شریعت، طریقت، حقیقت، معرفت| Shariat, Tariqat,Haqeeqat Marifat

شریعت، طریقت، حقیقت، معرفت

تحریر: فائزہ گلزار سروری قادری۔لاہور

دینِ اسلام اللہ تک پہنچنے کا ایک زینہ ہے جس کے مختلف درجات ہیں۔ شریعت اس کا ابتدائی درجہ ہے،طریقت، حقیقت اور معرفت درمیانی درجے ہیں اور فقر (وحدت) اس کی انتہا ہے اور اس کی بنیاد عشق ہے۔ اگر بنیاد مضبوط نہیں ہوگی تو عمارت بھی پائیدار نہیں ہوگی اور اگر کوئی درجہ کم ہوگا تو بھی منزل تک پہنچنا مشکل اور بعض اوقات ناممکن ہوجاتا ہے۔

حضرت خواجہ بندہ نواز رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
* ’’ عشقِ حقیقی کے پانچ درجے بیان کیے گئے ہیں پہلا شریعت یعنی جمالِ محبوب کی صفت سننا تاکہ شوق پیدا ہو،دوسرا طریقت یعنی محبوب کی طلب کرنا اور محبوب کی راہ میں چلنا، تیسرا حقیقت یعنی ہمیشہ محبوب کے خیال میں رہنا، چوتھا درجہ معرفت یعنی اپنی مراد کو محبوب کی مراد میں محو کر دینا، پانچواں وحدت یعنی اپنے فانی وجود کو ظاہر میں اور باطن میں بھی ختم کر دینا اور حرف محبوب ہی کو موجودِ مطلق جاننا۔جب یہ پانچ مراتب پورے ہو جائیں تو کام ختم ہو جاتا ہے اور صرف محبوب کا عشق باقی رہتا ہے۔ عشق اور معشوق کی موج بحرِ عشق میں غرق ہو جاتی ہے۔‘‘
کسی بزرگ نے فرمایا ہے کہ وجود دو عشق کے درمیان ہے یعنی اوّل بھی عشق ہوتا ہے اور آخربھی عشق ہوتا ہے کیونکہ ہر وجود جو موجود ہے عشق سے خالی نہیں ہوتا اور نہ عشق کے بغیر قائم و باقی رہ سکتا ہے ۔ پس اوّل وآخر، ظاہر وباطن جو کچھ ہے عشق ہے۔(رومیؒ کا پیامِ عشق)
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
* ’’اللہ سے محبت کرنے والے گناہ اور برائی سے دور رہتے ہیں۔ خشخاش کے دانہ کے برابر محبتِ الٰہی تمام مسائلِ فقہ کے علم کی فضیلت اور ستر سال کی پارسائی اور عبادت سے بہتر ہے کیونکہ محبت سے بندہ ربوبیت اور توحید کے رازِ الٰہی کا محرم ہو جاتا ہے جبکہ عبادت اور علم سے تکبر پیدا ہوتا ہے اور بندہ محبتِ الٰہی سے محروم ہو جاتا ہے۔‘‘ (عین الفقر)
عام اصطلاح میں قرآن و سنت کے ظاہری احکام کو شریعت اور ان کے باطن کو طریقت کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر طہارتِ شرعی یہ ہے کہ بدن کو پاک کر لیا جائے اور طریقت کی طہارت یہ ہے کہ دل کو تمام شیطانی ونفسانی بیماریوں سے پاک کر لیا جائے۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
* شریعت کسے کہتے ہیں اور کفر کیا چیز ہے؟ شریعت وہ راہ ہے کہ جس پر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم گامزن رہے اس لئے جو شخص حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نقشِ قدم پر چل کر رات دن ان کی پیروی کرتا ہے وہ آخر کار مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں جاپہنچتا ہے اور وہاں سے نص و حدیث کا تمام علم پڑھ لیتا ہے۔ شریعت کی یہ راہ توفیق و تحقیق کی راہ ہے، جو شخص مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا انکار کرتا ہے اور معرفتِ حق تعالیٰ کو چھپاتا ہے وہ کافر و زندیق ہے۔ شریعت کی جڑ فقہ و فقر و توحید و معرفت و وصالِ الٰہی ہے اور کفر کی جڑ دنیا و کبر وعجب اور ان جیسی دیگر ناشائستہ خصلتیں ہیں جو سراسر باعثِ زوال ہیں۔ (نورالہدیٰ کلاں)
