راہِ فقر کے راہزن Rah-e-Faqr Kay Rahzan

راہِ فقر کے راہزن

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی تعلیمات کی روشنی میں

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ ستارھویں صدی ہجری کے عظیم المرتبت بزرگ، امامِ سلسلہ سروری قادری اور فقیرِ کامل ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی وسعتِ ولایت کا اندازہ آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اُس باطنی حکمِ سروری و سرمدی سے لگایا جا سکتا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے سلطان العارفینؒ کو باطنی طور پر بیعت کرتے ہوئے فرمایا جس کا ذکر آپؒ یوں بیان فرماتے ہیں:
* حضور فائض النور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حکمِ ارشاد، خلق شدہ، چہ مسلم، چہ کافر، چہ بانصیب، چہ بے نصیب، چہ زندہ و چہ مردہ۔‘‘ (رسالہ روحی شریف)
ترجمہ:حضور فائض النور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے تمام خلقت، کیا مسلم، کیا کافر، کیا بانصیب، کیا بے نصیب کیا زندہ کیا مردہ سب کو ہدایت کا حکم ملاہے۔
آپ رحمتہ اللہ علیہ کی تعلیمات ایسا آئینۂ باصفا ہیں کہ ہر شخص ان میں اپنے مقام و مرتبہ کی تحقیق کر سکتا ہے۔آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حکم کے مطابق آپ ؒ ہر مسلمان، کافر، زندہ، مردہ، بانصیب، بے نصیب، راہِ راستی پر قائم،راہِ حق سے منحرف ہونے اور بھٹک جانے والے، سکوت اختیار کرنے والے، عارفانِ باللہ، علماءِ عامل، فقراءِ کامل، غوث و قطب، ابدال و اوتاد، مرشدانِ کامل، صاحبِ الہام، صاحبِ وھم، صاحبِ دلیل، صاحبِ مکاشفہ، صاحبِ کشف و کرامات،صاحبِ زُہدو ریاضت، اہلِ علم، اہلِ دعوت، اہلِ تقویٰ، اہلِ درجات و مراتب، اہلِ حجاب، طالبانِ دنیا، طالبانِ عقبیٰ، طالبانِ مولیٰ،مبتدی، متوسط اور منتہیٰ طالب، ہر عاقل و ہوشیار اور جاہل وبدکردار کو اپنی تعلیمات میں مخاطب فرماتے ہیں۔ اُن کے سکوت، مقام و مرتبہ کی حقیقت، وجۂ رجعت اور ناقص رہنے کے اسباب کو بیان فرماتے ہیں اور معرفت و وصالِ الٰہی کی طرف بڑھنے کیلئے تلقین و ارشاد فرماتے ہیں۔
* جب ایک طالبِ مولیٰ صدق و اخلاص سے قرب و وصالِ الٰہی کی طرف بڑھتا ہے تو تمام کائنات رفتہ رفتہ اس کے تصرف و اختیار میں دے کر اللہ تعالیٰ اس کے صدق، اخلاصِ نیت، ہمت و حوصلہ اور ارادہ اور طلبِ مولیٰ کی پختگی کی آزمائش کرتا ہے کہ آیا وہ غیر ماسویٰ اللہ مقامات و مراتب کی طرف متوجہ ہوتا ہے یا اپنی نظر ذاتِ حق تعالیٰ پر رکھتا ہے۔
جب معراج کی رات آقا علیہ الصلوٰۃو السلام قرب و وصالِ الٰہی کی طرف بڑھے تو کائنات کی ہر شے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سامنے آراستہ و پیراستہ کر کے پیش کی گئی مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان تمام مقامات و مراتب کو اپنے قبضہ و اختیار میں لاتے ہوئے ان پر قناعت نہ کی اور انہیں ناپسند کرتے ہوئے ذاتِ حق تعالیٰ کی طرف اپنا سفر جاری رکھا۔ زیرِ نظر تحریر میں ہم ان مقامات و مراتب، درجات و حجابات اور لذات و تصرفات کو سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کی تعلیمات کی روشنی میں بیان کر رہے ہیں۔
