سلطان باھو بلاگ | Sultan Bahoo Blog

سب کچھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف سے تھا اور ہوگا۔ (انسانِ کامل۔ سیّد عبدالکریم بن ابراہیم الجیلیؒ )
ایمان مومنین پر اللہ کا احسان ہے اور ایمان کا مرکز و محور آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ مبارکہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے نسبت و تعلق ہی حقیقتاً ایمان ہے۔ یہ تعلق اگر مضبوط و مستحکم ہو تو ایمان کامل اور اگر کمزور ہو تو ناقص و نامکمل اور اگر خدانخواستہ یہ تعلق ٹوٹ جائے تو ایمان کلیتاً ختم ہو جاتا ہے۔
قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ اس تعلق کو یوں بیان فرماتا ہے:
ترجمہ:پس جو لوگ اس(برگزیدہ رسولؐ) پر ایمان لائیں گے اور ان کی تعظیم و توقیر کریں گے اور ان کی مد د ونصرت کریں گے اور اس نور کی پیروی کریں گے جوان کے ساتھ اتارا گیا ہے وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔(سورۃ الاعراف۔157)
جو ذات باعثِ کائنات ہے اس سے عشق و محبت ،وفاواطاعت کے بغیر ایمان کے مکمل ہونے کا تصور ہی نہیں۔ اگراللہ تعالیٰ نے کائنات کو تخلیق کر کے مخلوقات میں اپنے ربّ ہونے کو ظاہر کیا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وجہ سے۔ اس لئے دین،ایمان،علم، ۔۔۔مزید پڑھیں

ظہورِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پہلے عرب کی سر زمین غبارِ راہ سے کثیف اور جہالت سے گرد آلود تھی۔ کوئی انسانی و معاشرتی تنزلی ایسی نہ تھی جو کہ عرب معاشرے میں موجود نہ تھی اور انسانیت کو شرماتی نہیں تھی۔ سر زمین عرب صرف تپتا ہوا صحرا ہی نہیں تھی بلکہ جہالت اور حیوانگی کا مظہر تھی۔ عرب کی رگوں میں سختی،اڑیل پن، مردانگی کے بے ڈھنگے مظاہرے اور طاقتور کی حکمرانی کمزور و مظلوم کی سسکیوں کی روانی تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ یہ لوگ اس معاشرے کے عکاس تھے جہاں صنفِ نازک کی قدر صرف ایک بچے پیدا کرنے والی ذات تک ہی محدود تھی۔ جہاں لڑکیوں کی بلوغت ان کے لئے خطرے کی علامت اور لڑکی کی پیدائش نامعلوم قبروں میں ایک اور قبر کے اضافے کا موجب ہوتا تھا۔ جہاں خاندان غلاموں، لونڈیوں، زناکاری اور بے تحاشا لڑکوں کے شوق میں ڈوبے رہتے تھے۔ عزت بس اس عورت تک محدود تھی جو صرف لڑکے پیدا کرتی تھی۔ لوگ قبائل میں بٹے ہوئے تھے اور قبائل جاہلانہ رسوم و رواج میں۔ رُسومات ایسی جو پتھر پر لکیر تھیں اور کسی انسانی جذبے یا ضرورت کی پرواہ نہ کرتی تھیں۔ صحرائے عرب کے لوگوں کی زندگی کا انحصار بھیڑ بکریوں، گھوڑوں، اونٹوں اور کھجوروں پر تھا۔ عرب مشرک لاتعداد فرقوں میں بٹے تھے اور لاتعداد خداؤں پر اعتقاد رکھتے ۔۔۔مزید پڑھیں