اللہ تک پہنچنے کے سفر میں جب طالب ابتدائی زینہ پر قدم رکھتا ہے تواسے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ خد اہے لیکن وہ اس کی ذات و صفات سے قطعی طور پر لا علم ہوتا ہے۔ پھر وہ ظاہری عبادات کے ذریعے اس کی صفات کے متعلق جاننا شروع کرتا ہے۔ جب طالب شریعت پر ذوق و شوق سے عمل کر کے ترقی کرتے ہوئے مقامِ طریقت پر پہنچتا ہے تو اس میں اس بے حد حسین ذات کے قرب و دیدار کی طلب پیدا ہوتی ہے اور وہ اس کی جانب بے اختیار بڑھتا ہے۔ آگے بڑھتے بڑھتے یہ مقام آتا ہے کہ طالب بظاہر اس دنیا میں ہوتا ہے لیکن باطن میں ہر وقت محبوبِ حقیقی کی یاد میں مگن رہتا ہے جس کی وجہ سے باقی خیالات اور تصاویر دھندلی ہونے لگتی ہیں اور محبوب کی تصویر واضح ہونے لگتی ہے۔
سیّد عبدالکریم بن ابراہیم الجیلی ؒ فرماتے ہیں:
* ’’عبادت اس چیز کا نام ہے کہ بندہ طلبِ جزا کے لیے اعمالِ خیر کو بجا لائے اور عبودیت یہ ہے کہ اعمالِ خیر محض اللہ کے لیے بجا لائے جائیں۔ ان میں جزا حاصل کرنے کی کوئی خواہش نہ ہو بلکہ عمل خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہو۔ اور عبودت (عبودیت سے آگے کا مقام ہے جب طالب میں ذاتِ حق کے سوا کچھ بھی نہ بچے) اللہ کے ساتھ عمل کرنے سے مراد ہے۔ اس لیے مقامِ عبودت جمیع مقامات کا محافظ ہے۔‘‘ (انسانِ کامل)
اس لحاظ سے شریعت کے نیک اعمال عبادت ہیں (اگر اخلاص سے کیے جائیں)۔ طریقت کے اعمال عبودیت ہیں اور فقر و حقیقت کے اعمال عبودت ہیں۔ شریعت کی عبادت ٹھیک طرح ادا نہ کرنے والا کبھی حقیقت کی عبادت تک نہیں پہنچ سکتا اور حقیقت تک پہنچے بغیر اللہ کی عبادت کامل طور پر نہیں کی جاسکتی۔ شریعت بنیاد ہے۔ طریقت سیڑھی ہے اور حقیقت تکمیلِ مراحل ودرجات ہے۔ اسی بنا پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حدیثِ مبارکہ میں ارشاد فرمایا:
ترجمہ: شریعت درخت (کی مثل) ہے، طریقت اس کی شاخیں ہیں، معرفت اس کے پتے ہیں اور حقیقت اس کا پھل ہے۔(سرِّالاسرار)
کوئی بھی طالب یہ تمام مقامات صرف اپنی عبادات و ریاضت کے بل بوتے پر طے نہیں کر سکتا بلکہ اس کے لیے مرشد کامل اکمل کا وسیلہ بے حد ضروری ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھے کہ وہ کسی مرشدکامل کے بغیر یہ تمام منازل و مقامات عبور کر سکتا ہے تو وہ شیطان کے فریب میں مبتلا اور گمراہی کا شکار ہے۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
