سلطان باھوٌ کی ظاہری بیعت پر تحقیق

Zahri-bayat-par-Thaqeek

سلطان العارفین سلطان الفقر حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی حیات مبارکہ پر تحقیق کرنے والوں میں سب سے زیادہ اختلاف آپ رحمتہ اللہ علیہ کے سید عبدالرحمن جیلانی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے دستِ مبارک پر ظاہری بیعت کے معاملہ پر پایا جاتا ہے۔ اس معاملہ میں سب سے بڑی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خود بیعت فرمایا اور آپ کو غوث الاعظم حضرت شیخ محی الدین سیّد عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے سپرد فرمایا اور انہوں نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کی تربیت فرمائی اور آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتب میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو ہی ”شیخِ ما” فرمایا ہے۔ دوسری دلیل یہ لوگ یہ لاتے ہیں کہ سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ نے خود اپنی کسی کتاب میں بھی اس ظاہری بیعت کا تذکرہ نہیں کیا اور آپ رحمتہ اللہ علیہ سے یہ بات بعید از قیاس ہے کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کسی سے فیض حاصل کریں اور اُس کا تذکرہ بھی نہ کریں۔ اگر اِن لوگوں کی یہ بات درست تسلیم کر لی جائے تو حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے بھی اپنی کسی کتاب میں اپنے مرشد کا تذکرہ نہیں کیا اور نہ ہی سیّد حبیب اللہ قادری رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ”سِرّ الحبیب” میں کہیں بھی اپنے مرشد سیّد عبد الرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کا تذکرہ فرمایا۔ سیّد عبدالرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ سے سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کی ظاہری بیعت کا ذکر صرف ”مناقبِ سلطانی” میں شجرۂ طریقت کے ساتھ مذکورہے اور چونکہ سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کی حیات پر یہ اوّلین تصنیف ہے اس لیے اس پر یقین کرنا ہی پڑتا ہے اور اختلاف تو تب کیا جائے جب کوئی دوسری وجہ یا ثبوت موجود ہو۔ اب ہم اس سلسلہ میں اختلافات کا ذکر کرتے ہیں۔

فقیر نور محمد کلاچوی” مخزنِ اسرار” میں حضرت سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کی ظاہری بیعت کے متعلق لکھتے ہیں:

”حضرت سلطان العارفین قدس سرہٗ العزیز کی ظاہری بیعت کا کہیں سراغ نہیں ملتا اور ٹھیک پتہ معلوم نہیں ہوتا۔ (مخزن الاسرار ۔صفحہ 260-259)

لیکن فقیر نور محمد کلاچوی مرحوم ہی اپنی کتاب ”انوارِ سلطانی پنجابی شرح اشعارِ سلطانی” میں صفحہ 8 پر سلسلہ سروری قادری کا شجرہ طریقت درج فرماتے ہیں اس میں حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کے مبارک نام سے پہلے ”پیر رحمن” (سیّد عبدالرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ ) کا نام موجود ہے۔ یعنی دوسری کتاب میں خود اپنی ہی بات کو ردّ فرما رہے ہیں۔ اورپھر فقیر نور محمد کلاچوی صاحب کے صاحبزادے فقیر عبدالحمید سروری قادری (جواُن کے جانشین بھی ہیں) نے ”حیاتِ سروری” کے صفحہ 132′ 133 اور 219 پر جو شجرہ طریقت قادریہ سروریہ دیا ہے اس میں سیّد عبدالرحمن دہلوی کا نام ”پیر رحمن” کے نام سے موجود ہے۔ راہِ سلوک کے مسافر جانتے ہیں کہ شجرہ طریقت بیعت کرتے وقت مرشد پڑھتا ہے۔ اب فقیر نور محمد کلاچوی کی بات کو اُن کے جانشین فرزند ہی ردّ فرما رہے ہیں۔