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
*اَلْفَقْرُ فَخَرِیْ وَالْفَقْرُ مِنِّیْ۔
ترجمہ :فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے۔
فقر دراصل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حقیقت کا نام ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فخر فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ مبارکہ ایک ایسا گنجینہ ہے جس کی طلب ہر مومن و مسلمان کو ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حقیقت تک رسائی کسی کسی کا نصیب ہے ہر کوئی اس حقیقت تک رسائی کا اہل نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ مبارکہ اور آپ کی حقیقت جیسی حقیقت اور کسی کی نہیں، جو راز آپ کی ذاتِ مبارکہ سے ظاہر ہواوہ کسی اور نبی و مرسل سے ظاہر نہیں ہوا۔ تب ہی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا اُمتی ہونے کی دعا کی۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ لِیْ مَعَ اللّٰہِ وَقْتٌ لَا یَسْعُنِیْ فِیْہِ مَلَکٌ مُقَرَّبٌ وَلَا نَبِیٌّ مُرْسَلٌ۔
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے ساتھ میرا ایساوقت بھی ہے جس میں مجھ تک نہ کوئی مقرب فرشتہ پہنچ سکتا ہے اور نہ نبی مرسل۔
مندرجہ بالا حدیث سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حقیقت واضح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مثل اور کوئی نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بے مثل اور بے مثال ذات ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ مبارکہ کا احاطہ کرنا نا ممکنات میں سے ہے اور نہ ہی کوئی آج تک اس کا دعویٰ کر سکا ہے کیونکہ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی بے مثل ذاتِ مبارکہ کے بارے میں اپنی زبانِ مبارک سے خود ہی فرما دیا کہ میں جب اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہوتا ہوں تو مجھ تک کسی کی بھی رسائی نہیں ہوتی چاہے وہ کوئی فرشتہ ہو یا کوئی نبی و مرسل۔ اس حدیث سے ایک اور بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی وہ ہستی ہیں جو عالمِ ناسوت میں بشری لباس میں بھی اللہ تعالیٰ کے انتہائی قرب میں رہے اور کسی بھی مخلوق کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اتنا قریب نہیں کیا۔ یہ فضیلت صرف ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم۔۔۔مزید پڑھیں

اللہ تعالیٰ بے انتہا حسین وجمیل ہے وہ چاہتا تھا کہ اس کے حسن کو کوئی دیکھے، تعریف کرے اور اس میں محو ہو کر ہر چیز بھلا دے۔ اس کے لیے ایک ایسا مجسم آئینہ درکار تھا جس میں وہ اپنا حسن ظاہر کر سکے۔یہی چاہت انسان کی تخلیق کا باعث بنی۔ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ پاک کا سب سے کامل آئینہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذاتِ بابرکات بنی۔سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو ؒ نے فرمایا ہے:
* ’’ جان لو کہ جب اللہ واحد نے حجلۂ تنہائی وحدت سے نکل کر کثرت میں ظہور فرمانے کا ارادہ کیا تو اپنے حسن و جمال کے جلوؤں کو صفائی دے کر عشق کا بازار گرم کیا جس سے ہر دو جہان اس کے حسن و جمال پر پروانہ وار جلنے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے میم احمدی کا نقاب اوڑھا اور صورتِ احمدی اختیار کی۔‘‘ (رسالہ روحی شریف)
صورتِ احمدی دراصل اللہ تعالیٰ کے نور کی بہترین صورت ہے جس میں کچھ کمی یا خامی نہیں ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ:’’اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق کہ اس میں چراغ ہے۔ چراغ فانوس میں ہے فانوس ایسے ہے کہ ایک موتی جو ستارے کی مانند چمکتا ہے۔ یہ چراغ اس برکت والے پیڑ زیتون کے تیل سے روشن ہوتا ہے جو نہ شرقی ہے نہ غربی۔ قریب ہے کہ اس کا تیل بھڑک اُٹھے۔ اگرچہ اُسے آگ نہ بھی چھوئے۔نور پر نور چھایا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس نور کی طرف اسی کو ہدایت دیتا ہے جو اس کا طالب بنتا ہے۔‘‘ (سورۃ النور۔35 )
درج ذیل حدیث مبارکہ میں بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے:
*  اَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰہُ نُوْرِیْ۔
ترجمہ: سب سے پہلے اللہ نے میرے نور کو پیدا فرمایا۔
سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ فرماتے ہیں:
* جان لے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے روحِ محمد کو اپنے نورِ جمال سے پیدا کیا۔ جیسا کہ فرمان حق تعالیٰ ہے:
’’ میں نے روحِ محمد کو اپنے چہرے کے نور سے پیدا فرمایا۔‘‘ (مقدمہ سرّ الاسرار)
حضرت شاہ سیّد محمد ذوقی ؒ اپنی تصنیف ’’ سرِّ دلبراں‘‘ میں فرماتے ہیں:
* ’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اللہ تعالیٰ کا وہ نور ہیں جو سب سے ۔۔۔مزید پڑھیں