* ’’طالب کو چار مرشدوں کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ مرشدِ شریعت، مرشدِ طریقت، مرشدِ حقیقت اور مرشدِ معرفت۔مرشدِ شریعت کون ہے؟ جو طالب کو اسلام کے بنیادی ارکان کلمہ،حج،مال کی زکوٰۃ ، روزہ اور نماز کی حقیقت سمجھا دے۔ مرشد طریقت کون ہے؟ جو طالب کی گردن میں اللہ کی بندگی کا طوق ڈال کر دونوں جہانوں سے بے نیاز کردے ۔ مرشدِ حقیقت کون ہے؟ جو طالب کو جانباز بنا کر اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی جان لینا سکھا دے۔ مرشدِ معرفت کون ہے؟ جو طالب کو اللہ تعالیٰ کے اسرار کا رازدان بنا کر صاحبِ سِرّ بنا دے۔ جو مرشد طالبِ مولیٰ کو ان مقامات تک نہیں پہنچاتا وہ جھوٹا اور دغا باز ہے۔‘‘ (عین الفقر)
آپ ؒ مزید یہ بھی فرماتے ہیں کہ جو عبادت، ریاضت اور چلہ کشی اللہ تعالیٰ کی معرفت اور قرب و وصال کی طرف نہ لے جائے وہ گمراہی اور دھوکہ ہے:
* ’’ جب تو کسی ایسے فقیر کو دیکھے جو زہد و تقویٰ، ریاضت، چلہ کشی اور عبادات میں تو بہت محنت کرتا ہے مگر باطن سے بے خبر ہے تو سمجھ لو کہ وہ گمراہی کے بیابان میں بھٹک رہا ہے۔ اس کی عاقبت دھوکہ بازوں جیسی ہے۔‘‘ (عین الفقر)
ایک اور مقام پر آپؒ فرماتے ہیں:
* ’’عالم، فاضل، قاضی، مفتی، حاکم اور بادشاہ شریعت کے مطابق ہزاروں لوگوں کی تفتیش کرتے ہیں لیکن ساری عمر اپنے نفس کی تفتیش ایک بار بھی نہیں کرتے۔ لیکن فقرا دن رات اپنے نفس کی تفتیش اور محاسبہ کرتے رہتے ہیں۔ اس تفتیش کے دوران عشق کا قاضی حکم دیتا ہے کہ نفس کو قتل کر دیا جائے۔ محبت کا مفتی کہتا ہے کہ نفس کی گردن اڑا دی جائے۔ ذکر فکر کا حاکم حکم دیتا ہے کہ نفس کو اللہ تعالیٰ کے اخلاص کی زنجیروں سے قید کر دیا جائے اور شریعتِ محمدیؐ کی متابعت کا طوق اس کی گردن میں ڈالنے کا اشارہ دیتا ہے۔ مجھے ان لوگوں پر تعجب ہے جو دوسروں کے نفس کی تفتیش کر کے انہیں قید کے عذاب میں ڈالتے ہیں لیکن اپنے نفس کو بغیرتفتیش کئے بگاڑ دیتے ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے۔
ترجمہ:’’میری اُمت پر ایک زمانہ ایسا بھی گزرے گا کہ جب وہ قرآن بھی پڑھیں گے اور مسجدوں میں نمازیں بھی ادا کریں گے لیکن ان کے دلوں میں ایمان نہ ہوگا‘‘۔
سن! زیادہ نیکیاں کرنا اور زیادہ علم حاصل کرنا فرض نہیں ہے البتہ علم حاصل کر کے اس پر عمل کرنا اور گناہوں سے بچنا فرض ہے۔ زیادہ عبادات کرنا بھی فرض نہیں ہے۔ پارسائی اور علم اس کے پاس ہے جو خود کو گناہوں سے بچاتا ہے جو کہ (اصل) فرض ہے۔اگر کوئی شخص ساری رات نماز پڑھتا ہے اور ہر روز روزہ رکھتا ہے لیکن گناہوں سے باز نہیں آتا تو اس کا مطلب ہے کہ وہ گناہوں کو پسند کرتا ہے اور اس کی عبادات اسے کوئی فائدہ نہیں دے رہیں۔ پس معلوم ہوا کہ طالبِ دنیا استاد سے علم نہیں سیکھنا چاہیے کہ روایت ہے فِیْ صُحْبَۃِ تَاثِیْرٌ (صحبت کی تاثیر ہوتی ہے)۔‘‘ (عین الفقر)
اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ لوگوں میں شامل ہونے کے لیے اور اللہ تعالیٰ کا قرب و وصال پانے کے لیے شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت کی تمام منازل کو طے کرنا ضروری ہے۔ کسی ایک مقام پر ٹھہر جانا نقصان دہ ہے۔ جس طرح پانی اگر ایک جگہ ٹھہر جائے تو گندہ اور بدبو دار ہو جاتا ہے اسی طرح روح بھی اگر کسی ایک مقام پر رک جائے تو نفس و شیطان کے شکنجے میں پھنس جاتی ہے۔
رسالۃ الغوثیہ میں اللہ تعالیٰ سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ سے فرماتا ہے:
* ’’اے غوث الاعظمؓ!جب تم نے میرے حرم میں داخل ہونے کا ارادہ کر لیا تو ملک، ملکوت اور جبروت کسی کی طرف توجہ نہ کرو کیونکہ ملک (عالمِ ناسوت) عالم کا شیطان ہے، ملکوت عارف کا شیطان ہے اور جبروت واقف کا شیطان ہے۔ جس نے ان میں سے کسی سے رضا و رغبت کی وہ میرے نزدیک مردودوں میں سے ہے۔‘‘
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
* کیا تجھے معلوم ہے کہ انبیا و اولیا کو کس بات سے افتخار حاصل ہے؟ وہ یہ ہے کہ وہ ہر وقت معرفتِ مولیٰ میں غرق رہتے ہیں پس انبیا و اولیا سے کسی کا مرتبہ افضل نہیں کہ وہ ہر کسی سے بر ترو اعلیٰ ہیں۔ (محک الفقر کلاں)
ان سب منازل کو طے کرنے کے لیے کسی ہادی، رہنما اور مرشد کی ضرورت ہوتی ہے جو اس راہ کے تمام مقامات سے واقف ہو اور اس دوران آنے والی تمام رکاوٹوں کو عبور کرنا اور تمام حجابات کو دور کرنا جانتا ہو۔ بغیر مرشد کے انسان نہ شریعت کے احکام کو ٹھیک سے سمجھ کر اس کی روح کے مطابق ادا کر سکتا ہے اور نہ ہی طریقت ، حقیقت و معرفت کی ہوا تک پہنچ سکتا ہے جیسا کہ حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
* ’’ صاحبِ نظر ناظر اور صاحبِ و صال مرشد کامل ہر وقت حضورِ حق میں حاضر رہتا ہے اور اسے اس قدر قوت و قدرت حاصل ہوتی ہے کہ وہ ہزار کوس کے فاصلے سے اپنے طالب کو جذب قلب کے ذریعے اپنے پاس حاضر کر لیتا ہے اور اسے ایک ہی نظر میں مقامِ شریعت و طریقت و حقیقت و معرفت طے کر ا کے حضورِ حق میں پہنچا دیتا ہے اور طالبِ اللہ ہمیشہ کے لیے راہِ حق پر گامزن ہو جاتا ہے۔ یہ وہ راہ ہے جسے صاحبِ نظر و صاحبِ وصال مرشد اور منظورِ نظر طالبِ اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا‘‘۔ (محک الفقر کلاں)
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
* ’’جان لے! فقیر باھوؒ کہتا ہے کہ باطن کی راہ پر چلنے والوں کو آگاہ ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ مشرق ومغرب ، جنوب و شمال اور بلندی و پستی میں نہیں سماتا۔ اللہ تعالیٰ چاند و سورج، آگ و پانی اور مٹی و ہوا میں نہیں ملتا، نہ ہی اللہ تعالیٰ دن رات علم سیکھنے سے ملتا ہے اور نہ ہی جہل اور قیل و قال میں ہے۔ اللہ تعالیٰ وقت وحال، شکل و صورت اور مشاہدۂ جمال میں بھی نہیں ملتا،اللہ تعالیٰ ورد و وظائف ، تسبیح اور حروف پڑھنے سے بھی نہیں ملتا ، اللہ تعالیٰ زہد و تقویٰ ، پاکبازی اور دَر دَر کی گدائی سے بھی نہیں ملتا، اللہ تعالیٰ نہ توگدڑی پہننے سے ملتا ہے اور نہ ہونٹ سی کر خاموشی اختیار کرنے سے ملتا ہے۔ دانا بن اور جان لے! اللہ تعالیٰ کا راز صاحبِ راز کے سینہ میں ہے۔ اگر تو آئے تو دروازہ کھلا ہے اور اگر نہ آئے تو حق بے نیاز ہے۔‘‘ (عین الفقر) 
صرف سروری قادری مرشد شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت کی تمام منازل اور ان میں آنے والی رکاوٹوں اور مسائل اور ان کے حل سے آگاہ ہوتا ہے۔ وہ عالمِ لاھوت کا ساکن اور خزانۂ فقر کا وارث ہوتا ہے۔ وہ طالبانِ مولیٰ کو عالمِ ناسوت سے لے کر عالمِ لاھوت تک کا سفر اپنی نگرانی میں اس طرح طے کراتا ہے کہ طالب کو تمام مقامات کے سفر میں نہ کہیں رکنے دیتا ہے نہ شیطانی وساوس میں اُلجھنے دیتا ہے۔ ایسے کامل سروری قادری مرشد کی بدولت ہی سروری قادری سلسلہ کو باقی تمام سلاسل پر فضیلت حاصل ہے کیونکہ باقی سلاسل کی رسائی صرف معرفتِ صفات تک ہے جبکہ مرتبہ فقر کے حامل سروری قادری سلسلہ کی رسائی ذاتِ الٰہی تک ہے۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:
* معراج کی رات حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام براق پر سوار ہوئے۔ جبرائیل ؑ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے آگے آگے پاپیادہ دوڑے، عرش سے فرش تک دونوں جہان آراستہ کیے گئے ،اٹھارہ ہزار عالم کو پیراستہ کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سامنے لایا گیا اور جبرائیل ؑ آگے بڑھنے سے رُک گئے۔اس سارے اہتمام کے باوجود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی نگاہ ذاتِ حق سے نہ ہٹائی، چنانچہ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:  مَازَاغَ الْبَصَرُ وَمَاطَغَیٰ  (بہکی نہیں آپ کی نگاہ نہ حد سے بڑھی)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس تمام اہتمام پر توجہ نہیں دی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سدرۃ المنتہیٰ کے مقام پر پہنچے تو وہاں صورتِ فقر کا مشاہدہ کیا اور مراتبِ سلطان الفقر کی لذت سے لطف اندوز ہوئے، فقر نورِ الٰہی سے باطن کو معمور فرمایا اور قابَ قوسین کے مقام پر اللہ تعالیٰ کے قرب و وصال سے مشرف ہو کر ذاتِ حق تعالیٰ سے ہم کلام ہوئے۔ پھر اس سے آگے بڑھ کر مقامِ فقر فنا فی اللہ میں داخل ہوئے، ملاقاتِ فقر سے غرق فنا فی اللہ مع اللہ ذات ہو کر رفیقِ فقر ہوئے اور محبت، معرفت، عشق، شوق، ذوق، علم، حلم، جودوکرم اور خُلق سے متخلق ہوئے۔ جیسا کہ فرمایا گیا ہے، تَخَلَّقُوْا بِاَخْلاَقِ اللّٰہِ تَعَالٰی (اپنے اندراخلاقِ الٰہیہ پیدا کرو)۔ اس طرح کمالِ فقر پر پہنچ کر جب سارا دریائے توحید آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں جمع ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے زبانِ دُرّفشاں سے اس کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ’’ فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے۔‘‘ (محک الفقر کلاں)
یہی وجہ ہے کہ راہِ فقر پر سفر کرنے والے طالبانِ مولیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی پیروی میں اللہ کے دیدار، انتہائی قرب اور وصال کو پالینے سے پہلے کسی مقام پر نہیں رکتے نہ اس کی خوبصورتی پر نظر کرتے ہیں۔ ان کی نظر ابتدائے شریعت سے لے کر انتہائے فقر تک صرف اللہ پر ہوتی ہے۔ وہ اس تمام راہ کی ظاہری و باطنی عبادات صرف اور صرف ذاتِ الٰہی کے قرب و وصالِ کے حصول کے لیے کرتے ہیں۔ وہ اللہ کو صرف اللہ کے لیے چاہتے ہیں اور اللہ سے اللہ کے سوا کچھ طلب نہیں کرتے ۔ وصالِ الٰہی پالینے تک یہ طالبانِ مولیٰ اگر عبادات کی انتہا کر دیں تو بھی انہیں کافی نہیں سمجھتے، فرشتوں کی طرح پاکیزہ ہو جائیں یا عالمِ ملکوت و جبروت کے روح پرور نظارے سامنے آجائیں تب بھی ان کی نظر اللہ سے نہیں ہٹتی۔ جب فقر کی انتہا پر پہنچ کر وصالِ الٰہی پالیتے ہیں تب کہتے ہیں ’’ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے۔‘‘ انتہا پر پہنچ کر بھی ھَلْ مِنْ مَّزِیْدَ (کیا ابھی مزید اور کچھ ہے؟) کی صدا لگاتے ہیں اور ہر لمحہ مزید قربِ الٰہی میں ترقی کرتے رہتے ہیں۔ قربِ الٰہی کی جنت میں پہنچ کر نہ انہیں کوئی غم رہتا ہے نہ خوف۔ اللہ کی ان پر خاص مہربانی اور اللہ کی ذات کے لیے ان کے خلوص کے باعث شیطان انہیں کسی بھی مقام پر نہیں بھٹکا سکتا۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ نے اپنی کتب میں شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت کی اہمیت، ان کا باہمی ربط اور طالبانِ مولیٰ کو پیش آنے والے احوال تفصیلاً بیان فرمائے ہیں۔ آپؒ فرماتے ہیں:
* علمِ شریعت ایک شرف ہے، طریقت ایک حرف ہے جس میں مشاہدۂ حق ہے اور معرفت مرتبہ حق الیقین ہے۔ شریعت دارالسطنتِ شاہ ہے، طریقت کو شریعت ہی سے راہ ہے، حقیقت کی طریقت ہی سے حق پرنگاہ ہے۔اور معرفت براہِ حقیقت محرم سِرّ اسرارِ الٰہ ہے جو آدمی شریعت کے دائرے سے باہر قدم رکھتا ہے وہ استدراج کا شکار ہو جاتا ہے کہ یہ سراسر گناہ ہے کیونکہ باطن کی ہر راہ و ہر مقام شریعت ہی سے نکلتا ہے اور شریعت ہی میں واپس آتا ہے جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے: 
اَلنِّھَایَۃُ ھُوَ الرَّجُوْعُ اِلَی الْبِدَ ایَۃِ۔
ترجمہ: انتہا ابتدا کی طرف لوٹ آنے کا نام ہے۔
شریعت کا شرف قرآن سے ہے اور قرآن کا شرف اسمِ اللہ ہے۔ کوئی بھی چیز شریعت و قرآن و اسمِ اللہ سے باہر نہیں۔
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
* جان لے کہ شریعت قال ہے۔طریقت افعال ہے، حقیقت احوال ہے اور معرفت وصال ہے۔ شریعت و طریقت کے درمیان غیر ماسویٰ اللہ کے ستر ہزار حجاباتِ اکبر ہیں جن میں سب سے بڑا حجاب وہ علم ہے جو کبرو ہوا کا سر چشمہ ہے۔انسان جب تک انانیت اور کبرو ہوا سے پاک نہیں ہو جاتا مقامِ طریقت تک نہیں پہنچ سکتا۔ اسی طرح طریقت و حقیقت کے درمیان بھی کشف و کرامات کے ستر ہزار حجاباتِ اکبر ہیں جب تک انسان کشف و کرامات سے دست بردار نہیں ہوجاتا حقیقتِ حق تک ہر گز نہیں پہنچ سکتا ۔ حقیقت و معرفت کے درمیان ستر ہزار صفاتی حجاباتِ اکبر ہیں۔ جب تک عارف عارفیتِ لباس معرفت سے جان نہیں چھڑا لیتا ہر گز مقامِ غرقِ نور اللہ میں نہیں پہنچ سکتا۔مقامِ غرقِ نور اللہ اور مقام حیُّ قیوم بقا باللہ کے درمیان ستر ہزار حجاباتِ اکبر ہیں جب تک انسان اپنے جسم کو اسمِ اللہ کے تصور و تصرف میں غرق نہیں کردیتا ہرگز بقا باللہ نہیں ہوسکتا اور نہ ہی حیاتِ دو جہان سے سرفراز ہو سکتا ہے کہ اس مقام کو نعمتِ الٰہیہ کا مقام کہا گیا ہے جس کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ۔ 
ترجمہ: ان لوگوں کی راہ پر چلا جن پر تیرا انعام نازل ہوا۔ (محک الفقر کلاں)
طالبانِ مولیٰ کی راہنمائی کرتے ہوئے آپ ؒ فرماتے ہیں :
* ’’جب طالبِ مولیٰ مقامِ شریعت پر ہو تو اس کے لیے شرائط یہ ہیں کہ شیطان کے شر کے خلاف چلے، معرفت کا حکم دے، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے سے شرم کرے، حلال کھائے ، سچ بولے، صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرے، علمِ دانش حاصل کرے، اپنے اردگرد فرض، واجب، سنت اور مستحب کے چار حصار قائم کرے اور اس قلعہ کے درمیان اللہ تعالیٰ کی توفیق کو اپنا ساتھی بنا کر عبادت کرے۔ جب وہ ترقی کر کے مقامِ طریقت پر پہنچ جائے تو اس کے لیے شرط شطاری (مراد تیز رفتاری) ہے۔ جس طرح شہباز کی پرواز، کہ ادھر اڑا اور ادھر اپنے مطلوب کو حاصل کرلیا۔ مقامِ حقیقت میں شرط دلداری ہے۔ اللہ کے سوا کچھ موجود نہیں جو کچھ ہو رہا ہے اسی کی طرف سے ہے۔ اے میرے دوست!دم نہ مار کہ خَیْرِہٖ وَشَرِّہٖ مِنَ اللّٰہِ تَعَالٰی (خیر اور شر اللہ ہی کی طرف سے ہیں)۔ اللہ کی مخلوق کے لیے خیر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں اور شر شیطان ہے۔ تو کس کی خواہش رکھتا ہے۔ مقامِ معرفت میں غم خواری ہے۔ معرفت کی شرط یہ ہے کہ جو جتنا عارف ہوتا ہے اتنا ہی عاجز ہوتا ہے۔ جو آدمی ان چاروں مقامات کی حقیقت نہیں جانتا وہ بیل اور گدھے کی مثل ہے اور فقرا کے سلک سلوکِ تصوف سے بے خبر ہے۔‘‘ (عین الفقر)
* ’’ جان لے کہ ہر مقام پر قبض ، بسط اور سکر کے احوال ہوتے ہیں۔ مقامِ طریقت میں سکرات یعنی(باطنی ) موت کا خطرہ بھی ہے۔ اللہ ہمیں ناگہانی موت سے پناہ دے۔ مبتدی، متوسط اور منتہی طالب کو چاہیے کہ جیسے ہی طریقت میں قدم رکھے تو اپنے تمام احوال کو سمجھ لے اور اپنی حفاظت کرے۔ جب اس پر مستی چھانے لگے تو درود شریف پڑھنا شروع کر دے تاکہ سلامتی پررہ سکے۔شریعت سانس کی طرح ہے اور طریقت قدم کی طرح ہے۔ قدم اس وقت اٹھایا جاتا ہے جب سفر کی نیت بن جائے۔ طریقت راستہ طے کرنے کے طریقے کو بھی کہتے ہیں۔ راستہ میں پانی اور غذا کی ضرورت پڑتی ہے ورنہ جان لبوں پر آجاتی ہے۔ شریعت کشتی کی طرح ہے اور طریقت ایسے دریا کی طرح ہے جو ہر وقت طوفانِ نوح کی حالت میں رہتا ہے اور اس کی موجیں ہر چیز کو تہہ و بالا کر دیتی ہیں۔ ایسے وقت میں دستگیر مرشد کی ضرورت ہوتی ہے جو ہوا کی مثل ہوتا ہے اور طوفانی موجوں کی مستی سے کشتی کو ڈوبنے اور خراب ہونے سے بچائے رکھتا ہے۔‘‘ (عین الفقر)
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
* ’’ طالب کو مقامِ طریقت سے گزرنے میں چالیس سال کا عرصہ لگ سکتا ہے لیکن اگر مرشد کامل اکمل ہو تو طریقت کے تمام احوال سے نکال کر ایک ہی پل میں مقامِ حقیقت کی منزل تک پہنچا دیتا ہے۔ مقامِ حقیقت میں ادب لازم ہے طالب ہر وقت اللہ کو حاضر و ناظر اور قریب جانتا ہے جس سے اسے نیک عادات اور جمعیت حاصل ہوتی ہے۔ اس کے بعد اللہ کے فضل و کرم سے جتنے بھی مقامات پیش آتے ہیں اللہ انہیں کھولتا جاتا ہے اور طالب کسی کا محتاج نہیں رہتا ۔ اللہ بس ماسویٰ اللہ ہوس۔‘‘ (عین الفقر)
دورِ حاضر میں سلسلہ سروری قادری کے موجودہ شیخِ کامل مجددِ دین، امامِ مبین، سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہر لمحہ طالبانِ مولیٰ کی راہنمائی کے لیے اس عالمِ ناسوت میں جلوہ افروز ہیں اور اپنے نورانی وجود، کیمیائی نگاہ اور ذکرو تصور اسمِ اللہ ذات سے زنگ آلود دلوں کا زنگ دور فرما کر شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت کی منازل طے کر وارہے ہیں۔بے شمار سالکینِ حق نے آپ مدظلہ الاقدس کی زیرِ نگرانی کسی ورد وظیفہ کی مشقت کے بغیر لاھوت لا مکان تک رسائی حاصل کی اور مجلسِ محمدیؐ کی حضوری کے شرف سے مشرف ہوئے۔ اللہ کے وہ تمام طالب جو شریعت سے ترقی کر کے حقیقت و معرفت اور فقرو عشق کے مقام تک رسائی حاصل کرنا چاہتے ہیں انہیں دعوت ہے کہ وہ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے ہاتھ پر بیعت کر کے ان کی نگاہِ کامل کے طفیل ذکر و تصور اسم اللہ ذات کے ذریعے یہ تمام منازل طے کر کے دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کریں اور ایسے باطنی کمالات پائیں جن سے وہ بالکل ناواقف تھے۔
مختصر یہ ہے کہ جو طالبِ دین اسلام کی تعلیمات کوا ن کی روح کے مطابق سمجھ کر اور عمل کر کے اللہ کے قرب کا خواہاں ہے اس کے لیے حق کا دروازہ کھلا ہے۔ 
استفادہ کتب:
سِرّ الاسرار۔ تصنیف سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ 
عین الفقر۔ تصنیف سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ 
نور الہدیٰ کلاں۔ ایضاً
محک الفقرکلاں۔ ایضاً

اپنا تبصرہ بھیجیں