اگر ایک طالبِ مولیٰ ان مقامات و مراتب اور درجات و تصرفات کو اللہ تعالیٰ کی طرف بڑھنے کے لیے وسیلہ و سیڑھی جانے اور ان کے کھلنے، تصرف میں آنے اور حاصل ہونے کے دوران ان کی طرف مائل و متوجہ ہونے کی بجائے اپنی نظر دیدار و وصالِ الٰہی اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر رکھے تو یہ طالبِ مولیٰ کے لیے خزانۂ دل ہیں بصورتِ دیگر اگر یہ طالبِ مولیٰ کے لیے سکوت اور ٹھہراؤ کا باعث بنیں تو راہِ فقر کے راہزن اور مراتبِ ہوا و ہوس ہیں اور طالبِ مولیٰ کے لیے استدراج، رِجعت اور ناقص پن کی وجہ ہیں۔ ذیل میں ہم سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کی تصنیفات عین الفقر، نور الہدیٰ (کلاں)، عقلِ بیدار، کلید التوحید (کلاں)، اسرارِ قادری اور محک الفقر (کلاں) سے ان مقامات و مراتب، درجات و تصرفات اور لذات و حجابات کی فہرست دے رہے ہیں جن کی حقیقت و حیثیت پر سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کا نکتۂ نظر بیان کریں گے۔ یہ مقامات و مراتب، درجات و تصرفات اور لذات و حجابات درج ذیل ہیں:
* ذکر و فکر کے حجابات اور لذات، وردو وظائف سے حاصل ہونے والے مشاہدات اور ان کی لذات، لوحِ محفوظ کے مطالعے اور مشاہدے سے لوگوں کو ان کے احوالِ نیک و بد کی خبر دینا، کشف القلوب کے حاصل ہونے سے لوگوں کے احوال و خیالاتِ دل جاننا، کشفِ قبور کے کھلنے اور جاری ہونے سے مُردوں کے حالات جاننا، علمِ دعوت کے رواں ہونے سے اولیاء کرام کے مراتب کی تحقیق اور مجلسِ انبیاء اور اولیاء میں حاضری کی لذات اور ان پر سکوت اختیار کر لینا، کونین کا ہر وقت مشاہدہ کرنا، کشف و کرامات کا ظہور اور ان کو دیکھنے دکھانے کی لذات، الہام، وھم اور کشف کا حاصل ہو جانا، خود کو غوث و قطب یا ابدال و اوتاد سمجھنا، مراتب کے حصول کے بعد ان کے سلب ہو جانے کے غم میں غرق رہنا، مستجا ب الدعوات ہو جانے کو قربِ الٰہی کی انتہا سمجھ لینا، حرمِ کعبہ و حرم مدینہ میں خود کو نماز پڑھتے دیکھنا اور دیگر اعمال و ارکان کے مشاہدہ میں خود کو مصروف دیکھنا، شیخِ کامل سے الہامات و پیغامات کے وصول ہونے پر خود کو صاحبِ فقر اور فقیر جاننا، علمِ ارادات و علمِ مکاشفہ اور علمِ لدنی کے حصول کے بعد علم کو بیان کرنے کی لذت میں غرق ہونا، تعبیرِ رویا کا حاصل ہو جانا، تحت الثریٰ سے عرشِ بریں تک مقاماتِ باطن کی طیر سیر، اپنی غیب دانی کا لوگوں پر اظہار کرنا، مقامِ شریعت، مقامِ طریقت، مقامِ حقیقت، مقامِ معرفت، مقامِ عشق اور مقامِ محبت میں مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے احوال پر قناعت کرنا، رجوعاتِ خلق کی طرف مائل ہونا، مقاماتِ عقبیٰ کا مشاہدہ، جنوں اور مؤکل فرشتوں کی تسخیر اور ان سے مختلف کاموں کا حصول، فتوحات کا حاصل ہونا، مقامات و مراتب کا تصرف اور لوگوں کو ان تک پہنچانے کا تصرف مل جانا، اسمائے الٰہیہ اور آیاتِ الٰہیہ کے انوار کا مشاہدہ، تجلیاتِ نفس اور تجلیاتِ روح کو انوارِ ذات اور معرفتِ الٰہی سمجھ لینا اور ان جیسے کئی اور مراتبِ صفات کا حصول وغیرہ راہِ فقر کے حجابات ہیں۔