ڈاکٹر سلطان الطاف علی جن کا تعلق خانوادہ سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ سے ہے”دیوانِ باھو” میں سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کو ظاہری مرشد سے بے نیاز فرماتے ہیں اور ”شرح ابیاتِ باھو” کے دیباچے میں فرماتے ہیں کہ حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کے شیخ وہی تھے جن کو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتب میں جابجا ”شیخِ ما” لکھا ہے یعنی حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ ،لیکن اپنی کتاب”مِرآتِ سلطانی (باھو نامہ کامل)” میں اپنی اس بات سے مراجعت فرماتے ہوئے نظر آتے ہیں۔لکھتے ہیں:
”شاہ حبیب اللہ قادری رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا اے فقیر تو جو کچھ چاہتا ہے میرے پاس نہیں۔البتہ آپ رحمتہ اللہ علیہ میرے مرشد کے پاس دہلی چلے جائیں جن کا نام پیر سیّد عبدالرحمن گیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ ہے۔حضرت سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ جب دہلی پہنچے تو سیّد السادات حضرت پیر عبدالرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کو اپنا منتظر پایا انہوں نے سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کو فوراً ہی فیضِ ازلی عطا فرما دیا۔” (صفحہ 114)

پھر پروفیسر سلطان الطاف علی صاحب اسی کتاب کے صفحہ نمبر 120 اور 121پر سلسلہ قادریہ کے جو شجرہ ہائے طریقت درج فرماتے ہیں اُن میں حضرت سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کے نام مبارک سے پہلے سیّد عبدالرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کا نام درج کرتے ہیں۔ اس سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے ظاہری بیعت سید عبدالرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے دستِ مبارک پر کی تھی۔

اس سلسلہ میں سب سے سخت موقف پروفیسر احمد سعید ہمدانی صاحب کا ہے انہوں نے ”شیخِ ما حضرت سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کے مرشد” کے عنوان سے اپنی کتاب سلطان العارفین حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ (حیات و تعلیمات) میں تفصیلی بحث کی ہے۔ اس بحث سے پہلے انہوں نے ”مناقبِ سلطانی” کی عبارت درج کی ہے۔

پہلے ”مناقبِ سلطانی” کی عبارت درج کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”دریائے راوی کے کنارے واقع گڑھ بغداد میں ایک شیخ حضرت شاہ حبیب اللہ قادری رحمتہ اللہ علیہ مشہور تھے۔ اُن کی خدمت میں آپ رحمتہ اللہ علیہ حاضر ہوئے۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے مختلف انداز سے حضرت سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کو آزمانے کی کوشش کی مگر ہر بار حضرت سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کو قوت و ہمت میں خود سے بڑھ کر پایا۔ آخر کو آپ رحمتہ اللہ علیہ سے درخواست کی کہ میرے شیخ حضرت پیر سیّد عبدالرحمن قادری دہلوی ( رحمتہ اللہ علیہ ) کی خدمت میں تشریف لے جائیے”۔”صاحبِ مناقب سلطانی” کے بیان کے مطابق دہلی کے اس سفر میں بھکر کے ایک درویش سلطان حمید آپ رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ تھے۔ وہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے خلیفہ بھی تھے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ حضرت پیر عبدالرحمن قادری رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو پیر صاحب آپ رحمتہ اللہ علیہ کا ہاتھ پکڑ کر خلوت میں لے گئے۔۔۔ پس آپ رحمتہ اللہ علیہ نے مرشدِ کامل سے اپنا ازلی نصیبہ ایک قدم سے ایک ہی دم میں پالیا۔ جو چاہتے تھے’ مل گیا۔”

