمایا اور میں یہ بات فخر سے نہیں کر رہا ہوں۔ ‘‘ 
* حضرت علیؓ سے روایت ہے ’’حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ میں حضرت آدمؑ کی تخلیق سے چودہ ہزار سال پہلے اپنے ربّ کی بارگاہ میں نور کی صورت میں موجود تھا ۔‘‘
* حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے ’’حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جبرائیل ؑ سے سوال فرمایا کہ آپ نے عمر کے کتنے سال گزار لیے ہیں۔ جبرائیل ؑ نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم اس کے علاوہ میں کچھ نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ کے نورانی حجابات سے چوتھے پردہ میں ستر ہزار سال کے بعد ایک نوری تارا ظاہر ہوتا تھا۔ میں نے اُسے بہترہزار مرتبہ دیکھا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ! اے جبرائیل ؑ میرے ربّ کی قسم وہ تارا میں ہی ہوں۔ ‘‘ (جواہر البحار جلد2، روح البیان جلد 2)
* حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذاتِ اقدس ہی وجہ تکوین کائنات ہے لیکن اس حقیقتِ ازلی کا ادراک انسانی عقل نہیں کر سکتی ، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد ہے:
’’اے ابوبکرؓ ! مجھے اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، میری حقیقت میرے ربّ کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ 

نبوت میں اوّلیت و آخر :

جس طرح حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو تخلیق میں شرفِ اوّلیت حاصل ہے اِسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو نبوت و رسالت پر فائز کیے جانے میں بھی اوّلیت حاصل ہے ۔
حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں : 
صحابہ کرامؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! یہ ارشاد فرمائیے کہ آپؐ کو شرفِ نبوت سے کب نوازا گیا ؟
حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا : ( میں اس وقت بھی نبی تھا) جب آدم ؑ کی تخلیق ابھی روح اور جسم کے مرحلے میں تھی ۔
یعنی نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اُس وقت بھی نبی تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر احکامِ نبوت جاری ہو چکے تھے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نبوت بھی تخلیقِ آدم سے پہلے واقع ہوئی۔ 
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے روایت ہے: 
’’ یا رسول اللہ آپؐ سے (نبوت کا ) میثاق کب لیا گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا : 
’’( اس وقت) جب حضرت آدم ؑ کی تخلیق روح اور جسم کے درمیانی مرحلے میں تھی۔‘‘ عالمِ اروح میں جب تمام انبیا کرام کو خلعتِ نبوت سے مشرف فرمایا گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان تمام انبیاکرام سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نبوت و رسالت پر ایمان لانے اور آپؐ کی نصرت و تائید کا پختہ عہد لیا ۔ 
ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
ترجمہ:’’اور( اے محبوبؐ !وہ وقت یاد کریں )جب اللہ نے انبیا سے پختہ عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت عطا کر دوں پھر تمہارے پاس وہ (سب پر عظمت والا) رسو ل صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تشریف لائے جو ان کتابوں کی تصدیق فرمانے والا ہو جو تمہارے سابقہ ہوں گی تو ضرور با لضرور ان پر ایمان لاؤ گے اور ضرور بالضرور ان کی مددکروگے ؟ فرمایا کیا تم نے اقرار کیا؟ اور اس (شرط) پر میرا بھاری عہدِ مضبوطی سے تھام لیا؟ سب نے عرض کیا : ہم نے اقرا ر کر لیا۔ فرمایا کہ تم سابقہ گواہوں میں سے ہو۔‘‘ (آل عمران۔81)
اس آیت مبارکہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمام نبی پہلے حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نبوت پر ایمان لائے اور اس ایمان لانے کے صدقے اور اس اقرار کے صلے میں انہیں نبوت کے منصب پر فائز کیا گیا ۔ 
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پہلے جتنے انبیا و رسل مبعوث ہوتے رہے وہ کسی خاص علاقے، خاص زمانے یا خاص قوم کے لیے آتے رہے۔ ان کا دائرہ کار محدود ہوتا تھا لیکن جب تاجدارِ کائنات کو مبعوث فرمایا گیا تو انہیں تمام بنی نوع انسان کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا دائرہ نبوت پوری کائنات پر محیط کر دیا گیا۔ 
چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآ فَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرً 
ترجمہ:’’ اور اے محبوب! ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو تمام بنی نوع انسان کے لیے خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا بناکر بھیجا ہے۔ 
ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے :
تَبَارَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعَالَمِیْنَ نَذِیرًا۔ (الفرقان۔1)
ترجمہ:( وہ اللہ ) بڑی برکت والا ہے جس نے حق و باطل میں فرق اور فیصلہ کرنے والا ( قرآن ) اپنے (محبوب ومقرب ) بندہ پر نازل فرمایا تاکہ وہ تمام جہانوں کے لیے ڈر سنانے والا ہوجائے ۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: 
ترجمہ:’’ ہر نبی خاص اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا رہا جبکہ مجھے عامتہ ا لنّا س کی طرف مبعوث کیا گیا ۔‘‘ 
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا : 
مجھے ازل سے ابد تک کی تمام مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔ 
صحیح مسلم میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فر مایا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور ز مین کی تخلیق سے پچاس ہزار سال قبل جس وقت اس کے اقتدار اور سلطنت کا عرش عالمِ مادی میں فقط پانی پر تھااس وقت اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اُ م الکتاب میں لکھا اس میں ایک بات یہ بھی تھی ان محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم خاتم النبیین (محمدصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سب سے آخری نبی ہیں )
حضرت شیخ الاکبرمحی الدین ابنِ عربی ر حمتہ اللہ علیہ حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام کے سب سے اوّل تخلیق اور آخری نبی ہونے کو ایک مثال کے ذریعے واضح فر ماتے ہیں کہ ایک تاجر ہے وہ اپنے خزانے کو غالیچے میں لپیٹ کر رکھے مگر اس کے اندر ایک دوسرے کے بعد کئی کپڑے لپیٹ دے تو اس صورت میں جب وہ اس غالیچے کو کھولے گا تو جو کپڑا سب سے پہلے رکھا ہوگا وہ سب سے آخر میں نکلے گا ۔
آپ ؒ اپنی کتاب شجرۃالکون میں فرماتے ہیں کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ظہور کا حال یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی روح سب سے پہلے وجود میں آئی اور سب سے آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ظہور ہوا اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اوّل و آخر کہا گیا ۔
جو ذات باعثِ وجود کائنات ہے اس سے عشق و محبت وفا اور اطاعت کے بغیر ایمان کے مکمل ہوجانے کا تصور ہی نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے کائنات کو تخلیق کر کے مخلوقات میں اپنے ربّ ہونے کو ظاہر کیا ہے تو حضو رصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وجہ سے۔ ہمارے پیرو مرشد سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس حقیقتِ محمدیہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
* اگرآپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات مبارک نہ ہوتی تو اللہ کا ہونا بھی ظاہر نہ ہوتا۔ یعنی اس کی ربوبیت بھی ظاہر نہ ہوتی اور وہ خود بھی ظاہر نہ ہوتا۔ پس ہوتا لیکن نہ ہوتا۔ پس وہ وجود جو ہر شے کی تخلیق کا باعث ہے وہ ایک جہت سے خود ذاتِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے۔ اگر حقیقتاً سمجھا جائے تو یہ وجود دونہیں بلکہ ایک ہے۔ لیکن اگر ظاہراً دیکھا جائے تو وجود دو ہو کر بھی ایک دوسرے کے عین اور مشابہ ہیں۔ (حقیقتِ محمدیہؐ)
مانا خدا کو ہم نے توسط سے آپؐ کے
مفہوم کیا ہے اس کے سوا لَآاِلٰہَ کا

اپنا تبصرہ بھیجیں