دینِ اسلام باطنی طور پر رجوع الی اللہ یعنی ہر طرف سے منہ موڑ کر اللہ کی طرف رجوع کرنے کا دین ہے اور ظاہری طور پر اسی رجوع الی اللہ کا ذریعہ بننے والے اعمال کا مجموعہ ہے۔ رجوع الی اللہ ہی دین کے تمام ظاہری و باطنی اعمال کا بنیادی مقصد ہے۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیے اپنے بندوں کی رہنمائی کی خاطر اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے دو ذریعے بنائے یعنی قرآن و سنت۔۔۔مزید پڑھیں

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ ستارھویں صدی ہجری کے عظیم المرتبت بزرگ، امامِ سلسلہ سروری قادری اور فقیرِ کامل ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی وسعتِ ولایت کا اندازہ آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اُس باطنی حکمِ سروری و سرمدی سے لگایا جا سکتا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے سلطان العارفینؒ کو باطنی طور پر بیعت کرتے ہوئے فرمایا جس کا ذکر آپؒ یوں بیان فرماتے ہیں:۔۔۔مزید پڑھیں

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ترجمہ: یہ وہ گھر ہیں جن کے بلند کیے جانے اور جن میں اللہ کے نام کا ذکر کیے جانے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ وہاں وہ لوگ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں اور اسی کا نام لیتے ہیں جنہیں خدا کے ذکر، نماز ادا کرنے اور زکوٰۃ دینے سے نہ تجارت غافل کرتی اور نہ خریدو فروخت یہ لوگ اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن آنکھیں اُلٹ پلٹ ہو جائیں گی  ۔۔۔مزید پڑھیں

قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے ۔وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَشَدُّ حُبًّا لِلّٰہِ ؕ(ابقرۃ ۔165)ترجمہ:” اور جو ایمان لائے اللہ کے لئے ان کی محبت بہت شدید ہے ۔ ”انسان کو بہت سے رشتوں اور اشیاء سے محبت ہوتی ہے ۔ مثلاًاللہ تعالیٰ سے محبت،حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے محبت ،ماں ، باپ ،بیوی ، بچے،بہن،بھائی، رشتہ دار ، دوست ، گھر،زمین،جائیداد ، شہر، قبیلہ ، برادری، خاندان، ملک اور کاروبار وغیرہ سے محبت ۔جس محبت میں شدت اور جنون پیدا ہو جائے اوروہ باقی تمام محبتوں پر غالب آجائے اسے عشق کہتے ہیں ۔عشق باقی تمام محبتوں کو جلا کر راکھ کردیتا ہے ا ور باقی تمام محبتوں پر حاوی ہوجاتا ہے۔ جیسے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا اِرشادِ مبارک ہے ” اِس وقت تک تمہارا ایمان کامل نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں تم کو تمہاری جانوں ، بیوی، بچوں، گھر بار اور ہر چیز میں سب سے زیادہ پیارا نہیں ہوجاتا۔” (بخاری ومسلم)ا للہ نے اللہ پاک سے شدید محبت کو مومنین کی صفت قرار دیا ہے اورعشق کا خمیر انسان۔۔۔مزید پڑھیں

دِل میں کسی خاص چیز کے حصول کی خواہش اور ارادہ کا نام طلب ہے، اور حصولِ طلب کا جذبہ دِل میں ہی پیدا ہوتا ہے۔ جو انسان اپنے دِل میں اللہ تعالیٰ کی پہچان ، دیدار اور معرفت کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کی خواہش کو” طلبِ مولیٰ ” اور اسے طالبِ مولیٰ یا ارادت مند کہتے ہیں، جسے عام طور پر سالک ، طالب یا مرید کے نام سے بھی موسوم کیا جا تا ہے۔دنیا میں تین قسم کے انسان یا انسانوں کے گروہ پائے جاتے ہیں: 1۔ طالبانِ دنیا، 2۔ طالبانِ عقبیٰ، 3۔ طالبانِ مولیٰ۔ان تینوں گروہوں کو اس حدیث قدسی میں بیان کیا گیا ہے:طَاْلِبُ الْدُّنْیَا مُخَنَّثٌ وَ طَاْلِبُ الْعُقْبٰی مُؤَنَّثٌ وَ طَاْلِبُ الْمُولٰی مُذَکِّرٌ    ترجمہ: دنیا کا طالب (مخنّث) ہیجڑہ ہے’ عقبیٰ کا طالب (مؤنث) عورت ہے اور طالب مولیٰ مذکر(مرد) ہے۔سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:مرد مذکرّ کِسے کہتے ہیں؟ مرد مذکرّ وہ ہے جس کے دِل میں بجز طلبِ مولیٰ اور کوئی طلب ہی نہ ہو۔نہ دنیا کی طلب ، نہ زینتِ دنیا کی طلب ،نہ حورو قصور کی طلب ۔۔۔مزید پڑھیں

انفاق کے لغوی معنی ’’خرچ کرنا‘‘ اور فی سبیل  اللہ کے معانی ہیں ’’ اللہ تعالیٰ کی راہ میں‘‘۔ اصطلاحِ شریعت میں اللہ کی رضا کے لیے اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کو انفاق فی سبیل اللہ کہا جاتا ہے۔
شریعت میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنے یعنی انفاق فی سبیل اللہ کی دو قسمیں ہیں۔ ایک انفاقِ واجبہ اور دوسری انفاقِ نافلہ۔ ان میں ایک قسم فرض اور دوسری نفلی صدقہ و خیرات کے زمرے میں آتی ہے۔۔۔مزید پڑھیں

اسلام کے پانچ ارکان ہیں ،جن کی حقیقت کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ہر مسلمان مرد اورعورت پر فرض ہے۔ یہ ارکان کلمہ طیب (توحید)، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج ہیں. مسلمان اور مومن کا فرق سورۃ الحجرات میں یوں بیان کیاگیا ہے :ترجمہ: ایک مرتبہ حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام صحابہ کرامؓ میں مالِ غنیمت تقسیم فرما رہے تھے کہ کچھ اعرابی (دیہاتی) لوگ جو نئے نئے مسلمان ہوئے تھے ، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت  ۔۔۔مزید پڑھیں

موجودہ دور نفس پرستی کا دور ہے۔ اکثریت اللہ تعالیٰ کی بجائے نفس کے بتوں(نفسانی خواہشات کے بت) کی پرستش میں مصروف ہے۔ نفس اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان حجاب ہے اگر یہ حجاب درمیان سے ہٹ جائے تو اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان کوئی پردہ نہیں رہتا۔ یہ حالت ’’قلبِ سلیم‘‘ کی منزل یعنی نفسِ مطمئنہ پر پہنچ کر حاصل ہوتی ہے ۔ ریاکاری، نفاق، حُبِّ دنیا ، حُبُّ الشَہوات، بغض ، کینہ ، حسد، غصہ، شہوتِ معدہ،۔۔۔مزید پڑھیں