* اب ہم ان مقامات و مراتب، درجات و تصرفات، لذات و حجابات کی حقیقت و حیثیت کو تعلیمات سلطان العارفینؒ کے مطابق بیان فرماتے ہیں۔سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو ؒ دورانِ مشاہدہ طالبِ اللہ کو اپنی نظر معرفتِ توحیدِ حق تعالیٰ اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر رکھنے کی تلقین و ہدایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
* ’’یاد رہے کہ دورانِ مشاہدہ نظر معرفتِ توحیدِ حق تعالیٰ اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری پر رہے کہ یہی اصل مقصود ہے۔ اس کے علاوہ ہر مرتبہ دوری اور رسوائی کا مرتبہ ہے۔ ان دونوں مراتب میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور محبت کی تکمیل ہے۔جیسا کہ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
* ترجمہ: ’’اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔‘‘ (التوبہ۔100)
* ترجمہ: ’’اللہ تعالیٰ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں۔‘‘ (البقرہ۔ 161)
نورِ حضور کا یہ خلاصہ لا مکان میں پایا جاتا ہے۔ عارف باللہ فقیر جب لامکان میں پہنچتا ہے تو دونوں جہاں اس کو مچھر کے پَر جیسے بے وقعت نظر آتے ہیں۔ (نور الہدیٰ کلاں)
* جب طالبِ مولیٰ ذاتِ حق تعالیٰ کی طرف بڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان مقامات و مراتب کو اس پر کھول کر اس کے صدق، صبر اور طلبِ الٰہی کی آزمائش کرتا ہے کہ آیا اس کی نظر ذاتِ حق تعالیٰ سے بہکتی ہے یا وہ نگاہِ بلند اور سخن دلنوار سے ذاتِ حق تعالیٰ کی طرف متوجہ رہتا ہے۔
* ’’جو شخص اللہ کی طرف دوڑتا ہے اللہ تعالیٰ کا فضلِ عنایت اسے اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور اس کے سامنے دونوں جہان پیش کر کے اس کا امتحان لیتا ہے، اگر طالبِ اللہ دونوں جہان سے منہ موڑ لیتا ہے تو فقیر ہو جاتا ہے اور فقر کے اس مرتبہ پر پہنچ جاتا ہے جہاں اس کی نظر اللہ کے سوا کسی اور چیز کی طرف نہیں اٹھتی جیسا کہ فرمانِ الٰہی ہے ’’نہ بہکی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی نظر، نہ حد سے بڑھی۔‘‘ (نور الہدیٰ کلاں)
* ’’طریقت میں رجوعاتِ خلق کی بھر مار رہتی ہے۔ چنانچہ جن، ملائک، انس اور زر و مال کا رجوع صاحبِ طریقت کی طرف ہو جاتا ہے اور یہ خالی رجوعات ہی نہیں ہوتیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صاحبِ طریقت کا امتحان بھی ہوتا ہے۔ ورنہ طریقت میں ہزاراں ہزار بلکہ بے شمار طالبوں کا بیڑا غرق ہو جاتا ہے۔ شاید ہی کوئی طالب اللہ تعالیٰ کے کرم سے اور فقرائے کامل کی برکت سے ساحلِ مراد تک سلامت پہنچتا ہے وہ بھی اسی صورت میں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طر ح کوئی مہر بخش مرشد اس غریب کی دستگیری کر کے ہر گھڑی اس کی نگہبانی کرتا رہے۔‘‘ (عین الفقر)