پھر پروفیسر احمد سعید ہمدانی صاحبِ ”مناقب سلطانی” سے اختلاف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”مناقبِ سلطانی” کے مصنف نے انہی عبدالرحمن قادری رحمتہ اللہ علیہ کو حضرت سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کا ظاہری مرشد مانا ہے اور ایک شجرۂ طریقت بھی نقل کر دیا ہے مگر مذکورہ واقعہ بیان کرنے سے قبل انہوں نے حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کا ایک کشف بھی لکھا ہے’ جس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کو سب مطلوبہ فیض اویسی طور پر مل چکا تھا اور بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بوسیلہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ خلقِ خدا کو ہدایت دینے کا حکم صادر ہو چکا تھا۔کشف کا یہ واقعہ مصنف ”مناقبِ سلطانی” حضرت سلطان حامد صاحب نے اپنے بزرگوں سے سینہ بہ سینہ سنا ہے۔ یہ کشف عین بیداری میں ہوا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ ایک دن شور کوٹ کے آس پاس کہیں کھڑے تھے کہ اچانک ایک صاحبِ نور’ صاحبِ حشمت اور بارعب سوار نمودار ہوا۔ جس نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کا ہاتھ پکڑ کر پیچھے بٹھا لیا۔ ۔۔۔۔ یہ حضرت امیر المؤمنین حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہٗ تھے۔۔۔۔۔۔( بعد ازاں جو کچھ پیش آیا اس کی تفصیل گذشتہ سطور میں نقل کی جاچکی ہے۔) رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مجلس میں حاضری اور صحابۂ کبار اور اہلِ بیت(رضوان اللہ علیہم اجمعین) کی برکت سے مملو ہو کر آپ رحمتہ اللہ علیہ کو حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے سپرد کیا گیا۔” رسالہ روحی شریف” میں حضرت سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ جب ارواح سلطان الفقر کا ذکر کرتے ہیں تو غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ( رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ ) کے بارے میں فرماتے ہیں: ”یکے روحِ شیخ ما’ حقیقت الحق’ نورِ مطلق’ مشہود علی الحق’ حضرت محبوبِ سبحانی” (ایک روح ہمارے شیخ’ حقیقت الحق’ نورِ مطلق’ مشہود علی الحق حضرت محبوبِ سبحانی ہیں) اب اگر اس کشف کے بیان اور پیر عبدالرحمن قادری رحمتہ اللہ علیہ کی ملاقات کی روایت کا موازنہ کیا جائے تو تضاد ظاہر ہو جاتا ہے۔ جب اس ”فتحِ کبیر” کے بعد حضرت سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ پر تجلیاتِ ذاتی وارد ہونے لگیں اور خود ارواحِ جلیلہ نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کو رشد و ہدایت کی اجازت سے سرفراز کر دیا تھا پھر کسی پیر سے ”ازلی نصیبہ” پالینے کا کیا سوال ہے؟ آپ تو خود ہی شروع سے مرشدِ کامل کے مقام پر فائز ہو چکے تھے۔” اس کے بعد پروفیسر احمد سعید ہمدانی مزید لکھتے ہیں:

”مناقبِ سلطانی” میں یہ بھی لکھا ہے کہ ”چونکہ حضرت سلطان العارفین قدس سرہ’ مادر زاد ولی تھے اس لیے روزِ پیدائش سے ہی صاحبِ اسرار تھے۔ نیز آپؒ خود فرماتے ہیں کہ مجھے انوارِ ذات کی تجلیات کے مکاشفات کے سبب ظاہری علم اور ورد وظیفہ کے لیے فرصت نہیں۔ میں ہر وقت وحدانیت میں مستغرق اور سیر فی الذات میں رہتا ہوں۔ اگر ظاہری علم یا وِرد وظیفہ کی فرصت و ضرورت نہ تھی تو پھر ظاہری مرشدی کی ضرورت سے بھی آپ رحمتہ اللہ علیہ اسی طرح بے نیاز تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح ہمارے تہذیبی زوال کے دور میں مختلف حلقوں اور شعبوں کے متاخرین کے ہاں صرف ظاہری نظام کے قواعد کا التزام اور اس کی غیر ضروری تاکید ہی باقی رہ گئی تھی’ اسی طرح طریقت میں بھی روایت کی ظاہری صورت کی اہمیت کچھ زیادہ ہی بڑھا دی گئی تھی۔ شاعری میں اگر کوئی کسی کو اپنا استاد ظاہر نہیں کر سکتا تھا تو اس کو بے اُستاد ہونے کا طعنہ دیا جاتا تھا’ اسی طرح طریقت میں جو اپنے تیءں کسی پیر سے منسلک ظاہر نہ کر سکتا تھا’ وہ بے پیر کہلاتا تھا۔ جہاں تک حضرت سلطان العارفین سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کا تعلق ہے’انہوں نے تو اس کی ہرگز پرواہ نہیں کی اور اپنے رسائل و کتب میں کسی حبیب اللہ شاہ اور پیر سیّد عبدالرحمن قادری کا ذکر نہیں فرمایا’ اس کے برعکس اپنے اویسی فیض اور مذکورہ کشف کا اکثر ذکر کیا ہے مگر شاید بعد میں آنے والوں نے ضروری سمجھا کہ اس دور کے مخصوص تہذیبی پس منظر میں اپنے جدِ امجد کو کسی نہ کسی روایتی شجرۂ طریقت سے منسلک دیکھیں اور دکھائیں۔ یوں ظاہری مرشد کا حوالہ اُن کے نزدیک لازمی ٹھہرا۔” (صفحہ 46 تا 50)

ممتاز بلوچ ”ھُو دے بیت” میں فرماتے ہیں:

حضرت عبدالرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ ہوراں دے ہتھیں آپ رحمتہ اللہ علیہ دی بیعت دا تذکرہ محض قیاسی اے جیہدا حقیقت نال کوئی تعلق نہیں بن دا تے نہ ای اجیہا کوئی تعلق نظر آندا اے۔ (صفحہ 61)

ترجمہ:حضرت عبدالرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے دستِ مبارک پر آپ رحمتہ اللہ علیہ کی بیعت کا تذکرہ محض قیاس آرائی ہے جس کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق بنتا ہوا نظر نہیں آتا اور نہ ہی ایسا ممکن دکھائی دیتا ہے۔
ممتاز بلوچ صاحب ایک تو صرف محقق ہیں اس لیے ان کی کتاب میں فقر کے بارے میں جو کچھ نظر آتا ہے وہ علم کی حد تک ہے پھر اس عبارت کے سلسلہ میں بھی انہوں نے فقیر نور محمد کلاچوی’ سلطان الطاف علی اور پروفیسر احمد سعید ہمدانی صاحب کی اُن تحریروں کا سہارا لیا ہے جن میں وہ لوگ اس ظاہری بیعت کے مخالف نظر آتے ہیں۔

مولوی محمد دین گجراتی نے سلطان العارفین سلطان الفقر حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ پر ایک رسالہ 1927 میں طبع کرایا تھا جس میں وہ تحریر فرماتے ہیں:
” پیر عبدالرحمن قادری رحمتہ اللہ علیہ نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کا ہاتھ پکڑا اور حجرے کے اندر لے گئے اور فرمایا: تو تو مالا مال فیضانِ توحیدی سے ہے اور تیرے ہاتھ پر ہاتھ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ہے اور حضرت پیرانِ پیر دستگیر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کا تو تربیت یافتہ ہے’ پس حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے یہ بشارت پا کر بازارِ دہلی میں تشریف لا کر بازاریوں پر توجہ فرمائی۔ پس دوکاندار’ خاص و عام کو ایک عالم جذب کا ظہور میں آیا۔”

سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ جو صاحبِ مسمّٰی اسمِ ذات مرشد’ امانتِ الٰہیہ’ خلافتِ الٰہیہ کے حامل اور سلطان الفقر کے مرتبہ پر فائز ہیں اور اُن کا تعلق بھی خانوادہ سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ سے ہے’ فرمایا کرتے تھے:

”سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی سیّد عبدالرحمن جیلانی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے دستِ مبارک پر ظاہری بیعت فقر کی ضروریات کی تکمیل تھی۔ پس آپ رحمتہ اللہ علیہ ایک دن حاضر ہوئے بیعت کی اور واپس آگئے”۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا فرمانا تھا کہ فقر میں ظاہری بیعت ضروری ہے کیونکہ اگر آپ رحمتہ اللہ علیہ سیّد عبد الرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے دستِ مبارک پر ظاہری بیعت نہ کرتے تو سلسلہ سروری قادری کی کڑی جو غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ سے سیّد عبد الرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ تک پہنچتی تھی وہ ٹوٹ جاتی اور آپ رحمتہ اللہ علیہ مرشدِ اتصال نہ رہتے۔ ہندوستان سے شائع ہونے والی تمام کتب آثارِدہلی، راہ نمائے مزاراتِ دہلی، مشائخِ قادریہ، مزاراتِ اولیاء دہلی اور بہت سی کتب میں جہاں سیّد عبد الرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کا تذکرہ آیا ہے اس میں بھی یہ فقرہ موجود ہے کہ آپ (سیّد عبد الرحمن دہلوی) رحمتہ اللہ علیہ پنجاب کے مشہور صوفی حضرت سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کے مرشد ہیں۔
جن لوگوں نے حضرت سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کی ظاہری بیعت سے اختلاف کیا ہے یہ اُن کی تحقیق ہے جو انہوں نے اپنے علم اور موجود کتب سے کی لیکن ہماری تحقیق کا مقصد اُن کی مخالفت نہیں ہے بلکہ اُن کے کام کو مزید آگے بڑھانا ہے۔اس سلسلہ میں اتنا عرض ہے کہ محقق صرف تحقیق ہی کر سکتا ہے اور اس میں غلطی کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔

لیکن پھر بھی ان محققین کی بات علم کی حد تک درست ہے کیونکہ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں

1.  سروری قادری اسے کہتے ہیں جسے خود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام بیعت فرماتے ہیں۔ اس کے وجود سے بدخلقی کی خوبو ختم ہو جاتی ہے اور اُسے شرع محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی راہ پر گامزن ہونے کی توفیق نصیب ہوجاتی ہے۔ (محک الفقر کلاں)

2.  ایک اس (اعلیٰ) مرتبے کے سروری قادری ہوتے ہیں جنہیں خاتم النبیین رسولِ ربّ العالمین سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنی مہربانی سے نواز کر باطن میں حضرت محی الدین شاہ عبدالقادر جیلانی قدس سرہٗ العزیزکے سپرد کر دیں اور حضرت پیر دستگیر رحمتہ اللہ علیہ بھی اُسے اس طرح نوازتے ہیں کہ اُسے ایک لمحہ بھی خود سے جدا ہونے نہیں دیتے۔(محک الفقر کلاں)

جنہوں نے ظاہری بیعت کو ردّ کیا ہے انہوں نے اویسی سلسلہ یا طریقہ کا سہارا لیا ہے۔ اویسی سلسلہ یا طریقہ موجود ہے اور ہم اس سے انکار نہیں کرتے ۔ اویسی طریقہ وہ ہے جس میں فیض براہِ راست حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام یا کسی ولی کامل جو وصال پاچکا ہو’ سے ملتا ہے۔ اس میں تین طریقے ہیں:

1.  جن عظیم ہستیوں کو تلقین و ارشاد کی مسند پر فائز کیا جاتا ہے ان کے لیے اویسی طریقہ سے براہِ راست حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے فیض حاصل کرنے کے باوجود ظاہری بیعت ضروری ہے کیونکہ ان کا مرشدِ اتصال ہونا ضروری ہے۔ اس ضمن میں یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ پیرانِ پیر غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ جن کا قدم ہر ولی کی گردن پر ہے ‘جن کو معراج کے دوران حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بیعت فرمایا’ مادر زاد ولی ہیں اور جن کی مہربانی اور کرم کے بغیر کوئی فقر کی خوشبو تک کو نہیں پاسکتا، جن کو اویسی طریقہ سے سب کچھ عطا ہو چکا تھا جیسا کہ ہمعات میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ فرماتے ہیں:”حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بعد اولیاء کرام اور اصحابِ طریقت کا سلسلہ چلتا ہے ان میں سب سے زیادہ قوی الاثر بزرگ جنہوں نے راہِ جذب کو باحسن طے کرکے نسبتِ اویسی کی اصل کی طرف رجوع کیا اور اس میں نہایت کامیابی سے قدم رکھا وہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی ذاتِ گرامی ہے۔”یعنی حضرت غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے سب کچھ اویسی نسبت سے حاصل کیا اور سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ ان ہی کو اپنا مرشد مانتے ہیں اور ”شیخِ ما” فرماتے ہیں۔ اگر حضرت غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو سب کچھ اویسی طریقہ سے مل چکاتھا تو انہیں پھر ظاہری بیعت کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی حضرت شیخ مبارک مخزومی رحمتہ اللہ علیہ سے ظاہری بیعت مستند روایات کے ساتھ کتبِ سیر و تصوف میں منقول ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی بیعت اس طرح ہوئی کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اپنے مرشد حضرت شیخ ابو سعید مبارک مخزومی رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں گئے۔ انہوں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو کھانا کھلایا’ خرقہ پہنایا اور بات ختم ہوگئی۔ اسی دن سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے تلقین و ارشاد کا سلسلہ شروع فرما دیا۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کی ظاہری بیعت بھی اسی طرح ہے اور مولوی محمد دین گجراتی کی عبارت سے ہماری اس بات کی تصدیق ہوتی ہے اور ہمارا موقف بھی یہی ہے کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ اپنے ظاہری مرشد کی خدمت میں حاضر ہوئے، بیعت کی اور تمام فیض یک دم پالیا کیونکہ فقر کی تمام منازل تو آپ رحمتہ اللہ علیہ اویسی طریقے سے طے کر چکے تھے۔ اب سوال یہ ہے کہ تلقین و ارشاد کی مسند کے لیے ظاہری بیعت ہونی کیوں ضروری ہے تو اس سلسلہ میں عرض ہے کہ فقر میں سلاسل کا ایک نظام قائم کیا گیا ہے جو درجہ بدرجہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک پہنچتا ہے۔ ہر مرشد کامل کو ”شیخِ اتصال” ہونا چاہیے یعنی حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک شجرۂ طریقت پہنچنے تک سلسلے کا کہیں ”انقطاع” نہیں ہونا چاہیے اورشجرۂ طریقت بابِ علم حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے گزر کر مدینۃ العلم حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک سلسلہ پہنچنے تک درمیان سے کوئی کڑی ٹوٹنے نہ پائے ورنہ بڑے بڑے فتنوں کے وقوع پذیر ہونے کا خدشہ ہے۔ اگر لوگ نبوت اور جعلی مہدی ہونے کا دعویٰ کرسکتے ہیں تو کوئی گمراہ کسی گدی پر بیٹھ کر یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ اُسے براہِ راست فیض حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام یا کسی ولی سے مل گیا ہے اور اسے ظاہری بیعت کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر کوئی ایسا ہے تو وہ گمراہ ہے اور اُسے جوتے مارو۔ آج کل گلی گلی جو جعلی پیر پھیلے ہوئے ہیں اُن سب کا کہنا ہے کہ اُن کو براہِ راست فیض ملا ہوا ہے اور ظاہری بیعت سے انکاری ہیں اور کچھ جدی اور پیدائشی پیر ہیں۔ حضور غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اور سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کی ظاہری بیعت رسماً اسی نسبت سے ہے۔ اور تلقین و ارشاد کی مسند پر فائز ہونے کے لیے ظاہری بیعت ضروری ہے کیونکہ انہوں نے تلقین و ارشاد کے فرائض ادا کرنے تھے اور ایک زمانے کو فیض پہنچانا تھا اور آپ رحمتہ اللہ علیہ کے سلسلہ نے تاقیامت قائم رہنا ہے۔ دوسری وجہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی ظاہری بیعت کی یہ ہے کہ مستقبل میں کوئی گمراہ آپ رحمتہ اللہ علیہ جیسی ہستیوں کو مثال بنا کر اویسی طریقہ کا سہارا لے کر مسندِ تلقین و ارشاد پر نہ بیٹھ جائے۔ تاریخ میں ایک بھی مثال ایسی نہیں ہے کہ کوئی تلقین و ارشاد کی مسند پر فائز ہوا ہو اور مرشدِ اتصال نہ ہو اور ظاہری بیعت سے بے نیاز ہو ۔غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں ”مشائخِ عظام کہ جن کا سلسلہ فقر حضرت علی کرم اللہ وجہہ تک تسلسل کے ساتھ پہنچتا ہے بابِ علم (حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ ) سے گزر کر علم کے صدر مقام (حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام) تک پہنچتا ہے، لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف حکمت کے ذریعہ بلاتے ہیں”۔(سرّالاسرار فصل 5)

اس عبارت سے ہمارے موقف کی تائید ہوتی ہے کہ صاحبِ تلقین و ارشاد ہونے کے لیے ”مرشد اتصال ”ہونا ضروری ہے۔

2.  دوسرا اویسی طریقہ وہ ہے’ جس میں تلقین و ارشاد کا کام نہیں لیا جاتا صرف دین کا کوئی کام لینا مقصود ہوتا ہے اس کی مثال علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ کی ہے جن کو مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ کی روح سے اویسی طریقہ سے فیض ملا حالانکہ اوائل عمری میں آپ رحمتہ اللہ علیہ قادری سلسلہ میں ظاہری بیعت بھی کر چکے تھے لیکن اپنے کلام میں کہیں بھی ظاہری مرشد کا ذکر نہیں کرتے بلکہ مولانا روم ؒ کو ہی اپنا مرشد قرار دیتے ہیں۔

3.  تیسرا اویسی طریقہ وہ ہے جس کے تحت ابتدائے حال میں کسی طالب کی راہِ حق میں تربیت کی جاتی ہے۔ اب اس طالب کو اس کا علم ہو یا نہ ہو یہ ضروری نہیں۔ پھر ظاہری مرشد کی بارگاہ میں مکمل تربیت کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔

امید ہے اس تحریر سے حضرت سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی ظاہری بیعت کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں دور ہوگئی ہوں گی۔