* ’’جب حاضراتِ تصور اسمِ اللہ ذات شروع ہوتے ہیں تو سب سے پہلے جنوں کے لشکر ادب سے ہاتھ باندھ کر صاحبِ تصور کے گرد کھڑے ہو جاتے ہیں اور اس کے حکم کا انتظار کرتے رہتے ہیں، آخر عرض گزار ہوتے ہیں کہ اے ولی اللہ! ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ کچھ تو فرمائیے۔ طالبِ حق کہتا ہے ’’میرے لیے اللہ ہی کافی ہے۔‘‘ اللہ بس ماسویٰ اللہ ہوس۔ اسی طرح فرشتے ومؤکل اور تمام روحانی صاحبِ تصور کے پاس آکر عرض کرتے ہیں اور اس کی خدمت میں سنگِ پارس، علمِ کیمیائے اکسیر اور علمِ دعوت تکسیر کا عمل پیش کرتے ہیں لیکن صاحبِ تصورِ کامل اُن کی طرف دیکھتا بھی نہیں۔ اس کے بعد حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جملہ انبیاء و رسل و اصفیاء و اصحابؓ و امام حسنؓ و امام حسینؓ و حضرت محی الدین شاہ عبد القادر جیلانی قدس سرہُ العزیز کو اپنی معیت میں لے کر تشریف لاتے ہیں اور صاحبِ تصور کا ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھاتے ہیں اور تلقینِ معرفت، تعلیمِ علم اور منصبِ ہدایت سے سرفراز فرماتے ہیں۔‘‘ (نور الہدیٰ کلاں)
* مقامات و مراتب اور درجات ذات تک پہنچنے کا وسیلہ ہیں اگر یہ نہ ہوتے تو راہِ فقر کے تمام طالب گمراہ ہو جاتے۔ مگر یہ ذاتِ حق تعالیٰ کے معاملہ میں اُس وقت فیض رساں ہیں اگر وہ ان کو فقط وسیلہ ہی جانے، بصورتِ دیگر ہوا و ہوس اور غیر ماسویٰ اللہ ہیں۔ مراتبِ ذات اس شخص پر کھلتے ہیں جو طبقاتِ خلق کی طیر سیر سے نکل آتا ہے۔‘‘
* ’’بعض لوگوں کو لوحِ محفوظ کا مطالعہ کرنا آ جاتا ہے۔ بعض کو قرب ربّ جلیل کی بنا پر دلیلِ دل کے ذریعے آگاہی حاصل ہوتی رہتی ہے، بعض کو ایسی قوتِ مشاہدہ حاصل ہو جاتی ہے کہ وہ حاضراتِ اسم اللہ ذات سے ہر دوجہان کا تماشا پشتِ ناخن پر دیکھتے رہتے ہیں، بعض کو وہمِ وحدانیت و علمِ و اردات حاصل ہو جاتی ہے جس سے ان پر جملہ مقصود و مطالب کھل جاتے ہیں اور وہ انہیں دیکھتے رہتے ہیں، بعض کی نظر اور نگاہ عیاں طور پر لاھوت لامکان کا نظارہ کرتی رہتی ہے، بعض کو ہر مرتبہ کے مؤکل پیغام دے کر خطراتِ شیطان سے بچا لیتے ہیں جس سے وہ متوکل ہو جاتے ہیں۔ اگر راہِ باطن میں اس طرح مراتب بمراتب، منصب بمنصب، قرب بقرب، حضوری بحضوری،جمعیت بجمعیت، عین بعین اور بخشش و فیض کے آثار اور تجلیاتِ دیدارِ پروردگار کے انوار نہ ہوتے تو راہِ باطن کے تمام راہی گمراہ ہو جاتے۔‘‘ (نور الہدیٰ کلاں)
* ’’اگر فقر کی باطنی راہ عیاں نہ ہوتی اور تمثیل و الہام اور وھم و مشاہدہ اور دلیل سے جواب باصواب نہ ملتا تو اس راہ پر چلنے والے سب گمراہ ہو جاتے۔‘‘ (محک الفقر کلاں)
* ’’اگر عارف باللہ ولی اللہ فقیروں کو باطن میں توفیقِ معرفت و یگانگی کی بدولت معرفت و رفاقتِ ا لٰہی کے عظیم مراتب اور شرفِ حضوریٔ مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سعادتِ کبر یٰ حاصل نہ ہوتی تو راہِ باطن کے تمام راہی گمراہ ہوچکے ہوتے۔‘‘ (کلید التوحید کلاں)۔۔۔مزیدپڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں